خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابامیں تتی دھی پنجاب دی
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزروبینہ فیصل

میں تتی دھی پنجاب دی

از سائیٹ ایڈمن جون 6, 2013
از سائیٹ ایڈمن جون 6, 2013 0 تبصرے 51 مناظر
52

سن 1947 تقسیم ِہند کے وقت جب عورتوں کی عصمت دری اور قتل وغارت پر ہر حساس انسان اندر باہر سے ٹوٹ کر رہ گیا، اس کرب سے بہت سی دوسری لازوال تخلیقات کے ساتھ ساتھ امرتا پریتم کی شہرہ آفاق نظم "پنجاب دی کہانی”۔۔ آج آکھاں وارث شاہ نوں کتوں قبراں وچوں بول ۔۔ جیسی کلاسیک تخلیق ہوئی، جو ہر سمے کی دھارا کو پار کرنے کی شکتی رکھتی ہے۔ یا یوں نہ کہہ لوں کہ اس نظم میں”وقت” آج بھی 1947 کی طرح ہی رک گیا ہے۔ ٹھہرے ہوئے سمے میں یہ نظم اپنی تازگی برقرار رکھے بہتی جا رہی ہے۔ مگر عورتوں پر سمے ٹھہر گیا ہے ؟لدھیانہ پنجاب کی ایک فیملی جو 1970میں شمالی ہندوستان سے کینڈا کے مغربی علاقے برٹش کولمبیا میں آ کر آباد ہوئی۔ blueberries pickers کے طور پر آئے اور دیکھتے ہی دیکھتے بلیو بیریز فارمز کے کروڑ پتی مالکان بن گئے۔ 4اگست 1975کوMaple ridgeبرٹش کولمبیا کے سرد علاقے میں پنجاب کے اس مہاجر خاندان کے ہاں جسوندر (جسی )کور سدھو نے جنم لیا ۔ 1995 میں وہ اپنی ماں کے ساتھ اس کے آبائی وطن لدھیانہ گئی ۔ وہاں برٹش کولمبیا کی jassi پنجاب کی ہیر اور صحراﺅں کی سّسی بن گئی اور اس کا دل لدھیانہ کے غریب مگر خوبرو رکشہ ڈرائیورسکویندر (مٹھو ) سنگھ سدھو پر آ گیا۔

کچھ سال یہ سلسلہ چلتا رہا ، چھپ کر شادی کی اورجسی نے کینڈا سے لڑکے کو سپونسر شپ کے پیپرز بھیج دئے۔ لڑکی کے ماں باپ کو شک ہوا۔ اسے کمرے میں بند کر دیا گیا۔ 12 مئی 2000 کو اپنی دوست سے ٹکٹ کے پیسے لے کر انڈیا پرواز کر گئی، 8 جون 2000 کو دونوں محبت کے پنچھی سکوٹر پر جا رہے تھے کہ اچانک نامعلوم آدمیوں نے انہیں روک لیا۔ لڑکے کو مار پیٹ کر وہیں مرنے کیلئے پھینک دیا گیا، لڑکی کو اغوا کر لیا گیا ۔ بہت سے اجنبی ہاتھ اس نازک بدن معصوم لڑکی کو مارتے رہے اور فون پر برٹش کولمبیا سے اس لڑکی کی ماں اور ماموں سے ہدایت لیتے رہے۔ ماں نے کہا میری لڑکی سے بات کراﺅ اور اسے فون پر دھمکایا گیا کہ خاندان کی عزت کو دھبہ لگانے کی سزا موت ہے، ابھی بھی خاموشی سے لوٹ آﺅ لڑکی نے اپنی زندگی کیلئے خود سے کئے گئے فیصلے سے پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا اور ماں نے کرائے کے قاتلوں کو فون پر آخری پیغام یہ دیا "جان سے مار دو اس کم بخت کو جسے خاندان کی عزت کا خیال نہیں "ایک جوان سال کرائے کے قاتل نے درندگی کی ہر حد کو عبور کرتے ہوئے لڑکی کا گلا کاٹ دیا ۔۔اور امرتا پریتم جو1947 میں اپنی زندگی میں پنجاب کی بیٹیوں کے کٹنے پر قبر سے وارث شاہ کو پکارتی رہی تھی، 8 جون 2000 کو اپنی قبر سے پھر سے چلا اٹھی :

کِسے نہ کھولی پتری کسے نہ کیتا کاج !
سرِ بازار ں رُلی وے اُچّے گھر دی لاج !
کِتھّے رانی ماں نی کِتھّے راجاباپ
میں ہری چند دی نار وے دِ تّا کنّے سراپ
کتھّے ماں دی جائی سانجھ وے کتھّے بھین دے ویر
لہو ماس دی سانجھ وے کس نے دتّی چیر

وہ کون سا لمحہ آتا ہے جب خاندانی عزت اپنی بچی کی جان سے ذیادہ عزیز ہوجاتی ہے ؟ اس کا تعلق نہ کسی خاص مذہب سے ہے نہ خاص ثقافت سے ۔ یہ انسان کے اندر چھپے وہ بھیانک رویے ہیں جو مذاہب اور ثقافت میں داخل ہو کر انکی شکلیںبھی خوفناک کر دیتے ہیں ۔The fifth estate CBC کی ٹیم نے جب لڑکی کے ماموں سرجیت سنگھ سے پوچھا کہ یہ قتل جو انڈیا میں ہوا اور اسکی سازش کینڈا میں آپ لوگوں نے تیار کی تو اس نے ظاہر ہے انکار کیا ، مگر ساتھ ہی کہا لڑکے کا سر نیم بھی سدھو تھا اور لڑکی کا بھی ،ایک جیسے سر نیم والوں کی شادی ممنوع ہے مگر ہم نے قتل نہیں کیا ۔ Bob Mckeownنے کہ آپکے فون سے مشکوک قاتلوں کو147 کالز گئی ہیں۔ماموں نے ڈھٹائی سے کہا مجھے کچھ علم نہیں۔ باب بولا اگر آپ نے قتل نہیںبھی کروایا پھر بھی ہزاروں میل دور اپنی بیٹی کی لاش کو ایسے کیسے چھوڑ دیا ۔۔سرجیت سنگھ نے جواب دیے بغیر گاڑی چلائی اور چلا گیا ۔۔ اور اس کا جواب میرے پاس بھی نہیں کہ عزت اور دولت کا وہ کیا نشہ ہے جو اولاد کی زندگی لے سکتا ہے اور اسکی لاش کو بھی اپنانے سے انکار کر سکتا ہے ؟

جسی کا خاوند مٹھو بچ گیا ۔ 2004میں اس پر عصمت دری کا جعلی کیس بنوا دیا گیا۔ وہ جیل میں سڑ رہا تھا ، کہ کینڈا میں ساﺅ تھ ایشین پوسٹ اخبار کے پبلشر ہربندر سیوک نے اس معاملے کی جانچ پڑتال کی۔ وہ خود انڈیا گیا وہاں مٹھو پر بنے جعلی کیس سے اس کی جان چھڑوائی۔ مٹھو کو گاﺅں کا سر پنچ لگا دیا گیا۔ پھرانڈین پولیس نے سات کرائے کے جو قاتل پکڑے تھے انہیںاکتوبر2005 میںعدالت نے عمر قید کی سزا سنا ئی، مگر انڈیا میں اس ساری سکیم کا ماسٹر مائنڈ درشن سنگھ آج بھی آزاد ہے ،شک ہے کہ اسے وینکور کے گُردوارہ میں دیکھا گیا ۔ لڑکی کا ماموں سُر جیت گردوارے کی معتبر ہستی مانا جا تا تھا ۔ہربندر سیوک نے Justice for jassi کتاب لکھی ، جس کے شائع ہونے کے بعد اور تقریبا ً جسی کے قتل کے ۱۱ سال سات مہینے بعد 6جنوری 2012کو لڑکی کی ماں مالکیت کور سدھو اور ماموں سرجیت کو کینڈین پولیس نے گرفتار کر لیا ہے ۔ انڈین پولیس نے ۱۱ سال سے کینڈین پولیس کو مجرم واپس کرنے (extradition)کی درخواست دے رکھی ہے ۔ کینڈا کی پولیس پہلے تو اتنے سالوں تک اس فیصلے تک نہ پہنچ سکی کہ کرنا کیا ہے حالا نکہ کینڈا کے قانون کے sec465کے تحت اگر قتل کہیں باہر کے ملک میں ہوا ہو مگر سازش کینڈا میں تو ملزم قابلِ گرفت ہے۔ اب آج جب لڑکی کی ماں اور ماموں دونوں جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھی ہیں تو کینڈا کا قانون یہی کہہ رہا ہے کہ تفتیش ہو رہی ہے۔ کیا حکومتِ کینڈا جو انسانی حقوق اور خاص کر خواتین کے حقوق کی حفاظت کی علمبردار حکومت ہے انڈین پولیس کے مجرم انکے حوالے کردیگی یا خود قتل برائے غیرت کیلئے کینڈا میں بیٹھ کر سازش رچانے والوں کیلئے کیا سزا تجویز کریگی؟

جسی کے سابقہ سکول پرنسپل نے کہا اسے ہر دوسرے کینڈین کی طرح اپنی زندگی کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق تھا ۔ اور میں یہ سوچ رہی ہوں جس بچی کی جائے پیدائش برٹش کولمبیا ہے اسکی جائے موت لدھیانہ پنجاب بنانے کا حق ہمیں کس نے دیا ؟ مذہب نے ؟ ثقافت نے ؟ جو بچی کینڈا کی آزاد فضا میں جنم لے رہی ہے اسے ہم نے لدھیانہ میں گلا کاٹ کر مار ڈالا ؟ آج کینڈا میں بیٹھ کر کرائے کے قاتلوں کے ذریعے کینڈین خاتون کو انڈیا یا پاکستان میں قتل کروانے کی سزا نہ ملی تو آنے والے دن ہمیں تہذیب کی بجائے مذید تننزلی کی طرف لے کر جائینگے۔عورت دنیا کے کسی بھی ملک میں آزاد نہیں رہ سکے گی او راس طرح کے اثر و رسوخ والے عزت کے نام پر محبت کا خون کرنے والے قاتل قانون کے لوپ ہولز سے فائدہ اٹھا کر دنیا کے کسی بھی ملک میں آزاد دندناتے پھریں گے۔

43 سال سے پنجاب چھوڑ کر کینڈا میں مقیم ہونیوالا خاندان اپنے اندر سے نام نہاد غیرت، جھوٹی عزت اور دولت کی مصنوعی تفریق نہ مٹا سکا،پنجاب کی دھی کینڈا میں پیدا ہونے کے باوجود اپنی سانسوں کی مالک خود نہ بن سکی تو ہم کیا امید کریں کب ہم انسانوں (خصوصاً عورتوں) کو آسانی اور آزادی دینگے؟ روایت اور عزت کے نام پر اس قسم کی درندگی کی سخت سے سخت سزا ہونی چاہیے تاکہ آئندہ کوئی کسی کی خواب اور پیار بھری آنکھیں چھیننے کی ہمت نہ کر سکے،8 جون کو جسی کی موت کو تیرہ سال ہوگئے مگر خواب چھیننے والے آج بھی انہی ہواﺅں میں سانس لے رہے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ "نوائے وقت”

روبینہ فیصل

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • صوفی محمد برکت علی لدھیانوی رح
  • جو جہاں نہیں میرا اُس جہاں میں رہنا ہے
  • ان کو میں کربلا کے مہینے میں لاؤں گا
  • میرِ وجود
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
آرائش خیال بھی ہو دل کشا بھی ہو
پچھلی پوسٹ
مس ٹین والا

متعلقہ پوسٹس

ماسی

فروری 3, 2020

لگ رہا ہے اب اکیلے مجھ کو ڈر

ستمبر 19, 2020

جب سے تشنہ اُس دہلیز سے پلٹی ہیں

مئی 19, 2020

میرا بچہ

مارچ 22, 2020

"چار چاند "اور نیلم احمد بشیر

جولائی 5, 2024

ذوق کی قصیدہ نگاری

اپریل 13, 2025

حیرت انگیز معلوماتی اور سبق آموز واقعات

جولائی 28, 2025

عداوت کی نشانی چل رہی ہے

مئی 21, 2020

اسکو جنون تھا کہ مجھے

نومبر 11, 2025

غزہ کے سفیر

اکتوبر 3, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

باغِ ہم بستگی

فروری 12, 2025

مزدوری

جنوری 28, 2020

شہرِ سکوں میں باعثِ افتاد کون...

نومبر 8, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں