104
شکرہ اڑتا رہتا ہے
چہرے پر ہیبت پہنی ہے
اندر سے تو ڈرا ہوا ہے
باہر سے جیتا ہے لیکن
اندر سے تو مرا ہوا ہے
یہ جو تیرے رخساروں پر پرچھائیں لہراتی ہے
کیا شریانوں کے جنگل میں شکرہ اڑتا رہتا ہے؟
سایہ دار آنکھیں ہیں لیکن چہرے پر پھیلی ہے کیسی دھوپ یہ
بہروپئے !!!
یہ جو تیرے گھر کی فصیلیں جلتی بجھتی رہتی ہیں
کیا بنیاد میں جگنو ہیں؟
گونج گلی کے رہنے والے
تو گھر میں محصور ہوا تو کب دنیا سے دور ہوا
تیرے سینے کے اندر دو پاٹ دھرے ہیں
جب تو سہمے گھن اور خوف زدہ گیہوں کو
لمحہ لمحہ پیستا ہے
تو گونج گلی میں جاتی ہے۔
کیسا جیون سوانگ رچایا اور بھرا ہے تو نے کیسا روپ یہ
بہروپئے !!!!
اپنے اندر اپنی لاش لئے پھرتا ہے
اسی لئے تو تیرے ٹخنے چٹخ رہے ہیں۔
چہرہ چہرہ جینے والے، کیسے بھر لیتا ہے تو بہروپ یہ
بہروپئے!!!!!
وحید احمد
