خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباہماری جمہوریت کو لیڈر کی تلاش
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزسید محمد زاہد

ہماری جمہوریت کو لیڈر کی تلاش

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 9, 2022
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 9, 2022 0 تبصرے 66 مناظر
67

ہماری نسل نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی طاقتور کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔ پچھلی نصف صدی میں دنیا کے طاقتور ترین آمروں کو زبردست عوامی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ فاشسٹ جماعتوں اور ان کی فوجوں کو شکست فاش ہوئی۔ جمہوری قوتیں اور حکومتیں سد راہ بننے والی ہر قوت کو روندتے ہوئے کامیابی کی منازل کی طرف گامزن ہیں۔ دنیا کی سب سی بڑی آمریت نے جمہوری ملک یوکرین میں پہلے اپنے پسندیدہ بندے کو الیکشن جتوانے کی ناکام کوشش کی پھر اپنی فوجیں اس ملک میں داخل کر دیں۔ پوری دنیا نے اسے جمہوریت پر حملہ قرار دیا۔ روس کی طاقت کو دیکھتے ہوئے دوسرے دن ہی کیف کے ڈوبنے کی افواہیں پھیلنا شروع ہو گئی تھیں۔ پھر چشم فلک نے عجیب نظارے دیکھے۔ بیس کلومیٹر کی حدود میں روسی فوج کی باقیات دھواں اگل رہی تھیں اور فوجی جان بچاتے چھپتے پھر رہے تھے۔

پچھلے ہفتے یوکرین کی فوجوں نے ذہانت اور جرات و بہادری سے کام لیتے ہوئے خرکیف کے چھ ہزار مربع میل میں پھیلے روسی مقبوضہ علاقوں کو آزاد کروا لیا۔ یہ صرف فوجی شکست نہیں تھی۔ روسی سپاہی یوکرین کے فوجیوں کے پہنچنے سے پہلے ہی اپنے ہتھیار اور فوجی ساز و ساماں چھوڑ کر جا چکے تھے۔ ظاہر ہے کہ اس دور میں کسی ڈکٹیٹر کی مہم جوئی کی خاطر کوئی بھی سمجھدار آدمی اپنی جاں گنوانے کو تیار نہیں۔ روسی واپس اس دور میں جانے کو تیار نہیں جس سے انہیں پچھلے ہفتے ہی فوت ہونے والے گورباچوف نے نکالا تھا۔ گورباچوف اس نامناسب مہم کے خلاف تھا۔ صدر پیوٹن نے اسی وجہ سے اس عظیم لیڈر کی تدفین کی تقریبات میں شرکت نہیں کی۔

چھ جنوری 2021 کو ہارے ہوئے صدر ٹرمپ کی نائب صدر کے خلاف کی گئی ٹویٹ کے بعد صدر کے حامیوں نے کیپیٹل ہل پر دھاوا بول دیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ پورے الیکشن کو کالعدم قرار دیا جائے اور نئی حکومت بنانے کی دعوت دینے والے نائب صدر مائیک پینس کو پھانسی دی جائے۔ اس دوران صدر ٹرمپ نے اقتدار کی پرامن منتقلی کو روکنے کی بھر پور کوشش کی۔ امریکہ جو کہ پوری دنیا میں جمہوریت کا چیمپین ہے، اس کے آئینی اداروں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔ امریکی ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی کو قاتل ڈھونڈتے پھر رہے تھے۔ اس نے بھاگ کر جان بچائی۔

ملا فضل اللہ کی تحریک طالبان پاکستان کے آئین کو ہی نہیں مانتی۔ ان کی ڈیمانڈ ہے کہ قبائلی علاقوں کی پرانی حیثیت بحال کی جائے تا کہ ان کو وہاں کھل کھیلنے کے مواقع ملیں۔

تین دہائیاں گزر گئی ہیں جب اس تحریک کے روحانی پیر اور ملا کے سسر صوفی محمد سے مذاکرات ہوئے تھے۔ اس فتنہ کو ایک علاقائی مسئلہ سمجھ کر ان کے بظاہر فضول مطالبات مان لیے گئے۔ سوات اور مالاکنڈ میں ان کی مرضی کے قاضی لگا دیے گئے۔ انتہائی بھونڈی ڈیمانڈ بھی مان لی گئی اور مالاکنڈ میں ٹریفک کو دائیں طرف منتقل کر دیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ بڑھتے بڑھتے صریح بغاوت پر اتر آئے۔ ہوش تب آئی جب خنجر ریاست کے پیٹھ میں گھونپ کر سینکڑوں معصوم بچوں کو شہید کر دیا گیا۔ پھر آپریشن شروع ہوا جو کہ دس سال بعد بھی نامکمل ہے۔

یوکرین پر دنیا کی دوسری بڑی طاقت نے حملہ کیا تو اس جنگ سے بچنے کی ایک ہی صورت تھی کہ بلامقابلہ آنے دیا جائے۔ صاف نظر آ رہا تھا کہ روس قبضہ کر لے گا یا پھر پورے ملک کو مکمل طور پر تباہ کر دے گا۔ ان نقصانات کا اندازہ ہونے کے باوجود بہادر صدر نے مقابلے کو ترجیح دی اور آج روسی ٹی وی پر الزامات ایک دوسرے پر لگائے جا رہے ہیں کہ یوکرین میں گھسنے کی غلطی کس نے کی ہے؟

ہمارے ملک کی واحد متفقہ دستاویز 1973 کا آئین ہے۔ جب سے اس پر دستخط ہوئے ہیں اس پر جارحانہ حملے جاری ہیں۔ یہ اتنا مضبوط ہے کہ پچاس سال میں اس کی شکل بار بار بدلی گئی لیکن یہ واپس اصل شکل میں بحال ہو کر ہی رہا۔ حکومت کی تبدیلی کا طریقہ کار اس میں واضح طور پر درج ہے۔ جب تک کسی کے پاس اکثریت ہے اسے کوئی ہٹا نہیں سکتا اور جب یہ اکثریت اقلیت میں بدل جائے تو آئین اسی حکمران کو اٹھا کر باہر پھینک دیتا ہے۔ اس آئین پر فوجی جرنیلوں اور ججوں نے بار بار حملے کیے لیکن اب کی بار سول وزیراعظم حملہ آور ہوا۔

ہمارے ملک میں 28 مارچ کو امریکی چھ جنوری کی مہم جوئی دہرانے کی کوشش کی گئی۔ حامیوں کو اسلام آباد بلا لیا گیا تھا۔ ایک حل یہ تھا کہ اس نے من مانی کر لی ہے الیکشن ہونے دیے جائیں۔ لیکن آئین کدھر جاتا؟ ایک غیر آئینی بندو بست کی مثال قائم ہو جاتی۔ یہ جمہوری آئین اتنا مضبوط ہے کہ اس کے ٹوٹنے سے لاڈلے صاحب کے گاڈ فادرز کی نیند بھی اکھڑ گئی اور اس حرکت کو غیر آئینی قرار دے کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔ اس دن سے الیکشن الیکشن کی بے وقت کی راگنی بجائی جا رہی ہے۔ موجودہ حکومت کو غیر نمائندہ قرار دے کر اس پر حملہ آور ہونے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ آئین شکنوں کی بمباری سے ملک کا کوئی ادارہ بلکہ لاڈلے کے اپنے مائی باپ بھی محفوظ نہیں۔

اب دو ہی طریقے ہیں یا تو اس کی ہر بات مان کر غیر جمہوری طریقوں کو پنپنے کی اجازت دے دی جائے، حکومت پھر اسی کے حوالے کر دی جائے یا پھر یہ فیصلہ کر لیا جائے کہ ہم نے اس کا بھر پور مقابلہ کرنا ہے۔ دونوں صورتوں میں تباہی کے امکانات برابر ہیں۔ یہ بھی روسی حملہ ہی ہے۔ اسلام آباد کو بند کرنے کی دھمکیاں بھی کیپیٹل ہل پر چڑھائی کے منصوبے ہیں۔ یہ ریاست مدینہ کا نعرہ بھی من مرضی کا قاضی القضاۃ نامزد کرنے کا دھوکا ہے۔

صاحب کے مائی باپ تو گالیاں کھا کے بھی بے مزہ نہیں ہوتے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جمہوری پارٹیاں اس کی طاقت سے خوفزدہ ہیں اور بظاہر اس کا مقابلہ کرتے نظر نہیں آ رہیں۔ جمہوری لوگ اس وقت اپنا لیڈر ڈھونڈ رہے ہیں۔ وقت گزرتا جا رہا ہے۔ اگر موجودہ قیادت نے ہمت نہ کی تو جلد ہی کوئی اور آگے بڑھ کراس علم کو اٹھا لے گا۔

امریکہ کو بھی ایک ایسی ہی جنگ کا سامنا ہے۔ وہاں جمہوریت کے چاہنے والے بھرپور مزاحمت کر رہے ہیں جس کی سب سے بڑی مثال مائیک پینس ہیں جو کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ہی وائس پریزیڈنٹ تھے اور ان کی بات ماننے سے انکار کر گئے۔ پاکستانی آئین کے دلدارگان بھی کم نہیں۔ سنا ہے کہ ہمارے سپیکر نے بھی پارٹی سربراہ کی غیر آئینی خواہش کو ماننے سے انکار کر دیا تھا جس کی وجہ سے وہ ابھی تک زیر عتاب ہیں۔ پھر ہی ڈپٹی سپیکر کو آگے کیا گیا۔ وہ ڈپٹی جس کی اپنی سیٹ اعلیٰ عدلیہ کی دل خواہی کی مرہون منت ہے۔

سید محمد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • شہادتِ مولا علیؓ اور پیغامِ عدل
  • آخری جلسہ
  • اب خوف کھا رہے ہیں ہماری اڑان سے
  • یہ جنگ کاجوکھیل ہے رچا ہوا عجیب ہے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
سعادت حسن منٹو
پچھلی پوسٹ
ہستی اپنی حباب کی سی ہے

متعلقہ پوسٹس

چاکِ خیال جوڑ کے کچھ اور ہی بنا

فروری 24, 2022

رہبرِ اختران

دسمبر 29, 2024

گل بانو اور فائزہ کی دوستی

اپریل 1, 2023

قربتوں کے فاصلے

جولائی 6, 2025

عشق و عاجزی کا ڈھب ہے

مئی 29, 2024

قرآن میں جنگ کے احکام

دسمبر 6, 2025

لائیسنس

جنوری 12, 2020

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے فضائل ومناقب

جولائی 12, 2023

مونا لیزا

جنوری 5, 2020

کیوں کہ میں نے اب سوچنا شروع کر دیا ہے

دسمبر 23, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

خدانے اپنے شواہد پہ سوچنے دیا...

جون 8, 2020

ایک غیر معمولی لذت

جنوری 27, 2025

رسمِ الفت کی پیار کی باتیں

جولائی 24, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں