107
ذرا یہ زلف جو کھولے تو تیرے ساتھ چلوں
ایک غزل اور جو بولے تو تیرے ساتھ چلوں
مرمریں جسم ہے پھولوں سے اُبھرتی خوشبو
میری رگ رگ میں سمولے تو کل تیرے ساتھ چلوں
تیرے ہونٹوں نے بکھیرے ہیں تبسم کتنے
میری آنکھوں سے بھی رولے تو تیرے ساتھ چلو
راستے پتھر کے میرے پاؤں ہوئے ہیں زخمی
ختم ہو جائں یہ پھولے تو تیرے ساتھ چلو
رنگ چہرے کا تو دلکش ہے مگر دامن کو
میرے اشکوں میں ڑبو لے تو تیرے ساتھ چلو
طلعت سروہا
