407
اب فیصلہ کرنے کی اجازت دی جائے
یا پھر ہمیں منزل کی بشارت دی جائے
دیوانے ہیں ہم جھوٹ بہت بولتے ہیں
ہم کو سر بازار یہ عزت دی جائے
پھر گرد مہ و سال میں اٹ جائیں گے
آئینہ بنایا ہے تو صورت دی جائے
اصرار ہی کرتے ہو تو اپنا سمجھو
دینا ہی اگر ہے تو محبت دی جائے
وہ جس نے مجھے قتل پہ اکسایا تھا
اس شخص سے ملنے کی بھی مہلت دی جائے
جب میری گواہی بھی مرے حق میں نہیں
پھر شہر میں کس کس کی شہادت دی جائے
ہم جاگتے رہنے کے بہت عادی ہیں
ہم کو شب ہجراں کی مسافت دی جائے
چھڑ جائے تو طبقات کی اب جنگ سلیمؔ
کچھ بھی ہو مگر ہم کو نہ زحمت دی جائے
سلیم کوثر
