خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباونی کاری اور بھٹو
آپکا اردو بابااردو کالمزعلی عبد اللہ ہاشمی

ونی کاری اور بھٹو

علی عبداللہ ہاشمی کا ایک کالم

از سائیٹ ایڈمن نومبر 16, 2019
از سائیٹ ایڈمن نومبر 16, 2019 0 تبصرے 393 مناظر
394

ونی کاری اور بھٹو

بھٹو اور تاریخ” سے نا آشنا لوگ اکثر یہ سوال کرتے ہیں کہ بھٹو صاحب ایسی کیا تبدیلی لائے جو سندھ تک میں نفوذ نہ کر پائی اور آجتک ونی/کاری جیسی انسانیت سوز رسمیں سماجی رویوں کا حصہ ہیں؟ میرے نزدیک وہ لوگ یا تو بھٹو صاحب کی عظمت ماننے میں بُخل سے کام لیتے ہیں یا بھٹو کی سماجی ڈھانچے تئیں خدمات سے لاعلم ہیں یا پھر رسم و رواج کو ادنیٰ سی شئے سمجھنے کی حماقت میں مُبتلا ہیں۔

تمدنی رویئے کسی بھی تہذیب کے رسم و رواج کو تشکیل دیتے ہیں۔ ہر تہذیب کی اپنی ساخت اور جذب کرنے کی صلاحیت ہوتی ھے، جس تہذیب میں نئے آمدہ لوگوں اور رویوں کیلئے جگہ نہیں ہوتی وہ پھل پھول نہیں سکتی۔ سندھ یا سندھو ہندوستان کی قدیم ترین تہذیب ھے، اسکی قدامت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ھے کہ لفظ ہند دراصل سندھ سے نکلا ھے اور معلوم تاریخ کیمطابق وہ ایرانی تھے جنہوں نے سندھو دریا کی نسبت سے اس سرزمین کو پہلی بار سندھو کا نام دیا جو بگڑتے بگڑتے سندھ رہ گیا۔۔

کسی بھی تمدنی تہذیب میں رسم و رواج انسانوں کے ایک دوسرے کیساتھ حقوق و فرائض کو وضع کرتے ہیں لیکن ہر دور میں زور آور اپنے حقوق تو مکمل لیتے رہے مگر طاقت کے ذور پر کچھ نا اصافیوں کا احیاء بھی کرتے رہے جو آگے چل کر”ونی اور کاری” جیسی رسمیں بنیں۔ ایسی رسموں کا اطلاق کمزور طبقات پر کرنے کیلئے طاقتوروں کو اپنے طبقے سے بے رحم مثالیں کھڑی کرنا پڑتی ہیں پھر جا کر نِچلے طبقات میں خود سپُردگی پیدا ہوتی ھے۔ رسم و رواج انسانوں میں زبان کیطرح بتدریج اترتے ہیں اور علم و آگہی انکے لیئے زھرِ قاتل ھے۔ جہل کیطرح علم و آگہی بھی جذب اور خود سپردگی کی مرہونِ منت ھے۔ جو محمدؐ رسول اللہ پچاس برس تک مکے والوں کو کچھ نہیں سکھا پائے انہیں پہلے ہی دن مدینے والوں نے خود سپردگی کر کے ناقابلِ شکست حاکم بنا دیا۔ لہذا بھٹو کی سماجی خدمات کو سمجھنے کیلئے انسانی رویوں، جبر اور خود سپردگی کے اس دلچسپ کھیل کی بنیادی سمجھ بوجھ درکار ھے۔

پہلی بات تو یہ کہ بھٹو صاحب کو سندھ نہیں بلکہ پنجاب نے وہ عظمت دی جس پر آج وہ براجمان ہیں۔ بھٹو صاحب کا انقلابی پروگرام کبھی جنم نہ لے سکتا اگر پنجاب خود سپُردگی نہ کرتا۔ دوسری طرف سندھ بڑی لچپال سرزمین ھے۔ اس ہمیشہ اپنے بیٹوں کی عزت رکھی ھے اور انہی دو صوبوں میں پیپلزپارٹی کی حکومتیں بنیں، باقی بلوچستان میں وڈیروں اور سرحد میں باچا خان کی جماعت نے حکومت بنائی۔ بات کیونکہ سماجی مسائل پر ہو رھی ھے لہذا بھٹو صاحب کی سماجی خدمات پر فوکس رکھتے ہیں تا کہ مضمون ٹریک پر رھے۔

اگر پاکستانیوں نے خود سپُردگی کی تو زوالفقار علی بھٹو نے ملک میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کر کے انہیں بھرپور جواب دیا۔ سکولوں کالجوں یونیورسٹیوں میں ناصرف تعلیم مفت کی بلکہ غریب کے بچے کو ان اداروں تک پہنچانے کا ذمہ بھی بھٹو نے اپنے سر لے لیا اسطرح اس نے علم و آگہی کی روشنی کو نچلے طبقات کی جھونپڑیوں تک پہنچا دیا۔ انکی نسل کو معاشی تحفظ دینے کیلئے اس نے ان پر پاسپورٹ کی سہولت کو حلال قرار دیا اور لاکھوں خاندانوں کو بیرون ملک محنت مزدوری کے مواقع فراہم کیئے۔ بھٹو نے اسلامی بلاک اور اسلامی بنک کی بات چھیڑ کر اسلامی سربراہی کانفرنس میں عالمی قوتوں کو اپنے خون کا پیاسہ بنا لیا مگر مشرقِ وسطیٰ، لبیا، مصر اور بیروت میں اپنے لوگوں کیلئے لاکھوں نوکریوں کا انتظام کر لیا۔ کئی دانشوروں کے نزدیک یہی کانفرنس بھٹو کو پھانسی گھاٹ تک لیگئی مگر میرے آپکے گھروں کے چولھے جلا گئی۔

مزدوروں کو تحفظ دینے کیلئے بھٹو نے ٹریڈ یونینز کو پھرپور طاقت دی اور بندہِ مزدور کی مزدوری کے اوقات 12 سے 8 گھنٹے کروائے جسکی وجہ سے آج تک سرمایہ دار اسکی جماعت کے دشمن ہیں۔ ملکیت کیبجائے سنِ بلوغت کو ووٹ کا حق بنانا، ووٹر کی عمر 21 سے 18 سال مُختص کرنا، عورتوں کی متناست نمائیندگی اور ووٹ کا باقاعدہ حق، بڑے سرمایہ دار اداروں کو قومیانہ، نیز ہر وہ کام بھٹو صاحب بے دریغ کرتے گئے جس سے عام آدمی کی زندگی میں تبدیلی آتی۔ ان خدمات کا اجر بھی ملا اور بھٹو صاحب کو 1977 کے انتخابات میں واضع برتری انہی طبقات کیوجہ سے ملی مگر عالمی سامراجی قوتیں، سرمایہ داروں سمیت ہر وہ طبقہ جسے جوتے کی نوک پر رکھ کر بھٹو صاحب نے طبقاتی نظام کو چیرا تھا اکٹھے ہو گِئے اورحقیقی تبدیلی پر کُتوں کی فوج چھوڑ دی گئی۔ وہ انقلاب جس نے ہندوانہ رسم و رواج اور معاشی نظام کی پرتیں ہلا کر رکھ دیں اسے بوٹوں تلے روند کر بھٹو کے ستائے ہووں کو کھُل کھیلنے کا موقع دیا گیا تاکہ سماجی تغیر اپنی جگہ پر واپس پلٹ آئے مگر یہ ہو نہ سکا۔

بھُٹو کی پھانسی پر جھُولتی لاش اس ملک کے غریب اور مظلوم کیلئے حُریئت و غیرت کا وہ استعارہ بن گئی جس نے وقت کے پہیے کی واپسی کا راستہ حرفِ غلط کیطرح مٹا دیا۔ بھٹو کا دور کہنے کو انسانی آزادی کے صرف چھ سال تھے مگر وہ ہندوستان کی تاریخ اور رسم و رواج کی بُنت کے چھ ہزار سالوں پر بھاری پڑ گئے۔ بھٹو صاحب نے جوتے کی ٹھوکر سے ہزاروں برس پرانے "مِٹی کے رسم و رواج” نامی برتن میں آگہی کا در بنا دیا جو لاکھ کوشش کے باوجود کوئی بند نہیں کر پایا۔ آج اگر کسی جرنیل کو سوشل میڈیاء پر گالی پڑتی ھے تو اسے گالی دینے والے پر نہیں بلکہ گالی کی جرآت دینے والے بھٹو پر غصہ آتا ھے۔ آج اگر 8 گھنٹے مزدوری اور 4 گھنٹے اوور ٹائم کی تنخواہ برابر دینی پڑتی ھے تو سرمایہ دار بھٹو کو کوستا ھے جس نے انکی جیب پر ہاتھ ڈالا۔ بھٹو کی ٹھوکر سے بنا آگہی کا در آج کعبے کا شگاف بن گیا ھے۔ اس میں سونا بھرو یا سیسہ، اگر چھپانے کی کوشش کرو گے تو یہ پھٹ جائے گا اور یہی انعام ھے ذوالفقار علی بھٹو کی خدمات کا۔ آج اسکے بدترین دشمن بھی اسکی عظمت کے گُن گانے پر مجبور ہیں۔آج بھٹو کی سوچ اپنی جڑ پکڑ چکی ھے اور سچائی کا چھپانا ممکن نہیں رہا۔ چھ برس میں اگر بھٹو صاحب ونی/کاری کو ختم نہیں کر سکے تو کیا ہوا انہی کی جماعت نے ان گھٹیا سماجی رواجوں کیخلاف قانون سازی کی ھے۔ اب اگر فون کر کے انکی اطلاع دیتے آپکی ٹانگیں کانپتی ہیں تو بھٹو صاحب تو اپنی قبر سے نکل کر تھانے اطلاع دینے سے رھے۔ ویسے بھی جب سے دشمنوں نے بھٹو صاحب کے بیوی بچوں کو انکے اردگرد سجایا ھے بھٹو صاحب جیالوں کی راہنمائی سے بے فکر ہو کر امریکہ کی لائبریریوں میں دیکھے جاتے ہیں۔

علی عبداللہ ہاشمی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • وہ خواب دکھاتے ہے ساکار نہیں کرتے
  • عشق کی اقسام
  • وہ جیسے کوہساروں میں ہوا رستہ بناتی ہے
  • فصیل دل میں در کیا کہ رابطہ بنا رہے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
بھٹو کا جیالا اور آصف زرداری
پچھلی پوسٹ
بھٹو آخر کیوں؟

متعلقہ پوسٹس

جب اپنا سایہ ہی دشمن ہے کیا کیا جائے

مئی 2, 2020

تیاری کیا ھے؟

دسمبر 15, 2024

میں تری ضد تری اوقات سے آزاد ہوئی

اکتوبر 12, 2025

منتظر ہے شام

مارچ 6, 2023

روگ پلتا رہا

نومبر 14, 2021

اک بات ضروری کرنی ہے

مارچ 17, 2020

اک پل کا سکوت

جنوری 8, 2025

ایک ایسی سوچ

جنوری 1, 2023

جنگ کا خوف اور پاکستان کا مستقبل

مارچ 15, 2026

گلستان نہیں رھا بیاباں نہیں رھا

نومبر 30, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

یادگار رات

دسمبر 22, 2024

پس موت کا امکاں ہے کرونا...

اپریل 19, 2020

جس کے ہاتھ میں تانا بانا...

اکتوبر 16, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں