خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابااحساس ۔ حصول سکون کا زریعہ
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزاویس خالد

احساس ۔ حصول سکون کا زریعہ

اویس خالد کا ایک اردو کالم

از سائیٹ ایڈمن اپریل 20, 2020
از سائیٹ ایڈمن اپریل 20, 2020 0 تبصرے 412 مناظر
413

احساس ۔ حصول سکون کا زریعہ

زندگی میں ہر انسان سکون کا متلاشی ہے۔ہر انسان اپنے ذہن میں سکون کا ایک معیار بناتا ہے اور اس کے حصول کی تگ و دو میں دن رات مارا مارا پھرتا ہے۔اتنی محنت شاقہ کرتا ہے کہ خود فراموش ہو جاتا ہے۔اور یہ سعی لا متناہی آپ کو معاشرے کے ہر کونے میں بلا دِقّت کھوج نظر آتی ہے۔غور طلب بات یہ ہے کہ جس شے کے حصول کے لئے محنت کی جائے، قانون قدرت ہے کہ بالاخر اس شے کا حصول ممکن ہو جاتا ہے۔لیکن اس معاملے میں ہمیشہ ہمیں الٹے نتائج ہی ملتے ہیں۔آپ کسی بھی انسان سے پوچھ لیں،وہ کہے گا کہ میں سکون چاہتا ہوں اور اسی سکون کی تلاش میں صبح سے شام تک مصروف عمل رہتا ہوں۔پھر پوچھیں۔۔کیا ملا؟جواب یقینا نفی میں ہو گا بلکہ قرین از قیاس ہے کہ یہ جواب ملے کہ اس چکر میں وہ سکون بھی کھو چکا ہوں جو پہلے دستیاب تھا۔اسی موقع کی مناسبت سے ایک بزرگ کی حکمت بھری بات یاد آگئی۔ ایک شخص ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا حضور میں سکون چاہتا ہوں۔آپ نے فرمایا اس جملے کے شروع میں سے "میں ” اور آخر میں سے "چاہتا ہوں ” نکال دو۔”میں ” تکبر کی جبکہ "چاہتا ہوں "خواہش نفسانی کی علامت ہے۔پیچھے سکون باقی رہ جائے گا۔اتنی محنت کے باوجود اگر سکون میسر نہیں ہے تو یقینا اس کے درپردہ کوئی خاص سبب ہی ہو گا اور اگر اس وجہ کو تلاش کر کے اس خامی کو دور کر لیا جائے تو بلاشبہ اس محنت کا پھل حاصل کیا جا سکتا ہے۔فکر و تدبر،عقل و دانش اور ایجادات و اختراعات سے لبریز اس دور میں کون سا علم ہے جو انسان سے چھوٹ رہا ہے۔بات فقط اتنی ہے کہ بڑے بڑے عقدے کھولنے کے چکر میں ہم چھوٹی چھوٹی گرہیں کھولنا بھول گئے ہیں۔دنیا کا نظام ہے کہ ہر شے کو پانے کے لئے اس کے مقرر کردہ ٹھکانوں پر جانا پڑتا ہے جہاں وہ دستیاب ہوتی ہے۔ہر چیز ہر جگہ سے نہیں مل سکتی۔اسی طرح سکون کی ترسیل کا بھی ایک مقرر ٹھکانہ ہے اور ہم غلط پتے پرصحیح چیز کی تلاش میں غلط ہوئے پڑے ہیں۔کسی نے سمجھا سکون دولت میں ہے،وہ اسی کے پیچھے بھاگتا بھاگتادیوانہ ہو گیا مگر سکون کا نام و نشاں تک نہ ملا۔پھر اپنی عمر رواں گذار کر لگا دوسروں کو سمجھانے پر کون مانے۔کسی نے خیال کیا کہ سکون تو شہرت میں ملے گا۔اس نے اس کے پیچھے کمر کَس لی مگر وہ پہلے سے بھی کہیں ذیادہ بے سکون ہو گیا۔مشہور تو ہو گیا لیکن جینا دو بھر ہو گیا اور سادہ زندگی کو حسرت بنا کر ترسنے لگا۔غرض ہر شخص نے اپنے تئیں سکون کا مفہوم واضح کیا کسی نے یہ نہ سوچا کہ کیا منزل کی طرف سمت کا تعین درست بھی ہے کہ نہیں،بس اس کی تلاش میں بغیر سوچے سمجھے والہانہ بھاگنے لگا۔محض اس لیے کہ دوسروں کو بھی ایسے ہی اسی طرف بھاگتے ہوئے دیکھا تھا۔آئیے سکون کے اصل ٹھکانے کا کھوج لگاتے ہیں۔ہم میں سے ہر شخص کے پاس دوسروں کے حصے کا سکون ہے جو ہم کسی بھی وجہ سے ان تک نہیں پہنچاتے۔اور اس وجہ سے ہر شخص کا سکون رکا ہوا ہے۔اگر ہم میں سے ہر شخص اپنے سکون کے حصول کی اندھا دھند دوڑ چھوڑ کر دوسروں کے حصے کا سکھ انہیں دینے لگے تو ہم سب کے پاس ہمارا سکون خود بخود ہی پہنچ جائے گا۔آسان سا فارمولا ہے۔
احساس دنیا کی وہ قیمتی دولت ہے جس کی بدولت حضرت انسان باقی تمام مخلوقات پر افسر ہے۔یہی دولت اسے نیابت الہی کے تخت پر براجمان رکھتی ہے۔یہ نہ رہے تو اصل خوبصورتی انسان کی از خود جاتی رہتی ہے۔اور بسا اوقات وہ دوسری مخلوقات سے بھی کم تر سطح پر آ جاتا ہے۔حکمرانوں کے پاس عوام کے حصے کا سکون ہے وہ ان تک پہنچانے کا درست بندوبست کر لیں تو سکون خود ان کے دلوں پر آکر دستک دے گا۔انھیں باڈی گارڈ رکھنے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔نہایت آزمودہ تجربہ ہے کہ وہ سکون جو کسی حاجت مند کی حاجت روائی کر کے ملتا ہے وہ شاہی خزانوں کو تسخیر کرنے سے بھی نہیں ملتا۔آج معاشرے میں ہر لحاظ سے ترقی ہو رہی ہے۔ہر طرف علوم و فنون کی ندیاں بہہ رہی ہیں لیکن طغیانی میں احساس جیسا قیمتی شعار ڈوب کر ہمارا ناقابل تلافی نقصان بھی کر گیا ہے۔ہر شخص دوسرے کے درد سے غیر متعلقہ ہے۔دوسروں کے مصائب سے لا علم ہے۔اوروں کے کرب سے نا آشنا ہے۔اپنی منفعت و مصلحت کے بے مہار گھوڑوں کو دوڑاتا ہوا کتنے لوگوں کی آس،امید اور دعا کو قدموں تلے روند جاتا ہے،اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔ہم ڈرامے میں تو کسی کا دکھ دیکھ کر رو پڑتے ہیں لیکن ساتھ والے کا دکھ ہمیں ڈرامہ لگتا ہے۔ہم اپنی سوچوں کے معیار کے زنداں میں باقی سب کو بھی قید کرنا چاہتے ہیں۔ اس روش کو بدلنا ہو گا۔ہمیں کچھ دیر اپنے سکون کے حصول کی دوڑ کو ترک کر کے دوسروں کو سکون پہنچانے کی نیت کرنا ہو گی۔حاجت روائی جو فقط اللہ پاک کی صفت ہے۔آپ اس امر کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے کریں کہ االلہ پاک ہمیں خود اپنے فضل سے اپنی اس صفت سے مزین کرتا ہے اور دوسروں کی حاجت روائی کرتے ہوئے ان کے دکھ،سکھ میں شریک ہونے کا حکم دیتا ہے۔اس کے حکم کے مطابق اس کی دی ہوئی استطاعت کو بروئے کار لاتے ہوئے جہاں تک ممکن ہو سکے،دوسروں کی چارہ جوئی کی جائے اور ان کے حصے کا سکھ ان تک پہنچنے میں رکاوٹ نہ بنا جائے۔سوچا جائے تو بنی نوع بشر کے لئے یہ کتنے اعزاز کا مقام ہے۔اور اگر اس کے الٹ چل پڑیں،جیسا کہ معاشرہ تہذیب نو کی چمکدار دلدل میں پھنس گیا ہوا ہے تو نتائج بھی ایسے ہی ہوں گے جیسے کہ اس وقت ہم بھگت رہے ہیں۔
خلوص،الفت،رواداری،بھائی چارہ،درگذر اور احساس کی دولت سے عاری ہم سب زندگی کے بوجھ تلے گھٹی گھٹی سانسیں لے رہے ہیں مگر کوئی اپنی انا اور خود غرضی کے خود ساختہ دائرے سے باہر نکل کر جینا ہی نہیں چاہ رہا۔اس سوچ نے پورے ماحول کو مایوس اور بد گمان بنا دیا ہے۔ہم کچھ لمحے اگر اپنی مصیبتوں سے فراغت پاتے بھی ہیں تو تفریح طبع کا ایک ہی زریعہ میسر آتا ہے کہ دوسروں کی عیب جوئی کر لی جائے یا کسی کی مصیبت پر خوشگوار انداز میں ماہرانہ تبصرہ فرما لیا جائے۔زندگی میں دوسروں کا احساس کرنے کے مواقع قدم قدم پر ملتے ہیں اور ہم ان کی قدر نہ کرتے ہوئے بے حسی کے قدموں تلے روندتے ہوئے آگے بڑھنے کو دانش مندی سمجھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہمارا سکون بھی راستے میں کسی کے قدموں تلے روندا ہوا ملتا ہے۔سکون کسی بڑے مہنگے ہوٹل میں کھانا کھا کر نہیں ہوتا بلکہ الٹا اکثر اوقات یہ سوچ کر کہ کھانے کی اصلی قیمت سے زائد رقم دینی پڑی ہے تو اپنی بے وقوفی کا شدت سے احساس ہوتا ہے اور دل افسردہ ہو جاتا ہے۔یہی اگر راستے میں کسی بوڑھے کا بوجھ اٹھایا ہو یا کسی لاچار کی مدد کی ہو تو وہ راحت اور اطمینان محسوس ہو گا جو روح میں اترکر آپ کو اندر سے شادمان کر دے گا۔یہ سلسلہ جاری رہا تو نفس مطمئنہ والی منزل دور نہیں رہتی۔ اگرہم میں سے ہر شخص آپس میں آسانیاں بانٹنے والا بن جائے تو سارا معاشرہ امن کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ہر طرف سکون اور خوشحالی آ سکتی ہے۔ہر چہرہ مسکرا سکتا ہے۔پھر دیکھیں دنیاکیسی بھلی اور حسین لگے گی۔ آج ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہمارے پاس جو دوسروں کا سکون بطور امانت موجود ہے وہ اس تک پہنچانا ہے،پھر دیکھیں آپ کو اپنا سکون آپ کی اپنی دہلیز پہ مل جائے گا۔

اویس خالد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اتوار کا فائنل
  • فقر کی روشنی میں پروان چڑھتا علم
  • جب تک مرے الفاظ کی ترسیل نہ ہوگی
  • میں جب احساس کے شہر میں پہنچا تو
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
مجھ کو دن رات سوچنے والا
پچھلی پوسٹ
ڈپٹی نذیر احمد – وبا کے دنوں کا ادب

متعلقہ پوسٹس

محبت کے بادل

دسمبر 22, 2024

پھرتے ہو جو تنہا تنہا

اکتوبر 7, 2025

بوجھ بجھاری

دسمبر 27, 2020

بھلا پروانوں کا بھی کوئی وارث ہوتا ہے؟

مئی 23, 2023

غلام سے امامِ امت تک

جنوری 10, 2026

رب تعالیٰ سے عافیت مانگیں

جولائی 23, 2025

ہالی ووڈ کا فریب – آخری قسط

جنوری 19, 2025

بدین میں رضا اللہ نظامانی کا قتل

ستمبر 2, 2025

اکثر اس طرح بھی رقصِ فغاں ہوتا ہے

جنوری 13, 2020

بابا

اگست 6, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

مہینہ دسمبر کا

نومبر 19, 2025

میں سو رہا تھا خواب کی...

فروری 24, 2022

اکثر لوگ بھول جاتے ہیں

جنوری 5, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں