خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےمس ٹین والا
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

مس ٹین والا

ایک افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن جون 17, 2013
از سائیٹ ایڈمن جون 17, 2013 0 تبصرے 311 مناظر
312

مس ٹین والا

اپنے سفید جوتوں پر پالش کررہا تھا کہ میری بیوی نے کہا۔

’’زیدی صاحب آئے ہیں‘‘

میں نے جوتے اپنی بیوی کے حوالے کیے اور ہاتھ دھو کر دوسرے کمرے میں چلا آیا جہاں زیدی بیٹھا تھا میں نے اس کی طرف غورسے دیکھا۔

’’ارے ! کیا ہو گیا ہے تمہیں؟‘‘

زیدی نے اپنے چہرے کو شگفتہ بنانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے جوا ب دیا۔

’’بیمار رہا ہوں۔ ‘‘

میں اس کے پاس کرسی پر بیٹھ گیا۔

’’بہت دُبلے ہو گئے ہو یار۔ میں نے تو پہلے پہچانا ہی نہیں تھا تمہیں۔ کیا بیماری تھی؟‘‘

’’معلوم نہیں۔ ‘‘

’’کیا مطلب؟‘‘

زیدی نے اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری۔

’’کچھ سمجھ میں نہیں آتا، کیا بیماری ہے؟‘‘

’’ہاں کچھ ایسا ہی ہے۔ ‘‘

’’کسی اچھے ڈاکٹر کو دکھانا تھا۔ ‘‘

زیدی خاموش رہا تو میں نے پھر اس سے کہا۔

’’کسی اچھے ڈاکٹر سے مشورہ لیا؟‘‘

’’نہیں۔ ‘‘

’’کیوں؟‘‘

زیدی پھر خاموش رہا۔ جواب دینے کے بجائے اس نے جیب سے سگریٹ کیس نکالا۔ اس کی اُنگلیاں کانپ رہی تھیں۔

’’میرا خیال ہے زیدی !تمہارا نروس سسٹم خراب ہو گیا ہے وٹامن بی کے انجکشن لگانا شروع کردو، بالکل ٹھیک ہو جاؤ گے۔ پچھلے برس زیادہ وسکی پینے سے میرا یہی حال ہو گیا تھا، لیکن بارہ انجکشن لینے سے کمزوری دُور ہو گئی تھی۔ مگر تم کسی اچھے ڈاکٹر سے مشورہ کیوں نہیں لیتے؟‘‘

زیدی نے اپنا چشمہ اُتار کررومال سے صاف کرنا شروع کردیا۔ اس کی آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے پڑے ہُوئے تھے۔ میں نے پوچھا۔

’’کیا رات کو نیند نہیں آتی؟‘‘

’’بہت کم۔ ‘‘

’’دماغ میں خشکی ہو گی!‘‘

’’جانے کیا ہے۔ ‘‘

یہ کہہ کر وہ ایک دم سنجیدہ ہو گیا۔

’’دیکھو سعادت میں تمہیں ایک عجیب و غریب بات بتانے آیا ہوں۔ مجھے بیماری ویماری کچھ نہیں۔ رات کو نیند اس لیے نہیں آتی کہ میں ڈرتا رہتا ہوں۔ ‘‘

’’ڈرتے رہتے ہو۔ کیوں؟‘‘

’’بتاتا ہُوں۔ ‘‘

یہ کہہ کر اس نے کانپتے ہاتھوں سے سگریٹ سُلگایا اور بجھی ہوئی تیلی کو توڑنا شروع کردیا۔

’’مجھے معلوم نہیں سُن کر تم کیا کہو گے۔ مگر یہ واقعہ یہ، بلے سے۔ ‘‘

میں شاید مسکرا دیا تھا کیونکہ زیدی نے فوراً ہی بڑی سنجیدگی کے ساتھ کہا۔

’’ہنسو نہیں۔ یہ حقیقت ہے۔ میں تمہارے پاس اس لیے آیا ہوں کہ انسانی نفسیات سے تمہیں دلچسپی کافی ہے۔ شاید تم میرے ڈر کی وجہ بتا سکو۔ ‘‘

میں نے کہا۔

’’لیکن یہاں تو سوال ایک حیوان کا ہے۔ ‘‘

زیدی خفا ہو گیا۔

’’تم مذاق اُڑاتے ہوتو میں کچھ نہیں کہوں گا۔ ‘‘

’’نہیں نہیں زیدی! مجھے معاف کردو۔ میں پوری توجہ سے سُنوں گا، جو تم کہو گے۔ ‘‘

تھوڑی دیر خاموش رہنے اور نیا سگریٹ سلگانے کے بعد اس نے کہنا شروع کیا۔

’’تمہیں معلوم ہے جہاں میں رہتا ہوں، دو کمرے ہیں پہلے کمرے کے اس طرف چھوٹی سی بالکنی ہے جس کے کٹہرے میں لوہے کی سلاخیں لگی ہیں۔ اپریل اور مئی کے دو مہینے چونکہ بہت گرم ہوتے ہیں اس لیے فرش پر بستر بچھا کر میں اس بالکنی میں سویا کرتا ہُوں۔ یہ جون کا مہینہ ہے۔ اپریل کی بات ہے میں صبح ناشتے سے فارغ ہو کر دفتر جانے کے لیے باہر نکلا دروازہ کھولا تو دہلیز کے پاس ایک موٹا بِلّا آنکھیں بند کیے لیٹا نظر آیا۔ میں نے جوتے سے اسے ٹہوکا دیا۔ اس نے ایک لحظے کے لیے آنکھیں کھولیں۔ میری طرف بے پروائی سے، جیسے میں کچھ بھی نہیں، دیکھا اور آنکھیں بند کرلیں۔ مجھے بڑا تعجب ہُوا چنانچہ میں نے بڑے زور سے اس کے ٹھوکر ماری۔ اس نے آنکھیں کھولیں۔ میری طرف پھر اسی نظر سے دیکھا اور اُٹھ کر کچھ دُور سیڑھیوں کے پاس لیٹ گیا۔ جس انداز سے اس نے چند قدم اُٹھائے تھے، اس سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ وہ مجھ سے مرعوب نہیں ہُوا۔ مجھے سخت غصّہ آیا۔ آگے بڑھ کر اب کی میں نے زور سے ٹھوکر ماری۔ دس پندرہ زینوں پر وہ لڑکھڑاتا ہوا چلا گیا۔ جب چار پیروں پر سنبھلا تو اس نے نیچے سے اپنی پیلی پیلی آنکھوں سے میری طرف دیکھا اور گردن موڑ کر کوئی آواز پیدا کیے بغیر ایک طرف چلا گیا۔ تم دلچسپی لے رہے ہو یا نہیں؟‘‘

’’ہاں ہاں، کیوں نہیں!‘‘

زیدی نے سگریٹ کی راکھ جھاڑی اور سلسلہ کلام جاری کیا۔

’’دفتر پہنچ کر میں سب کچھ بھول گیا لیکن شام کو جب گھر لوٹا اور کمرے کی دہلیز کے پاس پہنچا جہاں وہ بِلّا لیٹا ہُوا تھا تو صبح کا واقعہ دماغ میں تازہ ہو گیا۔ نہاتے، چائے پیتے، رات کا کھانا کھاتے کئی دفعہ میں نے سوچا۔ تین دفعہ میں نے اس کی پسلیوں میں زور سے ٹھوکرماری، مجھ سے وہ ڈرا کیوں نہیں؟ میاؤں تک بھی نہ کی اس نے اور پھر کیا انداز تھا اس کے چلنے، آنکھیں بند کرنے اور کھولنے کا ایسا لگتا تھا جیسے اسے کچھ پروا ہی نہیں۔ جب میں ضرورت سے زیادہ اس بلے کے بارے میں سوچنے لگا تو بڑی الجھن ہوئی۔ ایک معمولی سے حیوان کو اتنی اہمیت آخر میں کیوں دے رہا تھا، اس کا جواب نہ مجھے اس وقت ملا اور نہ اب، حالانکہ پورے تین مہینے گزر چکے ہیں۔ ‘‘

اس قدر کہہ کر زیدی خاموش ہو گیا۔ میں نے پوچھا۔

’’بس!‘‘

’’نہیں۔ ‘‘

زیدی نے سگریٹ کو ایش ٹرے پر رکھتے ہوئے کہا۔

’’میں صرف تم سے یہ کہہ رہا تھا کہ اس بِلّے کو میں نے اتنی اہمیت کیوں دی ہے، میں اتنا خوف کیوں کھاتا ہُوں۔ یہ معما ابھی تک مجھ سے حل نہیں ہوسکا۔ شاید تم مجھ سے بہتر سوچ سکو۔ ‘‘

میں نے کہا۔

’’مجھے پورے واقعات معلوم ہونے چاہئیں۔ ‘‘

زیدی نے ایش ٹرے پر سے سگریٹ اُٹھایا اور ایک کش لے کر کہا۔

’’میں بتا رہا ہوں۔ اس روز کے بعد کئی دن گزر گئے مگر وہ بلا نظر نہ آیا۔ شاید ہفتے کی رات تھی۔ میں باہر بالکنی میں سورہا تھا۔ دو بجے کے قریب کمرے میں کچھ شور ہوا جس سے میری نیند کھل گئی۔ اٹھ کر روشنی کی تو میں نے دیکھا کہ وہی بِلا کھانے والی میز پر کھڑا ڈش کا سر پوش اُتار کر پڈنگ کھا رہا ہے۔ میں نے شُش، شُش کی مگر وہ اپنے کام میں مصروف رہا۔ میری طرف اس نے بالکل نہ دیکھا۔ میں نے چپل کا ایک پیر اٹھایا اور نشانہ تان کر زور سے مارا۔ چپل اس کے پیٹ پر لگا مگر وہ اس چوٹ سے بے پروا پڈنگ کھاتا رہا۔ میں نے غصے میں آکر مسہری کا ڈنڈا اٹھایا اور پاس جا کر اس کی پیٹھ پر مارا۔ اس نے اور زیادہ بے پروائی سے میری طرف دیکھا۔ بڑے آرام سے کرسی پر کودا۔ آواز پیدا کیے بغیر فرش پر اُترا اور آہستہ آہستہ ٹہلتا بالکنی کے کٹہرے کی سلاخوں میں سے نکل کر چھجے پر کود گیا۔ میں حیران وہیں کھڑا رہا اور سوچنے لگا یہ کیسا حیوان ہے جس پر مار کا کچھ اثر ہی نہیں ہوا۔ سعادت! میں تم سے سچ کہتا ہوں بڑا خوفناک بلا ہے۔ یہ موٹا سر، رنگ سفید ہے، لیکن اکثر میلا رہتا ہے۔ میں نے ایسا غلیظ بلا اپنی زندگی میں نہیں دیکھا۔ ‘‘

زیدی نے ایش ٹرے میں سگریٹ بُجھایا اور خاموش ہو گیا۔ میں نے کہا۔

’’بِلّے بِلّیاں تو خود کو بہت صاف ستھرا رکھتے ہیں۔ ‘‘

’’رکھتے ہیں۔ ‘‘

زیدی اٹھ کھڑا ہوا۔

’’لیکن یہ بلا شاید جان بوجھ کر خود کو غلیظ رکھتا ہے۔ لیٹتا ہے کوڑے کرکٹ کے پاس۔ کان سے لہو بہہ رہا ہے پر مجال ہے، اسے چاٹ کرصاف کرے۔ سر پھٹا ہوا ہے، پر اسے کچھ ہوش نہیں۔ بس، سارا دن مارا مارا پھرتا ہے۔ ‘‘

میں نے پوچھا:

’’لیکن اس میں خوف کھانے کی کیا بات ہے؟‘‘

زیدی بیٹھ گیا:

’’یہی تو میں خود دریافت کرنا چاہتا ہُوں۔ ڈر کی یوں تو ایک وجہ ہو بھی سکتی ہے۔ وہ یہ کہ دس پندرہ راتیں متواتر وہ مجھے جگاتا رہا۔ مجھ سے ہر دفعہ اس نے مار کھائی۔ بہت بری طرح پٹا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ وہ میرے گھر کا رخ نہ کرتا کیونکہ آخرحیوانوں میں بھی عقل ہوتی ہے۔ میں سوچنے لگا کہ کسی روز ایسا نہ ہو مجھ پر جھپٹ پڑے اور آنکھ وانکھ نوچ لے۔ سُننے میں آیا ہے کہ اگر کسی بلے یا بلی کو گھیر کر مارا جائے تو وہ ضرور حملہ کرتے ہیں۔ ‘‘

میں نے کہا۔

’’ڈرنے کی یہ وجہ تو معقول ہے۔ ‘‘

زیدی پھر اُٹھ کھڑا ہُوا۔

’’لیکن اس سے میری تسکین نہیں ہوتی۔ ‘‘

میرے دماغ میں ایک خیال آیا۔

’’تم اس کے ساتھ محبت پیار سے تو پیش آکر دیکھو۔ ‘‘

’’میں ایسا کر چکا ہوں۔ میرا خیال تھا اس قدر پٹنے پر وہ ہاتھ بھی نہیں لگانے دے گا۔ لیکن معاملہ بالکل اس کے برعکس نکلا۔ برعکس بھی نہیں کہنا چاہیے کیونکہ اس نے میرے پیار کی بالکل پروا نہ کی۔ ایک روز میں صوفے پر بیٹھا ہوا تھا کہ وہ پاس آکر فرش پر بیٹھ گیا۔ میں نے ڈرتے ڈرتے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ اس نے آنکھیں میچ لیں۔ یہ بڑھا ہوا ہاتھ میں نے اس کی پیٹھ پر آہستہ آہستہ پھیرنا شروع کیا۔ سعادت، تم یقین کرو وہ ویسے کا ویسا آنکھیں بند کیے بیٹھا رہا۔ پیار کا جواب بلے بلیاں اکثر دُم ہلا کر دیتے ہیں لیکن اس کم بخت کی دُم کا ایک بال بھی نہ ہلا۔ میں نے تنگ آکر اس کے سر پر کتاب دے ماری چوٹ کھا کر وہ اُٹھا۔ بڑی بے پروائی، ایک نہایت ہی دل شکن بے اعتنائی سے میری طرف پیلی پیلی آنکھوں سے دیکھا اور بالکنی کے کٹہرے کی سلاخوں میں سے نکل کر چھجے پر کود گیا۔ بس اس دن سے چوبیس گھنٹے وہ میرے دماغ میں رہنے لگا ہے۔ ‘‘

یہ کہہ کر زیدی میرے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا اور زور زور سے اپنی ٹانگ ہلانے لگا۔ میں نے صرف اتنا کہا۔

’’کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ ‘‘

لیکن اتنا ضرور سمجھ میں آتا تھاکہ زیدی کا خوف بے بنیاد نہیں۔ زیدی دانتوں سے ناخن کاٹنے لگا۔

’’میری سمجھ میں بھی کچھ نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ میں تمہارے پاس آیا۔ ‘‘

یہ کہہ کر وہ اُٹھا اور کمرے میں ٹہلنے لگا۔ تھوڑی دیر کے بعد رکا اور ایش ٹرے میں بجھی ہوئی دیا سلائی اُٹھا کر اس کے ٹکڑے کرنے لگا۔

’’اب یہ حالت ہو گئی ہے کہ رات بھر جاگتا رہتا ہوں۔ ذرا سی آہٹ ہوتی ہے تو سمجھتا ہوں وہی بلا ہے۔ لیکن آٹھ روز سے وہ کہیں غائب ہے۔ معلوم نہیں کسی نے مار ڈالا ہے، بیمار ہے یا کہیں اور چلا گیا ہے۔ ‘‘

میں نے کا۔

’’تم کیوں سوچتے ہو۔ اچھا ہے جو غائب ہو گیا ہے۔ ‘‘

’’معلوم نہیں کیوں سوچتا ہوں۔ کوشش کرتا ہوں کہ اس کم بخت کو بھول جاؤں مگر دماغ میں سے نکلتا ہی نہیں۔ ‘‘

یہ کہہ کر وہ صوفے پر سر کے نیچے گدی رکھ کر لیٹ گیا۔

’’عجیب ہی قصّہ ہے کوئی اور سنے تو ہنسے کہ ایک بلے نے میری یہ حالت کردی ہے۔ بعض اوقات مجھے خود ہنسی آتی ہے۔ لیکن یہ ہنسی کتنی تکلیف دہ ہوتی ہے۔ ‘‘

زیدی نے یہ کہا اور مجھے احساس ہوا کہ واقعی اپنی بے بسی پر ہنستے ہوئے اسے بہت تکلیف ہوتی ہو گی جو کچھ اس نے بیان کیا تھا، بظاہر مضحکہ خیز تھا۔ لیکن یہ بالکل واضح تھا کہ اس بلے کے وجود میں زیدی کی زندگی کا کوئی بہت ہی اذیت دہ لمحہ پوشیدہ تھا۔ ایسا لمحہ جو اسے اب بالکل یاد نہیں تھا۔ چنانچہ میں نے اس سے کہا۔

’’زیدی تمہارے ماضی میں کوئی ایسا حادثہ تو نہیں جس سے تم اس بلے کو متعلق کرسکو۔ میرا مطلب ہے کوئی ایسی چیز، کوئی ایسا واقعہ جس سے تم نے خوف کھایا ہو اور اس چیز یا واقعے کی شباہت اس بلے سے ملتی ہو؟‘‘

یہ کہہ کر میں نے سوچا کہ واقعے کی شباہت بلے سے کیسے مل سکتی ہے۔ زیدی نے جوا ب دیا۔

’’میں اس پر بھی غور کر چکا ہوں۔ میرے حافظے میں ایسا کوئی واقعہ یا ایسی کوئی چیز نہیں۔ ‘‘

میں نے کہا۔

’’ممکن ہے کبھی یاد آجائے۔ ‘‘

’’ایسا ہو سکتا ہے۔ ‘‘

یہ کہہ کر زیدی صوفے پر سے اُٹھا۔ چند منٹ ادھر ادھر کی باتیں کیں اور مجھے اور میری بیوی کو اتوار کی دعوت دے کر چلا گیا۔ اتوار کو میں اور میری بیوی سنٹا کروز گئے۔ میں نے شاید آپ کو پہلے نہیں بتایا۔ زیدی میرا پرانا دوست ہے۔ انٹرنس تک ہم دونوں ایک ہی اسکول میں تھے۔ کالج میں بھی ہم دو برس ایک ساتھ رہے۔ میں فیل ہو گیا اور وہ ایف اے پاس کرکے امرتسر چھوڑ کر لاہور چلا گیا جہاں اس نے ایم اے کیا اور چار پانچ برس بے کار رہنے کے بعد بمبئی چلا آیا۔ یہاں وہ ایک برس سے جہازوں کی ایک کمپنی میں ملازم تھا۔ دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد۔ ہم دیر تک نئے اور پرانے فلموں کے متعلق باتیں کرتے رہے۔ زیدی کی بیوی اور میری بیوی، دونوں

’’بہت فلم دیکھو‘‘

قسم کی عورتیں ہیں، چنانچہ اس گفتگو میں زیادہ حصّہ انہی کا تھا۔ دونوں اُٹھ کر دوسرے کمرے میں جانے ہی والی تھیں کہ بالکنی کے کٹہرے کی سلاخوں سے ایک موٹا بلا اندر داخل ہوا۔ میں نے اور زیدی نے بیک وقت اس کی طرف دیکھا۔ زیدی کے چہرے سے مجھے معلوم ہو گیا کہ یہ وہی بلا ہے۔ میں نے غور سے اس کی طرف دیکھا۔ سر پر کانوں کے پاس ایک گہرا زخم تھا جس پر ہلدی لگی ہوئی تھی۔ بال بے حد میلے تھے۔ چال میں جیسا کہ زیدی نے کہا تھا کہ ایک عجیب قسم کی بے پروائی تھی۔ ہم چار آدمی کمرے میں موجود تھے مگر اس نے کسی کی طرف بھی آنکھ اٹھا کر نہ دیکھا۔ جب میری بیوی کے پاس سے گزرا تووہ چیخ اٹھی۔

’’یہ کیسا بلا ہے۔ سعادت صاحب۔ ‘‘

میں نے پوچھا۔

’’کیا مطلب؟‘‘

میری بیوی نے جواب دیا۔

’’پورا بدمعاش لگتا ہے۔ ‘‘

زیدی نے بوکھلا کر کہا۔

’’بدمعاش‘‘

میری بیوی شرما گئی۔

’’جی ہاں، ایسا ہی لگتا ہے۔ ‘‘

زیدی کچھ سوچنے لگا۔ دونوں عورتیں دوسرے کمرے میں چلی گئیں۔ تھوڑی دیر کے بعد زیدی اٹھا

’’سعادت، ذرا ادھر آؤ۔ ‘‘

مجھے بالکنی میں لے جا کر اس نے کہا۔

’’معمہ حل ہو گیا ہے۔ ‘‘

’’کیسے؟‘‘

’’تمہاری بیوی نے حل کردیا ہے۔ تم بھی سوچو کیا اس بلے کی شکل مس ٹین والے سے نہیں ملتی؟‘‘

’’مس ٹین والے سے‘‘

’’ہاں ہاں۔ اُس بدمعاش سے جو ہمارے اسکول کے باہر بیٹھا رہتا تھا۔ مصطفےٰ جسے مس ٹین والا کہا کرتے تھے۔ ‘‘

مجھے یاد آگیا۔ زیدی پر جو لڑکپن میں بہت خوبصورت تھا۔ مس ٹین والے کی خاص نظر تھی۔ لیکن میں سوچنے لگا بلے سے اس کی شکل کیسے ملتی ہے۔ نہیں ملتی تھی، اس کی چال میں بھی کچھ ایسے ہی بے پروائی تھی۔ سر اکثر پھٹا رہتا تھا۔ کئی دفعہ ہیڈماسٹر صاحب نے اسے لوگوں سے پٹوایا کہ وہ اسکول کے دروازے کے پاس نہ کھڑا رہا کرئے، مگر اس کے کان پر جوں تک نہ رینگتی۔ ایک لڑکے کے باپ نے اسے ہاکی سے اتنا مارا، اتنا مارا کہ لوگوں کا خیال تھا ہسپتال میں مر جائے گا، مگر دوسرے ہی روز وہ پھر اسکول کے گیٹ کے باہر موجود تھا۔ یہ سب باتیں ایک لحظے کے اندر اندر میرے دماغ میں اُبھریں میں نے زیدی سے کہا

’’تم ٹھیک کہتے ہو، مس ٹین والا بھی مار کھا کر خاموش رہا کرتا تھا۔ ‘‘

زیدی نے جواب نہ دیا، اس کے لیے وہ کچھ یاد کررہا تھا۔ چند لمحات خاموش رہنے کے بعد اس نے کہا۔

’’میں آٹھویں جماعت میں تھا۔ پڑھنے کے لیے ایک دفعہ اکیلا کمپنی باغ چلا گیا ایک درخت کے نیچے بیٹھا پڑھ رہا تھا کہ اچانک مس ٹین والا نمودار ہُوا۔ ہاتھ میں ایک خط تھا مجھ سے کہنے لگا۔

’’بابو جی، خط پڑھ دیجیے۔ ‘‘

میری جان ہوا ہو گئی۔ آس پاس کوئی بھی نہیں تھا۔ مس ٹین والے نے خط میری ران پر بچھا دیا۔ میں اُٹھ بھاگا۔ اس نے میرا پیچھا کیا۔ لیکن میں اس قدر تیز دوڑا کہ وہ بہت پیچھے رہ گیا۔ گھر پہنچتے ہی مجھے تیز بخار چڑھا۔ دو دن تک ہذیانی کیفیت رہی۔ میری والدہ کا خیال تھا کہ جس درخت کے نیچے میں پڑھنے کے لیے بیٹھا تھا۔ آسیب زدہ تھا۔ زیدی یہ کہہ ہی رہا تھا کہ بلا ہماری ٹانگوں میں سے گزر کر کٹہرے کی سلاخوں میں سے نکلا اور چھجے پر کود گیا۔ چھجے پر چند قدم چل کر اس نے مڑکر پیلی پیلی آنکھوں سے ہماری طرف اپنی مخصوص بے پروائی سے دیکھا۔ میں نے مسکرا کرکہا۔

’’مس ٹین والا‘‘

زیدی جھینپ گیا۔

سعادت حسن منٹو

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • تخم بالنگا یا تخم ملنگا
  • اکیچ بات ہے
  • اُردو زبان پر اعتراضات
  • چور
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
میں تتی دھی پنجاب دی
پچھلی پوسٹ
جہاں ہم ہیں

متعلقہ پوسٹس

مونا لیزا

جنوری 5, 2020

موٹی چھوڑ کے لاڈو

مئی 21, 2020

عالاں

جنوری 15, 2019

معاشرہ پھول بنائیں انگار نہیں !

جنوری 2, 2021

گھریلو تشدد کا قانون

جنوری 26, 2026

تقدیرِ رنگین

جنوری 8, 2025

دس روپے

اکتوبر 25, 2019

تنہائی

فروری 18, 2020

نمک کا داروغہ

دسمبر 10, 2019

جامن کا پیڑ

مارچ 22, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

دعا مانگنے کے ادب و آداب

مئی 5, 2024

اینٹونینا کی جرات گناہ

مئی 27, 2023

سلطان مظفر کا واقعہ نویس

جون 15, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں