خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباایک تھا بجو کا
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریر

ایک تھا بجو کا

از سائیٹ ایڈمن نومبر 27, 2022
از سائیٹ ایڈمن نومبر 27, 2022 0 تبصرے 107 مناظر
108

ڈاکٹر بن خادم امریکی ورلڈٹریڈ سینٹر چھوڑنے کے دوسرے دن اپنے ملک کے ایئر پورٹ سے گاؤں پہنچ چکے تھے ۔ ان کی اے سی کار حویلی کی جانب جانے والے کچے راستے پر آہستگی سے رینگ رہی تھی اور وہ سفید رنگ کا پٹھانی سوٹ پہنے ، سر پر سفید عمامہ باندھے ، اپنے ڈرائیور کے ساتھ ہی بیٹھے اطراف کا جائزہ لے رہے تھے ۔ کچے راستے کے چھوٹے بڑے گڑھوں اور ابھرے پتھروں پر اچھلتی کودتی آہستہ روی سے آ گے بڑھتی کار کو دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے وہ بھی ڈاکٹر بن خادم کی طرح اپنے گاؤں پہنچ کر بڑی شادو مسرور ہے اور اچھل کود سے اپنی مسرت کا اظہار کررہی ہے۔ کارکی کھڑکی سے اندر داخل ہونے والے ہوا کے جھونکے کھیتوں کی مٹی کی بھینی بھینی خوشبوؤں کے ساتھ کچی پکی فصلوں کی مہک بھی لئے چلے آرہے تھے اور ڈاکٹر بن خادم سے ٹکرا کر، ان کی گھنی داڑھی کے لمبے لمبے بالوں کو گدگداکر دوسری کھڑکی سے باہر نکلتے جارہے تھے ۔ وہ راستہ سیدھے ان کی حویلی پر ختم ہوتا تھا ۔ راستے کے دونوں طرف چھوٹے بڑے کھیتوں کا سلسلہ دور تک چلا گیا تھا ۔ ان میں سے کسی کھیت کی فصلیں کاٹی جاچکی تھیں تو کسی کی کاٹی جا رہی تھیں ۔ کہیں کھیتوں میں ہل جوتے جارہے تھے تو کہیں بیج بو یا جارہا تھا ۔ کسی کھیت میں سر اٹھانے والے پودوں پر دواؤں کا چھڑکاؤ کیا جا رہا تھا تو کسی کھیت میں تیار فصلیں کھڑی جھوم رہی تھیں ۔ جنہیں دیکھ کر ان کے ہو نٹوں پر ایک پرُسکون سی مسکراہٹ پھیل رہی تھی اور وہ اپنی اے سی کار میں بیٹھے اطراف پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہوئے اپنی حویلی کی طرف بڑ ھتے چلے جا رہے تھے ۔ ان کا ڈرائیور بڑی آہستگی سے کار آگے بڑ ھا رہا تھا ۔
اچانک ہی ان کے ہونٹوں کی مسکراہٹ سکڑی، پیشانی پر بل پڑے اور وہ بے ساختہ بول پڑے.
’’گاڑی روکو ڈرائیور !گاڑی روکو۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
کار روک کر ڈرائیور نے انہیں سوالیہ نظروں سے دیکھا.
’’وہ دیکھو۔۔۔بجوکا کھڑا ہے اس کھیت میں!‘‘
ڈرائیور نے ڈاکٹر بن خادم کی نظروں کا تعاقب کیا تواسے کھیت میں واقعی بجوکا کھڑا نظر آیا. بانس کی دو کھپچیوں پر پیلی پینٹ اور لال شرٹ اڑس کر سر کی جگہ اوندھی رکھی گئی مٹی کی ہانڈی ہر کالے رنگ سے آ نکھ ، منہ ، ناک اور کان بنا کر کھیت میں کھڑا کیا گیا وہ بجوکا واقعی کوئی انسان ہی دکھائی دے رہا تھا ۔ اس کے کپڑے ہوا کے تیز جھونکوں سے پھڑ پھڑارہے تھے اور کپڑوں کی یہ پھڑ پھراہٹ روکی گئی کار تک پہنچ رہی تھی جسے سن کر ڈرائیور نے کہا.
’’واقعی صاحب ! یہاں تو بجو کا کھڑا ہے !!۔۔۔۔۔حیرت ہے۔۔۔۔بجوکا اور وہ بھی آپ کے علاقے میں ؟۔۔۔۔۔بڑی حیرت کی بات ہے ۔۔۔ویسے یہ کھیت عیدو بھائی کا ہے ۔۔۔بلاؤں کیاانہیں ؟۔۔۔۔‘‘
’’ہاں!۔۔۔۔۔‘‘
ان کا جواب سن کر ڈرائیور نے کار کا انجن بند کیا اور دروازہ کھول کر قدم باہر نکالاہی تھا کہ کہہ اٹھا.
’’ارے! عیدو بھائی تو یہیں ہیں ۔۔۔او عیدو بھائی! ۔۔۔۔دیکھو ڈاکٹر صاحب تمہیں بلا رہے ہیں ۔۔۔۔‘‘
ڈرائیور کی آواز پر عیدو بھائی پانی کی نالی کی منڈیر درست کرتے کرتے اٹھ کھڑے ہوئے اور کار کی طرف لپکے ۔ کار کے قریب پہنچ کر کچھ کہنے کے لئے وہ منہ کھولنا ہی چاہتے تھے کی ڈاکٹر بن خادم انہیں گھورتے ہوئے بولے.
’’یہ تمہارے کھیت میں بجوکا کیوں کھڑاہے عیدو بھائی ؟۔۔۔۔۔کیا میں نے یہ زمین تمہیں اسی لئے دی ہے؟۔۔۔میں نے تمہیں زمین دیتے ہوئے اس گاؤں میں موجود کھیتی باڑی کا اصول بتا کر کہا نہیں تھا کہ تم بھی اپنے کھیت میں بجوکا نہیں لگاؤ گے ؟؟۔۔۔۔تم کو معلوم ہے نا کہ میں کھیتی باڑی کو زمین اور ہر طرح کی سہولت صرف اسی لئے دیتا ہوں کہ تم لوگ اپنا پیٹ بھر سکو ۔۔۔۔مگر صرف اپنا پیٹ بھرنے کیلئے چھوٹے چھوٹے معصوم پرندوں کو بھوکا رہنے پر مجبور مت کرو ۔‘‘
’’ہاں !ڈاکٹر ساب !۔۔۔۔اوکا ہے نا ۔۔۔۔ہمارا بٹوا ہے نا۔۔۔۔رمجو ۔۔۔دراسل واہی کہے را کی ۔۔۔۔‘‘
’’میں کچھ نہیں جانتا ۔۔۔بس تم ابھی جاؤ اور بجوکا کو اپنے کھیت سے اکھاڑ پھینکو ۔۔۔۔اور سنو عیدو بھائی! اگر دوبارہ کھیت میں بجوکا دکھائی دیا تو میں نے تم کو کھیتی کیلئے جو زمین دی ہے اور جو بہت ساری سہولیات دیتا ہوں وہ سب چھین لوں گا سمجھے ۔۔۔۔ان بیچارے چھوٹے چھوٹے پرندوں کو بھی پیٹ ہوتا ہے ۔۔۔ان کو بھی بھوک لگتی ہے ۔۔۔۔۔ان کو بھی اپنی زندگی پیاری ہوتی ہے ۔۔۔۔اور وہ بھی خدا کی مخلوق ہیں اور خدا کی زمین کی پیداوار میں ان کا بھی حق ہوتا ہے ۔۔۔مگر ہم لوگ کھیتوں میں بجوکا کھڑاکر کے اپنے ذرا سے فائدے کے لئے ان معصوم جانوں کا حق چھین لیتے ہیں۔۔۔خبردار جو آئندہ ایسی غلطی کی تو۔۔۔۔جاؤ اور اکھاڑ پھینکو اسے ۔۔۔‘‘ ’’اچھا ساب!‘‘
اتنا کہہ کر عیدو بھائی اپنے کھیت کی طرف جا نے کیلئے مڑے تو ڈاکٹر بن خادم نے اپنی آنکھیں بھینچ لیں ۔ ان کی آنکھوں کے کناروں سے آ نسو ٹپک پڑے اور انہوں نے ایک سرد آ ہ بھر کر ڈرائیور کو کار آ گے بڑھانے کو کہا ۔
ڈرائیور نے اپنی طرف کا کھلا ہوا دروازہ بند کیا اورانجن اسٹارٹ کر کے کار آ گے بڑھا دی ۔کار دوبارہ آہستگی سے آگے بڑھنے لگی تو اس نے کن انکھیوں سے ڈاکٹر صاحب کو دیکھ کر کار میں لگے شیشے میں ان کا چہرہ دیکھا ۔ ان کے ہونٹوں کی پُرسکون مسکراہٹ غائب تھی ۔انہوں نے اپنے ہونٹوں کو سختی سے بھینچ رکھا تھا ۔ ان کی آنکھوں کے کنارے بھیگے ہو ئے تھے ۔ ان کی پیشانی پر بل تھے اور گہری گہری سانسیں لینے سے ان کی نتھے پھول رہے تھے ۔۔۔وہ آہستہ روی سے کار آ گے بڑ ھا رہا تھا ۔
تھوڑی دیر بعدکار حویلی کے وال کمپائونڈ میں داخل ہوگئی ۔ڈاکٹر بن خادم کار سے اترے اور بو جھل قدموں سے حویلی کے صدر درواز کی طرف بڑھ گئے.
حویلی کے ایک کمرے میں پہنچ کر انہوں نے اپنا عمامہ اتار کر ایک اسٹول پر رکھا اور خود کو صوفے پر اوندھا گرا لیا۔ تھوڑی دیر تک وہ صوفے پر یونہی پڑے گہری گہری سانسیں لیتے رہے پھر سر اٹھا کر صوفے پر ہی پڑا ریموٹ اٹھا کر ٹی وی آن کردیا ۔ انہیں ٹی وی کے اسکرین پر امریکی صنعت و حرفت کا مرکز ورلڈ ٹریڈ سینٹر آگ اور دھوئیں اگلتا نظر آیا اور نیوز ریڈر کی آواز ان کے کان کے پردوں سے ٹکرائی.
’’آج امریکی ائیر لائنز کے دو مسافر بردار جہاز اغوا کر لئے گئے. اغواکے تھوڑی دیر بعد اغوا کاروں نے دونوں جہازوں پر مکمل کنڑول کر کے ان کا رخ امریکی ورلڈ ٹریڈ سنیٹر کی طرف موڑ دیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے دونوں جہاز اس سے ٹکرا دیئے ۔ یکے بعد دیگرے ہونے والی ٹکر سے امریکہ کا ۱۱۰؍ منزلہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر زمین پر بیٹھتا چلا گیا اور ان جہاز وں میں موجود مسافروں کے ساتھ ہی ٹریڈ سنیٹر میں موجود تقریباً پانچ ہزار افراد بھی لقمہ اجل بن گئے ۔‘‘ نیوزریڈر کی آواز تھمی اور ٹی وی پر دوجہاز پرواز کرتے دکھائی دیئے ۔ دونوں ہی ورلڈ ٹریڈسینٹر کے پس منظر سے اس کے قریب آتے نظرآئے اور پھر انہوں نے دیکھاکہ ایک جہاز برق رفتاری کا مظاہرہ کر تا ہوا سیدھا ٹریڈ سینٹر سے ٹکرا گیا ۔ ٹریڈ سینٹر آگ کے ساتھ ساتھ کالے دھوئیں بھی اگلنے لگاپھر چند ثانیے بعد دوسرا جہاز بھی دھواں اور آ گ اگلتی اس عمارت سے اس تیزی سے ٹکرایا کہ اس کا اگلا سرا عمارت کی دوسری سمت سے باہر کی طرف جھانکنے لگا اور پھر پورا ورلڈ ٹریڈ سینٹر آگ کے ساتھ دھوئیں اگلتا زمین پر بیٹھتا چلا گیا۔ ٹی وی اسکرین پر اس منظر کو دیکھ کر ڈاکٹر بن خادم نے اپنی آنکھیں بند کرلیں ۔ ان کے ماتھے پر شکنیں پڑگئیں اور ذہن کی اسکرین پر ان کے بچپن کا ایک منظر اجاگر ہو گیا ۔
وہ ایک کھیت میں کھڑے اس بجوکا کو حقارت سے دیکھ رہے ہیں جسے ان کے چھوٹے چھوٹے معصوم ہاتھوں نے کھیت کی زمین سے اکھاڑ پھینکا ہے ۔ بجوکا کا مٹی کی ہانڈی کا سر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر زمین پر بکھراپڑا ہے ۔ ان کا معصوم ذہن طیش میں آ گیا ہے اور وہ آ گے بڑھ کر بجوکا کے دونوں ہاتھوں پر پیر رکھ کر کھڑے ہو گئے ہیں پھر نیچے جھک کر اس کے دونوں ہاتھ پکڑ کر اپنی پوری طاقت لگاکر کھڑے ہو گئے ہیں ۔ بجوکا کے دونوں ہی ہا تھ چٹاخ چٹاخ کی آواز کے ساتھ ٹوٹ گئے ہیں ۔ اس کے بعد اس کاا یک پیر بھی انہوں نے توڑ کر ایک طرف پھینک دیاہے ۔۔۔۔بجوکا کی یہ درگت دیکھ کر ادھر اُدھر درختوں پر دبکے بیٹھے پر ندے کھیت کی تیار فصل سے اپنا حصہ حاصل کرنے کے لئے اترنے لگے ہیں ۔ انہیں دیکھ کر ان کی آنکھیں بھر آئیں ہیں اور ہونٹوں پر ایک ابدی مسکراہٹ پھیل گئی ہے ۔ انہوں نے ایک ٹھنڈی سانس لے کر سر نیچے جھکا لیا ہے ان کی آنکھوں سے آنسو کے قطرے نکل کر کھیت کی زمین میں جذب ہو گئے ہیں اور ان کی نظر بجوکا کے کھڑے رہنے کی جگہ پر جا پڑی ہے ۔ انہوں نے اپنی آنکھیں بند کر کے ٹوٹے بکھرے بجوکا پر حقارت سے تھوک دیا ہے۔ اپنے ذہن کی اسکرین پر دھندلکا چھانے کے بعد انہوں نے ٹی وی اسکرین پر دیکھا ۔
ورلڈ ٹریڈ سینٹرکی فلک سے باتیں کرتی پرانی تصویر اس پر اجاگر تھی ۔ اسے دیکھ کر انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے وہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر نہیں بلکہ وہ بھی ایک بجوکا ہے ۔۔۔۔۔ایک بہت بڑا ظالم بجوکا۔۔۔جو دنیا کے چھوٹے چھوٹے کمزور ممالک کے معصوم انسانوں کو ڈرانے دھمکانے کے لئے اپناہا تھ پھیلانے اور سر اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے ۔ ایسا محسوس ہوتے ہی ان کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا ۔ انہوں نے دوایک گہری گہری سانسیں لے کر اپنے ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچ کر کھول بند کیں اور صوفے پڑا ریموٹ اٹھا کر پوری طاقت اور حقارت سے ٹی وی پر موجود ورلڈ ٹریڈ سینٹر نامی ظالم بجوکا کو دے مارا اور اپنا ماتھا صوفے پر ٹیک گہری گہری سانسیں لینے لگے

طاہر انجم صدیقی ( مالیگاؤں، مہاراشٹر، انڈیا)

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • یہ جو منظر میں تابانی ہے بھائی
  • خواتین کی محفل
  • روشنی کی سفارت ”آبجوئے نور”
  • دل میں تیری طلب فزوں ہو جائے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
مکھیاں
پچھلی پوسٹ
جہان باقی

متعلقہ پوسٹس

مکاں کے ہوتے ہوئے بھی جو لامکاں کوئی ہے

مئی 15, 2020

حق مہر کتنا ہوگا، بتایا نہیں گیا

مئی 22, 2020

فادر ڈے

جون 28, 2020

وحشتیں ہیں چار سُو

جولائی 6, 2025

سرائے کے باہر

مئی 23, 2023

تعلیم کا آفتاب نصف صدی کی بلندی پر

نومبر 11, 2025

جو لفظ چِھین کے اِظہارکھینچ لیتی ہے

نومبر 12, 2025

نالۂ شب گیر: ایک ضروری مکالمہ عورتوں کے تعلق سے

نومبر 29, 2020

کہانی کچھ عجیب ہے

اکتوبر 3, 2026

ملبے کا ڈھیر

جنوری 16, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ہزار زخم بدن پر لیے حیات...

ستمبر 18, 2022

شہر در شہر لیے پھرتے ہیں

جون 12, 2020

در آئی مِرے بھاگوں میں رسوائی...

جولائی 31, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں