خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابابھارتی بے بسی کے نام – اقبالؒ کا پیغام!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزعابد ضمیر ہاشمی

بھارتی بے بسی کے نام – اقبالؒ کا پیغام!

از سائیٹ ایڈمن جون 25, 2021
از سائیٹ ایڈمن جون 25, 2021 0 تبصرے 88 مناظر
89

بھارتی بے بسی کے نام‘ اقبالؒ کا پیغام!

مودی سرکار کی کشمیر ی قیادت سے ملاقات‘ بھارت کی اپنی جماعتوں کا وادیِ کشمیر کی حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ‘مودی سرکار اپنی روایتی ہٹ دھرمی ‘ بے حسی کے ہاتھوں مجبور‘ کشمیر کی حیثیت بحالی سے انکار‘ الیکشن کروانے پر آمادگی‘ مودی کے کل جماعتی اجلاس کا ڈرامہ فلاپ ہو چکا‘دوسری طرف بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی کشمیری رہنماؤں سے ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے عالمی میڈیا کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے معاملے پاکستان سے بات چیت کے لئے بھارت پر دباؤ ہے۔طاقت کے زور پر کشمیریوں کی آواز کو دبانے کی کوشش ناکام ہو چکی‘ یہ بات مودی سرکار پر عیاں ہو چکی ہے کہ کشمیریوں کی آواز کو دبانا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہو چکا۔یہ آج کا نہیں بلکہ ایک قدیم مسئلہ ہے۔ جموں و کشمیر کی آزادی کی تحریک در اصل انیس سو اکتیس ہی میں شروع ہو چکی تھی لیکن تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ اقبال ؒکشمیر کے سیاسی جغرافیے کی بساط اُلٹ جانے کی پیش گوئی بہت پہلے کر چکے تھے۔مودی سرکار جو نشے‘ اقتدار میں بدمست ہو چکی‘ اور اپنے زورِبازو سے کشمیریوں کی رائے کو دبانے کی ناکام کوشش میں مگن ہے‘ ان کے لیے علامہ اقبالؒ نے بہت پہلے آگاہ کر دِیا تھا‘علامہ اقبال نے یوم ِکشمیر پر اپنی تقریر میں فرمایا:
تاریخ گواہ ہے کہ جو لوگ تلوار سے کسی ملک کو فتح کرتے ہیں ان کی حکومت بھی رعایا کی خوشنودی کے بغیر نہیں چل سکتی۔ بادشاہی خریدنے سے نہیں چل سکتی۔ اس لیے ہر ملک کے حکام کے لیے ضروری ہے کہ رعایا کی رضا جوئی حاصل کریں۔اُنھوں نے 21مارچ1932 کو لاہور میں ہونے والے مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں خطاب کے دوران مسئلہ کشمیر کو ان الفاظ میں اجاگر کیا ”کشمیر اس وقت قیامت کا منظر پیش کر رہا ہے‘ کشمیری عوام حق پر ہیں‘ مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ تحریک ناصرف کشمیر بلکہ پورے ہندوستان کے لیے قوت کا باعث بنے گی۔ ان کے احتجاج کو فرقہ ورانہ رنگ دینا لغو ہے‘ تشدد میں تسلسل‘ ریاست میں لاقانونیت کو جنم دے گا۔“
کشمیر‘ہندوسان سے الگ ایک خطہ وجدا ریاست ہے اور اسکی اپنی تمدنی و تہذیبی اور ثقافتی شناخت ہے جوہندوستانی سماج میں سما ہی نہیں سکتی۔علامہ اقبالؒ نے کشمیر کی اس جداگانہ شناخت کو بحال رکھنے اور منوانے کے لیے‘ بذات خود پنجاب کے شہر لاہور میں تب کے کشمیریوں کی قائم کردہ ”انجمن کشمیری مسلمانان“ کے ابتدائی دنوں ہی میں اس میں شمولیت کی اور جلد ہی اُن کو انجمن کشمیری مسلمانان کا سیکریٹری جنرل بنادیا گیا۔ اپنے اس منصب کے حوالے سے اور جنت ارضی‘ جموں و کشمیر سے قلبی محبت کے ناطے‘ اقبالؒ نے کشمیر کے اندر اور پنجاب کے ساتھ ساتھ ہندوستان بھر میں کشمیریوں کی حالت زار بہتر بنانے اور انہیں آزاد شہریوں کے حقوق دلوانے کے لیے جدوجہد تیز کردی۔ اقبالؒ کا مطالبہ تھا کہ زبر دستی بے وطن اور بے گھر کر دیئے گئے کشمیریوں کوریاست میں اپنے گھروں کو واپس جانے‘ وہاں آباد ہونے اور اپنی املاک کے خود مالک ہونے کا حق دیا جائے۔ اقبالؒ کی‘ انجمن کشمیری مسلمانان میں شمولیت کے باعث کشمیریوں میں اپنی خود شناسی کے جذبے نے لہر لی اور بذات خود ان میں حب الوطنی کا احساس جاگا۔ اقبال ؒکشمیر کو، طور و سینا سے بھی مقدس اور قابل احترام و شرف سمجھتے ہوئے کہتے ہیں سامنے ایسے‘ گلستان کے کبھی گھر نکلے حبیب خجلت سے سرِ طور نہ باہر نکلے ہے جو ہر لحظہ تجلّی گہ مولائے خلیل عرش و کشمیر کے اعداد برابر نکلے اقبالؒ ہی کی تحریک پر‘ انجمن کشمیری مسلمانان‘نے جموں و کشمیر کے مہاراجہ پرتاپ سنگھ کو لاہور بلایا اور اُن سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیریوں پر اپنے فوجیوں کے ظلم و ستم رکوائیں اور کشمیریوں کو اپنی مذہبی و سماجی اور تمدنی و ثقافتی اقدارو رسومات پورا کرنے کی آزادی کی راہ میں روڑے نہ اٹکائیں۔
مہاراجہ پرتاپ سنگھ نے اس موقع پر اقبالؒ کو یاد دلایا کہ کشمیر اقبالؒ کا آبائی وطن ہے اور کہا کہ انہیں کشمیر کا دورہ کرنا چاہیے۔ اقبال نے برجستہ مہاراجہ کو جواب دیا ” ہم نے کشمیر کو فراموش ہی کب کیا ہے جو آپ ہمیں یاد دلاتے ہیں‘ ہم اس وقت آپ کے سامنے سرتاپا‘ کشمیرہی کشمیر ہیں ”۔ اقبالؒ بعد میں کشمیر گئے لیکن دعوت کے باوجود وہ مہاراجہ پرتاپ سنگھ کے مہمان نہیں تھے۔ یہ دورہ انہوں نے 1921ء میں کیا تھا۔ اور اپنے سرکاری کام کاج سے فارغ ہو کراقبال ؒکشمیر میں کچھ عرصے کے لیے ٹھہرے اور مختلف شہروں‘ قصبوں اور دیہاتوں میں بھی‘وہاں کے قدرتی حسن کا ہی نہیں روزمرہ کی زندگی اور مسلمانان کشمیر کے شب و روز کی مصیبتوں کا خود جائزہ لیا۔
اس کے بعد تو پھر اقبالؒ اور کشمیر کبھی آپس میں جدا ہی نہیں ہوئے۔ اقبالؒ کہتے ہیں تنم گلے زخیابانِ جنت ِکشمیردلم ز خاکِ حجاز و نواز شیراز استی عنی کہ: میرا بدن، گلستان کشمیر کا ایک پھول ہے اور میرا دل ارض حجاز سے اورمیری صدا شیراز سے ہے۔ اور لاہور میں انہوں نیانجمن کشمیری مسلمانان کے ایک سالانہ اجلاس میں اپنے اس خواب کو یوں بیان کیا تھا ”ہم کشمیر میں سیاست کی میز اُلٹ جانے کو دیکھ رہے ہیں‘ میں دیکھ رہا ہوں کہ کشمیری جو روایتی طور پر محکوم اور مظلوم ہیں اور جن کے بت معبود تھے ان کے دلوں میں اب ایمان کے شرارے پھوٹ رہے ہیں۔
مقبوضہ کشمیر آج کی کہانی نہیں‘نہ ہی دو ممالک کا ذاتی مسئلہ یا زمین کا تنازعہ ہر گز نہیں ہے۔کشمیر کے حوالہ سے قائد اعظمؒ اور علامہ اقبال ؒنے کس درد کا اظہار کیا وہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں۔کشمیر سے اپنے تعلق پر اقبال ہمیشہ فخر کرتے اور کشمیرسے جدائی کا احساس رکھتے تھے‘ وہ خود کہتے ہیں کشمیر کا چمن جو مجھے دلپذیر ہ ہے اس باغِ جان فزا کا یہ بلبل آسیر ہیورثے میں ہم کو آئی ہے آدم کی جائیدادجو ہے وطن ہمارا وہ جنت نظیر ہے موتی عدن سے لعل ہوا ہے یمن سے دوریانافہ غزال ہوا ہے ختن سے دورہندوستان میں آئے ہیں کشمیر چھوڑ کربلبل نے آشیانہ بنایا چمن سے دوراقبال یہاں ” ہندوستان میں آئے ہیں ” کہہ کر جب کشمیر سے ہجرت کا ذکر کرتے ہیں تو وہ دراصل وادی کشمیر کی‘ ہندوستان کے جغرافیے‘ سیاست اور ماحول و سماج سے ایک الگ منفرد حیثیت کو ابھارتے اور نمایاں کرتے ہیں۔
1933 میں جب کشمیری حکومت کے فیصلے کے نتیجے میں مسلم سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی گرفتاری عمل میں لائی گئی تو علامہ اقبال نے اپنے7 جون1933کے بیان میں احتجاج کے دوران عورتوں اور بچوں پر لاٹھی چارج اور گولی چلانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ اس بیان میں انھوں نے برطانوی حکومت کو خبردار کیا کہ عوام پرعزم ہیں اور وہ آپ کے جھوٹے دعوں میں نہیں آئیں گے۔ انھوں نے کشمیری مسلمانوں کو متحد رہنے کی اپیل کی۔
کشمیر میں عرصے سے جو مظالم برپا ہیں ان کی موجودگی میں ضروری تھا کہ وہاں کے عوام بھی اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کرتی۔وہ وادیِ کشمیر جو جنت نظیر وادی ہے علامہ اقبال ؒ کے وقت سے بھی پہلے کے بھارتی ظلم کی داستانیں رقم ہیں‘ لیکن مودی سرکار نے ظلم کے سارے ریکارڈ ہی توڑتے ہوئے‘وادی کشمیر کو دُنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کردِیا‘انسانیت سوز پالیسوں‘ تشدد‘ غیر انسانی سلوک کے بدترین تاریخ رقم کرنے کے بعد تاریخ کا طویل ترین لاک ڈاؤن‘ جبری پابندیوں میں انسانیت کو شرما دینے والے واقعات نے عالمی ضمیر کی بے حسی کو بار ہا مرتبہ جاگنے کی کوشش کی لیکن تاحال یہ خاموشی نہ ٹوٹ سکی‘ نہ ہی بھارتی ظلم‘ انسانیت سوز پالیسوں کا نوٹس لیا گیا۔کورونا وائرس نے جہاں دُنیا پر عیاں کر دیا ہے کہ لاک ڈاؤن‘ گھروں میں محصور ہونا کس قدر اذیت ناک ہے۔ بایں ہمہ دُنیا مقبوضہ کشمیر کے جبری لاک ڈاؤن جو کہ اگست سے تاحال جاری ہے‘ سے بے خبر ہے۔ اوربھارت عالمی اَمن کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔مودی سرکار اگر آج بھی بادشاہی کرنا چاہتی ہے توفلسفہ اقبالؒ اپنانتے ہوئے رعایا کی رائے کو مقدم رکھنا ہو گا۔

عابد ہاشمی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اسرائیل اوردنیا کو لاحق خطرات؟
  • جدائی ختم ہوئی جگ ہنسائی ختم ہوئی
  • سو مت جانا
  • دھوپ میں سایا بنے تنہا کھڑے ہوتے ہیں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
رشتوں کی قدر کریں
پچھلی پوسٹ
شعر وشاعری کیا ہے

متعلقہ پوسٹس

کرونا وائرس: کیسے اور کہاں تک پھیل سکتا ہے؟

مارچ 19, 2020

اول پوزیشن

مارچ 5, 2025

سکندر کی خود کشی کی کوشش

جنوری 4, 2022

یہ رنگ و نغمہ یہ خوشبو

اکتوبر 11, 2025

اللہ تو نور ھے

دسمبر 22, 2024

میڈم ٹپ ٹپ، شیخ رشید اور شادی کی فرمائش

جنوری 13, 2020

ٹوٹتے تارے

مارچ 3, 2017

خوابناک لمحہ

نومبر 24, 2024

رستہ بدل گیا تھا وہ

اگست 10, 2025

خوشیوں کا غریبوں کو

جون 24, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

تمھارے ساتھ وہ گزرا ہوا

جولائی 6, 2025

موجودہ حالات اور بڑھتا ہوا ذہنی...

جون 5, 2020

جفا کے راستے آسان نہیں ھوتے

دسمبر 19, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں