109
یہاں رہنا معطل کرنے والا تھا کہ تم آئے
میں دروازہ مقفل کرنے والا تھا کہ تم آئے
تمھاری آہٹوں نے لو بچائی میری آنکھوں کی
میں خود کو خود سے اوجھل کرنے والا تھا کہ تم آئے
چھتوں پر لوگ ہوتے اور میرا رقصِ تنہائی
مجھے یہ چاند پاگل کرنے والا تھا کہ تم آئے
بہت بے سایہ و بے آب لگتی تھی زمینِ دل
سو اک آنسو کو بادل کرنے والا تھا کہ تم آئے
بلا کر اک نئے شاداب چہرے کو میں کھڑکی میں
پُرانا مسئلہ حل کرنے والا تھا کہ تم آئے
تمھارے نام کی ہچکی تھی ہونٹوں پر سمٹنے کو
میں سناٹا مکمل کرنے والا تھا کہ تم آئے
لیاقت علی عاصم
