خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابااحساس ۔ حصول سکون کا زریعہ
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزاویس خالد

احساس ۔ حصول سکون کا زریعہ

اویس خالد کا ایک اردو کالم

از سائیٹ ایڈمن اپریل 20, 2020
از سائیٹ ایڈمن اپریل 20, 2020 0 تبصرے 396 مناظر
397

احساس ۔ حصول سکون کا زریعہ

زندگی میں ہر انسان سکون کا متلاشی ہے۔ہر انسان اپنے ذہن میں سکون کا ایک معیار بناتا ہے اور اس کے حصول کی تگ و دو میں دن رات مارا مارا پھرتا ہے۔اتنی محنت شاقہ کرتا ہے کہ خود فراموش ہو جاتا ہے۔اور یہ سعی لا متناہی آپ کو معاشرے کے ہر کونے میں بلا دِقّت کھوج نظر آتی ہے۔غور طلب بات یہ ہے کہ جس شے کے حصول کے لئے محنت کی جائے، قانون قدرت ہے کہ بالاخر اس شے کا حصول ممکن ہو جاتا ہے۔لیکن اس معاملے میں ہمیشہ ہمیں الٹے نتائج ہی ملتے ہیں۔آپ کسی بھی انسان سے پوچھ لیں،وہ کہے گا کہ میں سکون چاہتا ہوں اور اسی سکون کی تلاش میں صبح سے شام تک مصروف عمل رہتا ہوں۔پھر پوچھیں۔۔کیا ملا؟جواب یقینا نفی میں ہو گا بلکہ قرین از قیاس ہے کہ یہ جواب ملے کہ اس چکر میں وہ سکون بھی کھو چکا ہوں جو پہلے دستیاب تھا۔اسی موقع کی مناسبت سے ایک بزرگ کی حکمت بھری بات یاد آگئی۔ ایک شخص ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا حضور میں سکون چاہتا ہوں۔آپ نے فرمایا اس جملے کے شروع میں سے "میں ” اور آخر میں سے "چاہتا ہوں ” نکال دو۔”میں ” تکبر کی جبکہ "چاہتا ہوں "خواہش نفسانی کی علامت ہے۔پیچھے سکون باقی رہ جائے گا۔اتنی محنت کے باوجود اگر سکون میسر نہیں ہے تو یقینا اس کے درپردہ کوئی خاص سبب ہی ہو گا اور اگر اس وجہ کو تلاش کر کے اس خامی کو دور کر لیا جائے تو بلاشبہ اس محنت کا پھل حاصل کیا جا سکتا ہے۔فکر و تدبر،عقل و دانش اور ایجادات و اختراعات سے لبریز اس دور میں کون سا علم ہے جو انسان سے چھوٹ رہا ہے۔بات فقط اتنی ہے کہ بڑے بڑے عقدے کھولنے کے چکر میں ہم چھوٹی چھوٹی گرہیں کھولنا بھول گئے ہیں۔دنیا کا نظام ہے کہ ہر شے کو پانے کے لئے اس کے مقرر کردہ ٹھکانوں پر جانا پڑتا ہے جہاں وہ دستیاب ہوتی ہے۔ہر چیز ہر جگہ سے نہیں مل سکتی۔اسی طرح سکون کی ترسیل کا بھی ایک مقرر ٹھکانہ ہے اور ہم غلط پتے پرصحیح چیز کی تلاش میں غلط ہوئے پڑے ہیں۔کسی نے سمجھا سکون دولت میں ہے،وہ اسی کے پیچھے بھاگتا بھاگتادیوانہ ہو گیا مگر سکون کا نام و نشاں تک نہ ملا۔پھر اپنی عمر رواں گذار کر لگا دوسروں کو سمجھانے پر کون مانے۔کسی نے خیال کیا کہ سکون تو شہرت میں ملے گا۔اس نے اس کے پیچھے کمر کَس لی مگر وہ پہلے سے بھی کہیں ذیادہ بے سکون ہو گیا۔مشہور تو ہو گیا لیکن جینا دو بھر ہو گیا اور سادہ زندگی کو حسرت بنا کر ترسنے لگا۔غرض ہر شخص نے اپنے تئیں سکون کا مفہوم واضح کیا کسی نے یہ نہ سوچا کہ کیا منزل کی طرف سمت کا تعین درست بھی ہے کہ نہیں،بس اس کی تلاش میں بغیر سوچے سمجھے والہانہ بھاگنے لگا۔محض اس لیے کہ دوسروں کو بھی ایسے ہی اسی طرف بھاگتے ہوئے دیکھا تھا۔آئیے سکون کے اصل ٹھکانے کا کھوج لگاتے ہیں۔ہم میں سے ہر شخص کے پاس دوسروں کے حصے کا سکون ہے جو ہم کسی بھی وجہ سے ان تک نہیں پہنچاتے۔اور اس وجہ سے ہر شخص کا سکون رکا ہوا ہے۔اگر ہم میں سے ہر شخص اپنے سکون کے حصول کی اندھا دھند دوڑ چھوڑ کر دوسروں کے حصے کا سکھ انہیں دینے لگے تو ہم سب کے پاس ہمارا سکون خود بخود ہی پہنچ جائے گا۔آسان سا فارمولا ہے۔
احساس دنیا کی وہ قیمتی دولت ہے جس کی بدولت حضرت انسان باقی تمام مخلوقات پر افسر ہے۔یہی دولت اسے نیابت الہی کے تخت پر براجمان رکھتی ہے۔یہ نہ رہے تو اصل خوبصورتی انسان کی از خود جاتی رہتی ہے۔اور بسا اوقات وہ دوسری مخلوقات سے بھی کم تر سطح پر آ جاتا ہے۔حکمرانوں کے پاس عوام کے حصے کا سکون ہے وہ ان تک پہنچانے کا درست بندوبست کر لیں تو سکون خود ان کے دلوں پر آکر دستک دے گا۔انھیں باڈی گارڈ رکھنے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔نہایت آزمودہ تجربہ ہے کہ وہ سکون جو کسی حاجت مند کی حاجت روائی کر کے ملتا ہے وہ شاہی خزانوں کو تسخیر کرنے سے بھی نہیں ملتا۔آج معاشرے میں ہر لحاظ سے ترقی ہو رہی ہے۔ہر طرف علوم و فنون کی ندیاں بہہ رہی ہیں لیکن طغیانی میں احساس جیسا قیمتی شعار ڈوب کر ہمارا ناقابل تلافی نقصان بھی کر گیا ہے۔ہر شخص دوسرے کے درد سے غیر متعلقہ ہے۔دوسروں کے مصائب سے لا علم ہے۔اوروں کے کرب سے نا آشنا ہے۔اپنی منفعت و مصلحت کے بے مہار گھوڑوں کو دوڑاتا ہوا کتنے لوگوں کی آس،امید اور دعا کو قدموں تلے روند جاتا ہے،اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔ہم ڈرامے میں تو کسی کا دکھ دیکھ کر رو پڑتے ہیں لیکن ساتھ والے کا دکھ ہمیں ڈرامہ لگتا ہے۔ہم اپنی سوچوں کے معیار کے زنداں میں باقی سب کو بھی قید کرنا چاہتے ہیں۔ اس روش کو بدلنا ہو گا۔ہمیں کچھ دیر اپنے سکون کے حصول کی دوڑ کو ترک کر کے دوسروں کو سکون پہنچانے کی نیت کرنا ہو گی۔حاجت روائی جو فقط اللہ پاک کی صفت ہے۔آپ اس امر کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے کریں کہ االلہ پاک ہمیں خود اپنے فضل سے اپنی اس صفت سے مزین کرتا ہے اور دوسروں کی حاجت روائی کرتے ہوئے ان کے دکھ،سکھ میں شریک ہونے کا حکم دیتا ہے۔اس کے حکم کے مطابق اس کی دی ہوئی استطاعت کو بروئے کار لاتے ہوئے جہاں تک ممکن ہو سکے،دوسروں کی چارہ جوئی کی جائے اور ان کے حصے کا سکھ ان تک پہنچنے میں رکاوٹ نہ بنا جائے۔سوچا جائے تو بنی نوع بشر کے لئے یہ کتنے اعزاز کا مقام ہے۔اور اگر اس کے الٹ چل پڑیں،جیسا کہ معاشرہ تہذیب نو کی چمکدار دلدل میں پھنس گیا ہوا ہے تو نتائج بھی ایسے ہی ہوں گے جیسے کہ اس وقت ہم بھگت رہے ہیں۔
خلوص،الفت،رواداری،بھائی چارہ،درگذر اور احساس کی دولت سے عاری ہم سب زندگی کے بوجھ تلے گھٹی گھٹی سانسیں لے رہے ہیں مگر کوئی اپنی انا اور خود غرضی کے خود ساختہ دائرے سے باہر نکل کر جینا ہی نہیں چاہ رہا۔اس سوچ نے پورے ماحول کو مایوس اور بد گمان بنا دیا ہے۔ہم کچھ لمحے اگر اپنی مصیبتوں سے فراغت پاتے بھی ہیں تو تفریح طبع کا ایک ہی زریعہ میسر آتا ہے کہ دوسروں کی عیب جوئی کر لی جائے یا کسی کی مصیبت پر خوشگوار انداز میں ماہرانہ تبصرہ فرما لیا جائے۔زندگی میں دوسروں کا احساس کرنے کے مواقع قدم قدم پر ملتے ہیں اور ہم ان کی قدر نہ کرتے ہوئے بے حسی کے قدموں تلے روندتے ہوئے آگے بڑھنے کو دانش مندی سمجھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہمارا سکون بھی راستے میں کسی کے قدموں تلے روندا ہوا ملتا ہے۔سکون کسی بڑے مہنگے ہوٹل میں کھانا کھا کر نہیں ہوتا بلکہ الٹا اکثر اوقات یہ سوچ کر کہ کھانے کی اصلی قیمت سے زائد رقم دینی پڑی ہے تو اپنی بے وقوفی کا شدت سے احساس ہوتا ہے اور دل افسردہ ہو جاتا ہے۔یہی اگر راستے میں کسی بوڑھے کا بوجھ اٹھایا ہو یا کسی لاچار کی مدد کی ہو تو وہ راحت اور اطمینان محسوس ہو گا جو روح میں اترکر آپ کو اندر سے شادمان کر دے گا۔یہ سلسلہ جاری رہا تو نفس مطمئنہ والی منزل دور نہیں رہتی۔ اگرہم میں سے ہر شخص آپس میں آسانیاں بانٹنے والا بن جائے تو سارا معاشرہ امن کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ہر طرف سکون اور خوشحالی آ سکتی ہے۔ہر چہرہ مسکرا سکتا ہے۔پھر دیکھیں دنیاکیسی بھلی اور حسین لگے گی۔ آج ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہمارے پاس جو دوسروں کا سکون بطور امانت موجود ہے وہ اس تک پہنچانا ہے،پھر دیکھیں آپ کو اپنا سکون آپ کی اپنی دہلیز پہ مل جائے گا۔

اویس خالد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • محسوس نہ ہوگا کبھی آزار مجھے بھی
  • بے دم سا ترا لے کے میں احسان پڑا ہوں
  • سوشل میڈیا اور گُم ہوتی سنجیدہ آوازیں
  • غربت اور بیماری
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
مجھ کو دن رات سوچنے والا
پچھلی پوسٹ
ڈپٹی نذیر احمد – وبا کے دنوں کا ادب

متعلقہ پوسٹس

وجود ایک وہم ہے

مارچ 8, 2025

مکافات عمل

جنوری 2, 2025

اگر میں خواب کی تشکیل تک پہنچ جاؤں

ستمبر 15, 2019

کانفیڈینس

مارچ 27, 2020

جدائی ختم ہوئی جگ ہنسائی ختم ہوئی

مارچ 3, 2022

ماتمی جلسہ

اپریل 26, 2020

حوصلہ افزائی کی ترغیب!

اکتوبر 23, 2020

ٹیکنالوجی کی مدد سے اردو ادب کی تدریس

جون 18, 2021

سوال کیسا ، جواب کیسا

مئی 20, 2020

احساس خود گرفتہ سے جاں پر بنی رہی

نومبر 20, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

یہ ہرگز نہیں کہ محبت

جولائی 6, 2025

در آئی مِرے بھاگوں میں رسوائی...

جولائی 31, 2022

امرتسر میں بچپن کا رمضان اور...

مارچ 25, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں