خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریراخبار میں ضرورت ہے
اردو تحاریراردو مزاحیہ تحاریرپطرس بخاری

اخبار میں ضرورت ہے

پطرس بخاری کی ایک اردو مزاحیہ تحریر

از سائیٹ ایڈمن جنوری 25, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 25, 2020 0 تبصرے 323 مناظر
324

اخبار میں ضرورت ہے

یہ ایک اشتہار ہے لیکن چونکہ عام اشتہار بازوں سے بہت زیادہ طویل ہے اس لئے شروع میں یہ بتا دینا مناسب معلوم ہوا ورنہ شاید آپ پہچاننے نہ پاتے۔ میں اشتہار دینے والا ایک روزنامہ اخبار کا ایڈیٹر ہوں۔ چند دن سے ہمارا ایک چھوٹا سا اشتہار اس مضمون کا اخباروں میں یہ نکل رہا ہے کہ ہمیں مترجم اور سب ایڈیٹر کی ضرورت ہے یہ غالباً آپ کی نظر سے بھی گزرا ہو گا اس کے جواب میں کئی ایک امیدوار ہمارے پاس پہنچے اور بعض کو تنخواہ وغیرہ چکانے کے بعد ملازم بھی رکھ لیا گیا لیکن ان میں سے کوئی بھی ہفتے دو ہفتے سے زیادہ ٹھہرنے نہ پایا آتے کے ساتھ ہی غلط فہمیاں پیدا ہوئیں اشتہار کا مطلب وہ کچھ اور سمجھے تھے۔ ہمارا مطلب کچھ اور تھا، مختصر سے اشتہار میں سب باتیں وضاحت کے ساتھ بیان کرنا مشکل تھا۔ جب رفتہ رفتہ ہمارا اصل مفہوم ان پر واضح ہوا یا ان کی غلط توقعات ہم پر روشن ہوئیں تو تعلقات کشیدہ ہوئے تلخ کلامی اور بعض اوقات دست درازی تک نوبت پہنچی۔ اس کے بعد یا تو وہ خود ہی ناشائستہ باتیں ہمارے منہ پر کہہ کر چائے والے کا بل ادا کئے بغیر چل دیئے یا ہم نے ان کو دھکے مار کر باہر نکال دیا۔ اور وہ باہر کھڑے نعرے لگایا کئے۔ جس پر ہماری اہلیہ نے ہم کو احتیاطاً دوسرے دن دفتر جانے سے روک دیا اور اخبار بغیر لیڈر ہی کے شائع کرنا پڑا، چونکہ اس قسم کی غلط فہمیوں کا سلسلہ ابھی تک بند نہیں ہوا اس لئے ضروری معلوم ہوا کہ ہم اپنے مختصر اور مجمل اشتہار کے مفہوم کو وضاحت کے ساتھ بیان کریں کہ ہم کس قسم کے آدمی کی تلاش ہے اس کے بعد جس کا دل چاہے ہماری طرف رجوع کرے جس کا دل نہ چاہے وہ بے شک کوئی پریس الاٹ کرا کے ہمارے مقابلے میں اپنا اخبار نکال لے۔
امیدوار کے لئے سب سے بڑھ کر ضروری یہ ہے کہ وہ کام چور نہ ہو، ایک نوجوان کو ہم نے شرع میں ترجمے کا کام دیا۔ چار دن کے بعد اس سے ایک نوٹ لکھنے کو کہا تو بپھر کر بولے کہ میں مترجم ہوں سب ایڈیٹر نہیں ہوں۔ ایک دوسرے صاحب کو ترجمے کے لئے کہا تو بولے میں سب ایڈیٹر ہوں ، مترجم نہیں ہوں ہم سمجھ گئے کہ یہ نا تجربے کار لوگ مترجم اور سب ایڈیٹر کو الگ الگ دو آدمی سمجھتے ہیں۔ حالانکہ ہمارے اخبار میں یہ قاعدہ نہیں ، ہم سے بحثنے لگے کہ آپ نے ہمیں دھوکا دیا ہے۔ دوسرے صاحب کہنے لگے کہ آپ کے اشتہار میں عطف کا استعمال غلط ہے ایک تیسرے صاحب ہمارے ایمان اور ہمارے صرف و نحو دونوں کی آڑ لیتے ہیں۔ ہمارے ہاں جو ملازم ہوں گے انہیں تو وقتاً فوقتاً ساتھ کی دکان سے پان بھی لانے پڑیں گے اور اگر انہیں بحث ہی کرنے کی عادت ہے تو ہم ابھی سے کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے نزدیک سب ایڈیٹر کے معنے یہ ہیں ایڈیٹر کا اسم مخفف اخبار میں ایک عہدہ دار کا نام جو ایڈیٹر کو پان وغیرہ لا کر دیتا ہے۔ یہ بھی واضح ہے کہ ہمارا اخبار زنانہ اخبار نہیں لہٰذا کوئی خاتون ملازمت کی کوشش نہ فرمائیں پہلے خیال تھا کہ اشتہار میں اس بات کو صاف کر دیا جائے۔ اور لکھ دیا جائے کہ مترجم اور سب ایڈیٹر کی ضرورت ہے جو مرد ہو لیکن پھر خیال آیا کہ لوگ مرد کے معنے شاید جوانمرد سمجھیں اور اہل قلم کی بجائے طرح طرح کے پہلوان نیشنل گارڈ والے اور مجاہد پٹھان ہمارے دفتر کا رخ کریں پھر یہ بھی خیال آیا کہ آخر عورتیں آئیں گی مردوں کی ایسی بھی کیا قلت ہے لیکن ایک دن ایک خاتون آ ہی گئیں۔

پرزے پر نام لکھ کر بھیجا ہمیں معلوم ہوتا کہ عورت ہے تو بلاتے ہی کیوں ؟ لیکن آج کل کم بخت نام سے تو پتہ ہی نہیں چلتا۔ فاطمہ زبیدہ، عائشہ کچھ ایسا نام ہوتا تو میں غسل خانے کے راستے باہر نکل جاتا لیکن وہاں تو ناز جھانجھردی یا عندلیب گلستانی یا کچھ ایسا فینسی نام تھا۔ آج کل لوگ نام بھی تو عجیب عجیب رکھ لیتے ہیں غلام رسول، احمد دین، مولا داد ایسے لوگ تو ناپید ہی ہو گئے ہیں جسے دیکھئے نظامی گنجوی اور سعیدی شیرازی بنا پھرتا ہے۔ اب تو اس پر بھی شبہ ہونے لگا کہ حرارت عزیزی،نزلہ کھانسی، ثعلب مصری، ادیبوں ہی کے نام نہ ہوں عورت مرد کی تمیز تو کوئی کیا کرے گا۔ بہرحال ہم نے اندر بلایا تو دیکھا کہ عورت ہے دیکھا کے یہ معنی ہیں کہ ان کا برقعہ دیکھا اور حسنِ ظن سے کام لے کر اندازہ لگایا کہ اس کے اندر عورت ہے ہم نے بصد ادب و احترام کہا کہ ہم خواتین کو ملازم نہیں رکھتے انہوں نے وجہ پوچھی ہم نے کہا پیچیدگیاں ، کہنے لگیں آگے بولنے ہم نے کہا پیدا ہوتی ہیں۔ بھڑک کر بولیں کہ آپ بھی تو عورت کے پیٹ سے پیدا ہوئے تھے کیونکہ اس امر کا ہماری سوانح عمری میں کہیں ذکر نہیں اس لئے ہم تائید تردید کچھ نہ کر سکے۔ میری ولادت کو انہوں نے اپنا تکیہ کلام بنا لیا، بہتیرا سمجھایا کہ جو ہونا تھا وہ ہو گیا اور بہرحال میری ولادت کو آپ کی ملازمت سے کیا تعلق؟ اور یہ تو آپ مجھ سے کہہ رہی ہیں اگر ہمارے پروپرائٹر سے کہیں تو وہ آپ کی اور میری ہم دونوں کی ولادت کے متعلق وہ وہ نظریئے بیان کریں گے کہ آپ ہکا بکا رہ جائیں گی۔ خدا خدا کر کے پیچھا چھوٹا۔ ہمارے اخبار میں پروپرائٹر کا احترام سب سے مقدم ہے وہ شہر کے ایک معزز ڈپو ہولڈر ہیں اخبار انہوں نے محض خدمتِ خلق اور رفاہ عام کے لئے جاری کیا ہے اس لئے یہ ضروری ہے کہ پبلک ان کی شخصیت اور مشاغل سے ہر وقت باخبر رہے چنانچہ ان کے پوتے کا ختنہ، ان کے ماموں کا انتقال ان کے صاحبزادے کی میٹریکولیشن میں حیرت انگیز کامیابی (حیرت انگیز اس معنوں میں کہ پہلے ہی ریلے میں پاس ہو گئے

ایسے واقعات سے پبلک کو مطلع کرنا ہر سب ایڈیٹر کا فرض ہو گا نیز ہر اس پریس کانفرنس میں جہاں خورد و نوش کا انتظام بھی ہو ہمارے پروپرائٹر مع اپنے دو چھوٹے بچوں کے جن میں سے لڑکے کی عمر سال اور لڑکی کی پانچ سال ہے شریک ہوں گے اور بچے فوٹو میں بھی شامل ہوں گے اور اس پر کسی سب ایڈیٹر کو لب فقرے کسنے کی اجازت نہ ہو گی ہر بجے ہت ہی ہونہار ہیں اور حالات میں غیر معمولی دلچسپی لیتے ہیں کشمیر کے متعلق پریس کانفرنس ہوئی تو چھوٹی بچی ہندوستانیوں کی ریشہ دوانیوں کا حال سن کر اتنے زور سے روئی کہ خود سردار ابراہیم اسے گود میں لئے لئے پھرتے تو کہیں اس کی طبیعت سنبھلی۔ ہمارے اخبار کا نام ’’آسمان‘‘ ہے پیشانی پر یہ مصرعہ مندرج ہے کہ آسمان بادل کا پہلے خرقہ دیرینہ ہے اس فقرے کو ہٹا کر کوئی سب ایڈیٹر کوشش نہ فرمائیں کیونکہ یہ خود ہمارے پروپرائٹر صاحب کا انتخاب ہے ہم نے شروع شروع میں ان سے پوچھا بھی تھا کہ صاحب اس مصرعے کا اخبار سے کیا تعلق ہے کہنے لگے اخبار کا نام آسمان ہے اور اس مصرعے میں بھی آسمان آتا ہے۔ ہم نے کہا بجا لیکن خاص اس مصرعے میں کیا خوبی ہے کہنے لگے علامہ اقبال کا مصرعہ ہے۔ اور علامہ اقبال سے بڑھ کر شاعر اور کون ہے اس پر ہم چپ ہو گئے پیشانی پر اردو کا سب سے کثیر الاشاعت اخبار لکھا ہے۔ میرا تجویز کیا ہوا ہے اسے بھی بدلنے کی کوشش نہ کی جائے کیونکہ عمر بھر کی عادت ہے ہم نے جہاں جہاں ایڈیٹری کی اپنے اخبار کی پیشانی پر یہ ضرور لکھا۔ بعض امیدوار ایسے بھی آتے ہیں کہ ساتھ ہی ہمیں سے سوالات پوچھنے لگتے ہیں ایک سوال بار بار دہراتے ہیں کہ آپ کے اخبار کی پالیسی کیا ہے کوئی پوچھے کہ آپ کی ذات کیا ہے ہماری پالیسی میں چند باتیں تو مستقل طور پر شامل ہیں مثلاً ہم عربوں کے حامی ہیں اور امریکہ سے ہرگز نہیں ڈرتے چنانچہ ایک دن تو ہم نے پریزیڈنٹ ٹرومین کے نام اپنے اخبار میں ایک کھلی چٹھی بھی شائع کر دی لیکن عام طور پر ہم پالیسی میں جمود کے قائل ہیں اسی لئے سب ایڈیٹر کو مسلسل ہم سے ہدایات لینی پڑیں گی۔ ہفتہ رواں میں ہماری پالیسی یہ ہے کہ پنڈی گھیپ کے ہیڈ ماسٹر کو موسم سرما سے پہلے پہل یا ترقی دلوائی جائے یا ان کا تبادلہ لاہور کرایا جائے (ان کے لڑکے کی شادی ہمارے پروپرائٹر کی لڑکی سے طے پا چکی ہے اور خیال رہے کہ موسم سرما میں شادی کر دی جائے )۔ انشا کے متعلق ہمارا خاص طرز عمل ہے اور ہر سب ایڈیٹر اور مترجم کو اس کی مشق بہم پہنچانی پڑے گی۔ مثلاً پاکستان بنا نہیں معرض وجود میں آیا ہے ، ہوائی جہاز اڑتا نہیں محو پرواز ہوتا ہے۔ مترجموں کو اس بات کا خاص طور پر خیال رکھنا پڑے گا۔

ایک مترجم نے لکھا کہ کل مال روڈ پر دو موٹروں کی ٹکر ہوئی اور تین آدمی مر گئے۔ حالانکہ انہیں کہنا چاہئے تھے کہ دو موٹروں کے تصادم کا حادثہ رونما ہوا جس کے نتیجے کے طور پر چند اشخاص جن کی تعداد تین بتائی جاتی ہے مہلک طور پر مجروح ہوئے۔ لاہور کارپوریشن نے اعلان کیا کہ فلاں تاریخ سے ہم پالتو کتے کے گلے میں پیتل کی ایک ٹکیہ لٹکانی ضروری ہے جس پر کمیٹی کا نمبر لکھا ہو گا ایک مترجم نے یہ ترجمہ یوں کیا کہ ہر کتے کے گلے میں بلّا ہونا چاہئے حالانکہ کارپوریشن کا مطلب ہر گز یہ نہ تھا کہ ایک جانور کے گلے میں ایک دوسرا جانور لٹکا دیا جائے۔ سینما کے فری پاس سب ایڈٹر کے مشاہرے میں شامل نہیں۔ یہ پاس ایڈیٹر کے نام آتے ہیں اور وہی ان کو استعمال کرنے کا مجاز ہے ، فی الحال یہ پروپرائٹر اور ان کے اہل خانہ کے کام آتے ہیں لیکن عنقریب اس بارے میں سینما والوں سے ایک نیا سمجھوتہ ہونے والا ہے اگر کوئی سب ایڈیٹر اپنی تحریر کے زور سے کسی سینما والے سے پاس حاصل کرے تو وہ اس کا اپنا حق ہے لیکن اس بارے میں ایڈیٹر کے ساتھ کوئی مفاہمت کر لی جائے تو بہتر ہو گا، علی ہذا جو اشیاء ریویو کے لئے آتی ہیں مثلاً بالوں کا تیل، عطریات، صابن، ہاضم دوائیاں وغیرہ وغیرہ ان کے بارے میں ایڈیٹر سے تصفیہ کر لینا ہر سب ایڈیٹر کا اخلاقی فرض ہو گا۔ ممکن ہے ان شرائط کو اچھی طرح سمجھ لینے کے بعد کوئی شخص بھی ہمارے ہاں ملازمت کرنے کو تیار نہ ہو اس کا امکان ضرور موجود ہے لیکن ہمارے لئے یہ چنداں پریشانی کا باعث نہ ہو گا ہمارے پروپرائٹر آگے ہی دو تین مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ اسٹاف بہت بڑھ رہا ہے۔ اور اسی وجہ سے انہوں نے ہماری ترقی بھی روک دی ہے عجب نہیں کہ جب ہم دفتر میں اکیلے رہ جائیں تو بات باہر نکل جاتی ہے۔ یہ معلوم کبھی نہیں ہو ا کہ بات؟ کون سی بات؟ اپنے ڈپو پر بھی وہ اکیلے ہی کام کرتے ہیں اور اس کی وجہ بھی یہی بتاتے ہیں کہ ورنہ بات باہر نکل جاتی ہے۔

پطرس بخاری

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • زیادتیوں سے نکلیں جنسی زیادتیاں!
  • فلسطین اور امت مسلمہ!
  • محروم چئیو کھبی نہیں مرتی
  • مستقل ناکامی کے خطرناک ہتھیار!
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
خنک شہرِ ایران
پچھلی پوسٹ
دوست کے نام

متعلقہ پوسٹس

نغمهٔ شکست

مئی 30, 2025

پرانی حویلی

جنوری 5, 2022

25دسمبر: یومِ قائد ِاعظم

دسمبر 25, 2022

آغاز آفرینش

جنوری 16, 2026

زبانِ غیر یا غیبت

جنوری 9, 2025

پت جھڑ کی آواز

جنوری 7, 2020

یوگا اور ورزش زندگی کی نئی توانائی

ستمبر 6, 2025

گستاخانہ خاکے اور امت ِ مسلمہ!

نومبر 28, 2020

کاش ہم استاد بن جائیں

اکتوبر 9, 2020

امربیل

جنوری 17, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

استخارہ

مارچ 15, 2026

مختصر سیرتِ رسولﷺ

مارچ 10, 2026

لیلۃ القدر – ایک رات اور پوری زندگی

مارچ 9, 2026

صدقۂ فطر کی حکمت و اہمیت

مارچ 9, 2026

اعتکاف احکام اور آداب

مارچ 9, 2026

اردو شاعری

بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

مارچ 17, 2026

ماورا ہے سوچوں سے

مارچ 17, 2026

گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد...

مارچ 17, 2026

نشے میں ہم ہیں مگر

مارچ 17, 2026

یہ مرے گھر کے تین چار درخت

مارچ 17, 2026

اردو افسانے

عید کا ادھورا وعدہ اور لفظوں کا مصور

مارچ 17, 2026

دہلیز کا آخری وعدہ

مارچ 9, 2026

آدھی عورت آدھا خواب

جنوری 14, 2026

طوائف کون؟

جنوری 14, 2026

لمس

جنوری 12, 2026

اردو کالمز

سوچتے رہو، جیتے رہو

مارچ 18, 2026

اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

مارچ 17, 2026

میڈیا کا اثر اور ہماری سوچ تحریر

مارچ 17, 2026

کردار، کردار نگاری اور تخلیقیت

مارچ 16, 2026

امن بورڈ یا امن سے اکتاہٹ؟

مارچ 16, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • نشے میں ہم ہیں مگر

    مارچ 17, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

چپ

جنوری 12, 2020

نِکّی

جنوری 15, 2020

مخفی دوربین

نومبر 20, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں