خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابارشتوں کی قدر کریں
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزاویس خالد

رشتوں کی قدر کریں

از سائیٹ ایڈمن جون 24, 2021
از سائیٹ ایڈمن جون 24, 2021 0 تبصرے 54 مناظر
55

 

رشتوں کی قدر کریں

انسان فانی ہے۔دنیا کا مہمان ہے۔لیکن اس مہمان داری کے چکر میں میزبان بن بیٹھتا ہے۔عارضی ہے مگر خود کومستقل سمجھنے لگتا ہے۔امانت دار ہے پر مالک بن جاتا ہے۔ اور یہی اس کی سب سے بڑی بھول ہے۔اور اِس فانی دنیا کا حضرت ِانسان بڑا جھگڑالو ہے۔ہر ایک سے لڑتا ہے۔بیگانوں سے کم اپنوں سے ذیادہ الجھتا ہے۔کبھی مفاد اُسے لڑاتا ہے تو کبھی انا ا ُس کو دوسروں کی دشمنی اور نفرت پر اُکساتی ہے۔غلط فہمیوں کے گھوڑے پر سوار بدلے کی آگ کا کوڑا ہاتھ میں لیے ہوئے انجانی منزل کی طرف رواں دواں رہتا ہے اور اسے کامیابی سمجھنے لگتا ہے۔اُسے دوسروں کا طریقہ کار پسند نہیں آتا تو کبھی دوسروں کی سوچ اس کے ذہنی معیار پر پورا نہیں اترتی۔کبھی دولت درمیان میں حائل ہو جاتی ہے تو کبھی عہدے محبت و خلوص کی راہ کی رکاوٹ بن جاتے ہیں۔معیارِ زندگی کا یہ اختلاف بھائی کو بھائی سے جدا کر دیتا ہے اور ساری زندگی وہ آپس میں مل نہیں پاتے۔غیبت پسندیدہ موضوع بن جاتا ہے۔چغلی کھا کر سکون ملتا ہے۔اپنی شخصیت کا رعب اور برتری کا احساس لطف دیتا ہے۔اپنے سگے خونی رشتے شریک لگتے ہیں اور دوسروں کو نیچا دکھانے کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔بسا اوقات دشمنی اس حد تک بھی بڑھ جاتی ہے کہ خون کے پیارے خون کے پیاسے ہو جاتے ہیں۔ جائیداد کی تقسیم دلوں کو بھی تقسیم کر دیتی ہے۔کوئی خاص دشمنی نہ بھی ہو تو اتفاق اتفاق میں بھی ایک دوسرے کو ہم اچھا سمجھنے کے عادی نہیں ہوتے۔ہماری نظر میں دوسرے بے وقوف ہوتے ہیں اور ہم خود اپنے آپ کو صاحبِ عقل ہی تصور کرتے ہیں۔سادہ الفاظ میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ ہماری نظر اتنی کمزور ہو جاتی ہے کہ ہمیں اپنی خامی اور دوسروں میں کوئی خوبی کم ہی نظر آتی ہے۔

کسی اختلاف رائے کی صورت میں ہمیں اپنا موقف ہی درست لگتا ہے۔اس کے بعد پھراچانک ایک وقت آتا ہے کہ اجل کسی کو اُچک کر لے جاتی ہے اور باقی ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں۔اپنے پیاروں کو روتے ہیں۔اس کی جدائی کی آگ میں جلتے ہیں۔خوشیاں ادھوری لگنے لگتی ہیں۔مرنے والے کی ہزاروں خوبیاں سامنے آنے لگتی ہیں کہ بندہ خود حیران ہو جاتا ہے۔پہلے جو بہت فضول اور ارزاں تھا اب انتہائی قیمتی اور ضروری لگنے لگتا ہے۔اس کی ایک ایک ادا جس پر طیش آتا تھا پھر کمال لگتی ہے۔اس کی ایک ایک بات جو احمقانہ لگتی تھی پھر حکمت سے پُر نظر آتی ہے۔اس کے فیصلے جو بے انصافی پر مبنی لگتے تھے پھر انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔بس یوں کہہ لیں کہ جو پہلے بے دین لگتا تھا پھر جانے کے بعد وہ ہمیں کسی ولی اللہ سے کم نہیں لگتا۔اس کی ایک ایک بات کے معرفت بھرے معنی ہمیں سمجھ آنے لگ جاتے ہیں۔اس کی موجودگی میں جو ہمیں اس کی اہمیت کا اندازہ نہیں تھا اس کے رخصت ہونے کے فوراََ بعد اس کے وجود کی برکت کا احساس ہو جاتا ہے۔اس کی موت کی خبر سن کر اس کی آواز سننے کو کان ترسنے لگتے ہیں۔ایسا کیوں ہوتا ہے؟کیا اس کے پیچھے ہماری خود غرضی ہے یا خود پسندی؟یااس سوچ کے پیچھے ہماری متعصب سوچ ہے جو کسی کے بارے میں ہمیں کچھ اچھا گمان کرنے ہی نہیں دیتی۔ کتنے ہی ایسے رشتے دار ہیں جن سے ہم زندگی میں ذرا ذرا سی بات سے ناراض ہوئے بیٹھے ہیں اور سال ہا سال سے ملنا تو دور کی بات ہے ملنے کا سوچتے تک نہیں۔بسا اوقات ہم یہی نفرت وراثت میں اپنے بچوں کو بھی دے کر جاتے ہیں۔اس کاسیدھا سا مطلب ہوتا ہے کہ ہم اپنی اولادوں سے یہ کہہ کر جاتے ہیں کہ ہم غیرت کے نام پر نفرت کی آگ میں خوب جلے اب تم بھی ساری زندگی اس آگ میں ضرور جلنا۔ہم نے اپنا سکون برباد کر کے رکھا ہے تو ہمارے پیارے بچو! تم بھی کہیں زندگی میں سکون سے نہ بیٹھ جانا۔یہ ہم مختصر ترین عارضی زندگی کو کیسے گذارنے لگ گئے ہیں؟ہم نے یہ سبق کہاں سے پڑھا ہے؟یہ عقل کہاں سے سیکھی ہے؟کیا ہی اچھا ہو کہ ہم زندہ رہتے ہوئے ایک دوسرے کی خوبیاں تلاش کریں اور ان کو سراہیں۔زندہ رہتے ہوئے حتی الامکان ایک دوسرے کی دل جوئی کریں۔ایک دوسرے کی مدد کریں۔ایک دوسرے کے مسائل کو سمجھیں۔خود کو دوسرے کی جگہ پر رکھ کر دیکھیں۔دوسروں کی مجبوری کو سمجھیں۔جو کام سب سے آخر میں کرنے کا ہوتا ہے وہ ہم سب سے پہلے کر گذرتے ہیں۔ہمیں چاہیے کہ کسی کی خامی کی صورت میں اس سے نفرت کرنے سے قبل اس کی وجہ تلاش کریں اور اس کی اصلاح کی بھرپور کوشش کریں۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب ہم دوسروں کی خامیوں سے درگذر کرنا سیکھ لیں گے۔ جب ہم اعلی ظرف ہو جائیں گے۔ہم اندازہ نہیں کر سکتے کہ اس اپنائیت بھرے ماحول میں زندگی کتنی آسان اور خوب صورت ہو جائے گی۔ہمارا دین اسی لیے تو صلہ رحمی پر زور دیتا ہے۔اسے لیے تو جوڑنے کا حکم دیتا ہے۔اگر ہم ایسے بن جائیں تو زندگی کے کتنے پچھتاووں سے بچ سکتے ہیں جو ہمیں کسی اپنے کے جانے کے بعد ہوتے ہیں۔

اویس خالد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • جیسے سائل کو عطا ہوتے ہیں
  • عالمی دیگ
  • خاموش دل کی آواز
  • موسم بدل رہا ہے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
بادباں کب کھولتا ہوں پار کب جاتا ہوں میں
پچھلی پوسٹ
بھارتی بے بسی کے نام – اقبالؒ کا پیغام!

متعلقہ پوسٹس

رخصت

دسمبر 13, 2021

بے باکیوں پہ شیخ ہماری نہ جائیو

جون 3, 2020

سیاہ رات کا طے کر لیا سفر آدھا

جنوری 25, 2020

تنہائی

دسمبر 19, 2024

دنیا کے مشکل ترین حالات

جولائی 15, 2020

پہلے پہلے کب بدلا تھا

اکتوبر 10, 2025

عطا ہو پھر سے نیا بابِ ارتقا، یا رب

اکتوبر 12, 2025

آنسو کیا ہیں؟

اکتوبر 6, 2025

ہم خاک بسر آہ بلب سوختہ جاں سے

اکتوبر 12, 2025

ذرا ہور اوپر

دسمبر 30, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

اسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

یہ نور کس کا پھیل گیا ہے چمن...

مئی 26, 2026

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

اردو شاعری

زندگی بھر فکر کرتے رہے

جون 2, 2026

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

جون 2, 2026

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

جون 2, 2026

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ...

جون 2, 2026

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

ملازمت بہتر یا کاروبار

جون 3, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»

    جون 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کھردری گرد کی کھال

جنوری 23, 2020

ایک پھول کم پڑ جائے گا

جنوری 12, 2026

19جولائی: الحاق ِ پاکستان

جولائی 19, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں