خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامحقیقی حفاظت
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

حقیقی حفاظت

از سائیٹ ایڈمن جنوری 9, 2026
از سائیٹ ایڈمن جنوری 9, 2026 0 تبصرے 59 مناظر
60

پارلیمانی کردار اور جمہوریت کی حقیقی حفاظت

پارلیمنٹ کسی بھی ملک کے جمہوری ڈھانچے کا ستون ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں عوام کی نمائندگی، فیصلے اور قوانین وجود میں آتے ہیں۔ ہر مسئلہ، چاہے وہ معاشی ہو، تعلیمی ہو، یا سماجی، پارلیمنٹ کے اندر ہی حل ہونا چاہیے۔ اس حقیقت سے انکار کرنا کہ سڑکوں پر احتجاج اور شور و ہنگامہ پارلیمانی نظامpak parliament کے خلاف ہیں، جمہوریت کی روح کے ساتھ دھوکہ ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں ہر سال سیاسی بحران اور سڑکوں کی سیاست رونما ہوتی ہے، یہ بات زیادہ وضاحت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ پارلیمنٹ کا کردار مضبوط اور باشعور ہونا ضروری ہے۔

پارلیمنٹ کے باوجود سڑکوں پر احتجاج کرنا دراصل ادارے کی توہین ہے۔ مثال کے طور پر پچھلے چند سالوں میں کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج نے صرف ٹریفک کی مشکلات پیدا کیں، کاروبار متاثر ہوئے، اور عوام کی روزمرہ زندگی مشکل ہو گئی۔ یہ سب اقدامات پارلیمنٹ کے کردار کو کمزور کرنے کے لیے کیے گئے، نہ کہ عوام کے حقیقی مسائل کے حل کے لیے۔ عوامی مسائل کا حل پارلیمنٹ کے اندر ہی ہونا چاہیے تاکہ قانونی، شفاف اور پائیدار نتائج سامنے آئیں۔

بین الاقوامی تجربات بھی یہی بات بتاتے ہیں۔ جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک میں پارلیمنٹ میں موجود باشعور اراکین ہر مسئلے کو قانونی اور منطقی طریقے سے حل کرتے ہیں۔ وہاں سڑکوں کی سیاست کمزور ترین ہے کیونکہ عوام اور سیاسی رہنما دونوں اداروں پر اعتماد کرتے ہیں۔ اس کے برعکس بعض ممالک میں، جہاں پارلیمنٹ کا کردار کمزور ہے، سڑکوں پر احتجاج نے غیر مستحکم سیاسی صورتحال پیدا کی ہے اور جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے۔

پارلیمنٹ کی حرمت اور اس کے ادارے کی اہمیت عدالتوں سے بھی بالاتر ہے۔ عدالتیں قانون کی بالادستی کے لیے ضروری ہیں، لیکن وہ پارلیمنٹ کے اوپر نہیں ہو سکتیں۔ یہ اصول جمہوری ریاستوں میں واضح ہے: عوامی مسائل کا حل صرف منتخب نمائندوں کے ذریعے ہونا چاہیے۔ باشعور اور ذمہ دار چہرے پارلیمنٹ میں ہوں تو وہ عوام کی حقیقی نمائندگی کر سکتے ہیں۔ جو لوگ پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کرتے ہیں یا ادارے کی حرمت کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ دراصل جمہوری نظام کے قاتل ہیں۔

چھوٹی مثالوں سے بات واضح ہوتی ہے۔ خیبر پختونخوا کے ایک ضلع میں پانی یا بجلی کے مسائل کے لیے سڑکوں پر احتجاج نے صرف شور پیدا کیا لیکن مقامی عوام کے مسائل حل نہیں ہوئے۔ اس کا حل مقامی نمائندے اور پارلیمنٹ کے اراکین کے ذریعے ہی ممکن تھا۔ لاہور یا کراچی جیسے بڑے شہروں میں بھی سڑکوں پر احتجاج نے مسائل حل نہیں کیے بلکہ شہر کی زندگی متاثر ہوئی، کاروبار بند ہوئے اور عام لوگ پریشان ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ پارلیمنٹ میں باشعور چہرے لانا ضروری ہے تاکہ وہ عوام کے حقیقی مسائل کا حل قانونی اور منظم طریقے سے نکال سکیں۔

تاریخی حوالے بھی سبق آموز ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں مختلف مواقع پر دیکھنے میں آیا کہ جب پارلیمنٹ کو نظر انداز کیا گیا اور سڑکوں کی سیاست کو ترجیح دی گئی، تو بحران نے ملک کو کمزور کیا۔ 1977 کے سیاسی بحران میں پارلیمنٹ کی کمزوری نے ملک کو سخت سیاسی داؤ پیچ کی طرف دھکیل دیا۔ اسی طرح 2014 کے لانگ مارچ نے صرف سیاسی انتشار پیدا کیا اور عوامی مسائل پیچھے رہ گئے۔ یہ واضح کرتا ہے کہ ہر مسئلہ پارلیمنٹ کے اندر ہی حل ہونا چاہیے۔

بین الاقوامی سطح پر بھی مضبوط پارلیمنٹ کی مثالیں موجود ہیں۔ برطانیہ میں پارلیمنٹ کے اندر بھرپور مباحثے ہوتے ہیں اور ہر مسئلے پر قانونی حل نکالا جاتا ہے۔ سویڈن اور جرمنی میں پارلیمانی ادارے اتنے مضبوط ہیں کہ عوامی مسائل کی صورت میں سڑکوں کی سیاست وقتی اور محدود رہتی ہے۔ یہ ممالک یہ سکھاتے ہیں کہ مضبوط ادارے اور باشعور اراکین ہی جمہوریت کی حفاظت کر سکتے ہیں۔

پارلیمانی کردار صرف قانون سازی تک محدود نہیں۔ یہ عوام کے اعتماد، اداروں کی حرمت اور جمہوری اصولوں کی پاسداری کا نام ہے۔ پارلیمنٹ میں باشعور چہرے نہ ہوں تو عوامی مسائل کا حل ٹال مٹول میں بدل جاتا ہے اور غیر قانونی احتجاج کے ذریعے نظام کمزور ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سیاسی رہنما کی ذمہ داری ہے کہ وہ اداروں کی حرمت کا تحفظ کرے اور پارلیمنٹ کے اندر رہ کر مسائل حل کرے۔

مزید یہ کہ مقامی مثالیں بھی سبق آموز ہیں۔ پنجاب کے ایک ضلع میں تعلیمی اداروں کے مسائل پر سڑکوں پر احتجاج نے صرف شور پیدا کیا، لیکن سکول کی حالت اور طلبہ کی تعلیم پر کوئی مثبت اثر نہیں پڑا۔ اگر وہی مسئلہ پارلیمنٹ کے اندر اٹھایا جاتا تو نہ صرف حل نکلتا بلکہ مستقبل کے لیے پائیدار فیصلے بھی سامنے آتے۔ اسی طرح سندھ کے چھوٹے شہروں میں صحت کے شعبے کے مسائل کے لیے پارلیمنٹ نے قانونی اور مالی اقدامات کیے، جس سے مقامی اسپتالوں میں بہتری آئی اور عوام کی زندگی آسان ہوئی۔

پارلیمنٹ کے مضبوط کردار کی اہمیت اس وقت زیادہ واضح ہوتی ہے جب بین الاقوامی حالات دیکھے جائیں۔ امریکہ میں کانگریس کے اندر قانونی عمل اور مباحثے کے ذریعے فیصلے کیے جاتے ہیں، جبکہ غیر قانونی احتجاج کے مواقع محدود اور وقتی ہوتے ہیں۔ اسی طرح جاپان اور جنوبی کوریا میں پارلیمنٹ کی باہمی شفافیت اور جوابدہی کی وجہ سے سیاسی استحکام قائم رہتا ہے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ مضبوط پارلیمانی ادارے ہی عوامی فلاح اور ملک کی ترقی کی ضمانت ہیں۔

پارلیمانی کردار جمہوریت کی بنیاد ہے۔ باشعور اراکین، ذمہ دار رہنما اور عوام کا اعتماد ہی پارلیمنٹ کو ہر مسئلے کا حل پیش کرنے کے قابل بناتا ہے۔ سڑکوں کی سیاست وقتی اثر ڈال سکتی ہے، مگر مستقل ترقی اور عوامی فلاح کے لیے پارلیمنٹ کا مضبوط ہونا ضروری ہے۔ جو لوگ پارلیمنٹ کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ نہ صرف اپنے ملک بلکہ اپنے عوام کے مستقبل کے لیے خطرہ ہیں۔ ہر شہری اور ہر رہنما کی ذمہ داری ہے کہ وہ پارلیمنٹ کی حرمت برقرار رکھے، مسائل کے حل کے لیے باشعور رہنما آگے آئیں اور جمہوریت کو حقیقی معنوں میں مضبوط بنائیں۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • یوم عہد وفا – 14 اگست
  • گرمٹیہ
  • نظام مملکت، موکلین اور جھاڑ پھونک
  • غیر آئینی بندوبست اور عوامی احتجاج
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
اڈدی نئیں اسماناں اتے
پچھلی پوسٹ
سعادت حسن منٹو

متعلقہ پوسٹس

دستکاری ہاتھ : روایتی ہنر کی بقا

ستمبر 13, 2025

اسکریبل آن لائن اجنبی کے ساتھ

جون 10, 2024

ایک بے بس کشمیری

مارچ 28, 2022

مذہب میں دلچسپی

جنوری 5, 2022

شانتی

جنوری 12, 2020

زمین اور انسان

اگست 8, 2025

بیوہ کا راز

مئی 20, 2020

ریاست کا دیواں

دسمبر 10, 2019

ایک معمولی سی عورت

اگست 7, 2022

موذیل

جنوری 16, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی

اپریل 15, 2020

رب تعالی کو راضی کیسے کریں...

مئی 4, 2025

آخری مورچہ، اولین عزم

اکتوبر 11, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں