471
یہ کیسا ابر دل پر چھا گیا ہے
اداسی روح تک برسا گیا ہے
ذرا یہ برف کا کہسار دیکھو
کہ جیسے آئنہ پتھرا گیا ہے
ذرا یہ سوختہ اشجار دیکھو
کوئی غم ہے جو ان کو کھا گیا ہے
بس اب یہ دوستی ہے عمر بھر کی
وہ مجھ سے ہی مجھے ملوا گیا ہے
سعود عثمانی
یہ کیسا ابر دل پر چھا گیا ہے
اداسی روح تک برسا گیا ہے
ذرا یہ برف کا کہسار دیکھو
کہ جیسے آئنہ پتھرا گیا ہے
ذرا یہ سوختہ اشجار دیکھو
کوئی غم ہے جو ان کو کھا گیا ہے
بس اب یہ دوستی ہے عمر بھر کی
وہ مجھ سے ہی مجھے ملوا گیا ہے
سعود عثمانی