518
قدیم وقت بھی رہتا ہے نوجواں کی طرح
ہری زمین کی طرح ، نیلے آسماں کی طرح
جو سالِ نو تھے بتدریج کہنہ ہوتے گئے
نئے لباس کی صورت ، نئے مکاں کی طرح
وہ یاد مٹ کے بھی دل میں دوام چھوڑ گئی
ہے سطحِ آئنہ کھرچے ہوئے نشاں کی طرح
میں کیا کروں مجھے بے طرح یاد آتے ہیں
تمام سالِ گذشتہ گزشتگاں کی طرح
سعود عثمانی
