391
کچھ اس ادا سے کوئی دم بہ دم لبھائے مجھے
کہ ہارنے بھی نہ دے اور آزمائے مجھے
اس انتظار میں ہوں نقش رائیگاں ہو کر
ترا کرم کسی محراب میں سجائے مجھے
ترے نثار کسی ایسے غم گسار کو بھیج
کہ دل کی بھول بھلیوں سے ڈھونڈ لائے مجھے
یہ جی میں ہے کہ سراپا وہ نغمہ بن جاؤں
کہ جس کو تجھ سے محبت ہو گنگنائے مجھے
کسی کی دھن میں پریشاں تو ہوں بکھر ہی نہ جاؤں
گلے نہ موجۂ باد صبا لگائے مجھے
گلوں سے کم نہیں کانٹوں کی سیج بھی خورشیدؔ
خیال یار اگر چین سے سلائے مجھے
خورشید رضوی
