568
دونوں آنکھوں کی اک اوک بنائی میں نے
پھر بہتے منظر سے پیاس بجھائی میں نے
تم کو شاید اس کا بھی احساس نہ ہو گا
ریزہ ریزہ جوڑی تھی یکجائی میں نے
جیسے کوئی دو دو عمریں کاٹ رہا ہو
جھیلی اپنی اور اس کی تنہائی میں نے
ایک محبت مجھ میں شعلہ زن رہتی تھی
خیر پھر اک دن آگ سے آگ بجھائی میں نے
خود کو راضی رکھنے کی ہر کوشش کرکے
آخر اپنے آپ سےجان چھڑائی میں نے
ان گلیوں میں اور شہروں میں اور باغوں میں
زندہ رکھا اندر کا صحرائی میں نے
میری پونجی اور تھی ،میرے خرچ الگ تھے
خوا ب کمائے میں نے ، نیند اڑائی میں نے
صبح کے تارے تجھ کو بھی معلوم نہ ہو گا
صدیوں جیسی کی تھی شب پیمائی میں نے
اس ماحول میں یہ اتنا آسان نہیں تھا
دیکھو لوگو کنول بنا دی کائی میں
سعود عثمانی
