104
تمہارا خواب میری راتوں کا سکون کو کھا گیا
خیالِ شب کے ہر لمحے کو بے دردی سے کو کھا گیا
صبح کی شوخ ہوا، شوق و جنون کا پیغام لیے
تمہاری قربت میری ہستی کے ہر گوشے کو کو کھا گیا
رات کا سکون تو تمہارے لمس کی بخشش تھی
مگر اب تمہارا لمس تمہارے عنایت کوبھی کو کھا گیا
کیا تمہارا شہر محبت کا دیوانہ ہے نندنی
جو اپنی سرحدوں سے مضافات کو کھا گیا
شاکرہ نندنی
