خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےخدا کی قسم
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

خدا کی قسم

اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن فروری 1, 2020
از سائیٹ ایڈمن فروری 1, 2020 0 تبصرے 343 مناظر
344

خدا کی قسم

ادھر سے مسلمان اور ادھر سے ہندو ابھی تک آجارہے تھے۔ کیمپوں کے کیمپ بھرے پڑے تھے۔ جن میں ضرب المثل کے مطابق تل دھرنے کے لیے واقعی کوئی جگہ نہیں تھی۔ لیکن اس کے باوجود ان میں ٹھونسے جارہے تھے۔ غلہ ناکافی ہے۔ حفظانِ صحت کا کوئی انتظام نہیں۔ بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ اس کا ہوش کس کو تھا۔ ایک افراط و تفریط کا عالم تھا۔ سن اڑتالیس کا آغاز تھا۔ غالباً مارچ کا مہینہ۔ اِدھر اور اُدھر دونوں طرف رضا کاروں کے ذریعے سے

’’مغویہ‘‘

عورتوں اور بچوں کی برآمدگی کا مستحسن کام شروع ہو چکا تھا۔ سینکڑوں مرد، عورتیں، لڑکے اور لڑکیاں اس کارِ خیر میں حصہ لے رہی تھیں۔ میں جب ان کو سرگرم عمل دیکھتا تو مجھے بڑی تعجب خیز مسرت حاصل ہوتی، یعنی خود انسان انسان کی برائیوں کے آثار مٹانے کی کوشش میں مصروف تھا۔ جو عصمتیں لٹ چکی تھیں۔ ان کو مزید لوٹ کھسوٹ سے بچانا چاہتا تھا۔ کس لیے؟۔ اس لیے کہ اس کا دامن مزید دھبوں اور داغوں سے آلودہ نہ ہو؟۔ اس لیے کہ وہ جلدی جلدی اپنی خون سے لتھڑی ہوئی انگلیاں چاٹ لے اور ہم اپنے ہم جنسوں کے ساتھ دستر خوان پر بیٹھ کر روٹی کھائے؟۔ اس لیے کہ وہ انسانیت کا سوئی دھاگا لے کر جب تک دوسرے آنکھیں بند کیے ہیں، عصمتوں کے چاک رفو کردے؟۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ لیکن ان رضا کاروں کی جدوجہد پھر بھی قابل قدر معلوم ہوتی تھی۔ ان کو سینکڑوں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ ہزاروں کھیکڑے تھے جو انھیں اٹھانے پڑتے تھے کیونکہ جنہوں نے عورتیں اور لڑکیاں اڑائی تھیں، سیماب پاتھے، آج اِدھر، کل اُدھر، ابھی اس محلے میں، ابھی اُس محلے میں اور پھر آس پاس کے آدمی بھی ان کی مدد نہیں کرتے تھے۔ عجیب عجیب داستانیں سننے میں آتی تھیں۔ ایک لیا ژاں افسر نے مجھے بتایا کہ سہارن پور میں دو لڑکیوں نے پاکستان میں اپنے والدین کے پاس جانے سے انکارکردیا۔ دوسرے نے بتایا کہ جب جالندھر میں زبردستی ہم نے ایک لڑکی کو نکالا تو قابض کے سارے خاندان نے اسے یوں الوداع کہی جیسے وہ ان کی بہوہے، اور کسی دور دراز سفر پر جارہی ہے۔ کئی لڑکیوں نے راستہ میں والدین کے خوف سے خود کشی کرلی، بعض صدموں کی تاب نہ لا کر پاگل ہوچکی تھیں، کچھ ایسی بھی تھیں جن کو شراب کی لت پڑ چکی تھی، ان کو پیاس لگتی تو پانی کی بجائے شراب مانگتیں اور ننگی ننگی گالیاں بکتیں۔ میں ان برآمد کی ہوئی لڑکیوں اور عورتوں کے متعلق سوچتا تو میرے ذہن میں صرف پُھولے ہوئے پیٹ ابھرتے۔ ان پیٹوں کا کیا ہو گا؟ ان میں جوکچھ بھرا ہے اس کا مالک کون ہے؟ پاکستان یا ہندوستان؟ اور وہ نو مہینوں کی بار برداری۔ اس کی اُجرت پاکستان ادا کرے گا یا ہندوستان؟ کیا یہ سب ظالم فطرت یہ بہی کھاتے میں درج ہو گا؟۔ مگر کیا اس میں کوئی صفحہ خالی رہ گیا ہے؟ برآمدہ عورتیں آرہی تھیں، برآمدہ عورتیں جارہی تھیں۔ میں سوچتا تھا کہ یہ عورتیں مغویہ کیوں کہلائی جاتی تھیں؟۔ انھیں اغوا کب کیا گیا ہے؟۔ اغوا تو ایک بڑا رومانٹک فعل ہے جس میں مرد اور عورتیں دونوں شریک ہوتے ہیں۔ یہ تو ایک ایسی کھائی ہے جس کو پھاندنے سے پہلے دونوں روحوں کے سارے تار جھنجھنا اٹھتے ہیں، لیکن یہ اغوا کیسا ہے کہ ایک نہتی کو پکڑ کر کوٹھری میں قید کرلیا۔ لیکن وہ زمانہ ایسا تھا کہ منطق، استدلال اور فلسفہ بیکار چیزیں تھیں۔ ان دنوں جس طرح گرمیوں میں بھی دروازے اور کھڑکیاں بند کرتے سوتے تھے اسی طرح میں نے بھی، اپنے دل و دماغ کی بھی سب کھڑکیاں دروازے بند کردیے تھے، حالانکہ انھیں کُھلا رکھنے کی زیادہ ضرورت اسی وقت تھی۔ لیکن میں کیا کرتا۔ مجھے کچھ سوجھتا نہیں تھا۔ برآمدہ عورتیں آرہی تھیں، برآمدہ عورتیں جارہی تھیں۔ یہ درآمد اور برآمد جاری تھی۔ تمام تاجرانہ خصوصیات کے ساتھ! صحافی، افسانہ نگار اور شاعر اپنے قلم اٹھائے شکارمیں مصروف تھے۔ لیکن افسانوں اور نظموں کا ایک سیلاب تھا جو اُمڈا چلا آرہا تھا۔ فلموں کے قدم اُکھڑ اُکھڑ جاتے تھے۔ اتنے صید تھے کہ سب بوکھلا گئے تھے۔ ایک لیاژاں افسر مجھ سے ملا، کہنے لگا۔

’’تم کیوں گُم سُم رہتے ہو؟ میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس نے مجھے ایک داستان سنائی۔ مغویہ عورتوں کی تلاش میں ہم مارے مارے پھرتے ہیں۔ ایک شہر، ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں۔ پھر تیسرے گاؤں، پھر چوتھے۔ گلی گلی، محلے محلے۔ کوچے کوچے۔ بڑی مشکلوں سے گوہرِ مقصود ہاتھ آتا ہے۔ میں نے دل میں کہا۔

’’کیسے گوہر۔ کیسے زاسفتہ۔ یا سفتہ؟ تمہیں معلوم نہیں، ہمیں کتنی دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، میں تمہیں ایک بات بتلانے والا تھا۔ ہم بارڈر کے اس پار سینکڑوں پھیرے کرچکے ہیں عجیب بات ہے کہ میں نے ہر پھیرے میں ایک مسلمان بڑھیا کو دیکھا۔ اُدھیر عمر کی تھی۔ پہلی مرتبہ میں نے اسے جالندھرکی بستیوں میں دیکھا، پریشان حال۔ ماؤف دماغ، ویران ویران آنکھیں۔ گردوغبار سے اٹے ہوئے بال، پھٹے ہوئے کپڑے، اسے تن کا ہوش تھا نہ من کا۔ لیکن اس کی نگاہوں سے یہ صاف ظاہر تھا کہ کسی کو ڈھونڈ رہی ہیں۔ مجھے۔ بہن نے بتایا کہ یہ عورت صدمہ کے باعث پاگل ہو گئی ہے۔ پٹیالہ کی رہنے والی ہے۔ اس کی اکلوتی لڑکی تھی جو اسے نہیں ملتی، ہم نے بہت جتن کیے ہیں اسے ڈھونڈنے کے لیے ناکام رہے ہیں۔ غالباً بلوؤں میں ماری گئی ہے لیکن یہ بڑھیا نہیں مانتی۔ دوسری مرتبہ میں نے اس پگلی کو سہارن پور کے لاریوں کے اڈے پر دیکھا، اس کی حالت پہلے سے کہیں زیادہ ابتر اور خستہ تھی۔ اس کے ہونٹوں پر موٹی موٹی پپڑیاں جمی تھیں، بال سادھوں کے سے بنے تھے۔ میں نے اس سے بات چیت کی اور چاہا کہ وہ اپنی موہوم تلاش چھوڑ دے۔ چنانچہ میں نے اس سے بہت سنگ دل بن کر کہا۔

’’مائی تیری لڑکی قتل کردی گئی تھی۔ ‘‘

پگلی نے میری طرف دیکھا۔

’’قتل؟۔ نہیں نہیں۔ ‘‘

اس کے بعد لہجے میں فولادی تیقن پیدا ہو گئی۔

’’اسے کوئی قتل نہیں کرسکتا۔ میری بیٹی کوکوئی قتل نہیں کرسکتا۔ ‘‘

اور وہ چلی گئی، اپنی موہوم تلاش میں۔ میں نے سوچا ایک تلاش اور پھر موہوم!۔ لیکن پگلی کوکیوں اتنا یقین تھا کہ اس کی بیٹی پر کوئی کرپان نہیں اٹھ سکتی۔ کوئی تیز دھار یا چُھرا اس کی گردن کی طرف نہیں بڑھ سکتا۔ کیا وہ امر تھی یا اس کی مامتا امر تھی۔ مامتا توخیر امرہوتی ہے۔ پھر کیا وہ اپنی ممتا ڈھونڈ رہی تھی۔ کیا اس نے اسے کہیں کھو دیا۔ ؟ تیسرے پھیرے پر پھر میں نے اسے دیکھا۔ اب وہ بالکل چیتھڑوں میں تھی، قریب قریب ننگی، میں نے اسے کپڑے دیے۔ لیکن اس نے قبول نہ کیے۔ میں نے اس سے کہا۔

’’مائی میں سچ کہتا ہوں، تیری لڑکی پٹیالہ ہی میں قتل کردی گئی تھی۔ ‘‘

اس نے پھر اسی فولادی تیقن کے ساتھ کہا۔

’’تو جھوٹ کہتا ہے۔ ‘‘

میں نے اس سے اپنی بات منوانے کی خاطر۔

’’نہیں میں سچ کہتا ہوں، کافی رو پیٹ لیا ہے تم نے۔ چلو میرے ساتھ میں تم کو پاکستان لے چلوں گا۔ ‘‘

اس نے میری بات نہ سنی اور بڑبڑانے لگی۔ بڑبڑاتے بڑبڑاتے وہ ایک دم چونکی، اب اس کے لہجے میں تیقن فولاد سے بھی زیادہ ٹھوس تھا۔

’’نہیں میری بیٹی کو کوئی قتل نہیں کرسکتا!‘‘

میں نے پوچھا۔

’’کیوں؟‘‘

بڑھیا نے ہولے ہولے کہا۔

’’وہ خوبصورت ہے۔ اتنی خوبصورت کہ اسے کوئی قتل نہیں کرسکتا۔ اسے طمانچہ تک نہیں مار سکتا۔ ‘‘

میں سوچنے لگ

’’کیا وہ واقعی اتنی خوبصورت تھی۔ ؟ ہر ماں کی آنکھوں میں اس کی اولاد چندے آفتاب و چندے ماہتاب ہوتی ہے۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ وہ لڑکی در حقیقت خوبصورت ہو۔ مگر اس طوفان میں کون سی خوبصورتی ہے جو انسان کے کُھر درے ہاتھوں سے بچی ہے۔ ہو سکتا ہے پگلی اس خیال خام کو دھوکا دے رہی ہے۔ فرار کے لاکھوں راستے ہیں۔ دکھ ایک ایسا چوک ہے جو اپنے گرد لاکھوں بلکہ کروڑوں سڑکوں کا جال بُن دیکھا ہے۔ ‘‘

بارڈر کے اس پار کئی پھیرے ہوئے۔ ہر بار میں نے اس پگلی کو دیکھا۔ اب وہ ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ گئی تھی۔ بینائی کمزور ہو چکی تھی، ٹٹول کر چلتی تھی، مگر اس کی تلاش جاری تھی بڑی شدومد سے۔ اس کا یقین اسی طرح مستحکم تھا کہ اس کی بیٹی زندہ ہے، اس لیے کہ اسے کوئی مار نہیں سکتا۔ ۔ بہن نے مجھ سے کہا کہ

’’اس عورت سے مغز ماری فضول ہے۔ اس کا دماغ چل چکا ہے بہتر یہی ہے کہ تم اسے پاکستان لے جاؤ اور پا گل خانہ میں داخل کرادو۔ ‘‘

میں نے مناسب نہ سمجھا کہ میں اس کی موہوم تلاش جو اس کی زندگی کا واحد سہارا تھی، میں اس سے چھیننا نہیں چاہتا تھا۔ میں اسے ایک وسیع و عریض پاگل خانے سے، جس میں وہ میلوں کی مسافت طے کرکے، اپنے پاؤں کے آبلوں کی پیاس بجھا سکتی تھی، اٹھا کر ایک مختصر سی چار دیواری میں قید کرانا نہیں چاہتا تھا۔ آخری بار میں نے اسے امرتسر میں دیکھا۔ اس کی شکستہ حالی کا یہ عالم تھا کہ میری آنکھوں میں آنسو آگئے، میں نے فیصلہ کرلیا کہ میں اسے پاکستان لے جاؤں گا اور پاگل خانے میں داخل کرادوں گا۔ وہ فرید کے چوک میں کھڑی اپنی نیم اندھی آنکھوں سے ادھر ادھر دیکھ رہی تھی۔ چوک میں کافی چہل پہل تھی۔ میں بہن کے ساتھ ایک دکان پر بیٹھا ایک مغویہ لڑکی کے متعلق بات چیت کررہا تھا، جس کے متعلق ہمیں یہ اطلاع ملی تھی کہ وہ بازار صبونیاں میں ایک ہندو بنیے کے گھر موجود ہے۔ یہ گفتگو ختم ہوئی تو میں اٹھا کہ اس پگلی سے جھوٹ سچ کہہ کر اسے پاکستان جانے کے لیے آمادہ کروں کہ ایک جوڑا ادھر سے گزرا۔ عورت نے گھونگٹ کاڑھا ہوا تھا۔ چھوٹا سا گھونگٹ۔ اس کے ساتھ ایک سکھ نوجوان تھا۔ بڑا چھیل چھبیلا، بڑا تندرست اور تیکھے تیکھے نقشوں والا۔ جب یہ دونوں اس پگلی کے پاس سے گزرے تو نوجوان ایک دم کھٹک گیا۔ دو قدم پیچھے ہٹ کر عورت کا ہاتھ پکڑ لیا، کچھ اس اچانک طور پر کہ لڑکی نے اپنا چھوٹا سا گھونگٹ اٹھایا لٹھے کی دھلی ہوئی چادر پہ چوکھٹے میں مجھے ایک ایسا گلابی چہرہ نظر آیا جس کا حسن بیان کرنے سے میری زبان عاجز ہے۔ میں ان کے بالکل پاس تھا، سکھ نوجوان نے اس حسن و جمال کی دیوی سے اس پگلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سرگوشی میں کہا۔

’’تمہاری ماں!‘‘

لڑکی نے ایک لحظے کے لیے پگلی کی طرف دیکھا اور گھونگٹ چھوڑ لیا اور سکھ نوجوان کا بازو پکڑ کر بھینچے ہوئے لہجے میں کہا۔

’’چلو!‘‘

اور وہ دونوں سڑک سے ادھر ذرا ہٹ کر تیزی سے آگے نکل گئے۔ پگلی چلائی۔

’’بھاگ بھری۔ بھاگ بھری۔ ‘‘

وہ سخت مضطرب تھی۔ میں نے پاس جا کر پوچھا

’’کیا بات ہے مائی؟‘‘

وہ کانپ رہی تھی۔

’’میں نے اس کو دیکھا ہے۔ میں نے اس کو دیکھا ہے۔ ‘‘

میں نے پوچھا۔

’’کیسے؟‘‘

اس کے ماتھے کے نیچے دو گڑھوں میں اس کی آنکھوں کے بے نور ڈھلے متحرک تھے۔

’’اپنی بیٹی کو۔ بھاگ بھری کو!‘‘

۔ میں نے پھر سے کہا۔

’’وہ مر کھپ چکی ہے مائی‘‘

اس نے چیخ کر کہا۔

’’تم جھوٹ کہتے ہو۔ !‘‘

میں نے اسم مرتبہ اس کو پورا یقین دلانے کی خاطر کہا۔

’’میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں، وہ مر چکی ہے۔ ‘‘

یہ سنتے ہی وہ پگلی چوک میں ڈھیر ہو گئی۔

سعادت حسن منٹو

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • عمران راقم کی ہمہ جہت شخصیت
  • معاشی بحران،تجاویز اورایک خواب
  • بین الاقوامی سطح پر انسانی تہذیب کی تعمیر نو!
  • حد کے اس پار
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
خط اور اُس کا جواب
پچھلی پوسٹ
مجھے بھول جا

متعلقہ پوسٹس

تعلیمی سال، تعطیلات اور خطرے میں گھرا مستقبل

جنوری 15, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

ماتمی جلسہ

اپریل 26, 2020

مجرم کون

اکتوبر 3, 2024

ادبی تخلیق اور ادبی تنقید

مئی 27, 2024

پاکستان میں بے روزگاری

نومبر 27, 2025

جب سرپرست ، سرپرستی چھوڑ دیں

جون 27, 2022

قلم

اکتوبر 31, 2020

نہاری ہاؤس

دسمبر 23, 2021

مجھے نہ چھوڑنا سے مجھے نہ چھونا تک

فروری 1, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

اسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

یہ نور کس کا پھیل گیا ہے چمن...

مئی 26, 2026

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

اردو شاعری

زندگی بھر فکر کرتے رہے

جون 2, 2026

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

جون 2, 2026

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

جون 2, 2026

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ...

جون 2, 2026

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

ملازمت بہتر یا کاروبار

جون 3, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»

    جون 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

آہ ! اے دوست

جنوری 3, 2020

خدا پرستی کا نسخہ

دسمبر 29, 2019

فیاض جنگل۔ نہر کنارے کے راج...

ستمبر 19, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں