خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےخط اور اُس کا جواب
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

خط اور اُس کا جواب

اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن فروری 1, 2020
از سائیٹ ایڈمن فروری 1, 2020 0 تبصرے 353 مناظر
354

خط اور اُس کا جواب

منٹو بھائی ! تسلیمات! میرا نام آپ کے لیے بالکل نیا ہو گا۔ میں کوئی بہت بڑی ادیبہ نہیں ہوں۔ بس کبھی کبھار افسانہ لکھ لیتی ہوں اور پڑھ کر پھاڑ پھینکتی ہوں۔ لیکن اچھے ادب کو سمجھنے کی کوشش ضرور کرتی ہوں اور میں سمجھتی ہوں کہ اس کوشش میں کامیاب ہوں۔ میں اور اچھے ادیبوں کے ساتھ آپ کے افسانے بھی بڑی دلچسپی سے پڑھتی ہوں۔ آپ سے مجھے ہر بار نئے موضوع کی اُمید رہی اور آپ نے درحقیقت ہر بار نیا موضوع پیش کیا۔ لیکن جو موضوع میرے ذہن میں ہے وہ کوئی افسانہ نگار پیش نہ کرسکا۔ یہاں تک کہ سعادت حسن منٹو بھی جو نفسیات اور جنسیات کا امام تسلیم کیا جاتا ہے۔ ہو سکتا ہے وہ موضوع آپ کی کہانیوں کے موضوعات کی قطارمیں ہو اور کسی وقت بھی آپ اسے اپنی کہانی کے لیے منتخب کرلیں۔ لیکن پھرسوچتی ہوں کہ ہو سکتا ہے، سعادت حسن منٹو ایسا بے رحم افسانہ نگار بھی اس موضوع سے چشم پوشی کر جائے۔ اس لیے کہ اس موضوع کو ننگا کرنے سے ساری قوم ننگی ہوتی ہے اور شاید منٹو قوم کو ننگا دیکھ نہیں سکتا۔ آپ کی عدیم الفرصتی کے پیش نظر میں اس خط کو الجھانا نہیں چاہتی اور صاف الفاظ میں کہہ دینا چاہتی ہوں کہ وہ موضوع ہے۔

’’ہمارے ماحول کے مردوں کا کم عمر لڑکوں کے ساتھ غیر فطری تعلق۔ ‘‘

مختصر الفاظ میں آپ کوئی بھی اصطلاح لے سکتے ہیں۔ میرا لبِ لباب یہی تھا۔ میں بہت عرصے سے سوچ رہی تھی کہ اس بارے میں آپ کو خط لکھوں اور آخر جرأت کرلی۔ سوائے منٹو کے اور کوئی اس موضوع کو بے نقاب نہیں کرسکتا۔ اگر میرے قلم میں زور ہوتا تو میں نے کبھی کی کہانی لکھی ہوتی۔ والسلام! آپ کی بہن( میں یہاں اصل نام نہیں دے رہا) نزہت شیریں بی، اے۔ جب مجھے یہ خط ملا تو میں سوچنے لگا کہ یہ لڑکی کون ہے؟ میں کہاں کا ماہر نفسیات اور جنسیات ہوں کہ اس نے مجھ سے رجوع کیا۔ جب یہ خط ملا تو اتفاق سے میرے دست جو علمِ نجوم اور دوست شناسی میں شغف رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ رمل اور جفر کے علم کے بھی طالب ہیں تو میں نے انہیں یہ خط پڑھنے کے لیے دیا اور کہا۔

’’و ارثی صاحب! میں نے اس کے متعلق جورائے قائم کی ہے وہ محفوظ ہے۔ ‘‘

میرے ایک اور دوست جن کا نام دوست محمد ہے۔ ان سے میں اپنی رائے بیان کرچکا تھا۔ وارثی صاحب نے یہ خط پڑھا اور اپنے مخصوص انداز میں مسکرا کر کہا۔

’’یہ عورت اگر واقعی عورت ہے اور شادی شدہ ہے۔ جوکہ ہونا چاہیے تو اس کے خاوند کو اغلام بازی کا شوق ہے۔ ‘‘

میں نے دوست محمد سے یہی کہا تھا۔ اپنی بیوی سے بھی۔ مگر وہ مانتے نہیں تھے۔ میری بہت سی باتیں لوگ نہیں مانتے۔ میں پیغمبر نہیں ہوں، کوئی ولی بھی نہیں۔ لیکن اپنی استطاعت کے مطابق لوگوں کوسمجھنے کی کوشش ضرور کرتا ہوں۔ میں نے بھی وہی نتیجہ اخذ کیا تھا جو میرے دوست وارثی صاحب نے کیا۔ میں نے اُن سے اور دوست محمد سے مشورہ کیا کہ میں اس عورت کے خط کا کیا جواب دوں۔ وارثی صاحب نے کہا۔

’’منٹو صاحب۔ آپ ہم سے پوچھتے ہیں؟ ایسے خطوں کا جواب دینا آپ ہی کا کام ہے۔ ‘‘

میں نے ان سے پوچھا۔

’’وارثی صاحب! میرے لیے یہ بہت مشکل ہے۔ میں کوئی ڈاکٹر حکیم نہیں۔ میں تو صاف صاف لفظوں میں، جو کچھ مجھے کہنا ہو گا، لکھ دُوں گا۔ ‘‘

انہوں نے کہا۔

’’تو لکھ دو‘‘

’’عورت ذات ہے۔ کیسے لکھوں؟‘‘

’’جب وہ لکھتی ہے کہ مردوں کا کم عمر لڑکوں کے ساتھ غیر فطری تعلق ہوتا ہے۔ تو آپ کیوں اس کے جواب میں ایسے ہی الفاظ میں مناسب و موزوں جواب نہیں دیتے‘‘

میں نے ان سے کہا۔

’’مجھے ایسے مناسب و موزوں الفاظ نہیں ملتے جن میں اس کا جواب لکھ سکوں۔ ‘‘

اور یہ حقیقت ہے کہ میں خود کو عاجز سمجھ رہا تھا۔ دوست محمد نے کہا۔

’’منٹو صاحب، آپ تکلف سے کام لے رہے ہیں۔ قلم پکڑیے اور جوابی خط لکھ ڈ الیے۔ ‘‘

میں نے قلم پکڑا اور لکھنا شروع کردیا۔

’’خاتون محترم! میں آپ کو اپنی بہن بنانے کے لیے تیار نہیں۔ اس لیے کہ مجھ پر بہت سے فرائض عائد ہو جائیں گے۔ آپ میرے لیے خاتون محترم ہی رہیں گی۔ اس لیے کہ یہ رشتہ زیادہ مناسب و موزوں ہے۔ مجھے عورتوں سے ڈرلگتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کسی مرد کے بھیس میں عورت بنی ہوں۔ لیکن میں آپ کی تحریر پر اعتبارکرکے آپ کو ایک عورت تسلیم کرتا ہوں۔ آپ کے خط سے جو کچھ میں نے اخذ کیا ہے۔ وہ میں مختصراً عرض کیے دیتا ہوں۔ میں یقیناً بے رحم افسانہ نگار ہوں۔ میرے سامنے لاکھوں موضوعات پڑے ہیں اور جب تک میں زندہ ہوں، پڑے رہیں گے۔ سڑک کے ہر پتھر پر ایک افسانہ کندہ ہوتا ہے۔ لیکن میں کیا کروں۔ اگر کسی خاص جیتے جاگتے موضوع پرلکھوں تو مقدمے کا خوف لاحق ہے۔ آپ کو شاید معلوم ہو کہ مجھ پر اب تک چھ مقدمے چل چکے ہیں۔ فحش نگاری کے سلسلے میں۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ فحش نگار کیسے قرار دیا جاتا ہوں۔ جب کہ میں نے اپنی زندگی میں ایک بھی گالی کسی کو نہیں دی۔ کسی کی ماں بہن کی طرف بُری نظروں سے نہیں دیکھا۔ خیر یہ میرا اور قانون کا آپس کا جھگڑا ہے۔ آپ کو اس سے کیا واسطہ۔ میں یقیناً بے رحم افسانہ نگار ہوں جن معنوں میں آپ نے

’’بے رحم‘‘

استعمال کیا ہے آپ نے جس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ میں شاید آپ کے پیش نظر موضوع سے چشم پوشی کر جاؤں تویہ غلط ہے۔ میں علامہ اقبال مرحوم کے اس قول کا قائل ہوں کہ ؂ اگر خواہی حیات اندر خطرزی میں نے تو اپنی ساری زندگی اس شعر کی تولید سے پہلے خطروں میں گزاری ہے اور اب بھی گزار رہا ہوں۔ جو موضوع آپ کے ذہن میں ہے، کوئی نیا نہیں ہے۔ اس پر عصمت چغتائی اپنے مشہور افسانے

’’لحاف‘‘

میں لکھ چکی ہے کہ ایک عورت کے خاوند کو اغلام بازی کی عادت تھی۔ اس کا ردِ عمل یہ ہوا کہ اس عورت نے دوسری عورتوں سے ہم جنسی شروع کردی۔ جہاں مردوں میں ہم جنسیت ہے، وہاں عورتوں میں بھی ہے۔ میں آپ کو ایک زندہ مثال پیش کرتا ہوں۔ بیگم پارہ (فلم ایکٹرس) کو تو آپ جانتی ہوں گی۔ اس کا تعلق پروتماواس گپتا سے ہے۔ آپ لکھتی ہیں۔

’’ہمارے ماحول کے مردوں کا کم عمر لڑکوں سے غیر فطری تعلق۔ ‘‘

میں آپ سے عرض کروں، جہاں تک میں سمجھتا ہوں، کوئی چیز غیر فطری نہیں ہوتی۔ انسان کی فطرت میں بُرے سا بُرا اور اچھے سے اچھا فعل موجود ہے۔ اس لیے یہ کہنا نا درست ہے کہ انسان کا فلاں فعل غیر فطری ہے۔ انسان کبھی فطرت کے خلاف جا ہی نہیں جاسکتا، جو اس کی فطرت ہے، وہ اسی کے اندر رہ کر تمام اچھائیاں اور برائیاں کرتا ہے۔ مجھے معلوم نہیں، آپ شادی شدہ ہیں یا کنواری۔ لیکن مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ کو کوئی تلخ تجربہ ہوا ہے، جس کی بِنا پر آپ نے مجھے یہ خط لکھا۔ امرد پرستی آج سے نہیں، ہزار ہا سال سے قائم ہے۔ لیکن آج کل اس کارجحان قریب قریب غائب ہوتا جارہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عورتیں میدانِ عمل میں آگئی ہیں۔ جب امردپرستی زوروں پر تھی، تو اس وقت عورتیں آسانی سے دستیاب نہیں ہوتی تھیں۔ مرد بھٹکتے بھٹکتے بقول آپ کے کم عمر لڑکوں سے غیرفطری تعلقات قائم کر لیتے تھے۔ مگر اب یہ رجحان بہت حد تک کم ہو گیا ہے۔ آپ عورت ہیں۔ اس لیے آپ کو معلوم نہیں کہ یہ کم عمر لونڈے اب آپ کے رقیب نہیں رہے۔ میں آپ سے ایک اور بات کہوں۔ جس چیز کی طلب ہو وہی منڈی میں آتی ہے۔ پہلے طلب چھوکروں کی تھی، اب چھوکریوں کی ہے۔ آپ یقیناً جانتی ہوں گی کہ آج کل حوّا کی بیٹیاں ٹانگے میں سوار شکار میں مصروف ہوتی ہیں؟۔ میں آپ کو ایک اور بات بتاؤں۔ ایک زمانہ تھا( آج سے بیس بائیس برس پیچھے) جب لاہور میں ایک سکھ لڑکا ٹینی سنگھ ہوتا تھا۔ بڑا خوبصورت۔ اس کے خدوخال کے سامنے کسی بھی حسین لڑکی کے نقش ماند پڑ جاتے۔ اُس نے لاہور میں ایک قیامت بپا کررکھی تھی۔ اس کے عاشق نے اس کو ایک موٹر کار لے دی، تاکہ اسے گورنمنٹ کالج جانے اورگھر تک آنے میں کوئی تکلیف نہ ہو۔ میں اب آپ کوکتنے قصّے سناؤں۔ امرتسر میں( جہاں کا میں رہنے والا ہوں) میرا ایک ہندو دوست ہے۔ اچھی شکل وصورت کا تھا۔ ہم دونوں بیٹھک میں باتیں کررہے تھے جو اندر گلی میں تھی۔ اس نے ایک دم مجھ سے چونک کر کہا۔

’’یار باہر بہت شور ہورہا ہے۔ چلو‘‘

میں کانوں سے ذرا بہرا ہوں۔ مجھے شور وور کوئی سنائی نہیں دے رہا تھا۔ بہر حال میں اس کے ساتھ ہو لیا۔ ہم باہر نکلے تو بازار کی تمام دکانیں بند تھیں۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کانگرس کی کسی تحریک کے باعث ہڑتال ہو گئی ہے۔ چند غنڈے ہاتھ میں ہاکیاں لیے پھر رہے تھے۔ وہ ہمارے پاس آئے، ایک غنڈے کو میں نے پہچان لیا۔ بڑا خطرناک تھا۔ اس نے بڑی نرمی سے میرے ہندو دوست منوہر سے کہا۔

’’باؤ جی۔ آپ اندر چلے جائیں۔ ایسا نہ ہو کہ آپ کوکوئی نقصان پہنچ جائے۔ ‘‘

منوہر اور میں واپس گھر چلے آئے۔ میں نے اس سے پوچھا کہ

’’یہ قصّہ کیا ہے، تو اس نے مجھے بتایا کہ دو آدمی اس سے عشق کرتے ہیں‘‘

۔ بڑا صاف گو تھا۔ ایک پٹرنگوں کے محلے کا تھا۔ دوسرا فرید کے چوک کا۔ منوہر پٹرنگ سے راضی تھا۔ اس لیے ان دونوں میں لڑائی ہوئی اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ شام تک گیارہ آدمی زخمی ہو کر ہسپتال میں تھے اور منوہر بالکل ٹھیک ٹھاک تھا۔ اب مجھے آپ سے یہ کہنا ہے۔ بلکہ پوچھنا ہے کہ آپ نے

’’مردوں کا کم عمر لڑکوں سے غیرفطری تعلق کیسے جانا؟‘‘

جیسا کہ میں نے اور میرے دوست وارثی صاحب نے سوچا ہے اس کی وجہ صرف یہی ہو سکتی ہے کہ آپ کا شوہر ایسے شغل کرتا ہو گا۔ آپ مجھے اس کے متعلق ضرور لکھیے گا۔ میں یہ بھی نہیں جانتا کہ آپ شادی شُدہ ہیں۔ ہو سکتا ہے کوئی اور بات ہو۔ دیکھیے میں آپ سے ایک بات عرض کروں۔ قریب قریب ہر لڑکا اپنی جوانی کے ایام میں ایسی حرکتیں کرتا ہے۔ ہو سکتا ہے آپ نے اپنے لڑکے کے متعلق ہی لکھا ہو۔ اسے تنبیہہ کردینا کافی ہے۔ یا اُس کی شادی کردینا چاہیے۔ کیونکہ ہر عادت پک کر طبیعت بن جاتی ہے۔ اور یہ ایک خوفناک چیز ہے۔ جنس کا احساس صرف بالغ آدمیوں ہی میں نہیں۔ چھوٹے چھوٹے بچوں میں بھی ہوتا ہے۔ میں اس کے متعلق تفصیل سے کچھ نہیں کہہ سکتا، اس لیے کہ کہ اردو زبان اس کی متحمل نہیں ہو گی۔ آپ نے جو مجھے چیلنج دیا ہے، قبول ہے۔ میں عر صے سے سوچ رہا تھا کہ جو موضوع آپ نے بتایا ہے، اس پر کوئی افسانہ لکھوں۔ اب یقیناً لکھوں گا، چاہے ایک مقدمہ اور چل جائے۔ آپ مجھے اپنے متعلق تفصیل سے لکھیے، تاکہ میں کوئی اندازہ کرسکوں۔ خاکسار سعادت حسن منٹو

سعادت حسن منٹو

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • میڈم ٹپ ٹپ، شیخ رشید اور شادی کی فرمائش
  • خدمتِ خلق
  • بہارِ ارضِ فلپائن
  • نجات
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
بے نام اُلجھن
پچھلی پوسٹ
خدا کی قسم

متعلقہ پوسٹس

چشمۂ حیات اور زندگی کا دوراہا

دسمبر 19, 2024

زکوٰۃ

جنوری 2, 2020

امکان

اپریل 5, 2020

جدید شعری جمالیات

مئی 27, 2024

ہالی ووڈ کا فریب – چوتھی قسط

جنوری 19, 2025

پشاور سے لاہور تک

دسمبر 7, 2019

پاکستانی عدالتوں کا نظامِ استحصال

مئی 8, 2026

لال دھرتی

جون 15, 2020

جہاں کا مالک

اکتوبر 26, 2025

‫ایرانی پلاؤ

جنوری 27, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

بابا جمہورا

مارچ 10, 2020

طارق فتح کیسے پیدا ہوتا ہے...

مارچ 27, 2019

عشق کیا ہے؟

دسمبر 25, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں