خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباافسانہ حسن ِ نظر
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریرمنزہ انور گوئیندی

افسانہ حسن ِ نظر

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 14, 2025
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 14, 2025 0 تبصرے 94 مناظر
95

اس شخص سے اس کی ملاقات محض اتفاق تھا ۔ پہلی نظر میں وہ اسے ایک معمولی شکل و صورت رکھنے والا ایسا آدمی لگا جو قدرے باتونی تھا ۔ اس کے اندازِ و اطوار میں بھی کچھ ایسی کشش نہ تھی ۔ ان دونوں کے درمیان رسمی سی بات جیت شروع ہوئی ۔ مگر گفتگو کے دوران اس نے محسوس کیا ۔ کہ وہ شخص غیر معمولی طور ہر ذہین ہے رفتہ رفتہ وہ اس کی باتوں میں دلچسپی لینے لگی اس شخص کی ذہانت اور بدلہ سخنی نے اسے کافی متاثر کیا ۔ گھر واپس آکر وہ دیر تک اس کی باتوں اور لطیف مزاح کو یاد کر کے محفوظ ہوتی رہی اگلے دن وہ لاشعوری طور پر متمنی تھی کہ کس طور اس سے باتیں کرے لیکن سارا دن یونہی گزر گیا شام کو فون کی بیل بجی تو وہ بے تابانہ لپکی۔ مگر اس کے پہنچنے سے پہلے ہی کسی اور نے ریسور اُٹھا لیا ۔ دوسری جانب سے فون رکھ دیا گیا ۔ اسے گمان گزرا کہ یہ اُس کی کال تھی اوراس خیال کے ساتھ ہی اسے ایک عجیب طمانیت کا احساس ہوا۔
اگلے روز وہ اس کے فون کا انتظا ر کرتی رہی ۔ دن ڈھل گیا اور شام کے سائے پھیلنے لگے اس کے انتظار میں بے کلی کے ساتھ اداسی شامل ہونے لگی ۔ پھر جیسے وہ ایک نتیجے پہ پہنچی ۔ میں خود ہی اسے کال کر لیتی ہوں ۔ مگر کہوں گی کیا ؟ اسے کوئی بہانہ نہیں سوجھ رہا تھا ۔ وہ ان ہی سوچوں میں اُلجھی دیر تک بے مقصد اِدھر اُدھر گھومتی رہی پھر غیر ارادی طور پر اس نے اس کا نمبر ڈائل کیا دوسری جانب سے پہلی ہی بیل پر فون اُٹھا لیا گیا اُس کی آواز سنتے ہی اس کا دل بے طرح دھڑ کا زبان جیسے گُنگ ہو گئی ۔ لیکن دوسری طرف سے لمبی چوڑی گفتگو شروع ہو گئی اس کے بعد ان دونوں کے درمیان فون ایک رابطہ بن گیا اب بلا ناغہ ان کی بات ہوتی اِدھراُدھر کی باتیں ۔ داستانیں ۔ قصے کہانیاں ۔۔۔۔۔۔۔ان کی فون کالز کا دورانیہ بڑھتا رہا اور وہ کئی کئی گھنٹے ریسور تھامے ایک دوسرے سے باتیں کرتے رہتے ۔ لیکن وقت گزرنے کا احساس ہی نہ ہوتا ۔ ان دونوں ایک عجیب سی کیفیت اس پہ طاری تھی ایک ہلکاہلکا سا احساس نشہ بن کر اس کے دل و دماغ پر چھا رہا تھا یوں لگتا تھا جیسے وہ کسی غیر مرئی طاقت کے زیر اثر چلتی ہوئی دور او پہلی غبار میں گم ہوتی چلی جا رہی ہے سنہری لمحات رنگین پر لگائے اُڑے چلے جا رہے تھے اور یوں لگتا کہ وہ نرم روپانی میں ہلکورے لیتی دھیرے دھیرے ندی کی روانی ہیں بہتی چلی جا رہی ہے ۔ بادلوں کو دیکھتی تو جیسے خود بھی ان کے ساتھ آسمانوں پر تیرنے لگتی ۔
بارش کی چھما چھم اس کے دل میں ایسی ترنگ پیدا کر دیتی جس میں ایک میٹھی کسک بھی شامل ہوتی ۔ اس کے انداز و اطوار میں دلربا نزاکت بھر گئی اس کی آواز میں ایک عجیب سی کھنک آگئی ۔ آئینہ دیکھی تو اسے خود پہ پیار آنے لگتا وہ خود سے سوال کرتی کہ یہ کیسی تبدیلی ہے اس کیفیت کا نام کیا ہے ؟ کیا اسے محبت ہو گئی ہے مگر کس سے ؟کیا اُس شخص سے ؟ لیکن اس کا جواب اسے خود سے ایک سا نہیں مل رہا تھا ۔ کبھی ہاں کبھی ناں ۔ یہ کیا بات ہوئی بھلا ؟ وہ اُلجھ سی جاتی ۔ آنکھیں بند کرتی تو محبت پوری شدت سے اس پرواردہو جاتی اس کی رگ رگ میں سرابت کر جاتی ۔ سنسناتی ہوئی تیز لہر اس کے دل و دماغ میں دوڑنے لگتی وہ جیسے ڈوبتی ابھرتی لہروں پر تیرنے لگتی ۔ لیکن جب وہ اسے آنکھ دیکھتی تو وہ اسے بالکل انجان آدمی نظر آتا ایک معمولی شکل و صورت والا جو نگاہوں کو نہ جچتا تھا ۔ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے اس کی شخصیت دو حصوں میں بٹ چکی ہو۔ وہ عجیب گو مگو کیفیت میں مبتلا تھی اور بے چین ، بے قرار اضطراری حالت میں اِدھر اُدھر بے مقصد گھومتی رہی ۔
وہ اپنی بے کلی کو سکون دینا چاہتی تھی ۔ مگر تشنگی بڑھتی چلی جا رہی تھی نہ کھانے کا ہوش نہ نیند کا کہیں پتہ ۔ وہ اس کی آواز سنتی تو دل میں کیف بھر جاتا مگر اس کو سامنے پا کر اس کے دل و دماغ کے دو حصے ہونے لگتے ۔ کیا یہ وہی ہے جس کے لیے وہ بے قرار ہے ؟ وہ اسے ایک انجان آدمی نظر آتا جس کے چہرے سے وہ شناسا نہ تھی مگر اس کی آواز اور اس کی باتیں دل میں اُترتی چلی جاتیں وہ اپنی اس کیفیت پر قابو پانے میں بالکل نا کام تھی ۔ اس کے رو برو اس کی باتیں سنتے ہوئے وہ آنکھیں موند لیتی اور نیم سوئی کیفیت میں محبت کے امرت کو قطرہ قطرہ اپنے وجود کے اندرسموتی رہتی اس کی شدید تر خواہش ہوتی کہ یہ لمحات پھیل کر پوری دنیا پر چھا جاتیں اتنے طویل ہو جائیں کہ زمین و آسمان کچھ نظر نہ آئے وہ محبت کے اُس پار کچھ دیکھنا نہیں چاہتی تھی ۔
لیکن دوسری جانب اس شخص کی کیفیت اس سے یکسر مختلف تھی وہ ہمیشہ اُسے خیالوں کی دنیا سے باہر آنے کو کہتا اسے حقیقت سے قریب لانے کی کوشش کرتا لیکن وہ اس کشمکش سے ٹوٹنے لگی کبھی خود کو بکھرنے سے بچانے کے لیے وہ اپنے تڑپتے ہوئے قالب کو سمیٹنے کی کوشش کرتی لیکن اس کیفیت میں وہ اذیت پسندی کی آخری حدووں کو چھونے لگتی اور کبھی سکون کی تلاش میں اُس سے دور رہ کر اِدھر اُدھر بھٹکتی پھرتی ۔ پھر یکا یک یہ ہوا کہ وہ اس سے کترانے لگی اس کی فون کالز متواتر آتیں مگر وہ ریسو نہ کرتی بس چپ چاپ ساکت چہرہ لیے بیٹھی رہتی ایسے میں اس کے پاؤں اضطراری طور پر حرکت میں رہتے شوریدہ موجیں اِدھر اُدھر سر پٹختی رہیں مگر اُوپر کی سطح ساکن ہوتی ۔ وہ اس کی تمام باتیں دل ہی دل میں دہراتی رہتی تاکہ وقت کا ظالم دھارا انہیں محو نہ کر دے ۔
اس کے ذہن کے پرووں پر ایسی فلم چل رہی ہوتی جس میں اس کے من پسند مناظر ہوتے پھر کئی بار ایسا ہو ا کہ وہ ریسور اُٹھائے بغیر اس کا نمبر ڈائل کرتی اور اس کے بعد ریسور کان سے لگائے گھنٹوں اس سے باتیں کرتی رہتی ایسی باتیں جو اس سے وہ کبھی نہ کہ پائی ریسور کی ٹون مسلسل اس کے کانوں میں بجتی رہی لیکن وہ چشمِ تصور میں اس کو سامنے پاتے ہوئے مجھ محو گفتگو رہتی ۔ وہ خود اذیتی کی اس منزل پر تھی جہاں اسے نہ کھانے کا ہوش اور نہ نیند کا کہیں پتہ تھا ۔اس کی آوا ز سنتی تو دل میں کیف بھر جاتا لیکن اسے سامنے پا کر اس کے دل و دماغ کے دو حصے ہونے لگتے ۔ دیکھنے میں وہ اسے انجان آدمی نظر آتا وہ غور سے اسے تکتی ہوئی یہ سوچنے لگتی کیا یہ وہی ہے ؟ جس کے لیے وہ اس قدر بے قرار ہے ۔۔۔اس کے چہرے سے وہ آشنا نہ تھی ۔ مگر اس کی آواز اور اس کی باتیں دل میں اُترتی چلی جاتیں وہ اپنی اس کیفیت پر قابو پانے میں بالکل نا کام تھی ۔ اس کے روبرو باتیں سنتے ہوئے وہ آنکھیں موند لیتی اور یوں نیم سوئی کیفیت میں محبت کے امرت کو قطرہ قطرہ پیتی رہتی اس لمحے اس کی شدید خواہش یہی ہوتی کہ محبت کے یہ لمحات پھیل کر پوری دنیا پر چھا جاتیں اتنے طویل ہو جائیں کہ زمین و آسمان کچھ نظر نہ آئے وہ غبارِ محبت کے اُس پار کچھ دیکھنا نہیں چاہتی تھی ۔ لیکن دوسری جانب اُس شخص کی کیفیت اس سے یکسر مختلف تھی۔ وہ ہمیشہ اسے خیالوں کی دنیا سے باہر آنے کو کہتا اسے حقیقت سے قریب لانے کی کوشش کرتا ۔ لیکن سب لا حاصل تھا ۔اب وہ اس کشمکش سے ٹوٹنے لگی اور پھر نجانے کیوں وہ اس سے کترانے لگی اس کی کالز متواترآتیں مگر وہ ریسو نہ کرتی ۔ بس چپ چاپ ساکت چہرہ لیے بیٹھی رہتی شوریدہ موجیں اِدھر اُدھر سر پٹختی رہتی لیکن پانی کی سطح اوپر سے ساکن تھی ۔ وہ اُس کے سامنے خاموش بیٹھی رہتی لیکن تنہائی میں اس کی تمام باتیں دل ہی دل میں دہراتی رہتی تاکہ وقت کا ظالم دھارا انہیں محو نہ کر دے اس لمحے اس کے ذہن کے پر دے پرایسی فلم چل رہی ہوتی جس میں اس کے من پسند مناظر ہوتے پھر کئی بار ایسا ہوتا کہ وہ ریسور اُٹھاتے بغیر اس کا نمبر ڈائل کرتی اور اس کے بعد ریسور اُٹھا کر گھنٹوں اس سے باتیں کرتی رہتی ۔ وہ باتیں جو وہ اس سے کبھی نہ کر پائی اس لمحے ریسور کی ٹون مسلسل اس کے کان میں بجتی رہتی وہ خود اذیتی کی اس منزل پر تھی ۔ جہاں شکستہ پائی نے اسے نڈھال کر دیا تھا ۔ یادیں ایک ایک کر کے اس کی جانب دوڑی چلی آرہی تھیں مگر وہ انہیں پرے دھکیل دیتی ۔ وہ اسے یاد نہیں کرنا چاہتی تھی اور بھول جانے کا ڈر بھی اسے دہلائے دیتا تھا ۔ ایک تیز کاٹ اس کے رگ و ریشے کو مسلسل تبا ہ کر رہی تھی اور وہ ان سے بہتا ہوا خون دیکھ کر مسکرا رہی تھی ۔ جیسے اپنی تڑپ کا لطف اُٹھا رہی ہو ۔ پھر رفتہ رفتہ یا بہت گہرا احساس اس کے ذہن پر چھانے لگا اس کے اعضاء مضمحل ہونے لگے جیسے اس کی روح بیمار پڑ گئی ہو وہ کمرےمیں بند ہو کر لیٹی مسلسل چھت کو گھورتی رہتی اسے یوں لگتا جیسے پوری کائنات رک گئی ہو وہ دھیرے سے اُٹھ کر کھڑکی کے پٹ کھول کر باہر دیکھنے لگتی باہر کا ماحول جیسے بالکل اجنبی سا لگتا ۔ لوگو ں کا آنا جانا ان کی مصروفیات بے معنی نظر آنے لگیں گھروں کی اونچی نیچی عمارتیں بالکل ویران اور غیر آباد سی تھیں ۔درختوں کے پتے دھول میں آٹے اور بالکل ساکت تھے ۔ کبھی کبھار کسی پرندے کی آواز اداسی میں مزید اضافہ نہ کر دیتی ۔ اسے یوں لگ رہا تھا کہ پوری کائنات اپنی مقصدیت کھو چکی ہو ۔ وہ خالی خولی نظروں سےاِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے مسلسل سوچ رہی تھی کہ یہ دنیا ایک پُتلی تماشا ہے ایک تار پر ناچنے والی بے روح پُتلیاں جن کی ڈور کسی اور ہاتھ میں ہے یہ سوچتے سوچتے وہ اپنا آپ کھو چکی تھی وہ سب کچھ جو پہلے اہم تھا اب کتنا فضول سا ہو چکا اس کی تمام دلچسپیاں شوخیء طبع ، رنگینیء خیال کیا ہوئی ۔ اس کے ذہن میں سب کچھ گڈمڈ ہو گیا ۔ پھر جیسے کوئی عکس دھیرے دھیرے واضح ہوتا گیا اس کے خدو خال نکھرتے گئے دل و دماغ میں کوئی روشنی جھلمانے لگی جس کی تھرتھراتی لو میں اسے اپنے اندر کی دنیا دکھائی دینے لگی جو بے انتہا خوبصورت تھی باہر کی تمام رعنائیاں تو اس کے دل کی دنیا کا محض پر تو تھیں ۔ اصل جمال کو اس اپنا حسن ِ نظر تھا ۔ جس نے دنیا کو نئے نئے رنگ عطا کیے تھے ۔
تمام حسن تو جذبہ محبت کی دین تھا ۔ اس کی بخشش تھی ۔یہ وہی جذبہ تھا جس کی وسعتیں بے پناہ ہیں جو خیال محبوب سے ہی ہر شے کو جگمگا دیتا ہے ۔محبت جوائل حقیقت ہے ۔ لافانی ہے ۔ اور پھر نافہء آہو کے مانند اس کا ایک نیا سفر شروع ہوا اپنی ہی خوشبو کی تلاش کا سفر ۔۔۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • قبروں کے بیچوں بیچ
  • شعلہ بن کے جلتا سورج
  • خط اور انتظار
  • منتشر کرنے والا شاعر
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ذائقہ بدلیں گے کیف و وجد میں
پچھلی پوسٹ
نادان ادھاری کا خط

متعلقہ پوسٹس

زاہم : خواب دیکھنے والی سندھ کی بیٹی

اکتوبر 12, 2025

تمھارے عہد و پیماں

جولائی 6, 2025

اس کی محفل میں گنگنا دینا

دسمبر 31, 2019

خواجہ سرا

جنوری 12, 2025

میاں، بیوی اور واہگہ

اپریل 9, 2018

نیندیں چرا کے لے گیا سیلاب نامراد

نومبر 30, 2020

تیتھوں کنارا مشکل اے

اکتوبر 12, 2025

میری منگیتر

مارچ 7, 2022

جی میں پہلے سی تب وتاب نہیں

جنوری 14, 2021

سایہ

دسمبر 11, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

پیٹ بھرنے کا بہانہ دیکھتی ہے

اکتوبر 31, 2021

ارادہ کر لیا ہے جب سفر...

اکتوبر 12, 2025

مصیبتوں کا پلٹ کے آنا

مئی 5, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں