خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےشلجم
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

شلجم

اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن جنوری 12, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 12, 2020 0 تبصرے 416 مناظر
417

شلجم

"کھانا بھجوا دو میرا۔ بہت بھوک لگ رہی ہے‘‘

’’تین بج چکے ہیں اس وقت آپ کو کھانا کہاں ملے گا؟

’’تین بج چکے ہیں تو کیا ہوا۔ کھانا تو بہر حال ملنا ہی چاہیے۔ آخر میرا حصہ بھی تو اس گھر میں کسی قدر ہے۔‘‘

’’کس قدر ہے۔‘‘

’’تو اب تم حساب داں بن گئیں جمع تفریق کے سوال کرنے لگیں مجھ سے‘‘

’’جمع تفریق کے سوال نہ کروں تو یہ گھر کب کا اُجڑ گیا ہوتا۔‘‘

’’کیا بات ہے آپ کی لیکن سوال یہ ہے کہ مجھے کھانا ملے گایا نہیں‘‘

’’آپ ہر روز تین بجے آئیں تو کھانا خاک ملے گا۔ میں تو یہ سمجھتی ہوں کہ اگر آپ اس وقت کسی ہوٹل میں جائیں تو وہاں سے بھی آپ کو دال روٹی نہیں مل سکے گی مجھے آپ کا یہ وطیرہ ہرگز پسند نہیں‘‘

’’کون سا وطیرہ‘‘

’’یہی کہ آپ تین بجے تشریف لائے ہیں کھانا پڑا جھک مارتا رہتا ہے میں الگ انتظار کرتی رہتی ہوں مگر آنجناب خدا معلوم کہاں غائب رہتے ہیں‘‘

’’بھئی دنیا میں انسان کو کئی کام ہوتے ہیں میں صرف دو دن ہی تو ذرا دیر سے آیا۔‘‘

’’ذرا دیر سے؟ ہر خاوند کو چاہیئے کہ وہ گھر میں بارہ بجے موجود ہو تاکہ اسے 1 بجے تک کھانا مل جائے ٗ اس کے علاوہ اسے اپنی بیوی کا تابع فرمان ہونا چاہیے اس لیے یہی بہتر ہے کہ وہ کسی ہوٹل میں جا رہے جہاں کے تمام نوکر اور بہرے اس کے تابع فرمان ہوں۔‘‘

’’آپ کا ارادہ تو یہی ہے جب ہی تو آپ کئی دن سے پر تول رہے ہیں میں آپ سے کہتی ہوں ابھی چلے جائیے۔

’’کھانا کھائے بغیر‘‘

’’جائیے ہوٹل میں آپ کو مل جائے گا۔

’’لیکن تم نے تو ابھی کہا تھا کہ اس وقت کسی ہوٹل میں بھی دال روٹی نہیں ملے گی بات کر کے بھول جاتی ہو۔‘‘

’’میرا دماغ خراب ہو چکا ہے بلکہ کر دیا گیا ہے‘‘

’’یہ تو صحیح ہے کہ تمہارا دماغ خراب ہے لیکن یہ خرابی کس نے پیدا کی‘‘

’’خدا نہ کرے تم مرد لیکن مجھے یہ تو بتاؤ میرے بغیر تمہارا گزارہ کیسے ہو گا۔‘‘

’’میں اپنی موٹر بیچ لُوں گی۔‘‘

اس سے تمھیں کتنا روپیہ مل جائے گا۔‘‘

’’چھ سات ہزار تو مل ہی جائیں گے‘‘

ان چھ سات ہزار روپوں میں تم کتنے عرصہ تک اپنا اور اپنے بال بچوں کا پیٹ پال سکو گی۔

’’میں آپ کی طرح لکھ لُٹ اور فضول خرچ نہیں آپ دیکھیے گا میں ان روپوں میں ساری عُمر گزار دُوں گی میرے بال بچے اسی طرح پلیں گے جس طرح اب پل رہے ہیں۔‘‘

’’یہ ترکیب مجھے بھی بتا دو مجھے یقین ہے کہ تمھیں کوئی ایسا منتر ہاتھ آ گیا ہے جس سے تم نوٹ دُگنے بنا سکتی ہو ہر روز بٹوے سے نوٹ نکالے ان پر منتر پھونکا اور وہ دُگنے ہو گئے۔‘‘

’’آپ میرا مذاق اُڑا تے ہیں۔ شرم آنی چاہیے آپ کو۔‘‘

’’چلو ہٹاؤ اس قصے کو۔ کھانا دو مجھے۔‘‘

’’کھانا آپ کو نہیں ملے گا۔‘‘

’’بھئی آخر کیوں میرا قصور کیا ہے؟‘‘

’’آپ کے قصور اور آپ کی خطائیں اگر میں گنوانا شروع کروں تو میری ساری عمر بیت جائے۔‘‘

’’آپ نے اور کس نے میری جان کا روگ بنے ہوئے ہیں مجھے نہ رات کا چین نصیب ہے نہ دن کا۔‘‘

’’دن کا تم چھوڑو رات کا چین آپ کو نصیب کیوں نہیں۔ بڑے اطمینان سے سوئی رہتی ہیں جیسے محاورے کے مطابق کوئی گھوڑے بیچ کر سو رہا ہو۔‘‘

’’اپنے گھوڑے بیچ کر آدمی کیسے سو سکتا ہے کتنا واہیات محاورہ ہے‘‘

’’واہیات ہی سہی لیکن ابھی چند روز ہوئے تم نے گھوڑا اور اس کے ساتھ تانگہ بھی بیچ ڈالا تھا اور اُس دن تم رات بھر خراٹے لیتی رہی تھیں۔‘‘

’’مجھے تانگہ رکھنے کی کیا ضرورت تھی، جب کہ آپ نے مجھے موٹر لے دی تھی اور خراٹے بھرنے کا الزام بھی غلط ہے۔‘‘

’’محترمہ جب آپ خواب خرگوش میں تھیں تو آپ کو کیسے پتہ چلتا کہ آپ خراٹے لیتی ہیں بخدا اس رات میں بالکل نہ سو سکا۔‘‘

’’اس کا اوّل جھوٹ اور اس کا آخر جھوٹ‘‘

’’چلیے تمہاری خاطر اب مان لیا اب کھانا دو۔‘‘

’’کھانا نہیں ملے گا آج آپ کسی ہوٹل میں جائیے اور میں یہ چاہتی ہوں کہ آپ وہیں بسیرا کر لیجیے۔‘‘

’’تم کیا کرو گی‘‘

’’میں میں مرتو نہیں جاؤں گی آپ کے بغیر‘‘

’’دیکھو بیگم اب پانی سر سے گزر چکا ہے۔ اگر تم نے کھانا نہ دیا تو میں اس گھر کو آگ لگا دُوں گا غضب خدا کا میرے پیٹ کا بھوک کے مارے بُرا حال ہو گیا ہے اور تم واہی تباہی بک رہی ہو مجھے کل اور آج ایک ضروری کام تھا اس لیے مجھے دیر ہو گئی اور تم نے مجھ پر الزام دھر دیا کہ میں ہر روز دیر سے آتا ہوں کھانا دو مجھے ورنہ۔۔۔‘‘

’’آپ مجھے ایسی دھونس نہ دیں، کھانا نہیں ملے گا آپ کو‘‘

’’یہ میرا گھر ہے میں جب چاہوں آؤں جب چاہوں جاؤں تم کون ہو کہ مجھ پر ایسی سختیاں کرو میں تم سے کہے دیتا ہوں کہ تمہارا یہ مزاج تمہارے حق میں اچھا ثابت نہیں ہو گا۔‘‘

’’آپ کا مزاج میرے حق میں تو بڑا اچھا ثابت ہوا ہے۔ دن رات کڑھ کڑھ کے میرا یہ حال ہو گیا ہے۔‘‘

’’دس پاؤنڈ وزن اور بڑھ گیا ہے بس یہی حال ہوا ہے تمہارا۔ اور میں تمہاری زُود رنج اور چڑچڑی طبیعت کے باعث بیمار ہو گیا ہوں۔‘‘

’’کیا بیماری ہے آپ کو‘‘

’’تم نے کبھی پوچھا ہے کہ میں اس قدر تھکا تھکا کیوں رہتا ہے۔ کبھی تم نے غور کیا کہ سیڑھیاں چڑھتے وقت میرا سانس کیوں پھول جاتا ہے۔ کبھی تم کو اتنی توفیق ہوئی کہ میرا سر ہی دبائیں جو اکثر درد کے باعث پھٹنے کے قریب ہوتا ہے تم عجیب قسم کی رفیقۂ حیات ہو‘‘ ’’اگر مجھے معلوم ہوتا کہ آپ ایسا خاوند میرے پلے باندھ دیا جائے گا تو میں نے وہیں اپنے گھر پر ہی زہر پھانک لیا ہوتا۔‘‘

’’زہر تم اب بھی پھانک سکتی ہو۔ کہو تو میں ابھی لا دُوں‘‘

’’لے آئیے۔‘‘

’’لیکن مجھے پہلے کھانا کھلا دو‘‘

’’میں کہہ چکی ہوں وہ نہیں ملے گا آپ کو آج‘‘

’’کل سے تو خیر مل ہی جائے گا۔ اس لیے میں کوشش کرتا ہوں‘‘

’’آپ کیا کوشش کیجیے گا۔‘‘

’’خانساماں کو بُلاتا ہوں‘‘

’’آپ اُسے نہیں بلا سکتے۔‘‘

’’کیوں؟‘‘

’’بس میں نے کہہ جو دیا کہ آپ کو ان معاملوں میں دخل دینے کا کوئی حق نہیں‘‘

’’حد ہو گئی۔ اپنے گھر میں اپنے خانساماں کو بھی نہیں بلا سکتا‘‘

’’نو کر کہاں ہے۔‘‘

’’جہنم میں‘‘

’’اس وقت میں بھی اُسی جگہ ہوں لیکن میں اس کو دیکھ نہیں پاتا ادھر ہٹو ذرا میں اسے تلاش کروں شاید مل جائے۔‘‘

’’اس سے کیا کہنا ہے آپ کو؟‘‘

’’کچھ نہیں صرف اتنا کہوں گا کہ تم علیحدہ ہو جاؤ تمہارے بدلے میں اس گھر کی نوکری خود کیا کروں گا۔‘‘

’’آپ کر چکے‘‘

’’سلام حضور بیگم صاحب سالن تیار ہے صاحب لگا دُوں ٹیبل پر‘‘

’’تم دُور دفعان ہو جاؤ یہاں سے‘‘

’’لیکن بیگم صاحب آپ نے صبح جب خود باورچی خانے میں شلجم پکائے تو وہ سب کے سب جل گئے کہ آنچ تیز تھی اس کے بعد آپ نے آرڈر دیا کہ صاحب دیر سے آئیں گے اس لیے تم جلدی جلدی کوئی اور سالن تیار کر لو سو میں نے آپ کے حکم کے مطابق دو گھنٹوں کے اندر اندر دو سالن تیار کر لیے ہیں اب فرمائیں ٹیبل لگا دوں دونوں انگیٹھیوں پر دھرے ہیں ایسا نہ ہو آپ کے شلجموں کی طرح جل کر کوئلہ ہو جائیں۔ میں جاتا ہوں آپ جب بھی آرڈر دیں گی خادم ٹیبل لگا دے گا۔‘‘

’’تو یہ بات تھی۔‘‘

’’کیا بات تھی میں اتنی دیر تک باورچی خانے کی گرمی میں جھلستی رہی اس کا آپ کو کچھ خیال ہی نہیں آپ کو شلجم پسند ہیں تو میں نے سوچا خود اپنے ہاتھ سے پکاؤں کتاب ہاتھ میں تھی جس میں ساری ترکیب لکھی ہوئی تھی۔ کتاب پڑھتے پڑھتے میں سو گئی اور وہ کم بخت شلجم جل بھُن کر کوئلہ بن گئے۔ اب اس میں میرا کیا قصور ہے۔‘‘

’’کوئی قصور نہیں‘‘

’’چلیے میرے پیٹ میں چوہے دوڑ رہے ہیں‘‘

’’یہاں تو بڑے بڑے مگر مچھ دوڑ رہے ہیں‘‘

’’ہر بات میں مذاق‘‘

’’مذاق برطرف ذرا ادھر آؤ میں تمہارے شلجم دیکھنا چاہتا ہوں کہیں وہ بھی کوئلہ نہیں بن گئے‘‘

’’کھانا کھانے کے بعد دیکھا جائے گا‘‘

٭٭٭

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • 27ویں ترمیم اور وفاقی آئینی عدالت
  • ابابیل
  • تماشا
  • آہ! اب تو خون کی آتی ہے بُو کشمیر میں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
رتی، ماشہ، تولہ
پچھلی پوسٹ
برف باری سے پہلے

متعلقہ پوسٹس

آرامشِ سپید

نومبر 30, 2024

شمعِ اَخْلَاقِيَّت کا اجالا

جنوری 27, 2025

ممکن ہی نہیں میرا مسلماں ہونا!

نومبر 4, 2020

زندگی کی فلاسفی

جنوری 5, 2022

نہ سنوائی، نہ تحفظ

اگست 15, 2025

تقی کاتب

جنوری 28, 2020

شبِ نیلوفر

دسمبر 13, 2024

حاملہ خواتین اور غذائی مشکلات

جولائی 13, 2025

نظام عدل

جولائی 19, 2020

تصنیف وتالیف کی اہمیت

نومبر 15, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

استخارہ

مارچ 15, 2026

مختصر سیرتِ رسولﷺ

مارچ 10, 2026

لیلۃ القدر – ایک رات اور پوری زندگی

مارچ 9, 2026

صدقۂ فطر کی حکمت و اہمیت

مارچ 9, 2026

اعتکاف احکام اور آداب

مارچ 9, 2026

اردو شاعری

بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

مارچ 17, 2026

ماورا ہے سوچوں سے

مارچ 17, 2026

گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد...

مارچ 17, 2026

نشے میں ہم ہیں مگر

مارچ 17, 2026

یہ مرے گھر کے تین چار درخت

مارچ 17, 2026

اردو افسانے

عید کا ادھورا وعدہ اور لفظوں کا مصور

مارچ 17, 2026

دہلیز کا آخری وعدہ

مارچ 9, 2026

آدھی عورت آدھا خواب

جنوری 14, 2026

طوائف کون؟

جنوری 14, 2026

لمس

جنوری 12, 2026

اردو کالمز

سوچتے رہو، جیتے رہو

مارچ 18, 2026

اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

مارچ 17, 2026

میڈیا کا اثر اور ہماری سوچ تحریر

مارچ 17, 2026

کردار، کردار نگاری اور تخلیقیت

مارچ 16, 2026

امن بورڈ یا امن سے اکتاہٹ؟

مارچ 16, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • نشے میں ہم ہیں مگر

    مارچ 17, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

میں ایک مرتبہ

نومبر 26, 2020

مرثیے اور قصیدے کی مشترک جہتوں...

جنوری 1, 2023

آرٹسٹ کی موت

دسمبر 8, 2023
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں