108
دور کہیں تارا ٹوٹا تھا
سویا رستا جاگ گیا تھا
سر پر تاج نہ دل میں نخوت
وہ کس دیس کا شہزادہ تھا
لہریں لیتے اس پانی پر
شیشے کا اک فرش بچھا تھا
ایک کنارے پر میں ششدر
دوسری جانب تو بیٹھا تھا
بیچ میں پھیلی ساری دنیا
تیرا میرا ملنا کیا تھا
تیری آنکھیں کیوں بھیگی تھیں
ہجر تو میرے گھر اترا تھا
دھوپ ہوئی تھی شہر سے رخصت
اندھیارا امڈا آتا تھا
سرد ہوا کا بازو تھامے
چاند بہت خاموش کھڑا تھا
خواب کے اندر نیند بھری تھی
نیند کے دل میں خواب چھپا تھا
آخر کو اک پھول سنہرا
ان ہونٹوں پر مرجھایا تھا
ثمینہ راجہ
