خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباایک گھریلو سا خراج ِ عقیدت
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزروبینہ فیصل

ایک گھریلو سا خراج ِ عقیدت

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 27, 2020
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 27, 2020 0 تبصرے 91 مناظر
92

لائلپور سے ایک بزرگ ریٹائرڈ سکول ٹیچر حلیمہ صاحبہ کی ای میل آئی کہ” آپ سماجی اور خاندانی رویوں پر زیادہ بات کیا کریں کہ آپ جیسی، انسان پرست اور وسیع سوچ کی ہمارے معاشرے کو ضرورت ہے، اور معاشرے کی بنیاد تب ہی اچھی پڑے گی جب اچھے خاندان بنیں گے۔۔۔”
میں کچھ اور لکھ رہی تھی،ان کا حکم سر آنکھوں پر رکھا(ایک ان کی بزرگی، دوسرا میری جنم بھومی کا حوالہ اور “کچھ اور “کے ساتھ وہ سب بھی لکھنے کی کوشش کی جن کی ان خاتون نے فرمائش کی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔پہلے “کچھ اور “پڑھ لیں!!
آپ کی ہر غلطی کو، ہر بدتمیزی کو معاف کر دے اور آپ سے بے لوث محبت کرے،اتنی کرے کہ آپ پریشان ہو جائیں اور پھر حیران بھی ہوں کہ وہ بدلے میں آپ سے اتنی محبت مانگتا بھی نہیں اور بس آپ سے مستقل مزاجی سے ایک جیسا پیار کئے جاتا ہو،جس کی محبت میں کوئی مقابلے بازی نہ ہو، کوئی طعنہ نہ ہو، کوئی ناپ تول نہ ہو، نہ کوئی امید بندھی ہو۔۔ ایسی بے غرض محبت کی بات ہو تو لوگوں کے ذہن میں ماں یا باپ کا تصور آتا ہے، وہ تو ہو تے ہی ایسے ہیں مگر میری خوش قسمتی کا ڈبل دھمال ہے کہ مجھے ہم سفر بھی ایسا ملا۔ شادی کی سالگرہ کا روایتی تحفہ تو سب ہی دیتے ہیں ایک لکھاری کو تو کچھ لکھ کر ہی پیش کرنا چاہیئے اسی لئے یہ چند لائنیں جو ہماری زندگیوں اور محبتوں کا احاطہ تو نہیں کر سکتیں مگر پھر بھی کچھ نہ کہنے سے کچھ کہہ دینا ہی بہتر ہے کہ وقت گزر جانے پر انسان پچھتاتا ہے کہ کاش میں نے جو کہنا تھا کہہ دیا ہو تا۔۔۔۔۔۔۔ خیر۔۔۔۔۔بات ہو رہی تھی زندگی کی نعمتوں کی۔۔۔۔
میں جب نعمتوں پرشکریہ کہنے کو اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہو تی ہوں تو ایک بہت بڑا احساس ِتشکر یہ ہوتا ہے کہ اللہ نے مجھے ایسا ہم سفر دیا جس کا ظرف اعلی، اور دل میری محبت سے سرشارہے،جس نے مجھے بدلنے کی کوشش نہیں کی،جس نے مجھے ہنستا دیکھ کر مجھ سے شادی کا فیصلہ کیا تھا تو کبھی” ارادی” طور پر مجھ سے یہ ہنسی چھیننے کی کوشش نہیں کی، اپنی زبان سے کبھی دکھ نہیں دیا،ہاں یہ ضرور ہے کہ ہر انسان اپنی زندگی کے دکھ اور خوشیاں لکھوا کر آتا ہے۔۔ حالات کی وجہ سے جو ستم ہم پر ٹوٹے وہ کسی اور انسان کی کہانی سے نرالی کہانی نہیں ہے۔۔ ہر انسان کے پاس ایک کہانی ہو تی ہے جس میں اس کے حصے کی تمام مشکلات، غم اور آلائشیں شامل ہو تی ہیں۔۔ انہیں بھی کاٹنا تب ہی ممکن ہو تا ہے جب آپ کے جیون ساتھی کا سلوک آپ سے مہربانی اور انڈرسٹینڈنگ کا ہو۔۔
شادی کی سالگرہ پر،چونکہ، مجھے ایسی روایتیں، جو دوسروں کو الجھن میں ڈالیں، بری لگتی ہیں اسی لئے شائد مجھے شادی کی سالگرہ پر لوگوں کا ہجوم بے معنی لگتا ہے کہ یہ میاں بیوی کی ذاتی غلطی ہوتی ہے انہیں تنہائی میں ہی بھگتنی چاہیئے، کیک کاٹنا ہے تو بالکل اپنے اندر کے اصلی جذبات کے ساتھ، ورنہ منہ موڑے سوئے رہیں،کم از کم رشتوں اور جذبوں کی خالصیت کا تو اندازہ رہے گا۔۔
ہونا تو یہ چاہیئے کہ شادی کی ہر سالگرہ پر، میاں بیوی آپس میں تجد ید ِ عہد کریں، کیا کھویا کیا پایا کی کہانی ایک دوسرے کو پیش کریں، کیا کرنا ہے اور آپس میں کن رویوں پر غور کر نا ہے اور کیسے اس رشتے کو اور بہتر بنانا ہے، اس پر تبادلہ خیال کریں مگر ہو تا یہ ہے کہ لوگوں کے ہجوم کو اکھٹا کر کے میاں بیوی اپنے رشتے کی گہرائی میں اترنے کی بجائے، چہروں پرمصنوعی ہنسی سجائے، سج سنور کر مہمانوں کی خاطر مدارت اور تصویری سیشین میں الجھے رہتے ہیں اور یہ نایاب لمحات بھی گزر جا تے ہیں اور”رشتہ” ویسے کا ویسا دیوار پر کیسی ڈیکوریشن کی طرح چپکا رہ جا تا ہے۔۔
شادی کے بندھن میں بندھے سال پر سال گزرتے جاتے ہیں اور ہم یہ محسوس بھی نہیں کرتے کہ وہ دو افراد جن کی زندگی کا سفر اس رات سے شروع ہوا تھا جب وہ مہمانوں کے جانے اور کمرے میں تنہا ہو نے کا شدت سے انتظار کر رہے تھے اب ایک ایسے جوڑے میں بدل چکے ہیں جو کمرے کی تنہائی سے گھبرا کر اپنے ارد گردمہمانوں کا ہجوم اکھٹا کر رہا ہے، اپنی خوشی ایک دوسرے کے چہروں پر نہیں دیکھ رہے بلکہ ان مہمانوں کو نمائشی چیزوں سے دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ کالم لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ میں جو بات سالوں سے سوچ رہی ہوں اور اس پر عمل کر کے اپنے رشتے کے کئی اتار چڑھاؤ سہہ بھی گئی ہوں اور اپنی خامیوں کجیوں کو جانا بھی ہے ٹھیک بھی کرنے کی کوشش کی اور شادی جیسے مشکل بندھن کو نبھانے، اور ہم سفر کی تمام غلطیوں کو درگزر کر کے اس کے اندر کی خوبصورتی کو پہچاننے کے قابل ہو ئی ہوں تو ایسا کر کے ہو سکتا ہے بہت سے اور لوگوں کا بھلا ہو جائے،مگر آزمائش شرط ہے۔ روز روز نہیں تو کم از کم اپنی شادی کی سالگرہ پر ایک دوسرے سے تجدید ِ عہدکر کے دیکھیں کہ پڑے پڑے یا نمائش میں کھو کر رشتہ اپنا اصل رنگ تو نہیں کھو چکا؟
صلہ رحمی، انڈرسٹنڈنگ اور دوسروں کو جینے کا ویسے ہی حق دینا جیسا آپ اپنے لئے چاہتے ہیں، یہ، صرف میاں بیوی نہیں ہر رشتے میں درکار ہے۔شادی کے بعد صرف میاں بیوی کا رشتہ ہی نہیں ہو تا، لڑکی کا اپنے گھر والوں سے اور لڑکے کا اپنے گھر والوں سے رشتہ بھی بدل جا تا ہے۔ اچھے گھرانے وہی ہو تے ہیں جو سب کو اپنے اپنے حصے کی اپنی اپنی فکری اور شخصی آزادی کے ساتھ جینے کا حق دیں۔۔ خوشی کا تعلق دل سے ہے اور فی زمانہ ہمارے دل مرتے جا رہے ہیں اور اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنی زندگیوں پر فو کس کرنے کی بجائے دوسروں کی زندگیوں میں مداخلت کرنے اور ان پر تنقید کرنے پر گزار دیتے ہیں۔۔
انسان، اس وقت تک آزاد نہیں ہو تا جب تک اس کو انفرادی طور پر سوچنے کا حق نہیں دیا جاتا۔۔ خلیل جبران نے کہا تھا انسان، اپنے بچوں کو دنیا میں لانے کا ذریعہ ضرور ہو تا ہے لیکن ان کو بال و پر دے کر آزاد ی کی فضا میں چھوڑنا ہی حکمت ہے۔۔ مطلب ان کو اپنے فیصلے کرنے اور سوچنے کی آزادی ہو نی چاہیئے۔۔ اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہو تا ہے کہ آنے والی مشکلات کے ذمہ دار،بھی وہ خود ہو نگے، اور آنے والی برکتوں کا ریوارڈ بھی وہ خود لیں گے۔۔ قید میں بند پرندے بھی پھڑپھراتے رہتے ہیں، انسانوں کی سوچ کو اپنی مرضی کے تابع کر نے کی کوشش ان کے اندر عمر بھر کی پھڑپھراہٹ چھوڑ دیتی ہے۔۔ ہر رشتے میں۔۔ آسانی دینے کی کوشش کریں۔۔ انا کو محبت کے خول میں لپیٹ کر دوسروں کی زندگی تنگ کرنے سے اور رشتوں کی بلیک ملینگ کر کے، آپ دلوں کو سخت اور محبتوں سے خالی کر دیتے ہیں۔۔
ہر بات انا کا مسئلہ نہیں ہو تی، ہر رات اندھیری نہیں ہو تی اور ہر صبح بھی روشن نہیں ہو تی۔۔۔ یعنی اس دنیا میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔۔ انسانوں کو مارجن دیں،جینے دیں۔۔دوسروں کو جینے دیں گے تو اپنی زندگی بھی حسین ہو جائے گی کہ باہر روشنی پھیلانے سے اندر کی روشنی بڑھتی ہے۔۔ معاشروں میں سائنس کی ضرورت اٹل سہی مگر ادب اور آرٹ کو بھی مقام دیں تاکہ انسان دوسرے انسان کو سمجھنے کے لئے اپنی آنکھیں اور دل کھول لے۔۔۔یہ انسان کوئی بھی ہوسکتا ہے۔۔ آپ کا بیٹا، بیٹی، بیوی، شوہر، دوست، بھائی، بہن۔۔ کوئی بھی۔۔۔
کرونا کے اس سٹریس فل ماحول میں جب ہر انسان بے یقینی اور بے چینی کا شکار ہو رہا ہے۔۔ ہم سب کا اجتماعی فرض ہے کہ دوسروں کے ذہنی سکون اوراطمینان کا خیال رکھیں۔۔ آج کل ہر گھر کی نفسیات کی بدل گئی ہے۔۔ کسی گھر میں بچے، مضبوط ہیں اور بڑوں کو بھی حوصلہ دے رہے ہیں، کسی گھر میں بوڑھے، کرونا کی تنہائی سے تنگ آرہے ہیں اور کسی گھر میں وہ گھبرائے ہو ئے بچوں کا سہارا بن رہے ہیں۔۔ ہر گھر دوسرے گھر سے مختلف ہو گیا ہے۔۔ اس لئے رشتوں کو، عام حالات سے بھی زیادہ، تحمل اور بر دباری سے نبھانے کی ضرورت ہے۔ یہ مشکل وقت، آج سے پہلے، اس دنیا پر کبھی نہیں آیا، ہمارے بچوں کو اس لاپروائی والی عمر میں اس آسیب سے گزرنا پڑ رہا ہے، ہم نے تو اپنی زندگیوں کا یہ خوبصورت بچپن اور جوانی والا دور خوبصورتی سے گزار لیا ہے مگرہمارے بچے “اس عمر” کے کھلنڈرے پن اور لاپروائی سے محروم ہو رہے ہیں، اس وقت انہیں ہماری سب سے زیادہ ضرورت ہے۔۔۔ بچوں کی ذہنی اور نفسیاتی الجھنوں پر گہری نظر رکھیں۔۔یہ وقت تو گزر جائے گا مگر اس دنیا کو بدل کے جائے گا۔۔۔۔۔۔اس بدلتی دنیا میں ہمارے بچوں نے جینا ہے،اس کے لئے ان کا ذہنی اور جسمانی طور پر صحت
مند رہنا بہت ضروری ہے۔اس مشکل دور میں فاصلے نہیں فیصلے انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب اور دور لے کر جائیں گے۔آنکھیں کھلی اور دل کشادہ کر لیں۔ محبتیں بانٹیں۔۔ سختیاں یا آزمائشیں نہیں۔۔ رشتوں کو آزمانے کا پھر وقت ملے گا۔۔ ابھی رشتوں کو نبھانے کا وقت ہے۔۔ یہ وقت بھی گزر جائے گا۔۔ مگر آج کے فیصلے کل کے فاصلوں کو کم کریں گے۔۔ ورنہ کرونا ختم بھی ہوگیا تو پھیلے ہو ئے فیصلوں کو پھلانگنا بہت مشکل ہو جائے گا۔۔۔۔۔اس مشکل گھڑی میں اللہ سب کو آسانیاں بانٹنے کی توفیق دے۔ آمین۔

روبینہ فیصل

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • افغانستان میں دہشت گردی کا نیا خطرہ
  • گلاب چہرہ بہاروں میں آ کے بیٹھ گئے
  • وہ تو میرے پاس ہے مرے دل
  • اُس نے جب مجھ کو پلٹ کر دیکھا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
دیمک بہتر یا کیڑا؟
پچھلی پوسٹ
اتنی حیرت سے دیکھتا کیا ہے

متعلقہ پوسٹس

افسانہ حسن ِ نظر

اکتوبر 14, 2025

کچھ حیا اور کچھ محبت

جون 27, 2025

روشن ذہن

جنوری 24, 2025

سکونِ لمحہ

جنوری 8, 2025

تاج ہاؤس

جنوری 6, 2026

شہری سہولیات پر حملے

ستمبر 23, 2025

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

اگست 29, 2025

جدید اردو ڈرامے کے خالق امتیاز علی تاجؔ

نومبر 29, 2019

ڈپٹی نذیر احمد – وبا کے دنوں کا ادب

اپریل 21, 2020

تپش

دسمبر 13, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

جو شجر دیتا تھا سایہ

جون 27, 2025

 جل پری

فروری 26, 2020

سو کینڈل پاور کا بلب

جنوری 23, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں