خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابارشتوں کی قدر کریں
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزاویس خالد

رشتوں کی قدر کریں

از سائیٹ ایڈمن جون 24, 2021
از سائیٹ ایڈمن جون 24, 2021 0 تبصرے 71 مناظر
72

 

رشتوں کی قدر کریں

انسان فانی ہے۔دنیا کا مہمان ہے۔لیکن اس مہمان داری کے چکر میں میزبان بن بیٹھتا ہے۔عارضی ہے مگر خود کومستقل سمجھنے لگتا ہے۔امانت دار ہے پر مالک بن جاتا ہے۔ اور یہی اس کی سب سے بڑی بھول ہے۔اور اِس فانی دنیا کا حضرت ِانسان بڑا جھگڑالو ہے۔ہر ایک سے لڑتا ہے۔بیگانوں سے کم اپنوں سے ذیادہ الجھتا ہے۔کبھی مفاد اُسے لڑاتا ہے تو کبھی انا ا ُس کو دوسروں کی دشمنی اور نفرت پر اُکساتی ہے۔غلط فہمیوں کے گھوڑے پر سوار بدلے کی آگ کا کوڑا ہاتھ میں لیے ہوئے انجانی منزل کی طرف رواں دواں رہتا ہے اور اسے کامیابی سمجھنے لگتا ہے۔اُسے دوسروں کا طریقہ کار پسند نہیں آتا تو کبھی دوسروں کی سوچ اس کے ذہنی معیار پر پورا نہیں اترتی۔کبھی دولت درمیان میں حائل ہو جاتی ہے تو کبھی عہدے محبت و خلوص کی راہ کی رکاوٹ بن جاتے ہیں۔معیارِ زندگی کا یہ اختلاف بھائی کو بھائی سے جدا کر دیتا ہے اور ساری زندگی وہ آپس میں مل نہیں پاتے۔غیبت پسندیدہ موضوع بن جاتا ہے۔چغلی کھا کر سکون ملتا ہے۔اپنی شخصیت کا رعب اور برتری کا احساس لطف دیتا ہے۔اپنے سگے خونی رشتے شریک لگتے ہیں اور دوسروں کو نیچا دکھانے کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔بسا اوقات دشمنی اس حد تک بھی بڑھ جاتی ہے کہ خون کے پیارے خون کے پیاسے ہو جاتے ہیں۔ جائیداد کی تقسیم دلوں کو بھی تقسیم کر دیتی ہے۔کوئی خاص دشمنی نہ بھی ہو تو اتفاق اتفاق میں بھی ایک دوسرے کو ہم اچھا سمجھنے کے عادی نہیں ہوتے۔ہماری نظر میں دوسرے بے وقوف ہوتے ہیں اور ہم خود اپنے آپ کو صاحبِ عقل ہی تصور کرتے ہیں۔سادہ الفاظ میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ ہماری نظر اتنی کمزور ہو جاتی ہے کہ ہمیں اپنی خامی اور دوسروں میں کوئی خوبی کم ہی نظر آتی ہے۔

کسی اختلاف رائے کی صورت میں ہمیں اپنا موقف ہی درست لگتا ہے۔اس کے بعد پھراچانک ایک وقت آتا ہے کہ اجل کسی کو اُچک کر لے جاتی ہے اور باقی ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں۔اپنے پیاروں کو روتے ہیں۔اس کی جدائی کی آگ میں جلتے ہیں۔خوشیاں ادھوری لگنے لگتی ہیں۔مرنے والے کی ہزاروں خوبیاں سامنے آنے لگتی ہیں کہ بندہ خود حیران ہو جاتا ہے۔پہلے جو بہت فضول اور ارزاں تھا اب انتہائی قیمتی اور ضروری لگنے لگتا ہے۔اس کی ایک ایک ادا جس پر طیش آتا تھا پھر کمال لگتی ہے۔اس کی ایک ایک بات جو احمقانہ لگتی تھی پھر حکمت سے پُر نظر آتی ہے۔اس کے فیصلے جو بے انصافی پر مبنی لگتے تھے پھر انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔بس یوں کہہ لیں کہ جو پہلے بے دین لگتا تھا پھر جانے کے بعد وہ ہمیں کسی ولی اللہ سے کم نہیں لگتا۔اس کی ایک ایک بات کے معرفت بھرے معنی ہمیں سمجھ آنے لگ جاتے ہیں۔اس کی موجودگی میں جو ہمیں اس کی اہمیت کا اندازہ نہیں تھا اس کے رخصت ہونے کے فوراََ بعد اس کے وجود کی برکت کا احساس ہو جاتا ہے۔اس کی موت کی خبر سن کر اس کی آواز سننے کو کان ترسنے لگتے ہیں۔ایسا کیوں ہوتا ہے؟کیا اس کے پیچھے ہماری خود غرضی ہے یا خود پسندی؟یااس سوچ کے پیچھے ہماری متعصب سوچ ہے جو کسی کے بارے میں ہمیں کچھ اچھا گمان کرنے ہی نہیں دیتی۔ کتنے ہی ایسے رشتے دار ہیں جن سے ہم زندگی میں ذرا ذرا سی بات سے ناراض ہوئے بیٹھے ہیں اور سال ہا سال سے ملنا تو دور کی بات ہے ملنے کا سوچتے تک نہیں۔بسا اوقات ہم یہی نفرت وراثت میں اپنے بچوں کو بھی دے کر جاتے ہیں۔اس کاسیدھا سا مطلب ہوتا ہے کہ ہم اپنی اولادوں سے یہ کہہ کر جاتے ہیں کہ ہم غیرت کے نام پر نفرت کی آگ میں خوب جلے اب تم بھی ساری زندگی اس آگ میں ضرور جلنا۔ہم نے اپنا سکون برباد کر کے رکھا ہے تو ہمارے پیارے بچو! تم بھی کہیں زندگی میں سکون سے نہ بیٹھ جانا۔یہ ہم مختصر ترین عارضی زندگی کو کیسے گذارنے لگ گئے ہیں؟ہم نے یہ سبق کہاں سے پڑھا ہے؟یہ عقل کہاں سے سیکھی ہے؟کیا ہی اچھا ہو کہ ہم زندہ رہتے ہوئے ایک دوسرے کی خوبیاں تلاش کریں اور ان کو سراہیں۔زندہ رہتے ہوئے حتی الامکان ایک دوسرے کی دل جوئی کریں۔ایک دوسرے کی مدد کریں۔ایک دوسرے کے مسائل کو سمجھیں۔خود کو دوسرے کی جگہ پر رکھ کر دیکھیں۔دوسروں کی مجبوری کو سمجھیں۔جو کام سب سے آخر میں کرنے کا ہوتا ہے وہ ہم سب سے پہلے کر گذرتے ہیں۔ہمیں چاہیے کہ کسی کی خامی کی صورت میں اس سے نفرت کرنے سے قبل اس کی وجہ تلاش کریں اور اس کی اصلاح کی بھرپور کوشش کریں۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب ہم دوسروں کی خامیوں سے درگذر کرنا سیکھ لیں گے۔ جب ہم اعلی ظرف ہو جائیں گے۔ہم اندازہ نہیں کر سکتے کہ اس اپنائیت بھرے ماحول میں زندگی کتنی آسان اور خوب صورت ہو جائے گی۔ہمارا دین اسی لیے تو صلہ رحمی پر زور دیتا ہے۔اسے لیے تو جوڑنے کا حکم دیتا ہے۔اگر ہم ایسے بن جائیں تو زندگی کے کتنے پچھتاووں سے بچ سکتے ہیں جو ہمیں کسی اپنے کے جانے کے بعد ہوتے ہیں۔

اویس خالد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • بھیگا منظر کسی صحرا کو
  • آخرِ کار ہو گیا تھا میں
  • ایسا بھی کہیں دیکھا ہے
  • ذائقہ بدلیں گے کیف و وجد میں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
بادباں کب کھولتا ہوں پار کب جاتا ہوں میں
پچھلی پوسٹ
بھارتی بے بسی کے نام – اقبالؒ کا پیغام!

متعلقہ پوسٹس

نہ فکر انبساط کی

مارچ 23, 2025

اعتکاف احکام اور آداب

مارچ 9, 2026

مسکراہٹ کے رنگ

فروری 10, 2023

پیرن

جنوری 24, 2020

ذرا دیکھیں تو ہو کیا رہا ہے باہر

مارچ 22, 2020

زلف_جاناں کو سنواریں گے چلے جائیں گے

دسمبر 5, 2021

بدن کو تیرگی میں بو رہا ہوں

نومبر 14, 2021

شوگر ڈیڈی اور ٹرافی وائف

ستمبر 7, 2021

انشاء کا اعظمی کو دوسرا خط

نومبر 28, 2019

کون رُکے گا

فروری 14, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسانیت

    جولائی 31, 2026
  • تھا میں کیا، اور کیا سے کیا ہو گیا

    جولائی 31, 2026
  • مری زندگی تو فراق ہے

    جولائی 30, 2026
  • مخلوق خدا سے محبت

    جولائی 29, 2026
  • متن کے تعاقب میں

    جولائی 28, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا

اسلامی گوشہ

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا مہینہ

جولائی 23, 2026

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

رزم۔ حق میں وہ اکیلا بھی ہے لشکر...

جولائی 1, 2026

اردو شاعری

انسانیت

جولائی 31, 2026

تھا میں کیا، اور کیا سے کیا ہو...

جولائی 31, 2026

مری زندگی تو فراق ہے

جولائی 30, 2026

اسی دھوکے میں رہتا آدمی ہے

جولائی 26, 2026

آئینے کی کرچیاں

جولائی 24, 2026

اردو افسانے

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

اردو کالمز

مخلوق خدا سے محبت

جولائی 29, 2026

سرقے کو جہاں رتبۂ الہام دیا جائے!

جولائی 25, 2026

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا مہینہ

جولائی 23, 2026

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسانیت

    جولائی 31, 2026
  • تھا میں کیا، اور کیا سے کیا ہو گیا

    جولائی 31, 2026
  • مری زندگی تو فراق ہے

    جولائی 30, 2026
  • مخلوق خدا سے محبت

    جولائی 29, 2026
  • متن کے تعاقب میں

    جولائی 28, 2026
  • اسی دھوکے میں رہتا آدمی ہے

    جولائی 26, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

وہ جان بوجھ کے مجھ کو...

مارچ 5, 2020

کیوں الجھنے لگی ہوا مجھ سے

ستمبر 20, 2020

پسماندگان

جنوری 15, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں