خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباایک گھریلو سا خراج ِ عقیدت
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزروبینہ فیصل

ایک گھریلو سا خراج ِ عقیدت

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 27, 2020
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 27, 2020 0 تبصرے 41 مناظر
42

لائلپور سے ایک بزرگ ریٹائرڈ سکول ٹیچر حلیمہ صاحبہ کی ای میل آئی کہ” آپ سماجی اور خاندانی رویوں پر زیادہ بات کیا کریں کہ آپ جیسی، انسان پرست اور وسیع سوچ کی ہمارے معاشرے کو ضرورت ہے، اور معاشرے کی بنیاد تب ہی اچھی پڑے گی جب اچھے خاندان بنیں گے۔۔۔”
میں کچھ اور لکھ رہی تھی،ان کا حکم سر آنکھوں پر رکھا(ایک ان کی بزرگی، دوسرا میری جنم بھومی کا حوالہ اور “کچھ اور “کے ساتھ وہ سب بھی لکھنے کی کوشش کی جن کی ان خاتون نے فرمائش کی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔پہلے “کچھ اور “پڑھ لیں!!
آپ کی ہر غلطی کو، ہر بدتمیزی کو معاف کر دے اور آپ سے بے لوث محبت کرے،اتنی کرے کہ آپ پریشان ہو جائیں اور پھر حیران بھی ہوں کہ وہ بدلے میں آپ سے اتنی محبت مانگتا بھی نہیں اور بس آپ سے مستقل مزاجی سے ایک جیسا پیار کئے جاتا ہو،جس کی محبت میں کوئی مقابلے بازی نہ ہو، کوئی طعنہ نہ ہو، کوئی ناپ تول نہ ہو، نہ کوئی امید بندھی ہو۔۔ ایسی بے غرض محبت کی بات ہو تو لوگوں کے ذہن میں ماں یا باپ کا تصور آتا ہے، وہ تو ہو تے ہی ایسے ہیں مگر میری خوش قسمتی کا ڈبل دھمال ہے کہ مجھے ہم سفر بھی ایسا ملا۔ شادی کی سالگرہ کا روایتی تحفہ تو سب ہی دیتے ہیں ایک لکھاری کو تو کچھ لکھ کر ہی پیش کرنا چاہیئے اسی لئے یہ چند لائنیں جو ہماری زندگیوں اور محبتوں کا احاطہ تو نہیں کر سکتیں مگر پھر بھی کچھ نہ کہنے سے کچھ کہہ دینا ہی بہتر ہے کہ وقت گزر جانے پر انسان پچھتاتا ہے کہ کاش میں نے جو کہنا تھا کہہ دیا ہو تا۔۔۔۔۔۔۔ خیر۔۔۔۔۔بات ہو رہی تھی زندگی کی نعمتوں کی۔۔۔۔
میں جب نعمتوں پرشکریہ کہنے کو اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہو تی ہوں تو ایک بہت بڑا احساس ِتشکر یہ ہوتا ہے کہ اللہ نے مجھے ایسا ہم سفر دیا جس کا ظرف اعلی، اور دل میری محبت سے سرشارہے،جس نے مجھے بدلنے کی کوشش نہیں کی،جس نے مجھے ہنستا دیکھ کر مجھ سے شادی کا فیصلہ کیا تھا تو کبھی” ارادی” طور پر مجھ سے یہ ہنسی چھیننے کی کوشش نہیں کی، اپنی زبان سے کبھی دکھ نہیں دیا،ہاں یہ ضرور ہے کہ ہر انسان اپنی زندگی کے دکھ اور خوشیاں لکھوا کر آتا ہے۔۔ حالات کی وجہ سے جو ستم ہم پر ٹوٹے وہ کسی اور انسان کی کہانی سے نرالی کہانی نہیں ہے۔۔ ہر انسان کے پاس ایک کہانی ہو تی ہے جس میں اس کے حصے کی تمام مشکلات، غم اور آلائشیں شامل ہو تی ہیں۔۔ انہیں بھی کاٹنا تب ہی ممکن ہو تا ہے جب آپ کے جیون ساتھی کا سلوک آپ سے مہربانی اور انڈرسٹینڈنگ کا ہو۔۔
شادی کی سالگرہ پر،چونکہ، مجھے ایسی روایتیں، جو دوسروں کو الجھن میں ڈالیں، بری لگتی ہیں اسی لئے شائد مجھے شادی کی سالگرہ پر لوگوں کا ہجوم بے معنی لگتا ہے کہ یہ میاں بیوی کی ذاتی غلطی ہوتی ہے انہیں تنہائی میں ہی بھگتنی چاہیئے، کیک کاٹنا ہے تو بالکل اپنے اندر کے اصلی جذبات کے ساتھ، ورنہ منہ موڑے سوئے رہیں،کم از کم رشتوں اور جذبوں کی خالصیت کا تو اندازہ رہے گا۔۔
ہونا تو یہ چاہیئے کہ شادی کی ہر سالگرہ پر، میاں بیوی آپس میں تجد ید ِ عہد کریں، کیا کھویا کیا پایا کی کہانی ایک دوسرے کو پیش کریں، کیا کرنا ہے اور آپس میں کن رویوں پر غور کر نا ہے اور کیسے اس رشتے کو اور بہتر بنانا ہے، اس پر تبادلہ خیال کریں مگر ہو تا یہ ہے کہ لوگوں کے ہجوم کو اکھٹا کر کے میاں بیوی اپنے رشتے کی گہرائی میں اترنے کی بجائے، چہروں پرمصنوعی ہنسی سجائے، سج سنور کر مہمانوں کی خاطر مدارت اور تصویری سیشین میں الجھے رہتے ہیں اور یہ نایاب لمحات بھی گزر جا تے ہیں اور”رشتہ” ویسے کا ویسا دیوار پر کیسی ڈیکوریشن کی طرح چپکا رہ جا تا ہے۔۔
شادی کے بندھن میں بندھے سال پر سال گزرتے جاتے ہیں اور ہم یہ محسوس بھی نہیں کرتے کہ وہ دو افراد جن کی زندگی کا سفر اس رات سے شروع ہوا تھا جب وہ مہمانوں کے جانے اور کمرے میں تنہا ہو نے کا شدت سے انتظار کر رہے تھے اب ایک ایسے جوڑے میں بدل چکے ہیں جو کمرے کی تنہائی سے گھبرا کر اپنے ارد گردمہمانوں کا ہجوم اکھٹا کر رہا ہے، اپنی خوشی ایک دوسرے کے چہروں پر نہیں دیکھ رہے بلکہ ان مہمانوں کو نمائشی چیزوں سے دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ کالم لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ میں جو بات سالوں سے سوچ رہی ہوں اور اس پر عمل کر کے اپنے رشتے کے کئی اتار چڑھاؤ سہہ بھی گئی ہوں اور اپنی خامیوں کجیوں کو جانا بھی ہے ٹھیک بھی کرنے کی کوشش کی اور شادی جیسے مشکل بندھن کو نبھانے، اور ہم سفر کی تمام غلطیوں کو درگزر کر کے اس کے اندر کی خوبصورتی کو پہچاننے کے قابل ہو ئی ہوں تو ایسا کر کے ہو سکتا ہے بہت سے اور لوگوں کا بھلا ہو جائے،مگر آزمائش شرط ہے۔ روز روز نہیں تو کم از کم اپنی شادی کی سالگرہ پر ایک دوسرے سے تجدید ِ عہدکر کے دیکھیں کہ پڑے پڑے یا نمائش میں کھو کر رشتہ اپنا اصل رنگ تو نہیں کھو چکا؟
صلہ رحمی، انڈرسٹنڈنگ اور دوسروں کو جینے کا ویسے ہی حق دینا جیسا آپ اپنے لئے چاہتے ہیں، یہ، صرف میاں بیوی نہیں ہر رشتے میں درکار ہے۔شادی کے بعد صرف میاں بیوی کا رشتہ ہی نہیں ہو تا، لڑکی کا اپنے گھر والوں سے اور لڑکے کا اپنے گھر والوں سے رشتہ بھی بدل جا تا ہے۔ اچھے گھرانے وہی ہو تے ہیں جو سب کو اپنے اپنے حصے کی اپنی اپنی فکری اور شخصی آزادی کے ساتھ جینے کا حق دیں۔۔ خوشی کا تعلق دل سے ہے اور فی زمانہ ہمارے دل مرتے جا رہے ہیں اور اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنی زندگیوں پر فو کس کرنے کی بجائے دوسروں کی زندگیوں میں مداخلت کرنے اور ان پر تنقید کرنے پر گزار دیتے ہیں۔۔
انسان، اس وقت تک آزاد نہیں ہو تا جب تک اس کو انفرادی طور پر سوچنے کا حق نہیں دیا جاتا۔۔ خلیل جبران نے کہا تھا انسان، اپنے بچوں کو دنیا میں لانے کا ذریعہ ضرور ہو تا ہے لیکن ان کو بال و پر دے کر آزاد ی کی فضا میں چھوڑنا ہی حکمت ہے۔۔ مطلب ان کو اپنے فیصلے کرنے اور سوچنے کی آزادی ہو نی چاہیئے۔۔ اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہو تا ہے کہ آنے والی مشکلات کے ذمہ دار،بھی وہ خود ہو نگے، اور آنے والی برکتوں کا ریوارڈ بھی وہ خود لیں گے۔۔ قید میں بند پرندے بھی پھڑپھراتے رہتے ہیں، انسانوں کی سوچ کو اپنی مرضی کے تابع کر نے کی کوشش ان کے اندر عمر بھر کی پھڑپھراہٹ چھوڑ دیتی ہے۔۔ ہر رشتے میں۔۔ آسانی دینے کی کوشش کریں۔۔ انا کو محبت کے خول میں لپیٹ کر دوسروں کی زندگی تنگ کرنے سے اور رشتوں کی بلیک ملینگ کر کے، آپ دلوں کو سخت اور محبتوں سے خالی کر دیتے ہیں۔۔
ہر بات انا کا مسئلہ نہیں ہو تی، ہر رات اندھیری نہیں ہو تی اور ہر صبح بھی روشن نہیں ہو تی۔۔۔ یعنی اس دنیا میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔۔ انسانوں کو مارجن دیں،جینے دیں۔۔دوسروں کو جینے دیں گے تو اپنی زندگی بھی حسین ہو جائے گی کہ باہر روشنی پھیلانے سے اندر کی روشنی بڑھتی ہے۔۔ معاشروں میں سائنس کی ضرورت اٹل سہی مگر ادب اور آرٹ کو بھی مقام دیں تاکہ انسان دوسرے انسان کو سمجھنے کے لئے اپنی آنکھیں اور دل کھول لے۔۔۔یہ انسان کوئی بھی ہوسکتا ہے۔۔ آپ کا بیٹا، بیٹی، بیوی، شوہر، دوست، بھائی، بہن۔۔ کوئی بھی۔۔۔
کرونا کے اس سٹریس فل ماحول میں جب ہر انسان بے یقینی اور بے چینی کا شکار ہو رہا ہے۔۔ ہم سب کا اجتماعی فرض ہے کہ دوسروں کے ذہنی سکون اوراطمینان کا خیال رکھیں۔۔ آج کل ہر گھر کی نفسیات کی بدل گئی ہے۔۔ کسی گھر میں بچے، مضبوط ہیں اور بڑوں کو بھی حوصلہ دے رہے ہیں، کسی گھر میں بوڑھے، کرونا کی تنہائی سے تنگ آرہے ہیں اور کسی گھر میں وہ گھبرائے ہو ئے بچوں کا سہارا بن رہے ہیں۔۔ ہر گھر دوسرے گھر سے مختلف ہو گیا ہے۔۔ اس لئے رشتوں کو، عام حالات سے بھی زیادہ، تحمل اور بر دباری سے نبھانے کی ضرورت ہے۔ یہ مشکل وقت، آج سے پہلے، اس دنیا پر کبھی نہیں آیا، ہمارے بچوں کو اس لاپروائی والی عمر میں اس آسیب سے گزرنا پڑ رہا ہے، ہم نے تو اپنی زندگیوں کا یہ خوبصورت بچپن اور جوانی والا دور خوبصورتی سے گزار لیا ہے مگرہمارے بچے “اس عمر” کے کھلنڈرے پن اور لاپروائی سے محروم ہو رہے ہیں، اس وقت انہیں ہماری سب سے زیادہ ضرورت ہے۔۔۔ بچوں کی ذہنی اور نفسیاتی الجھنوں پر گہری نظر رکھیں۔۔یہ وقت تو گزر جائے گا مگر اس دنیا کو بدل کے جائے گا۔۔۔۔۔۔اس بدلتی دنیا میں ہمارے بچوں نے جینا ہے،اس کے لئے ان کا ذہنی اور جسمانی طور پر صحت
مند رہنا بہت ضروری ہے۔اس مشکل دور میں فاصلے نہیں فیصلے انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب اور دور لے کر جائیں گے۔آنکھیں کھلی اور دل کشادہ کر لیں۔ محبتیں بانٹیں۔۔ سختیاں یا آزمائشیں نہیں۔۔ رشتوں کو آزمانے کا پھر وقت ملے گا۔۔ ابھی رشتوں کو نبھانے کا وقت ہے۔۔ یہ وقت بھی گزر جائے گا۔۔ مگر آج کے فیصلے کل کے فاصلوں کو کم کریں گے۔۔ ورنہ کرونا ختم بھی ہوگیا تو پھیلے ہو ئے فیصلوں کو پھلانگنا بہت مشکل ہو جائے گا۔۔۔۔۔اس مشکل گھڑی میں اللہ سب کو آسانیاں بانٹنے کی توفیق دے۔ آمین۔

روبینہ فیصل

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کنگ پوش
  • خونی لہریں،محبت اور طالبان
  • بھارتی فالس فلیگ آپریشن کی سیاست
  • تیری یاد کا روشن چاند
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
دیمک بہتر یا کیڑا؟
پچھلی پوسٹ
اتنی حیرت سے دیکھتا کیا ہے

متعلقہ پوسٹس

وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ

دسمبر 31, 2019

احساس خود گرفتہ سے جاں پر بنی رہی

نومبر 20, 2019

اردو شاعری کے آغاز کا پس منظر

دسمبر 4, 2019

ہرے رنگ کی گڑیا

جون 14, 2020

فلک کے پار اڑانوں کی

نومبر 11, 2025

تجھے اپنے دل میں بسائیں گے ہم

جولائی 18, 2021

جب سامنے والا کباڑیا ہو

دسمبر 16, 2025

خوب، روپ اور بہروپ

جنوری 6, 2023

مرے دوست تیری خبر ملی بڑا دکھ ہوا

نومبر 14, 2021

کراچی کے بلدیاتی نہیں بد نیتی انتخابات!

جنوری 22, 2023

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

اسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

یہ نور کس کا پھیل گیا ہے چمن...

مئی 26, 2026

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

اردو شاعری

زندگی بھر فکر کرتے رہے

جون 2, 2026

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

جون 2, 2026

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

جون 2, 2026

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ...

جون 2, 2026

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

ملازمت بہتر یا کاروبار

جون 3, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»

    جون 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

اک ترے آنے کے بعد

مئی 25, 2024

حافظ نعیم صاحب کو سلام

جنوری 30, 2026

آخری آندھی نے سب کچھ پہلے...

مئی 13, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں