373
یوں جو پلکوں کو ملا کر نہیں دیکھا جاتا
ہر طرف ایک ہی منظر نہیں دیکھا جاتا
کام اتنے ہیں بیابانوں کے ویرانوں کے
شام ہو جاتی ہے اور گھر نہیں دیکھا جاتا
جھانک لیتے ہیں گریباں میں یہی ممکن ہے
ایسی پستی ہے کہ اوپر نہیں دیکھا جاتا
جس کو خوابوں کو ضرورت ہو اٹھا کر لے جائے
ہم سے اب اور یہ دفتر نہیں دیکھا جاتا
ذوالفقار عادل
