514
پھر مجھ کو خامشی میں کسی نے پکارا کیا
مہتاب آگیا ہے پلٹ کر دوبارہ کیا
ہر روز صبح دم کوئی آئینہ ٹوٹنا
اس خواب میں بچے گا ہمارا تمہارا کیا
دیکھو یہ کارِ عشق نہیں ،کارِ خیر ہے
تم اس میں کر رہے ہو میاں استخارہ کیا
یہ تم جو آئنے کی طرح چُور چُور ہو
تم نے بھی اپنی عمر کو دل پر گزارا کیا
سعود عثمانی
