102
رسم آوارگی سوغات نہیں ہوتی ہے
میری صحرا سے ملاقات نہیں ہوتی ہے
بس سوالات کے دیتا ہے جوابات مجھے
بات ہوتی ہے مگر بات نہیں ہوتی ہے
اپنی حسرت کا گلا گھونٹ دیا ہے میں نے
اب دلاسوں سے ملاقات نہیں ہوتی ہے
میں نے سوچا نہ تھا دنیا سے کہوں گا یہ بھی
آج کل تجھ سے مری بات نہیں ہوتی ہے
یہ تو بادل ہے جو رستے سے بھٹک جاتا ہے
ورنہ صحراؤں میں برسات نہیں ہوتی ہے
ہمانشی بابرا
