619
مری آبائی تلواروں کے دستے بیچ ڈالے ہیں
بہت مہنگے تھے یہ ہیرے جو سستے بیچ ڈالے ہیں
وہ جن پہ چل کے منزل پر پہنچنا تھا غریبوں کو
امیرِ شہر نے وہ سارے رستے بیچ ڈالے ہیں
مرے دریاؤں کا پانی اٹھا ڈالا ہے ٹھیکے پر
وہ بادل تھے جو کھیتوں پر برستے بیچ ڈالے ہیں
بھرے گھر کے لئے مشکل تھی فاقوں کی خریداری
بالآخر باپ نے بچوں کے بستے بیچ ڈالے ہیں
انور مسعود
