خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےعشقیہ کہانی
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

عشقیہ کہانی

اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن جنوری 21, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 21, 2020 0 تبصرے 504 مناظر
505

عشقیہ کہانی

میرے متعلق عام لوگوں کو یہ شکایت ہے کہ میں عشقیہ کہانیاں نہیں لکھتا۔ میرے افسانوں میں چونکہ عشق و محبت کی چاشنی نہیں ہوتی، اس لیے وہ بالکل سپاٹ ہوتے ہیں۔ میں اب یہ عشقیہ کہانی لکھ رہا ہوں تاکہ لوگوں کی یہ شکایت کسی حد تک دور ہو جائے۔ جمیل کا نام اگر آپ نے پہلے نہیں سنا تو اب سن لیجیے۔ اس کا تعارف مختصر طور پر کرائے دیتا ہوں۔ وہ میرا لنگوٹیا تھا۔ ہم اکٹھے اسکول میں پڑھے، پھر کالج میں ایک ساتھ داخل ہوئے۔ میں ایف اے میں فیل ہو گیا اور وہ پاس۔ میں نے پڑھائی چھوڑ دی مگر اس نے جاری رکھی۔ ڈبل ایم۔ اے کیا اور معلوم نہیں کہاں غائب ہو گیا۔ صرف اتنا سننے میں آیا تھا کہ اس نے ایک پانچ بچوں والی ماں سے شادی کرلی تھی اور آبادان چلا گیا تھا۔ وہاں سے واپس آیا یا وہیں رہا، اس کے متعلق مجھے کچھ معلوم نہیں۔ جمیل بڑا عاشق مزاج تھا۔ اسکول کے دنوں میں اس کا جی بے قراررہتا تھا کہ وہ کسی لڑکی کی محبت میں گرفتار ہو جائے۔ مجھے ایسی گرفتاری سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی لیکن اس کی سرگرمیوں جو عشق سے متعلق ہوتیں، برابر حصہ لیا کرتا تھا۔ جمیل دراز قد نہیں تھا مگر اچھے خدوخال کا مالک تھا۔ میرا مطلب ہے کہ اسے خوبصورت نہ کہا جائے تو اس کے قبول صورت ہونے میں شک و شائبہ نہیں تھا۔ رنگ گورا اور سرخی مائل، تیز تیز باتیں کرنے والا، بلا کا ذہین، انسانی نفسیات کا طالب علم، بڑا صحت مند۔ اس کے دل و دماغ میں سن بلوغت تک پہنچنے سے کچھ عرصہ پہلے ہی عشق کرنے کی زبردست خواہش پیدا ہو گئی تھی۔ اس کو غالب کے اس شعر کا مفہوم اچھی طرح معلوم تھا ؂ عشق پر زور نہیں، ہے یہ وہ آتش غالب کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بجھے مگر اس کے برعکس وہ یہ آگ خود اپنی ماچس سے لگانا چاہتا تھا۔ اس نے اس کوشش میں کئی ماچسیں جلائیں۔ میرا مطلب ہے کہ کئی لڑکیوں کے عشق میں گرفتار ہو جانے کے لیے نت نئے سوٹ سلوائے، بڑھیا سے بڑھیا ٹائیاں خریدیں، سینٹ کی سینکڑوں قیمتی شیشیاں استعمال کیں مگر یہ سوٹ، ٹائیاں اور سینٹ اس کی کوئی مدد نہ کرسکے۔ میں اور وہ، دونوں شام کو کمپنی باغ کا رخ کرتے۔ وہ خوب سجا بنا ہوتا۔ اس کے کپڑوں سے بہترین خوشبو نکل رہی ہوتی۔ باغ کی روشوں پر متعدد لڑکیاں بد صورت، خوبصورت، قبول صورت محو خرام ہوتی تھیں۔ وہ ان میں سے کسی ایک کو اپنے عشق کے لیے منتخب کرنے کی کوشش کرتا مگر ناکام رہتا۔ ایک دن اس نے مجھ سے کہا۔

’’سعادت! میں نے آخر کار ایک لڑکی چن ہی لی ہے۔ خدا کی قسم چندے آفتاب، چندے ماہتاب ہے۔ میں کل صبح سیر کے لیے نکلا۔ بہت سی لڑکیاں مائی کے ساتھ اسکول جارہی تھیں۔ ان میں ایک برقع پوش لڑکی نے جو اپنی نقاب ہٹائی تو اس کا چہرہ دیکھ کر میری آنکھیں خیرہ ہو گئیں۔ کیا حسن و جمال تھا! بس میں نے وہیں فیصلہ کرلیا کہ جمیل اب مزید تگ و دو چھوڑو، اس حسینہ ہی کے عشق میں تمہیں گرفتار ہونا چاہیے۔ ‘‘

ہونا کیا

’’تم ہو چکے ہو۔ ‘‘

اس نے فیصلہ کرلیا کہ وہ ہر روز صبح اٹھ کر اس مقام پر جہاں اس نے اس کافرجمال حسینہ کو دیکھا تھا، پہنچ جایا کرے گا اور اس کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کرے گا۔ اس کے لیے اس کے ذہین دماغ نے بہت سے پلین سوچے تھے۔ ایک جودوسروں کے مقابلے میں زیادہ قابل عمل اور زود اثر تھا، اس نے مجھے بتا دیا تھا۔ اس نے حساب لگا کر سوچا تھا کہ دس دن متواتر اس لڑکی کو ایک ہی مقام پر کھڑے رہ کر دیکھنے اورگھورنے سے اتنا معلوم ہو جائے گا کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ یعنی وہ کیا چاہتا ہے۔ اس مدت کے بعد وہ اس کا ردعمل ملاحظہ کرے گا اور اس تجزیئے کے بعد کوئی فیصلہ مرتب کرے گا۔ یہ اغلب تھا کہ وہ لڑکی اس کا دیکھنا گھورنا پسند نہ کرے۔ مائی سے یا اپنے والدین سے اس کے غیر اخلاقی رویئے کی شکایت کردے۔ یہ بھی ممکن تھا کہ وہ راضی ہو جاتی۔ اس کی ثابت قدمی اس پر اتنا اثر کرتی کہ اس کے ساتھ بھاگ جانے کو تیارہو جاتی۔ جمیل نے تمام پہلوؤں پر اچھی طرح غور کرلیا تھا۔ شاید ضرورت سے زیادہ۔ اس لیے کہ دوسرے روز جب وہ الارم بجنے پر اٹھا تو اس نے اس مقام پر جہاں اس لڑکی سے اس کی پہلی مرتبہ مڈبھیڑ ہوئی تھی، جانے کا خیال ترک کردیا۔ اس نے مجھ سے کہا۔

’’سعادت! میں نے یہ سوچا ہے کہ ہو سکتا ہے اسکول میں چھٹی ہو کیوں کہ جمعہ ہے۔ معلوم نہیں اسلامی اسکول میں پڑھتی ہے یا کسی گورنمنٹ اسکول میں۔ پھر یہ بھی ممکن تھا کہ اگر میں اسے زیادہ شدت سے گھورتا تو وہ بھنا جاتی۔ اس کے علاوہ اس بات کی کیا ضمانت تھی کہ دس دن کے اندر اندر مجھے اس کا رد عمل یقینی طور پر معلوم ہو جائے گا۔ بفرض محال وہ رضا مند ہو جاتی، میرا مطلب ہے مجھے بالمشافہ گفتگو کا موقع دے دیتی، تو میں اس سے کیا کہتا!‘‘

میں نے کہا۔

’’یہی کہ تم اس سے محبت کرتے ہو۔ ‘‘

جمیل سنجیدہ ہو گیا۔

’’یار، مجھ سے کبھی کہا نہ جاتا۔ تم سوچو نا اگر یہ سن کر وہ میرے منہ پر تھپر دے مارتی کہ جناب آپ کو اس کا کیا حق حاصل ہے، تو میں کیا جواب دیتا۔ زیادہ سے زیادہ میں کہہ سکتا کہ حضور محبت کرنے کا حق ہر انسان کو حاصل ہے مگر وہ ایک اور تھپڑ میرے مار سکتی تھی کہ تم بکواس کرتے ہو، کون کہتا ہے کہ تم انسان ہو۔ قصہ مختصر یہ کہ جمیل اس حسین و جمیل لڑکی کی محبت میں خود کو اپنی تجزیہ خودی کے باعث گرفتار نہ کراسکا۔ مگر اس کی خواہش بدستور موجود تھی۔ ایک اور خوبرو لڑکی اس کی تلاش کرنے والی نگاہوں کے سامنے آئی اور اس نے فوراً تہیہ کرلیا کہ اس سے عشق لڑانا شروع کردے گا۔ جمیل نے سوچا کہ اس سے خط و کتابت کی جائے، چنانچہ اس نے پہلے خط کے کئی مسودے پھاڑنے کے بعد ایک آخری، عشق و محبت میں شرابور، تحریر مکمل کی، جو میں یہاں من و عن نقل کرتا ہوں: جان جمیل! اپنے دل کی دھڑکنیں سلام کے طور پر پیش کرتا ہوں۔ حیران نہ ہو ئیے گا کہ یہ کون ہے جو آپ سے یوں بے دھڑک ہم کلام ہے۔ میں عرض کیے دیتا ہوں۔ کل شام کو سوا چھ بجے۔ نہیں، چھ بج کر گیارہ منٹ پر جب آپ امرت سینما کے پاس تانگے میں سے اتریں تو میں نے آپ کو دیکھا۔ بس ایک ہی نظر میں اُس نے مجھے مسحورکرلیا۔ آپ اپنی سہیلیوں کے ساتھ پکچر دیکھنے چلی گئیں اورمیں باہر کھڑا آپ کو اپنی تصور کی آنکھوں سے مختلف روپوں میں دیکھتا رہا۔ دو گھنٹے کے بعد آپ باہر نکلیں۔ پھر زیارت نصیب ہوئی اور میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آپ کا غلام ہو گیا۔ میری سمجھ میں نہیں آتا میں آپ کو اور کیا لکھوں۔ بس اتنا پوچھنا چاہتا ہوں کیا آپ میری محبت کو اپنے حسن و جمال کے شایان سمجھیں گی یا نہیں۔ اگر آپ نے مجھے ٹھکرا دیا تو میں خود کشی نہیں کروں گا، زندہ رہوں گا تاکہ آپ کے دیدار ہوتے رہیں۔ آپ کے حسن و جمال کا پرستار جمیل یہ خط اس نے میرے گھر میں ایک خوشبودار کاغذ پر اپنی تحریر سے منتقل کیا تھا۔ لفافہ پھول دار اور خوشبودار تھاجس کو جمالیاتی ذوق نے پسند نہیں کیا تھا۔ چند روز کے بعد جمیل مجھ سے ملا تو معلوم ہوا کہ اس نے یہ خط اس لڑکی تک نہیں پہنچایا۔ اولاً اس لیے کہ عشق کا آغاز خط سے کرنا نامناسب ہے۔ ثانیاً اس لیے کہ اس خط کی تحریر بے ربط اور بے اثر ہے۔ اس نے خود کو لڑکی متصور کرکے یہ خط پڑھا اور اس کو بہت مضحکہ خیز معلوم ہوا۔ ثالثاً اس لیے کہ تفتیش کرنے کے بعد اس کو معلوم ہوا کہ لڑکی ہندو ہے۔ یہ مرحلہ بھی شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو گیا۔ اس کے گھر میں میرا آنا جانا تھا۔ مجھ سے کوئی پردہ وغیرہ نہیں تھا۔ ہم گھنٹوں بیٹھے پڑھائی یا گپ بازیوں میں مشغول رہتے۔ اس کی دو بہنیں تھیں۔ چھوٹی چھوٹی۔ ان سے بڑی بچگانہ قسم کی پرلطف باتیں ہوتیں۔ اس کی موسی کی ایک انتہا درجے کی سادہ لوح لڑکی عذرا تھی۔ عمر یہی کوئی سترہ اٹھارہ برس ہو گی۔ اس کا ہم دونوں بہت مذاق اڑایا کرتے تھے۔ جمیل کی جب دوسری کوشش بھی بار آور ثابت نہ ہوئی تو وہ دو مہینے تک خاموش رہا۔ اس دوران میں اس نے عشق میں گرفتار ہونے کی کوئی نئی کوشش نہ کی۔ لیکن اس کے بعد اس کو ایک دم دورہ پڑا اور اس نے ایک ہفتے کے اندر اندر پانچ چھ لڑکیاں اپنی عشق کی بندوق کے لیے نشانے کے طور پر منتخب کرلیں۔ پر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ صرف چار لڑکیوں کے متعلق مجھے اس کی عشقیہ مہم کے بارے میں علم ہے۔ پہلی نے جو اس کی دور دراز کی رشتے دار تھی، اپنی ماں کے ذریعے اس کی ماں تک یہ الٹی میٹم بھجوا دیا کہ اگر جمیل نے اس کو پھر بری نظر سے دیکھا تو اس کے حق میں اچھا نہ ہو گا۔ دوسری غور سے دیکھنے پر چیچک کے داغوں والی نکلی۔ تیسری کی چھٹے، ساتویں روز ایک قصائی سے منگنی ہو گئی۔ چوتھی کو اس نے ایک لمبا عشقیہ خط لکھا جو اس کی موسی کی بیٹی عذرا کے ہاتھ آگیا۔ معلوم نہیں کس طرح۔ پہلے جمیل اس کا مذاق اڑایا کرتا تھا، اب اس نے اڑانا شروع کردیا۔ اتنا کہ جمیل کا ناک میں دم آگیا۔ جمیل نے مجھے بتایا۔

’’سعادت! یہ عذرا جسے ہم بے وقوفی کی حد تک سادہ لوح سمجھتے ہیں، سخت ظالم ہے، سب سمجھتی ہے۔ جس لڑکی کو میں نے خط لکھا تھا اور غلطی سے اپنے میز کے دراز میں رکھ کر یہ سوچنے میں مشغول تھا کہ وہ اس کا کیا جواب لکھے گی، یہ کم بخت جانے کیسے لے اڑی۔ اب اس نے میرا ناطقہ بند کردیا۔ بعض اوقات ایسی تلخ باتیں کرتی ہے کہ مجھے رلاتی ہے اور خود بھی روتی ہے۔ میں تو تنگ آگیا ہوں۔ ‘‘

اس سے بہت زیادہ تنگ آکر اس نے اپنے عشق کی مہم اور تیز کردی۔ اب کی اس نے چودہ لڑکیاں چنیں مگر اچھی طرح غور کرنے کے بعد ان میں سے صرف ایک باقی رہ گئی۔ دس اس کے مکان سے بہت دور رہتی تھیں، جن کو ہر روز حتمی طور پر دیکھنے کے متعلق اس کا دل گواہی نہیں دیتا تھا۔ دو ایسی تھیں، جن کا خاندانی ہونے کے بارے میں اسے شبہ تھا۔ بارہ ہوئیں۔ تیرھویں نے ایک دن ایسی بری طرح گھورا کہ اس کے اوسان خطا ہو گئے۔ چودھویں جو کہ چودھویں کا چاند تھی، ملتفت ہو جاتی مگر وہ کم بخت کمیونسٹ تھی۔ جمیل نے سوچا کہ اس کا التفات حاصل کرنے کے لیے وہ ضرور کمیونسٹ بن جاتا، کھادی کے کپڑے پہن کر مزدوروں کے حق میں دس بارہ تقریریں بھی کردیتا، مگر مصیبت یہ تھی کہ اس کے والد صاحب ریٹائرڈ انجینئر تھے، ان کی پنشن یقیناً بند ہو جاتی۔ یہاں سے ناامیدی ہوئی تو اس نے سوچا کہ عشق بازی فضول ہے، شرافت یہی ہے کہ وہ کسی سے شادی کرلے۔ اس کے بعد اگر طبیعت چاہے تو اپنی بیوی کی محبت میں گرفتار ہو جائے۔ چنانچہ اس نے مجھے اس فیصلے سے آگاہ کردیا۔ طے یہ ہوا کہ وہ اپنی امی جان اور اپنے ابا جان سے بات کرے۔ بہت دنوں کی سوچ بچار کے بعد اس نے اس گفتگو کا مسودہ تیار کیا۔ سب سے پہلے اس نے اپنی امی سے بات کی۔ وہ خوش ہوئیں۔ ادھر ادھر اپنے عزیزوں میں انھوں نے جمیل کے لیے موزوں رشتہ ڈھونڈنے کی کوشش کی مگر ناکامی ہوئی۔ پڑوس میں خان بہادر صاحب کی لڑکی تھی۔ ایم۔ اے۔ بڑی ذہین اور طبیعت کی بہت اچھی۔ مگر اس کی ناک چپٹی تھی۔ خالہ کی بیٹی حسن آراء تھی پر بے حد کالی۔ صغریٰ تھی مگر اس کے والدین بڑے خسیس تھے۔ جہیز میں جتنے جوڑے جمیل کی ماں چاہتی تھی، اس سے وہ آدھے دینے پر بھی رضا مند نہیں تھے۔ عذرا کا تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ جمیل کی ماں نے بڑی کوششوں کے بعد راولپنڈی کے ایک معزز اور متمول خاندان کی لڑکی سے بات چیت طے کرلی۔ جمیل اپنی ناکام عشق بازیوں سے اس قدر تنگ آگیا تھا کہ اس نے اپنی ماں سے یہ بھی نہ پوچھا کہ شکل و صورت کیسی ہے۔ ویسے اس نے اپنے زندہ تصور میں اس کا اندازہ لگالیا تھا اور مفصل طور پر سوچ لیا تھا کہ وہ اس کی محبت میں کس طرح گرفتار ہو گا۔ یہ سلسلہ کافی دیر تک جاری رہا۔ میں خوش تھا کہ جمیل کی شادی ہورہی ہے۔ جس کا نام غالباً شریفہ تھا، اس کی منگنی ہو گئی۔ اس تقریب پر اسے سسرال کی طرف سے ہیرے کی انگوٹھی ملی، جو وہ ہر وقت پہنے رہتاتھا۔ اس پر اس نے ایک نظم بھی لکھی جس کا کوئی شعر مجھے یاد نہیں۔ ایک برس تک سوچتا رہا کہ اسے اپنی دلہن کو کب اپنے یہاں لانا چاہیے۔ آدمی چونکہ آزاد اور روشن خیال قسم کا تھا اس لیے اس کی خواہش تھی کہ ماں باپ سے علیحدہ اپنا گھر بنائے۔ یہ کیسا ہونا چاہیے، اس میں کس ڈیزائن کا فرنیچر ہو، نوکر کتنے ہوں، ماہوار خرچ کتنا ہو گا، ساس کے ساتھ اس کا کیا سلوک ہو گا، ان تمام امور کے بارے میں اس نے کافی سوچ بچار کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ لڑکی والے تنگ آگئے۔ وہ چاہتے تھے کہ رخصتی کا مرحلہ جلد از جلد طے ہو۔ جمیل اس بارے میں کوئی فیصلہ نہ کرسکا۔ لیکن اس کی امی نے ایک تاریخ مقرر کردی۔ کارڈ وارڈ چھپ گئے۔ ولیمے کی دعوت کے لیے ضروری سامان کا بندوبست کرلیا گیا۔ اس کے والد بزرگوار شیخ محمد اسماعیل صاحب ریٹائرڈ انجینئر بہت مسرور تھے مگر جمیل بہت پریشان تھا۔ اس لیے کہ وہ اپنے بننے والے گھر کا آخری نقشہ تیار نہیں کرسکا تھا۔ رخصتی کی تاریخ9 اکتوبر کی صبح کو۔ منہ ادھیرے جمیل میرے پاس سخت اضطراب اور کرب کے عالم میں آیا اور اس نے مجھے یہ خبر سنائی کہ اس کی موسی کی لڑکی عذرا نے جو بیوقوفی کی حد تک سادہ لوح تھی، خودکشی کرلی ہے، اس لیے کہ اس کو جمیل سے والہانہ عشق تھا۔ وہ برداشت نہ کرسکی کہ اس کے محبوب و معبود کی شادی کسی اور لڑکی سے ہو۔ اس ضمن میں اس نے جمیل کے نام خط لکھا۔

’’جس کی عبارت بہت درد ناک تھی۔ میرا خیال ہے کہ یہ تحریریادگار کے طور پر اس کے پاس محفوظ ہو گی۔

سعادت حسن منٹو

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ہر دن ماں کا دن
  • صدر ٹرمپ کا بھارت کو ایک اور سرپرائز
  • حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے فضائل ومناقب
  • شلجم
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
محبت کی طبیعت میں یہ کیسا بچپنا
پچھلی پوسٹ
عِشق حقیقی

متعلقہ پوسٹس

ایک ٹانگ پر کھڑے ہونے کی ورزش

جنوری 29, 2025

سمے کا بندھن

جنوری 11, 2020

چاچا ناشکرا

نومبر 29, 2020

گرد آلود لہو لہو چہرے!

اکتوبر 28, 2023

اشرافیہ کی ضد، اُردو زبان کی قربانی

ستمبر 8, 2025

سویرے جو کل آنکھ میری کھلی

دسمبر 12, 2019

بڑے میاں

جنوری 30, 2021

بنگلہ دیش طیارہ سانحہ

اگست 15, 2025

دیسی لائف ان کینیڈا

جون 6, 2024

امید کی شمع

جنوری 19, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

استخارہ

مارچ 15, 2026

مختصر سیرتِ رسولﷺ

مارچ 10, 2026

لیلۃ القدر – ایک رات اور پوری زندگی

مارچ 9, 2026

صدقۂ فطر کی حکمت و اہمیت

مارچ 9, 2026

اعتکاف احکام اور آداب

مارچ 9, 2026

اردو شاعری

بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

مارچ 17, 2026

ماورا ہے سوچوں سے

مارچ 17, 2026

گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد...

مارچ 17, 2026

نشے میں ہم ہیں مگر

مارچ 17, 2026

یہ مرے گھر کے تین چار درخت

مارچ 17, 2026

اردو افسانے

عید کا ادھورا وعدہ اور لفظوں کا مصور

مارچ 17, 2026

دہلیز کا آخری وعدہ

مارچ 9, 2026

آدھی عورت آدھا خواب

جنوری 14, 2026

طوائف کون؟

جنوری 14, 2026

لمس

جنوری 12, 2026

اردو کالمز

سوچتے رہو، جیتے رہو

مارچ 18, 2026

اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

مارچ 17, 2026

میڈیا کا اثر اور ہماری سوچ تحریر

مارچ 17, 2026

کردار، کردار نگاری اور تخلیقیت

مارچ 16, 2026

امن بورڈ یا امن سے اکتاہٹ؟

مارچ 16, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • نشے میں ہم ہیں مگر

    مارچ 17, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ہالی ووڈ کا فریب – تیسری...

جنوری 19, 2025

کیپٹن۔عباس خان شہید

فروری 13, 2026

عوام کی آواز ( ہیلمٹ )

دسمبر 9, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں