خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےماتمی جلسہ
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

ماتمی جلسہ

ایک افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن اپریل 26, 2020
از سائیٹ ایڈمن اپریل 26, 2020 0 تبصرے 458 مناظر
459

ماتمی جلسہ

رات رات میں یہ خبر شہر کے اس کونے تک پھیل گئی کہ اتا ترک کمال مر گیا۔ ریڈیو کی تھرتھراتی زبان سے یہ سنسنی پھیلانے والی خبر ایرانی ہوٹلوں میں سٹے بازوں نے سنی جو چائے کی پیالیاں سامنے رکھے آنے والے نمبر کے بارے میں قیاس دوڑا رہے تھے۔ اور وہ سب کچھ بھول کر کمال اتا ترک کی بڑائی میں گم ہو گئے۔
ہوٹل میں سفید پتھر والے میز کے پاس بیٹھے ہوئے ایک سٹوری نے اپنے ساتھی سے یہ خبر سن کر لرزاں آواز میں کہا۔’’ مصطفی کمال مر گیا!‘‘
اس کے ہاتھ سے چائے کی پیالی گرتے گرتے بچی۔’’ کیا کہا مصطفی کمال مر گیا!‘‘
اس کے بعد دونوں میں اتاترک کمال کے متعلق بات چیت شروع ہو گئی۔ ایک نے دوسرے سے کہا۔’’ افسوس کی بات ہے، اب ہندوستان کا کیا ہو گا؟ میں نے سنا تھا یہ مصطفی کمال، یہاں حملہ کرنے والا ہے…. ہم آزاد ہو جاتے، مسلمان قوم آگے بڑھ جاتی…. افسوس، تقدیر کے ساتھ کسی کی پیش نہیں چلتی۔
دوسرے نے جب یہ بات سنی تو اس کے روئیں بدن پر چیونٹیوں کے مانند سر کنے لگے اس پر ایک عجیب و غریب کیفیت طاری ہو گئی۔ اس کے دل میں جو پہلا خیال آیا یہ تھا۔’’ مجھے کل جمعہ کی نماز شروع کر دینی چاہیے۔‘‘
اس خیال کو بعد میں اس نے مصطفی کمال پاشا کی شاندار مسلمانی اور بڑائی میں تحلیل کر دیا۔
بازار کی ایک تنگ گلی میں دو تین کو کین فروش کھاٹ پر بیٹھے، باتیں کر رہے تھے۔ ایک نے پان کی پیک بڑی صفائی سے بجلی کے کھمبے پر پھینکی اور کہا میں مانتا ہوں ، مصطفی کمال بہت بڑا آدمی تھا لیکن محمد علی بھی کسی سے کم نہیں تھا، یہاں بمبئی میں تین چار ہوٹلوں کا نام اسی پر رکھا گیا ہے۔‘‘
دوسرے نے جو اپنی ننگی پنڈلیوں پر سے ایک کھردرے چاقو سے میل اتارنے کی کوشش کر رہا تھا اپنے دونوں ساتھیوں سے کہا۔’’ محمد علی کی موت پر بڑی شاندار ہڑتال ہوئی تھی….‘‘
’’ ہاں بھئی تو کل ہڑتال ہو رہی ہے کیا تیسرے نے ایک کی پسلیوں میں کہنی سے ٹہوکا دیا۔ اس نے جواب دیا کیوں نہ ہو گی ارے اتنا بڑا مسلمان مر جائے اور ہڑتال نہ ہو۔‘‘
یہ بات ایک راہ گیرنے سن لی۔ اس نے دوسرے چوک میں اپنے دوستوں سے کہی اور ایک گھنٹے میں ان سب لوگوں کو جو دن کو سونے اور رات کو بازاروں میں جاگتے رہنے کے عادی ہیں معلوم ہو گیا کہ صبح ہڑتال ہو رہی ہے۔
ابو قصائی رات کو دو بجے اپنی کھولی میں آیا۔ اس نے آتے ہی طاق پر سے بہت سی چیزوں کو ادھر ادھر پلٹ کرنے کے بعد ایک پڑیا نکالی اور ایک دیگچی میں پانی بھر کر اس کو اس میں ڈال کر گھولنا شروع کر دیا۔
اس کی بیوی جو دن بھر کی تھکی ماندی ایک کونے میں ٹاٹ پر سو رہی تھی برتن کی رگڑ سن کر جاگ پڑی۔ اس نے لیٹے لیٹے کہا۔ ’’ آ گئے ہو؟‘‘
’’ ہاں آگیا ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر ابو نے اپنی قمیص اتار کر دیگچی میں ڈال دی اور اسے پانی کے اندر مسلنا شروع کر دیا۔
اس کی بیوی نے پوچھا۔’’ تم یہ کیا کر رہے ہو!‘‘ مصطفی کمال مرگیا ہے۔ کل ہڑتال ہو رہی ہے!‘‘ اس کی بیوی یہ سن کر گھبراہٹ کے مارے اٹھ کھڑی ہوئی۔’’ کیا مارا ماری ہو گی؟ میں تو ان ہر روز کے فسادوں سے تنگ آ گئی ہوں۔‘‘ وہ سر پکڑ کر رہ گئی۔” میں نے تجھ سے ہزار مرتبہ کہا ہے۔کہ تو ہندوؤں کے اس محلے سے اپنا مکان بدل ڈال پر نہ جانے تو کب سنے گا!‘‘
ابو جواب میں ہنسنے لگا۔ اری پگلی…. یہ ہندو مسلمانوں کا فساد نہیں ہے۔مصطفی کمال مر گیا ہے …. وہی جو بہت بڑا آدمی تھا۔ کل اس کے سوگ میں ہڑتال ہو گی۔‘‘
’’ جانے میری بلا یہ بڑا آدمی کون ہے…. پر یہ تو کیا کر رہا ہے؟‘‘ بیوی نے پوچھا’’ سوتا کیوں نہیں ہے!‘‘ قمیص کو کالا رنگ دے رہا ہوں …. صبح ہی ہڑتال کرانے جانا ہے!‘‘ قمیص، یہ کہہ کر اس نے قمیص نچوڑ کر دو کیلوں کے ساتھ لٹکا دی جو دیوار میں گڑی ہوئی تھیں۔‘‘
دوسرے روز صبح کو سیاہ پوش مسلمانوں کی ٹولیاں کالے جھنڈے لئے بازاروں میں چکر لگا رہی تھیں۔ یہ سیاہ پوش مسلمان دوکانداروں کی دوکانیں بند کرا رہے تھے اور یہ نعرہ لگا رہے تھے۔’’ انقلاب زندہ باد۔انقلاب زندہ باد۔‘‘
ایک ہندو نے جو اپنی دوکان کھولنے کے لئے جا رہا تھا۔ یہ نعرے سنے اور نعرے لگانے والوں کو دیکھا تو چپ چاپ ٹرام میں بیٹھ کر وہاں سے کھسک گیا۔ دوسرے ہندو اور پارسی دوکانداروں نے جب مسلمانوں کے ایک گروہ کو چیختے چلاتے اور نعرے مارتے دیکھا تو انہوں نے جھٹ پٹ دو کانیں بند کر لیں۔
دس پندرہ سیاہ پوش گپیں ہانکتے ایک بازار سے گذر رہے تھے۔ ایک نے اپنے ساتھی سے کہا۔’’ دوست ہڑتال ہوئی تو خوب ہے، پر ویسی نہیں ہوئی، جیسی محمد علی کی ٹیم پر ہوئی تھی…. ٹرامیں تو اسی طرح چل رہی ہیں۔‘‘
اس ٹولی میں جو سب سے جوشیلا تھا۔ اور جس کے ہاتھ میں سیاہ جھنڈا تھا، تنک کر بولا۔آج بھی نہیں چلیں گی!‘‘ یہ کہہ کر وہ اس ٹرا م کی طرف بڑھا جو لکڑی کے ایک شیڈ کے نیچے مسافروں کو اتار رہی تھی۔ ٹولی کے باقی آدمیوں نے اس کا ساتھ دیا اور ایک لمحہ کے اندر سب کے سب ٹرام کی سرخ گاڑی کے ارد گرد تھے۔ سب مسافر زبر دستی اتار دیئے گئے۔
’’ شام کو ایک وسیع میدان میں ماتمی جلسہ ہوا۔ شہر کے سب ہنگامہ پسند جمع تھے۔ خوانچہ فروش اور پان بیڑی والے چل پھر کر اپنا سودا بیچ رہے تھے۔ جلسہ گاہ کے باہر عارضی دوکانوں کے پاس ایک میلہ لگا ہوا تھا۔ چاٹ کے چنوں اور ابلے ہوئے آلوؤں کی خوب بکری ہو رہی تھی۔
جلسہ گاہ کے اندر اور باہر بہت بھیڑ تھی۔ کھوئے سے کھوا چھلتا تھا۔ اس ہجوم میں کئی آدمی ایسے بھی چل پھر رہے تھے۔ جو یہ معلوم کرنے کی کوشش میں تھے کہ اتنے آدمی کیوں جمع ہو رہے ہیں۔ ایک صاحب گلے میں دور بین لٹکائے ادھر ادھر چکر کاٹ رہے تھے دور سے اتنی بھیڑ دیکھ کر اور یہ سمجھ کر کہ پہلوانوں کا دنگل ہو رہا ہے۔ وہ ابھی ابھی اپنے گھر سے نئی دور بین لے کر دوڑے دوڑے آ رہے تھے اور اس کا امتحان لینے کے لئے بیتاب ہو رہے تھے، میدان کے آہنی جنگلے کے پاس دو آدمی کھڑے آپس میں بات چیت کر رہے تھے اور ایک نے اپنے ساتھی سے کہا۔’ ’بھئی یہ مصطفی کمال تو واقعی کوئی بہت بڑا آدمی تھا…. میں جو صابن بنانے والا ہوں ، اس کا نام’’ کمال سوپ‘‘ رکھوں گا…. کیوں کیسا رہے گا؟‘‘
دوسرے نے جوا ب دیا’’ وہ بھی برا نہیں تھا۔‘‘ جو تم نے پہلے سوچا تھا۔’’ جناح سوپ…. یہ جناح مسلم لیگ کا بہت بڑا لیڈر ہے!‘‘
’’ نہیں نہیں کمال سوپ اچھا رہے گا…. بھائی مصطفی کمال اس سے بڑا آدمی ہے۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے اپنے ساتھی کے کاندھے پر ہاتھ رکھا۔’’ آؤ چلیں جلسہ شروع ہونے والا ہے۔‘‘وہ دونوں جلسہ گاہ کی طرف چل دئیے۔ جلسہ شروع ہوا۔
آغاز میں نظمیں گائی گئیں۔ جن میں مصطفی کمال کی بڑائی کا ذکر تھا، پھر ایک صاحب تقریر کرنے کے لئے اٹھے، آپ نے کمال اتا ترک کی عظمت بڑے بلند بانگ لفظوں میں بیان کرناشروع کی۔ حاضر ین جلسہ اس تقریر کو خاموشی سے سنتے رہے جب کبھی مقرر کے یہ الفاظ گونجتے۔’’ مصطفی کمال نے درہ دانیال سے انگریزوں کو لات مار کر باہر نکال دیا۔‘‘ یا ’’ کمال نے یونانی بھیڑوں کو اسلامی خنجر سے ذبح کر ڈالا۔‘‘ تو اسلام زندہ باد کے نعروں سے کانپ کانپ اٹھتا۔‘‘
یہ نعرے مقرر کی قوت گویائی کو اور تیز کر دیتے اور وہ زیادہ جوش سے اتاترک کمال کی عظیم الشان شخصیت پر روشنی ڈالنا شروع کر دیتا۔
مقرر کا ایک ایک لفظ حاضرین جلسہ کے دلوں میں ایک جوش و خروش پیدا کر رہا تھا۔
جب تک تاریخ میں گیلی پولی کا واقعہ موجود ہے، برطانیہ کی گردن ٹرکی کے سامنے قلم رہے گی۔ صرف ٹرکی ہی ایک ایسا ملک ہے۔ جس نے برطانوی حکومت کا کامیاب مقابلہ کیا اور صرف مصطفی کمال ہی ایسا مسلمان ہے جس نے غازی صلاح الدین ایوبی کی سپاہیانہ عظمت کی یاد تازہ کی، اس نے بہ نوک شمشیر یورپی ممالک سے اپنی طاقت کا لوہا منوایا۔ ٹرکی کو یورپ کا مرد بیمار کہا جاتا تھا۔ مگر کمال نے اسے صحت اور قوت بخش کر مرد آہن بنا دیا۔‘‘
’’ جب یہ الفاظ جلسہ گاہ میں بلند ہوئے تو’’ انقلاب زندہ باد، انقلاب زندہ باد‘‘ کے نعرے پانچ منٹ تک متواتر بلند ہوتے رہے۔‘‘
اس سے مقرر کا جوش اور بڑھ گیا۔ اس نے اپنی آواز کو اور بلند کر کے کہنا شروع کیا۔’’ کمال کی عظمت مختصر الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتی۔ اس نے اپنے ملک کے لئے وہ خدمات سرانجام دی ہیں جن کو بیان کرنے کے لئے کافی وقت چاہئے…. اس نے ٹرکی میں جہالت کا دیوالہ نکال دیا۔ تعلیم عام کر دی تھی نئی روشنی کی شعاعوں کو پھیلایا۔ یہ سب کچھ اس نے تلوار کے زور سے کیا۔ اس نے دین کو جب علم سے علیحدہ کیا تو بہت سے قدامت پسندوں نے اس کی مخالفت کی۔ مگر وہ سر بازار پھانسی پر لٹکا دیئے گئے اس نے جب یہ فرمان جاری کیا کہ کوئی ترک رومی ٹوپی نہ پہنے تو بہت سے جاہل لوگوں نے اس کے خلاف آواز اٹھا نا چاہی۔ مگر یہ آواز ان کے گلے ہی میں دبا دی گئی…. اس نے جب یہ حکم دیا کہ اذان ترکی زبان میں ہو تو بہت سے ملاؤں نے عدول حکمی کی مگر وہ قتل کر دیئے گئے….‘‘
’’یہ کفر بکتا ہے‘‘…. جلسہ گاہ میں ایک شخص کی آواز بلند ہوئی اور فوراً ہی سب لوگ مضطرب، ہو گئے۔
’ یہ کافر ہے…. جھوٹ بولتا ہے۔‘‘ کے نعروں میں مقرر کی آواز گم ہو گئی۔ پیشتر اس کے کہ وہ اپنا ما فی الضمیر بیان کرتا اس کے ماتھے پر ایک پتھر لگا اور وہ چکرا کر اسٹیج پر گر پڑا۔ جلسہ میں بھگدڑ مچ گئی۔
…. اسٹیج پر مقرر کا ایک دوست اس کے ماتھے پر سے خون پونچھ رہا تھا….اور جلسہ گاہ ان نعروں سے گونج رہی تھی’’…. مصطفی کمال زندہ باد‘‘…. ’’ مصطفی کمال زندہ باد‘‘….’’مصطفی کمال زندہ باد۔‘‘

سعادت حسن منٹو

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • فادر ڈے
  • سفر در سفر
  • مینارِمحبت کا شہزادہ
  • پشاور ایکسپریس
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ایک مڑا ہوا ورق
پچھلی پوسٹ
خواہاں ہوں بوئے باغِ تنزہ شمیم کا

متعلقہ پوسٹس

بھینٹ

جون 14, 2020

رمضان ٹرانسمیشن یا ریٹنگ کا کھیل؟

فروری 26, 2026

خامہ بگوش کے قلم سے

دسمبر 15, 2019

یہ گداز رس بھری گولائیاں

اکتوبر 16, 2020

سیاسی جماعتوں کی رسہ کشی

اکتوبر 28, 2025

غزنوی میزائل

جنوری 27, 2026

جوتا مارو سالوں کو

دسمبر 20, 2019

ہٹلر کی جمہوریت اور ریپستان‎‎

جنوری 30, 2022

دھنک رنگ زندگی

دسمبر 1, 2019

جشن آزادی اور شریعت

اگست 9, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

دہلی کا ایک یادگار مشاعرہ

جولائی 1, 2024

مدافعت کا آخری راستہ

جنوری 4, 2022

شال

فروری 3, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں