خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اختصاریئےمائکرو فکشن (5 کہانیاں)
اختصاریئےاردو تحاریرشہزاد نیّرؔ

مائکرو فکشن (5 کہانیاں)

از سائیٹ ایڈمن جولائی 9, 2024
از سائیٹ ایڈمن جولائی 9, 2024 0 تبصرے 50 مناظر
51

“دو ہزار بندے”

استاد بندے علی خاں آنکھیں بند کیے سر سمندر میں ڈوبے ہوئے تھے۔ ٹھمری کی تانیں سامعین پر سحر طاری کر رہی تھیں۔ واہ واہ، سبحان اللہ کے نعرے بلند ہو رہے تھے۔ سازندوں نے جیسے سازوں میں جادو بھر لیے تھے۔ وہ استاد کی طرف دیکھتے ہوئے انگلیوں کو سروں کی رفاقت میں جنبش دے رہے تھے۔

رات کے سناٹے میں سماں بندھا ہوا تھا کہ اچانک پچھلی قنات کھل کر سٹیج پر آ گری۔ اس پر پاؤں رکھتے ہوئے کئی آدمی نعرۂ تکبیر بلند کرتے سٹیج پر آ دھمکے۔ ان کے سروں پر ٹوپیاں اور ہاتھوں میں ڈنڈے تھے۔ سب سے آگے لمبی داڑھی والا لمبا تڑنگا شخص تھا۔ اس نے استاد بندے علی خاں کے سامنے والے مائک کو زور سے ڈنڈا مارا جس کی آواز لاؤڈ سپیکر پر پورے پنڈال میں گونج گئی۔ حاضرین میں کھلبلی مچ گئی۔ وہ سراسیمہ ہو کر تیز تیز قدموں سے باہر جانے لگے۔

ادھر سٹیج پر عجیب دھما چوکڑی مچی۔ طبلہ نواز نے پہلے تو طبلے کے پیچھے چھپنا چاہا پھر اس اوٹ کو ناکافی جان کر ہاتھوں اور گھٹنوں پر چلتے ہوئے نیچے لڑھک گیا۔ ایک حملہ آور نے ستار کو ڈنڈا مارا جو پھسل کر ستار نواز کے گھٹنے پر جا لگا۔ اس کی چیخ بلند ہوئی اور وہ وہیں لوٹ پوٹ ہو گیا۔ ہارمونیم والا پہلے ہی ہارمونیم چھوڑ، گری ہوئی قنات والے رستے سے فرار ہو چکا تھا۔ سرمئی ٹوپی اور ہلکی ڈاڑھی والے نوجوان نے ہارمونیم اٹھا کر سامعین کی طرف اچھال دیا۔ ایک لٹھ بردار نے سارنگی نواز کی گود سے سارنگی نوچ کر اس کے سر پر دے ماری۔

بندے علی خاں پہلے تو سکتے کے عالم میں بیٹھے رہے پھر پیرانہ سالی کے باوجود تیزی سے اٹھے اور سٹیج سے اتر کر اندھیرے میں غائب ہو گئے۔

سروں کی مالا بکھر چکی تو حملہ آور پنڈال میں گھس آئے۔ جتنی کرسیاں میزیں زمین پر پٹخ پٹخ کر توڑ سکے، توڑ دیں۔ گلدستوں سے کھینچ کر پھول زمین پر بکھیر دیے۔ پھر اکٹھے ہو کر چند نعرے لگائے اور اطمینان سے چلے گئے۔

کچھ دیر بعد محفل موسیقی کا منتظم تھانے میں رپورٹ لکھوا رہا تھا۔
” کتنے لوگوں نے حملہ کیا؟“ تھانے دار نے پوچھا
” دس پندرہ بندے ہوں گے جناب“
” صرف دس پندرہ! اور حاضرین کی تعداد؟“
” تقریباً دو ہزار بندے“ منتظم نے مختصر جواب دیا۔

*** ***

“تقویٰ”

آدھی رات کو سندھ کا پانی کسی خونی شیر کی طرح دھاڑتا بستی میں داخل ہو گیا۔ کچھ اور اٹھانے کا تو وقت نہیں تھا، سب نے بچے اٹھائے اور ٹیلے کی طرف بھاگ پڑے۔

دن چڑھا تو بھوک دکھائی دینے لگی۔ رنکل کماری کو چاروں طرف پانی کے سوا کچھ نظر نہ آیا تو وہ رونے لگی۔ دیکھا دیکھی سب بچے دردناک آواز میں رونے لگ پڑے۔ بڑوں نے پہلے تو بچوں کو بہلانے کی ناکام کوشش کی پھر سب مل کر آسمان پر بیٹھے بھگوان کو پکارنے لگے۔

دن ڈھلے، دور ایک کشتی دکھائی دی جو آہستہ آہستہ ٹیلے کی طرف بڑھ رہی تھی۔ کشتی کی نوک پر کسی مذہبی تنظیم کا جھنڈا لہرا رہا تھا۔ قریب پہنچ کر ایک نوجوان نے رسا پھینکا جسے جمنا داس نے دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیا اور کھینچ کر کشتی کو نزدیک کرنے لگا۔ ایک دم دیگ میں پکے چاولوں کی خوشبو ٹیلے پر پھیل گئی۔

”بھگوان تمھارا بھلا کرے، بچوں نے صبح سے کچھ نہیں کھایا“

یہ سنتے ہی نوجوان نے پاس کھڑی پوجا دیوی کے ماتھے کا تلک دیکھا اور مڑ کر کشتی کے پچھلے حصے میں چلا گیا۔ وہاں وہ کسی سے بات چیت کرتا رہا۔ ادھر ٹیلے پر موجود انسانوں کے چہروں پر پھیلی خوشی کی دھوپ انتظار کے سائے میں بدلنے لگی۔ وہ تصور ہی تصور میں لذیذ چاولوں کے نوالے نگلنے لگے۔

نوجوان لمحہ بھر کو کشتی کے اگلے حصے پر آیا اور جھٹکے سے رسا واپس کھینچ لیا۔ اس نے جمنا داس کو بتا دیا کہ لوگ انہیں جو امدادی رقم دیتے ہیں اس میں زکٰوۃ بھی شامل ہوتی ہے جو غیر مذہب لوگوں کو نہیں دی جا سکتی۔ اس نے مزید کہا کہ لوگوں کی دی ہوئی زکٰوۃ مقدس امانت ہے اور وہ کسی صورت بھی اس میں خیانت نہیں کر سکتے۔

اس سے پہلے کہ جمنا داس کچھ کہتا، کشتی ذرا پیچھے ہوئی اور رخ بدل کر دور ہونے لگی

*** ***

“اینٹ اور مسجد”

بازار میں شانِ رسالت کا جلوس نکلا ہوا تھا۔ سبز جھنڈے اُٹھائے رنگ برنگی پگڑیوں والے سیکڑوں لوگ ہاتھ اُٹھا اُٹھا کر نعرے لگا رہے تھے۔ کئی ٹولیوں کے پاس میگا فون تھے اور ان میں خوش الحان بچے منقبت پڑھ رہے تھے۔ بیچ بیچ میں نعرے بلند ہونے لگتے اور جلوس آگے روانہ ہو جاتا۔

چلتے چلتے جلوس جب ایک بڑی جامع مسجد کے سامنے پہنچا تو اندر سے امام صاحب اور کئی افراد پھولوں کے ہار لے کر نکلے اور جلوس کے رہنماؤں کو پہنا دیے۔ ایک ہار امام صاحب نے اپنے گلے میں ڈالا اور ہراول دستے میں شامل ہو کر آگے آگے چلنے لگتے۔

پیچھے ایک ٹولی نے شربت فروش کی ریڑھی پر ہلہ بول دیا۔ جلوس میں شامل نوجوان خود ہی گلاس بھر بھر کر شربت پینے لگے۔ چھینا جھپٹی میں کئی گلاس ٹوٹے اور شربت زمین پر گرتا رہا۔

تھوڑی دور جا کر جلوس ایک دوسری مسجد کے سامنے رک گیا۔ نعرے اچانک فلک شگاف ہو گئے۔ جلوس کے شرکا میں نیا جوش بھر گیا۔ پہلی مسجد کے امام صاحب نے دوسری مسجد کے طرف ہاتھوں کے اشارے کر کر کے منکرینِ شانِ رسالت کے خلاف خوب نعرے لگوائے۔ اچانک اُس مسجد کا لاؤڈ سپیکر آن ہونے کی آواز آئی اور ایک کرخت آواز گونجی ”یہ جلوس والے آگے چلے جائیں، ہماری نماز کا وقت ہونے والا ہے“ ۔ اِس پر جلوس نے مزید جوش و خروش سے نعرے لگانے شروع کر دیے۔ کچھ جذباتی نوجوان، جن کی پہلی پہلی داڑھیاں نکلی تھیں، مسجد کے دروازے پر پہنچ گئے اور بند دروازے کو دھکے دینے لگے۔ دروازہ مضبوط تھا، نہ کھُلا نہ ٹوٹا۔ نوجوانوں نے مسجد کا بورڈ اتار کر توڑ دیا اور چندے والی صندوقچی اُکھاڑ لی۔ ایک نوجوان صندوقچی سر سے بلند کر کے نعرے لگانے لگا۔ اسی دوران مسجد کے اندر سے چند اینٹیں آ کر جلوس پر گریں۔ جلوس کے شرکاء نے بھی اینٹ کا جواب پتھر سے دیا اور بہت سے پتھر مسجد کے اندر گرنے لگے۔ دکان داروں نے پتھراؤ اور لوٹ مار کے خوف سے دکانیں بند کر دیں۔

پھر پولیس کی گاڑیوں کے سائرن سنائی دینے لگے۔
جلوس آرام سے نعرے لگاتا ہوا آگے بڑھ گیا اور پولیس نے ایک فاصلے سے جلوس کے آگے آگے چلنا شروع کر دیا۔

*** ***

“اولادِ مادینہ”

”کیا؟“
اس کی حیرت دیدنی تھی!
” وہی جو میں نے کہا“
اور وہ چپ کا چپ رہ گیا
ہفتوں ریڈیو پر اس کا اشتہار سنتا رہا تھا میں۔
” اولاد نرینہ۔ صرف بیٹا ہو گا۔“ وغیرہ وغیرہ۔
” حکیم جی میرے تین بیٹے ہیں۔ اب بیٹی چاہتا ہوں۔
کیا اس کی بھی کوئی دوا ہے آپ کے پاس؟ ”

*** ***

“چارج”

جانے والا، آنے والے کو سب کچھ تفصیل سے بتا رہا تھا۔

کس بستی میں جرائم پیشہ لوگ آباد ہیں۔ کس محلے میں کون منشیات کا کاروبار کرتا ہے۔ تھانے کے لیے ماہانہ رقم کس طرح اور کہاں کہاں سے آتی ہے۔ دھندا کرنے والی عورتیں کتنی ہیں اور کس کس گاؤں کی ہیں۔

آنے والا سر کی معمولی جنبش اور معمول کی سنجیدگی سے سنتا رہا۔

جانے والے نے مقدموں، حوالاتیوں، بستہ “الف” اور “ب” کے بدمعاشوں، علاقے کے چودھریوں اور بارسوخ لوگوں کی تفصیلات بتائیں۔ اسلحہ خانے اور مال خانے کا چارج ہو چکا تو دونوں تھانیدار چائے پینے لگے۔

آنے والے نے سرسری انداز میں پوچھا ”یہ تھانے کے دروازے کے سامنے سڑک کے پار بیٹھا بوڑھا سا شخص کون ہے؟“ ۔

جانے والے نے ہنستے ہوئے بتایا ”ساتھ والے گاؤں کا ہے۔ ہر روز صبح سویرے آ جاتا ہے۔ کپڑا تان کر سائبان سا بناتا ہے۔ بیٹھا تھانے کے دروازے کو گھورتا رہتا ہے۔ پھر اچانک اٹھ کر دونوں ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر لیتا ہے۔ کبھی آسمان پر مکے برسانے، ہوا میں تلواریں چلانے لگتا ہے۔ کبھی دردناک آواز میں روتے ہوئے مٹی اٹھا کر ہوا میں اڑاتا اور سر میں ڈالتا ہے۔ تھک جائے تو بیٹھ کر زمین پر لکیریں کھینچنے لگتا ہے۔

آنے والے نے حیران ہو کر پوچھا ”پاگل ہے؟“

” نہیں، کئی سال پہلے اس کا جوان اکلوتا بیٹا کسی جھگڑے میں ملک صاحب کے بیٹے کے ہاتھوں قتل ہو گیا تھا۔ ملک صاحب نے کہہ دیا کہ ایف آئی آر نہیں کٹنی چاہیے۔ اس وقت کے تھانے دار نے دھوکے سے معافی نامے پر انگوٹھے لگوا لیے۔ تب سے اس کا دن یہیں گزرتا ہے۔ بالکل بے ضرر ہے۔ ہمارے کسی کام میں رکاوٹ نہیں ڈالتا بلکہ سڑک بھی پار نہیں کرتا“ ۔

آنے والے کی آنکھوں میں سوچ کی پرچھائیں دیکھ کر جانے والا مسکرایا
” یار پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ یہی سمجھ لو کہ اسے بھی تمھارے چارج میں دے کر جا رہا ہوں“ ۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • آخر ہونے کیا جا رہا ہے؟
  • جال
  • کیا پاکستان میں تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں؟
  • الزامات کا سیاست سے گہرا تعلق!
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
خلیفہ اول
پچھلی پوسٹ
احمد ندیم قاسمی

متعلقہ پوسٹس

صرف دعا فرما دیں

اکتوبر 19, 2019

خورشٹ

جنوری 31, 2020

عظمت صحابہ

نومبر 20, 2025

بلوچستان: واپسی کا سفر شروع

اکتوبر 24, 2021

دیسی لائف ان کینیڈا

جون 6, 2024

ایک بے بس کشمیری

مارچ 28, 2022

شیخ خالد زاہد

جولائی 18, 2023

آخری سیلیوٹ

اکتوبر 29, 2019

ٹماٹر اور ڈاکٹر ۔ مماثلت و مخاصمت

مارچ 6, 2022

پردہ فاش

جنوری 24, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

میں سوچتا تو وہ غم میرے...

اکتوبر 27, 2020

جمالیاتی اظہار کی روح

دسمبر 7, 2024

فوج پر تنقید : پاکستان کے...

ستمبر 16, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں