خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامسوشل میڈیا، وقت، شعور اور حقیقت کی حفاظت
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزمنیب الرحمن عارفی

سوشل میڈیا، وقت، شعور اور حقیقت کی حفاظت

از سائیٹ ایڈمن مارچ 9, 2026
از سائیٹ ایڈمن مارچ 9, 2026 0 تبصرے 71 مناظر
72

ہم سب نے کبھی نہ کبھی یہ تجربہ ضرور کیا ہوگا کہ ہم صرف چند منٹ کے لیے سوشل میڈیا کھولتے ہیں، اور دیکھتے ہی دیکھتے آدھا گھنٹہ یا ایک گھنٹہ گزر جاتا ہے۔ ایک پوسٹ سے دوسری پوسٹ، ایک تبصرے سے دوسری بحث، اور پھر ایک نئی ویڈیو۔ آخر میں جب فون بند کرتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ وقت تو گزر گیا، مگر ہاتھ میں کوئی خاص چیز نہیں آئی۔ آج کے دور میں سوشل میڈیا ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ یہ رابطے کا ذریعہ بھی ہے، معلومات کا وسیلہ بھی اور اظہارِ رائے کا پلیٹ فارم بھی۔ اگر اسے سمجھداری سے استعمال کیا جائے تو اس کے بہت فائدے ہو سکتے ہیں۔ لیکن مسئلہ وہاں شروع ہوتا ہے جب ہم ہر دکھائی دینے والی بات میں الجھنے لگتے ہیں، ہر بحث میں کود پڑتے ہیں اور بغیر سوچے سمجھے ردعمل دینا اپنی عادت بنا لیتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی ایک موضوع اچانک ہر جگہ نظر آنے لگتا ہے۔ ہر طرف اسی کی بات ہو رہی ہوتی ہے۔ لوگ اس پر تبصرے کر رہے ہوتے ہیں، بحثیں ہو رہی ہوتی ہیں، اور دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں لوگ اس گفتگو کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ایسے میں یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ شاید یہ بہت بڑا اور اہم مسئلہ ہے۔ مگر کبھی کبھی تھوڑا رک کر سوچیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ شاید اصل حقیقت اتنی سادہ نہیں جتنی نظر آ رہی تھی۔

انسانی ذہن کی ایک خاص بات یہ ہے کہ جو چیز وہ بار بار دیکھے یا سنے، اسے سچ کے قریب سمجھنے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی خبر یا رائے مسلسل ہمارے سامنے آتی رہے تو آہستہ آہستہ ہم اسے حقیقت ماننے لگتے ہیں، چاہے ہم نے اس کی اصل تحقیق نہ بھی کی ہو۔ سوشل میڈیا کے ماحول میں یہی چیز بہت تیزی سے ہوتی ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر بات جو ہمیں سوشل میڈیا پر نظر آتی ہے، ضروری نہیں کہ وہ پوری تصویر ہو۔ بعض اوقات کسی واقعے کا صرف ایک پہلو سامنے آتا ہے۔ کسی خاص زاویے سے بات کی جاتی ہے، اور دوسرے پہلو نظر سے اوجھل رہ جاتے ہیں۔ جب ہم بار بار اسی ایک زاویے کو دیکھتے ہیں تو ہمارے ذہن میں بھی وہی تصویر بننے لگتی ہے۔ سوشل میڈیا کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ یہاں جذبات بہت جلدی بھڑک جاتے ہیں۔ غصہ، خوف یا حیرت پیدا کرنے والی چیزیں زیادہ تیزی سے پھیلتی ہیں۔ جب انسان جذبات میں آ جائے تو وہ رک کر سوچنے کے بجائے فوراً ردعمل دینے لگتا ہے۔ وہ تبصرہ کرتا ہے، بحث میں شامل ہو جاتا ہے، یا خبر کو آگے بھیج دیتا ہے۔ بعد میں شاید اسے احساس ہو کہ اسے پہلے تحقیق کرنی چاہیے تھی۔

انسانی نفسیات کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہم اکثر وہی بات قبول کرتے ہیں جو ہماری پہلے سے موجود سوچ کے مطابق ہو۔ اگر کوئی خبر ہماری رائے کے حق میں ہو تو ہم اسے فوراً درست سمجھ لیتے ہیں۔ اسی طرح اگر ہمیں لگے کہ بہت سے لوگ ایک ہی رائے کا اظہار کر رہے ہیں تو ہم بھی اسی طرف مائل ہونے لگتے ہیں۔ اس ماحول میں بعض بحثیں اس قدر بڑی نظر آنے لگتی ہیں کہ انسان خود کو ان سے الگ رکھنا مشکل سمجھنے لگتا ہے۔ مگر ایک سادہ سی بات یاد رکھنے کی ہے۔ سوشل میڈیا کی بہت سی بحثوں کا کوئی واضح نتیجہ نہیں نکلتا۔ لوگ گھنٹوں تبصروں میں الجھے رہتے ہیں، ایک دوسرے کو جواب دیتے رہتے ہیں، اور آخر میں سب اپنی اپنی جگہ پر ہی کھڑے رہتے ہیں۔ اس دوران وقت گزر جاتا ہے، ذہن تھک جاتا ہے، اور اصل زندگی کے ضروری کام پیچھے رہ جاتے ہیں۔

شاید بہتر راستہ یہ ہے کہ ہم ہر نظر آنے والی چیز کو فوراً اہم نہ سمجھیں۔ کبھی کبھی رک جانا، سوچ لینا اور خاموش رہنا بھی سمجھداری ہوتی ہے۔ ہر بحث میں شامل ہونا ضروری نہیں۔ ہر بات کا جواب دینا بھی ضروری نہیں۔ بعض اوقات تحقیق کے بعد بولنا زیادہ بہتر ہوتا ہے۔

زیادہ شور ہمیشہ زیادہ اہمیت کی نشانی نہیں ہوتا۔ کئی بار اصل اور سنجیدہ مسائل خاموشی سے موجود ہوتے ہیں، جبکہ غیر ضروری باتیں زیادہ نمایاں ہو جاتی ہیں۔ اگر انسان اپنے وقت اور ذہن کی قدر کرے تو وہ اس شور میں الجھنے کے بجائے اپنی توجہ ان چیزوں پر رکھتا ہے جو واقعی معنی رکھتی ہیں۔

یاد رکھیں حقیقت ہمیشہ فوراً واضح نہیں ہوتی۔ اکثر اسے سمجھنے کے لیے صبر، غور و فکر اور تحقیق کی ضرورت ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا کے شور میں بہت سی باتیں بغیر سوچے سمجھے پھیل جاتی ہیں، لیکن باشعور لوگ ہر بات پر فوری ردِعمل دینے کے بجائے ٹھہر کر حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ اپنے وقت اور توجہ کو بے فائدہ بحثوں کے بجائے ایسی چیزوں میں لگاتے ہیں جو واقعی علم اور فائدہ کا سبب بنیں۔

منیب الرحمن

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • آنسو کیا ہیں؟
  • نفسیاتی جنگ اور بنی گالا کے کتے
  • مائیکروسافٹ ورڈ میں اردو لکھنا
  • شیر آیا شیر آیا دوڑنا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
اعتکاف احکام اور آداب
پچھلی پوسٹ
دہلیز کا آخری وعدہ

متعلقہ پوسٹس

رب تعالیٰ سے تجارت

مارچ 28, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

شیرو

جنوری 21, 2020

چچا چھکن نے تیمار داری کی

اگست 22, 2022

نشے میں جھومتا گاتا ہوں ٹوٹ جاتا ہوں

مارچ 18, 2026

کیا عورت محبت کی بھوکی ہے؟

مئی 30, 2026

27ویں ترمیم اور وفاقی آئینی عدالت

نومبر 11, 2025

تمام خوابوں کی تعبیر

دسمبر 9, 2025

شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ

دسمبر 19, 2025

پاکستان کی خارجہ پالیسی کے خدوخال

اکتوبر 7, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

اس طرح کمالِ سخن کی پہچان...

جنوری 22, 2026

راجندر بیدی کے اسلوب

دسمبر 18, 2019

قرةالعین حیدر – احوال وکوائف

جنوری 5, 2017
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں