524
میں دسترس سے تمہاری نکل بھی سکتا ہوں
یہ سوچ لو کہ میں رستہ بدل بھی سکتا ہوں
تمہارے بعد یہ جانا کہ میں جو پتھّر تھا
تمہارے بعد کسی دم پگھل بھی سکتا ہوں
قلم ہے ہاتھ میں کردار بھی مرے بس میں
اگر میں چاہوں کہانی بدل بھی سکتا ہوں
مری سرشت میں ویسے تو خشک دریا ہے
اگر پکار لے صحرا ابل بھی سکتا ہوں
اُسے کہو کہ گریزاں نہ یوں رہے مجھ سے
میں احتیاط کی بارش میں جل بھی سکتا ہوں
عزیز نبیل
