خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابایہ گداز رس بھری گولائیاں
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریرسید محمد زاہد

یہ گداز رس بھری گولائیاں

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 16, 2020
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 16, 2020 0 تبصرے 63 مناظر
64

یہ گداز رس بھری گولائیاں

سنگ تراشی اس کا خاندانی پیشہ تھا۔ وہ اس فن کو عبادت سمجھتے تھے۔ اس کا والد کہتا تھا ہرٹیڑھے میڑھے پتھرمیں ایک مورتی چھپی ہوتی ہے جسے فنکار ایک نیا جنم دیتا ہے۔ نسل در نسل وہ گندھارا تہذیب کے اس فن کو زندہ رکھے ہوئے تھے۔ آفاق نے ہمیشہ نرم و نازک پتھر’ شیست ‘ کو تراش کر ہی مجسمے بنائے تھے۔گندھارا آرٹ کے زیادہ تر نمونے اسی پتھر سے ہی بنائے جاتے ہیں۔ لیکن اس مورتی کو بنانے کے لئے چابک دست سنگ تراش نے سفید سنگ مرمر کو چنا تھا۔ انتہائی سخت پتھر جس کو تراشتے ہوئے اس کی انگلیاں زخمی ہو جاتی تھیں۔اس کے اوزار ٹوٹ جاتے تھے۔کئی دنوں سے وہ اس کام میں جتاہوا تھا۔ آفاق جلد از جلد اس کی تکمیل چاہتا تھا۔وہ اس بے جان پتھر کو تراش کر ایسا جاندار جسم تخلیق کرنا چاہتا تھا جس میں حسن و عشق کی تمام رعنائیاں مقید ہو ں۔ اس دیوی میں عشق کی گرم سانسیں پھونک کر اسے حیات دوام دینا چاہتاتھا۔ ساری ساری رات کام کرتے اسے تھکاوٹ نہیں ہوتی تھی ۔کئی راتوں کی محنت کے بعد وہ سر، گردن اور کندھے بنانے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ انسانی شبیہ میں آنکھیں بنانا بہت مشکل کام ہے ۔ چھوٹا چھوٹا کام کئی دن لے جاتا ہے۔ اس نے ایسی خوبصورت آنکھیں بنائی تھیں کہ گمان ہوتا جل پری کی زمردیں نین ابھی حرکت میں آجائیں گے۔

آفاق کی بیوی ، روحی بت تراشی کو گناہ سمجھتی تھی۔ویسے بھی ملک کی تقسیم کے بعد سے یہ کام زوال پذیر تھا۔ گندھارا آرٹ کےصدیوں پرانے بتوں کی نقل بنانا خلاف قانون تھا۔ راتوں کو چھپ چھپ کر کام کرنا پڑتا تھا۔ اس کام میں محنت زیادہ اور مزدوری کم ملتی تھی۔ اگر چہ ان کے بنائے ہوئے یہ شاہکار بیرون ملک ہزاروں ڈالرز میں فروخت ہوتے لیکن کئی دنوں کی محنت کے بعد ان فنکاروں کو چند سو یا دو چار ہزار روپے ملتے تھے۔ اسی لئے زیادہ تر لوگ بت سازی چھوڑ کر برتن اورڈیکو ریشن پیس بنانا شروع ہو گئے تھے۔ کئی بار اس نے سوچا تھا کہ اس کام کو چھوڑ کر وہ بھی دوکان کرلے اور پتھر کی سلیں ، کھرل ، باٹ ، اوکھلیاں اور موسل بیچنا شروع کر دے۔

اس کی بیوی بیمارتھی۔ دن میں وہ اسے لے کر ہسپتالوں کے چکر لگاتارہتا اور رات کو جب روحی دوائیوں کے نشے میں دھت سو جاتی تو وہ اپنے کارخانے میں آ جاتا اور مورتی کو تراشنا شروع کر دیتا۔ بیماری میں انسان مذہب کے زیادہ قریب ہو جاتا ہے اس لئے وہ اسے بار بار بت تراشی چھوڑنے کا کہتی۔ اب اس نے بھی فیصلہ کر لیا تھا کہ اس کے بعد وہ یہ کام چھوڑ دے گا۔وہ روحی کو بیماری میں ناراض نہیں کرنا چاہتا تھا۔

آفاق کو برسات کا وہ دن ابھی بھی یاد تھا جب وہ ‘موہرا مرادو ‘ میں سٹوپا کے پاس کافی دیر بیٹھا رہا تھا۔ شام ڈھل رہی تھی ۔ دن بھر بادل خوب برسے تھے۔ اب ڈوبتا سورج بادلوں کی اوٹ سے جھانک رہا تھا۔ واپس آتے ہوئے جھرنے کے پاس پہنچاتو وہ سفید لباس میں زرنگار پانی کے ساتھ ساتھ چلتی ہوئی پہاڑ کی گود سے نکلنے والی اٹھلاتی بل کھاتی ندی ہی لگ رہی تھی۔ وہ کوئی پہاڑی نغمہ گنگنا رہی تھی۔ ہلکی ہلکی گنگھناہٹ جھرنے کے دھیمے آبی گیت میں ہی گھل مل گئی تھی۔ شام کی فضا یک دم مرتعش ہو گئی اور آفاق کے سینے میں ہیجان پیدا ہو گیا ۔ روحی کے چہرے کی لالی دیکھ کر لمحہ لمحہ خون ہوتے سورج نے اپنا منہ افق کی گود میں چھپا لیا۔

روحی اس کی زندگی میں پہلی اور آخری عورت تھی۔ شادی کے بعد اس کو دیکھ کر وہ سدھ بدھ کھو بیٹھا تھا۔ وہ عورت کو صرف چہرے سے ہی جانتاتھا۔ آج تک اس نے صرف مورتیوں کو ہی جوانی کی اٹھان بکھیرتے دیکھا تھا۔ اب اسے پتا چلا کہ چہرہ تو صرف ہلکا سا تعارف ہے ۔ اس پر روزانہ ہزاروں انکشافات ہوتے۔ حسن کے اس ایک ساگر میں اتنے عجائبات تھے جتنے سات سمندروں میں موتی۔ اس کے متلاطم جذبات کی لہریں پتھریلے گنبد نما جزیروں سے ٹکرا کر جھاگ بن کر لوٹ جاتیں۔ جب پہلی بار اس نے قبہ پستان کو شوخ و شنگ سینے سے ہٹایا تو اندھیرے کمرے میں دو فانوس روشن ہو گئے تھے۔سنگ تراش کے کھردرے ہاتھوں نے انہیں اپنی ہتھیلیوں سے مسلنے کی کوشش کی توان کٹھور نکیلی ابھاروں کی چبھن برداشت نہ کر سکے۔ ایک عرصہ گذر چکا تھا ۔ روحی اسکے دو بچوں کی ماں بن چکی تھی ۔ آفاق نے ان مغرور اٹھانوں کو ڈھلکنے سے بچانے کےلئے بچوں کو دودھ پلانے کی اجازت بھی نہیں دی تھی۔

سنگ مرمر کی مورتی کو تراشتے ہوئے وہ ایسا ہی شاہکار تیار کرنا چاہتا تھا ۔ جب کبھی بھی اس نے فاسٹنگ بدھا کی نقل تیار کی تھی تواس کی شریانوں میں دوڑتا ہوا خون بھی دکھائی دینا شروع ہوجاتا تھا۔ اب اس سفید مورتی کے سینے کے ابھاروں میں بھی نیلگوں رگیں صاف نظر آتی تھیں۔اس پری زاد کےسر پستان انگشتر سلمان کے نگین سے سوا تھے۔

کام مکمل ہونے کے قریب تھا۔ روحی کی طبیعت بھی دن بدن خراب ہوتی جا رہی تھی۔ ایک رات ا س کو سوتا دیکھ کر وہ اٹھنے لگا تو روحی نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ کہنے لگی “جب سے میرا اپریشن ہوا ہے تم مجھ سے دور دور رہنا شروع ہو گئے ہو۔ اسی لئے میں آپریشن کے لئے تیا ر نہیں ہو رہی تھی۔ کیا میرے جسم کا وہ حصہ جو تمہیں بہت زیادہ پسند تھا ، وہ نہیں رہا تو میرے ساتھ تمہاری محبت بھی ختم ہو گئی ہے۔تم راتوں کو کہاں چلے جاتے ہو؟ میں نے تمہیں مرنے سےپہلے ہی کھو دیا۔ ”

آفاق بولا “کل تم میرے ساتھ چلنا ۔ تمہیں پتا چل جائے گا۔”

جب وہ بیگم کو لے کر ڈاکٹر کے پاس گیا تھا تو اس نے چھاتی کا معائنہ کرنے کے بعد کہا تھا “اسے کاٹنا پڑے گا ۔” کئی مہینوں سے وہ چھاتی میں گلٹی محسوس کر رہی تھی ۔ روائتی شرم دونوں کو ڈاکٹر کے پاس جانے سے روک رہی تھی۔ درد شروع ہو گیا، بٹنی اندر دھنس گئی اور اس سے خون بھی جاری ہوگیا ، تو دیر ہو چکی تھی۔

اگلی رات وہ اسے اپنے کارخانے میں لےآیا۔ “ تمہارے تمام سوالوں اور خدشات کا جواب اس مورتی کی شکل میں مجسم تمہارے سامنے موجود ہے۔”

“یہ کیا! میں آپ کو بت سازی سے منع کرتی تھی ، آپ نے میرا ہی مجسمہ بنا دیا ۔”

“ہاں ! میری جہالت اور بےوقوفی نے تمہیں داغ دار کردیا تو میری محبت نے اس داغ کو مٹا کر تمہیں پھر مکمل کردیا۔ دیکھو ، یہ گداز چھاتیاں ، رس بھری گدرائی ہوئی یہ گولائیاں آج بھی اتنی ہی حسین ہیں۔ تمہاری رعنائیاں ، پوشیدہ اور ظاہر ، تمام اس میں مقید ہیں۔ دیکھ لو، تمہاری جوانی اورمیرا عشق دونوں اس سنگ مرمر کی مورتی میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے امر ہو گئےہیں۔ اگر چہ تم اجنتا کے کسی سنگتراش کا شاہکار یا ایلورا کی کوئی جیتی جاگتی مورتی نہیں ہو ، لیکن تم گندھارا تہذیب کی ایک دیوی ہو ، سنگ مر مر کے ملکوتی تقدس اور پاکیزگی میں ڈھلی ہوئی حسن و عشق کی دیوی، روحی دیوی۔روحی آؤ ! میری دیوی، آؤ! اب تم اس میں اپنی گرم گرم سانسیں پھونک کر اسے حیات دوام بخش دو۔”

(“اکتوبر۔ چھاتی کے سرطان سے آگاہی کا مہینہ ” ۔ اس سرطان میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ شرم ہے۔ ایک اور وجہ بچوں کو دودھ نہ پلانا ہے۔)

سید محمد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • جمود فکر پر تازیانہ برساتے اختصارئیے
  • شیشے کے پار ایک جھلک
  • شاید سمجھ رہے ہیں ہمارا خدا نہیں
  • سندھ دریا کا پانی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
فلسفہ استقبالِ ربیع الاول
پچھلی پوسٹ
اشعار کی صحت کے متعلق چھٹا کالم

متعلقہ پوسٹس

حیران ہیں سبھی تِری تنویر دیکھ کر

دسمبر 12, 2021

رِدائے شب نہیں رہی

مئی 19, 2020

حیرت کا ایک جھٹکا

جنوری 5, 2022

رشید حسرت کی شاعری کا تجزیاتی مطالعہ

اکتوبر 26, 2025

مری سرشت نہیں ہے گناہ کا پتھّر

جون 20, 2020

ججز استعفیٰ کیوں دے رہے ہیں ؟

نومبر 26, 2025

 سفر سے پہلے 

فروری 12, 2020

قہقہوں کے سائے میں

جنوری 14, 2025

شراپتی ٹرین

اگست 3, 2019

اردو زبان و ادب پر جدید ٹیکنالوجی کے اثرات

جون 9, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

دل پہ ہے جب سے دباؤ...

جون 27, 2020

نہاری ہاؤس

دسمبر 23, 2021

عکسِ خاموشی

فروری 8, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں