456
یہ راستے میں جو شب کھڑی ہے ہٹا رہا ہوں معاف کرنا
بغیر اجازت میں دن کو بستی میں لا رہا ہوں معاف کرنا
زمین بنجر تھی تم سے پہلے پہاڑ خاموش دشت خالی
کہانیو میں تمہیں کہانی سنا رہا ہوں معاف کرنا
کچھ اتنے کل جمع ہو گئے ہیں کہ آج کم پڑتا جا رہا ہے
میں ان پرندوں کو اپنی چھت سے اڑا رہا ہوں معاف کرنا
یہ بے یقینی عجب نشہ ہے یہ بے نشانی عجب سکوں ہے
میں ان اندھیروں کو روشنی سے بچا رہا ہوں معاف کرنا
انہیں ستاروں کے سب لطائف سنا چکا ہوں ہنسی ہنسی میں
اور اب چراغوں سے اپنا دامن بچا رہا ہوں معاف کرنا
مجھے بتانے کا فائدہ کیا مکین کیا تھے مکان کیا ہیں
میں اس گلی سے نہ آ رہا ہوں نہ جا رہا ہوں معاف کرنا
ذوالفقار عادل
