354
ایک دن خواب نگر جانا ہے
اور یونہی خاک بسر جانا ہے
عمر بھر کی یہ جو ہے بے خوابی
یہ اسی خواب کا ہرجانا ہے
گھر سے کس وقت چلے تھے ہم لوگ
خیر اب کون سا گھر جانا ہے
موت کی پہلی علامت صاحب
یہی احساس کا مر جانا ہے
کسی تقریب جدائی کے بغیر
ٹھیک ہے جاؤ اگر جانا ہے
شور کی دھول میں گم گلیوں سے
دل کو چپ چاپ گزر جانا ہے
ادریس بابر
