خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےدھنک رنگ زندگی
اردو افسانےاردو تحاریرعشرت ناہید

دھنک رنگ زندگی

ایک افسانہ از ڈاکٹر عشرت ناہید

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 1, 2019
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 1, 2019 0 تبصرے 489 مناظر
490

دھنک رنگ زندگی

یہ کہانی شروع ہوتی ہے اس سڑک سے جس پر میری ملاقات چندا سے ہوئی تھی ۔۔۔۔سڑک جو آج کی عورت کی طرح ہر عہد کی تاریخ کو اپنے سینے میں دبائے صرف بھاگنا جانتی ہے اپنی پیٹھ پر اگ آئے ضرورتوں کے پھپھولوں کو لیے ۔۔۔
دراصل میراگھر میں سڑک سے تقریباً ایک کلو میٹر اندر تھا جہاں سے صبح کے وقت بہت سی خواتین اور کالج جانے والی لڑکیاں نکلتی تھیں ان میں سے ذیادہ تر پیدل ہی سڑک تک جا کر رکشا یا بس سے اپنی منزل پر پہنچتی تھیں ۔گرمی کے موسم میں یہ دوری بہت مشکل لگتی تھی اس کا اندازہ مجھے ان کی چال اور چہرے پر آئے پسینے کی بوندوں سے ہوتا تھا خیر یہ ان خواتین اور لڑکیوں کا معمول تھا ۔ ایسا ہی میرا بھی معمول تھا جیسے ہی گھر سے گاڑی اسٹارٹ کرتی نظریں ادھر ادھر کچھ تلاش کرنا شروع کر دیتیں جیسے ہی کوئی خاتون جس کے کاندھے پر پرس ہوتایا کوئی لڑکی کتابوں کا بیگ لیے جاتی نظر آتی میں اس کے نزدیک جاکر ہارن بجا کر گاڑی روکتی اور اس سے پوچھتی
’’ کیا اسٹاپ تک جاؤگی ؟ ‘‘
وہ ہاں کہتی تو میں فوراً گاڑی کا دروازہ کھول کر بیٹھنے کے لیے کہتی اور پھر اسٹاپ پر انہیں اتار کر اپنے آفس کو بڑھ جاتی۔
میری پیشکش پرخواتین اکثر مسکراتے ہوئے بیٹھ جاتیں مگر لڑکیاں تھوڑا پس و پیش کرتیں کہ زمانہ خراب ہے پتہ نہیں یہ گاڑی والی آ نٹی کہاں لے جائیں لیکن ذیادہ تر لڑکیاں بھی دو لمحے کے لیے سوچتیں پھر دھوپ دیکھ کر بیٹھ جاتیں لیکن بیٹھتے ہی یہ ضرور پوچھتیں
’’ آنٹی آپ کہاں جاب کرتی ہیں ؟ ‘‘
’’ کہاں رہتی ہیں ؟ ‘‘
مجھے ان کی یہ احتیاط اچھی لگتی ۔ مگر کسی دن ایسا بھی ہوتا کہ کوئی لڑکی میری پیش کش ٹھکرا دیتی میں مسکراتی ہوئی آگے تو بڑھ جاتی مگر دل میں قلق ہوتا کہ کاش یہ لڑکی اس چھوٹے سے راستے پر میری ہمسفر بن جاتی جس سے یہ مختصر سا راستہ میرے لیے نیکی کا سبب بن جاتا ۔ دراصل جب میں چھوٹی تھی تب امی سمجھایا کرتی تھیں کہ بیٹا کسی کی کوئی بڑی مدد کرنا بہت اچھی بات ہے مگر چھوٹی چھوٹی مدد ہمارے لیے بہت آسان ہوتی ہے اور اطمینان قلب کا باعث بھی ۔امی کی یہ بات کچھ اس طرح ذہن میں بیٹھی تھی کہ کب عادت بن گئی پتہ ہی نہ چلا ۔جب کہ میرے شوہر میری اس عادت پر ہنستے بھی تھے اورڈراتے بھی تھے کہ یہ بڑا شہر ہے دن رات حادثے ہوتے ہی رہتے ہیں کسی دن کسی خاتون نے گاڑی میں بیٹھ کر تم پر ہی پستول تان کر لوٹ لیا نا تب سمجھ میں آئے گی۔
ہاں تو میں یہ بتا رہی تھی کہ چندا سے بھی میری ملاقات اسی طرح ہوئی تھی۔ چند ا ۲۵ / ۲۶ سال کی چاند جیسی من موہنی صورت والی لڑکی تھی۔ چندا کے ہالے جیسا ہی گول چہرہ بڑی بڑی آنکھیں جنہیں وہ کاجل کی ہلکی سی لائن سے سجا ئے رکھتی پتلے پتلے گلابی ہونٹ جس کے نیچے دائیں طرف چھوٹا سا سیاہ تل بہت پیارالگتا۔ جب وہ بات کرتی تو بہتے جھرنے کی سی مدھر آواز کانوں میں جھنکار گھولتی جب ہنسنے کے لیے اس کے لب وا ہوتے تو اس کے گالوں میں ہلکے سے گڑھے پڑ جاتے جو اس کی خوبصورتی کو کچھ ایسا بڑھا دیتے کہ دیکھنے والا اسے ایک ٹک دیکھتا ہی رہ جائے ۔ میں اسے دیکھ کر سوچتی کہ سب کہتے ہیں کہ چاند میں داغ ہوتا ہے مگر اوپر والے نے اسے کتنا بے داغ بنایا ہے لگتا ہے ساری فیاضی اسی کو بنانے میں صرف کردی کوئی کمی نہ چھوڑی اس پر اس کا مزاج کچھ ایسا کہ ساری شگفتگی بھی جیسے اسی میں سما دی گئی ہو ۔وہ بہت ہی خوش مزاج اور خوش مذاق تھی ۔
دراصل چندا کے اور میرے جانے کا وقت ایک ہی تھااس کا گھر میرے گھر سے بھی آگے کہیں تھا وہ انٹیریئیر ڈیکوریٹر تھی اور کسی انٹیرئیر کی شاپ پر کام کرتی تھی ۔وہ ا کثر مجھے مل جایا کرتی تھی میں نے اس سے کئی مرتبہ کہا کہ اگر تم گھر کے باہر گاڑی کھڑی دیکھو تو رک جایا کرو یا بیل بجا دیا کرو لیکن اس نے کبھی ایسا کیا نہیں ۔
آہستہ آہستہ دوریاں نزدیکیوں میں بدل گئیں وہ جب بھی ساتھ ہوتی تو اس کا دھیمi لہجہ بات کرنے کا انداز افف اس کے لفظوں کی ادائیں ایسا لگتا مانو چاند اپنی ٹھنڈی ٹھنڈی چاندنی سے نور کی کرنیں بکھیر کر ماحول کو خوشنما بنا رہا ہو اور وہ پانچ منٹ کا راستہ اپنا کچھ ایسا تاثر مجھ پر چھوڑتا کہ سارا دن ہی خوشگوار گزرتا ۔ لیکن ایسا روز نہیں ہوتا تھا کیونکہ میرا آفس جانا ہفتہ میں پانچ دن ہی ہوا کرتا تھا اس میں بھی کبھی کبھی وہ نہیں ملتی تھی اس لیے مجھے اتنے دنوں میں اس کی ذاتی زندگی کا کچھ علم نہیں ہو پایا تھا ایک دن میں نے اس سے پوچھ ہی لیا کہ
’’ چندا تمہار ے گھر میں کون کون ہے؟ ‘‘
کہنے لگی ’’ ساس شوہر اور دو بچے ایک بیٹا اور ایک بیٹی ‘‘
’’ بچے کتنے بڑے ہیں ؟ ‘‘
’’ بیٹا ابھیشیک ساتویں جماعت میں اور بیٹی سونیا پانچویں جماعت میں ‘‘
’’ تو تمہاری غیر موجودگی میں ساس بچوں کو دیکھ لیتی ہونگی ؟ ‘‘
’’ وہ صرف اپنے ہی بیٹے کو دیکھتی ہیں ‘‘ اس نے ہنستے ہوئے کہا لیکن اس کی ہنسی میں وہ کھنک نہیں تھی جو روز ہوا کرتی تھی ’’ میرے بچے تو ایک دوسرے کو خود ہی سنبھال لیتے ہیں ۔ ‘‘
مجھے اس کا جواب عجیب سا لگا پھر خیال آیا کہ ہمارے یہاں مائیں شادی کے بعد بھی بیٹوں پر پوری گرفت رکھتی ہیں کہ کہیں بہو اسے اپنے قبضے میں نہ کر لے ایسا ہی کچھ معاملہ ہوگا
میں تو اس بات پر حیران تھی کہ چندا کے اتنے بڑے بچے ہیں مطلب اس کی شادی بہت کم عمر میں ہی ہوگئی ہوگی ۔
’’ چندا تمہاری شادی کب ہو گئی تھی ؟ ‘‘
’’ میری شادی تو اس وقت ہی ہو گئی تھی جب مجھے سہانے سپنے پوری طرح سمجھ بھی نہ آتے تھے اور نہ ہی شادی کے مفہوم سے پوری واقفیت ہی تھی دراصل میں گیارہویں پاس کرکے بارہویں جماعت میں پہنچی ہی تھی کہ یہاں سے رشتہ آگیا لڑکا بہت خوبصورت اور بقول میری ساس کے آفیسرَ تھا میرے پا پا نے شادی طے کردی اور جیسے ہی میرے امتحان ختم ہوئے شادی ہو گئی۔ ‘‘
اسٹاپ آگیا تھا اور وہ معمول کے مطابق شکریہ ادا کرتی ہوئی اتر گئی ۔
پھر جب راکھی آئی تب اس نے بتایا کہ اس کا ایک چھوٹا بھائی ہے جسے وہ بہت پیار کرتی ہے لیکن بچوں کے ٹیسٹ کی وجہ سے وہ مائکے جا نہیں پا رہی تب میں نے اس سے یونہی پوچھ لیا تھا کہ
’’ تمہارے پا پا کیا کرتے ہیں ؟ ‘‘
وہ کہنے لگی
’’ پاپا نہیں ہیں وہ تو اسی وقت دنیا سے چلے گئے جب شادی کے بعد پہلی بار میں ان سے ملنے گئی انہیں دل کا شدید دورہ پڑا تھا جو کہ جان لیوا ثابت ہوا ۔لیکن میرے پاپا کے بعد میرے سسر نے مجھے بیٹی کا سا پیار دیا تھا مگر وہ بھی چلے گئے ۔ ‘‘
یہ باتیں کرتے ہوئے اس کا گلا رندھ گیا تھا اوروہ بہت اداس ہو گئی تھیں مجھے پہلی بار اس کی آواز میں نمی کا احساس ہوا تھا جس کا مجھے بہت ملال بھی ہوا کہ میں نے کیوں اس سے ایسی بات کی اس کی آنکھوں کی نمی میرے دل کے پار اتر گئی تھی اور اسی وقت میں نے طے کرلیا کہ آئیندہ اس سے کبھی ذاتی زندگی کی بات نہیں کرونگی کیونکہ مجھے چندا کی ہنستی ہوئی چاندنی پسند تھی اس پر کسی بادل کا سایہ نہیں ۔
پھر ہمارے درمیان ایسی کوئی بات نہیں ہوئی وہ بھی کبھی گھر کی کوئی بات نہیں کرتی تھی ۔بس پھر وہی معمول تھا ہمارا۔ وہ مل جاتی راستہ خوشگوار سا کٹ جاتا میرا دن اچھا گزر جاتا واپسی میں وہ مجھے کبھی نہیں ملی کیونکہ اس کی واپسی بہت دیر سے ہوتی تھی تقریبا آٹھ بج جایا کرتے تھے صبح دس بجے سے شام ۷ بجے تک کی سخت ڈیوٹی تھی اس کی ۔گھر پہنچ کر وہ بچوں کو ہوم ورک کرواتی پھر اس کے بعد کھانا ایک بار میں نے کہا کہ
’’ چندا تم کتنا تھک جاتی ہوگی اتنی لمبی ڈیوٹی سے ‘‘
اس کا جواب تھا ’’ دیدی بچوں کو دیکھتے ہی ساری تھکن کہاں غائب ہو جاتی ہے پتہ ہی نہیں چلتا ۔ ‘‘
اگلے مہینے دیوالی تھی وہ بہت خوش تھی اورگھر کو سجانے کی تیاری بڑے زور شور سے کر رہی تھی
دیوالی سے پہلے جب کروا چوتھ کا ورت آیا یہ ورت عموما شادی شدہ خواتین اپنے شوہر کی درازئی عمر اور اگلے جنم میں اسی کے ساتھ کی تمنا میں رکھتی ہیں تو اس دن چندا نے بھی ورت رکھا ہوا تھا میں نے اسے چھیڑتے ہوئے کہا ۔
’’ آج تو چندا اپنے چاند کے درشن کر کے ہی ورت کھولے گی اور اس کی چاندنی میں نہائے گی ‘‘
’’ نہیں میں تو زمینی چاند کو نہیں حقیقی چاند کو ہی دیکھ کر ورت کھولونگی کیونکہ وہ میرے ہی جیسا لگتاہے مجھے اور وہی میرا سچا ساتھی ہے۔ ‘‘
’’ ارے کیسی باتیں کر رہی ہو زمین کے چاند نے تو تمہارے آنچل میں کتنے پیارے پیارے ستارے ٹانکے ہیں اس کا شکریہ ادا نہیں کروگی عجیب بے مروت لڑکی ہو جی تم تو ‘‘
میں نے ہنستے ہوئے کہا
’’ ہاں آنچل ہی تو سجایا ہے ‘‘
’’ میری تو یہی دعاہے کہ تمہارے ہر جیون کو یہی چاند روشنی دیتا رہے ‘‘
اس نے اپنی ہتھیلی میرے ہونٹوں پر رکھ دی اور ہنس کر کہنے لگی
’’ بس یہی جیون کافی ہے اب ایسی کوئی دعا نہ دینا ‘‘
میں نے اس کی اس حرکت کو مذاق ہی جانا اور مسکرا دی
وہ گنگنا نے لگی تھی
’’ چندا رے چندا رے کبھی تو زمیں پہ آ بیٹھیں گے باتیں کرینگے ‘‘
میں گیت اور اس کی آواز کے سحر میں گم ہونے لگی تھی کہ کہ اسٹاپ آگیا اور وہ چلی گئی۔
چندا کی باتیں کبھی کبھی مجھے بڑا حیران کردیتی تھیں اور میں سوچ میں پڑ جاتی کہ یہ لڑکی کیا ہے اس کی سوچ میں اتنی گہرائی کہاں سے آجاتی ہے لیکن ایسا بھی لگتا کہ شاید میں غلط سوچ رہی ہوں کیونکہ ہمارے ملنے کا دورانیہ بہت ہی کم ہوتا تھا پانچ منٹ سے بھی کم وہ بھی روز نہیں ا س وجہ سے کسی بھی موضوع پر گفتگو ٹھیک سے ہو اس سے پہلے اسٹاپ آ جاتا اور بات ادھوری رہ جاتی ۔
ایک دن میں نے اس سے کہا۔
’’ چندا تمہارا نام مجھے بہت اچھا لگتا ہے دل چاہتا ہے اپنی بیٹی کا نام بدل دوں اور چندا رکھ دوں ‘‘
وہ ایک دم تڑپ کر بولی
’’ نا دیدی ایسا کبھی نہ کرنا آپ کو پتہ نہیں کیا کہ چاند کتنی اجاڑ جگہ کا نام ہے جہاں نہ ہوا ہے نہ پانی بس ایک حبس کا عالم ہے ایک گھٹن ہے اور یہ بھی کہ چاند کو گرہن بھی لگا کرتا ہے اور اس گرہن کی تکلیف کے بعد بھی اسے اپنے محور سے نجات نہیں اسے اپنے مدار پر گھومتے ہی رہنا ہوتا ‘‘
’’ ہائے کیسی فلسفیانہ باتیں کرنے لگیں تم ‘‘ میں نے شدید حیرانی کے عالم میں پوچھا
آج میں پہلی مرتبہ اس کی زبان سے اتنی منفی باتیں سن رہی تھی ورنہ تو اس کی سوچ ہمیشہ مثبت رہی تھی وہ بہت زندہ دل لڑکی تھی ۔
’’ ارے بابا مجھے تو چاند کی روشنی سے عشق ہے دیکھونا کیسی ٹھنڈی ٹھنڈی روشنی سے کائینات کو منور کرتا اندھیرے کو اجالے میں بدل دیتا ۔ اس کی خوبیاں دیکھو ‘‘
’’ لیکن خود تو ویران ہے نا ‘‘
آفس پہنچنے تک اس کی باتیں میرے دماغ میں گھومتی رہیں
پھر دیوالی کی وجہ سے وہ اور جلدی گھر سے نکلنے لگی تھی اس لیے اس سے ملاقات کا سلسلہ رک سا گیا تھا لیکن دیوالی پر اس نے مجھے فون پر گھر آنے کی پرزور دعوت ضرور دی ۔
میں نے بھی وعدہ کر لیا تھا اور اس سے کہا کہ راستہ بتا دینا کس طرف آنا ہے
کہنے لگی ’’ میں لینے آجاؤنگی۔آپ آٹھ بجے تیار رہیے گا ‘‘
مقررہ وقت پر وہ آگئی تھی
آج وہ بالکل چودھویں کے چاند کی طرح جگمگا رہی تھی اس نے ہلکے نیلے رنگ کی بڑی خوبصورت ساڑی پہن رکھی تھی اسی کی ہم رنگ ڈھیر ساری چوڑیاں جن کے بیچ بیچ میں نگینے جڑے طلائی کڑے تھے جو اس کے ہاتھٍوں کی ہلکی سی بھی حرکت پر جھلملا اٹھتے تھے انگلیوں میں انگوٹھیاں ۔ گلے میں نازک سا گلو بند ، کانوں میں جھمکیاں پھر اس سب پر اس کا سلیقے سے کیا گیا میک اپ اس کو کچھ ایسا حسین بنا رہا تھا کہ حقیقی چاند بھی شرما جائے ۔
بچے اور میں تیار تو تھے ہی اس کے آتے ہی فورا نیچے اتر گئے وہ کہنے لگی
’’ دیدی گاڑی سے ہی چلیے بچے اتنا نہیں چل پائینگے ‘‘
میں گاڑی کی چابی لے آئی اور ہم لوگ چل پڑے گلی پتلی ہونے اور اس میں بھی بچوں کے پٹاخے پھوڑنے کی وجہ سے گاڑی دھیمی رفتار سے چل رہی تھی جس طرح آہستہ روی سے زندگی چلتی ہے وہ بچوں سے اپنے مخصوص انداز میں ہنستی مسکراتی باتیں کرتی رہی بیچ بیچ میں راستہ بھی بتاتی رہی ایک کالے رنگ کے گیٹ پر اس نے رکنے کے لیے کہا اس کا گھر تو کافی دور تھا یہ اتنی دور سے پیدل جاتی ہے میں سوچ رہی تھی۔
اس کا گھر باہر سے بڑا ہی خوبصورت چھوٹے سے بنگلے نما تھا جس کی منڈیر پر ایک قطار میں دئیے جل رہے تھے مین گیٹ کے اندر زمین پرقوس قزاح رنگوں سے سجی دلفریب رنگولی تھی اور اس کے درمیان ایک بڑا سا دیا جگمگا رہا تھا جو مجھ سے کہہ رہا تھا کہ یہاں زندگی بہت روشن اور رنگوں بھری ہے ۔ ڈرائینگ روم کی سجاوٹ بھی چندا کے سلیقے کی منہ بولتی تصویر تھی ہم جیسے ہی اندر پہنچے اس کے دونوں بچوں نے نمستے کرتے ہوئے آگے بڑھ کر میرے پیر چھوئے اور دیوالی کی مبارکباد دی میں نے انہیں گلے سے لگا کر تحفے دئیے جو ان کے لیے لے کر آئی تھی وہ میرے بچوں کو لے کر اندر کھیلنے چلے گئے میں اور چندا بیٹھ کر باتیں کرنے لگے اسی دوران اس کی ساس بھی آگئیں تقریبا ۶۰ْ / ۶۵ سال کی با وقار سی خاتون تھیں میں نے انہیں دیوالی کی مبارکباد دی انہوں نے بھی مجھے گلے لگا کر دعائیں دیں ۔ چندا اندر چلی گئی تھی اس کی ساس کہنے لگیں۔
’’ میری بہو بہت محنتی ہے لیکن اسے سارا دن ہو جاتا ہے میں تو اس سے کہتی ہوں کہ یہ نوکری چھوڑ کر کہیں اور کوشش کر ے جہاں سے پانچ بجے واپس آکر گھر دیکھ سکے۔ ‘‘
’’ آجکل سروس آسانی سے کہاں ملتی ہے۔ ‘‘ میں نے کہا
’’ کوشش کرے انسان تو سب مل جاتا ہے ‘‘
وہ چندا سے شاکی سی تھیں اور ان کا لہجہ روائتی ساسو ماں کی طرح ہی تھا جنہیں بہو کے ہر عمل سے شکایت ر ہتی ہے ۔
مجھے چندا کی بات یاد آئی جب اس نے بتایا تھا کہ سسر کے انتقال کے بعد ہی وہ سروس کرنے پر مجبور ہوئی ۔ تب ہی چندا مٹھائیاں اور دیگر لوازمات سے بھری ٹرے لے کر آگئی وہ بچوں کو بھی بلا لائی مگر وہ مٹھائی لیکر دوبارہ اندر چلے گئے اور چندا چائے بنانے ۔تب ہی ایک بہت خوبصورت سا نوجوان اندر آیا جسے دیکھ کر میں سمجھ گئی کہ یہ چندا کا شوہر ہے میں اسے ایک ٹک دیکھتی ہی رہ گئی وہ مردانہ وجاہتوں کا مکمل نمونہ تھا دراز قد ، گوری رنگت ، گھنگھرالے بال چوڑی پیشانی بہترین لباس جو اس کی اعلٰی ذوق کا مظہر تھا مجھے چندا کی قسمت پر رشک آنے لگا ۔
وہ مسکراتا ہوا میرے بالکل قریب آکر بیٹھ گیا اس کی اس بے تکلفی پر میں اندر ہی اندر جز بز ہوئی اور تھوڑا سا دور سرک گئی ۔وہ بھی اور کھسک کر قریب ہو گیا تو میں نے اس کی ساس کی طرف دیکھا وہ اس سے میرا تعارف کراتے ہوئے بولیں ’’ یہ میرا بیٹا اویناش ہے ‘‘ کہتے ہوئے ان کے چہرے پر تشویش کے آثار تھے جس سے میں پریشان سی ہونے لگی ۔اویناش نے مسکراتے ہوئے میری طرف ہاتھ بڑھایا تب ہی آنٹی نے کہا
’’ بیٹا تم میرے پاس آجاؤ ‘‘
میں تیزی سے اٹھ کر ان کے ساتھ والے صوفے پر بیٹھ گئی اب وہ میرے بالکل سامنے تھا اور مجھے گھور رہا تھا مجھے اس سے ڈر سا لگنے لگا میں اٹھ کھڑی ہوئی ۔
’’ آنٹی اب میں چلونگی ‘‘ کہنے کے ساتھ ہی بچوں کو آواز بھی دے دی ۔بچے باہر آئے تو ان کے ساتھ چندا کے بچے بھی تھے آتے ہی ان کی نظر اپنے پاپا پر پڑی پھر انہوں نے میری طرف دیکھا بچوں کی نظروں میں شرمندگی سی تھی مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ماجرہ کیا ہے ۔ سونیا نے کہا
’’ چلیے پاپا اندر چلتے ہیں ‘‘ اس میں کوئی حرکت نہیں ہوئی نہ ہی وہ سونیا کی طرف متوجہ ہوا وہ تو دھیمی آواز میں نہ جانے کیا کیا بڑ بڑا رہا تھا ہم باہر نکل آئے۔
چندا بھی گیٹ پر آگئی تھی جس وقت وہ مجھے الوداع کہہ رہی تھی اس کے دھنک رنگ چہرے پر گرہن کے سائے واضح نظر آرہے تھے۔

ڈاکٹر عشرت ناہید

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • یہ پربتوں کا عکس ہے
  • خوابوں کی سیاست اور زمینی حقیقت
  • آئیے کوئٹہ چلیں
  • سید فراست بخاری مرحوم
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
گلچیں
پچھلی پوسٹ
سہیلی

متعلقہ پوسٹس

اب اِس کے بعد گھبرانا ہے تم کو

جولائی 10, 2020

تعلیمی پالیسیوں میں عدم تسلسل کا نقصان

دسمبر 9, 2025

زندگی میں اک موڑ

جنوری 3, 2026

تلافی

جون 14, 2020

جب سرپرست ، سرپرستی چھوڑ دیں

جون 27, 2022

میں ایک مرتبہ

نومبر 26, 2020

ترکی بدل گیا ہے

اگست 28, 2022

 لالہ جی​

دسمبر 12, 2019

تانگے والا

جون 14, 2020

بیشک دشواری کے ساتھ آسانی ہے

جنوری 26, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

بیشک ۔ دُعا تقدیر کو بدل...

مئی 16, 2020

جہاں پریاں اترتی ہیں

جون 15, 2025

شہزاد نیرّ اور ”گرہ کھُلنے تک“ 

جنوری 15, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں