516
یہ تو نہیں کہ ہم نے رستہ چھوڑ دیا ہے
اس کا ہاتھ پکڑ کر چلنا چھوڑ دیا ہے
آیا تھا جو مجھ سے ملنے کون تھا وہ
اُس نے باہر اک گلدستہ چھوڑ دیا ہے
آدھا بھرا گلاس مجھے اچھا لگتا ہے
آدھا پانی پی کر آدھا چھوڑ دیا ہے
مجھ کو کرتے پینٹ مصوّر کیسے تو نے
آنکھوں کے نیچے کا حلقہ چھوڑ دیا ہے
جس کی آنکھوں میں دکھتا تھا اپنا سایہ
اُس لڑکے نے خواب میں آنا چھوڑ دیا ہے
تجدید قیصر
