499
خواب کے پہلے جھونکے سے
لپٹی بیل دریچے سے
پہلی بارش آئی ہے
تم بھی نکلو کمرے سے
میں نے ہونٹ بھگونے ہیں
چھلکے ہوئے ستارے سے
خوشبو والے آتے ہیں
رنگوں کے دروازے سے
رستہ بنتا جاتا ہے
اس کے چلتے رہنے سے
اپنا حال کہو صاحب
میں بہتر ہوں پہلے سے
تجدید قیصر
