خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباحرفِ تسلی
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو تراجم

حرفِ تسلی

تحریر: آر کے نرائن( بھارت) مترجم: رومانیہ نور (ملتان)

از انجلاء ہمیش جنوری 24, 2020
از انجلاء ہمیش جنوری 24, 2020 0 تبصرے 429 مناظر
430

حرفِ تسلی
تحریر: آر کے نرائن( بھارت)
مترجم: رومانیہ نور (ملتان)
لوگ ان کے پاس بیمار کو تبھی لاتے جب وہ جاں بلب ہوتا۔ ڈاکٹر رمن اکثر غصے سے پھٹ پڑتے” تم ایک دن پہلے کیوں نہیں آ سکتے تھے” وجہ صاف ظاہر تھی۔ ایک تو پچیس روپے ڈاکٹر کی ملاقات کی بھاری فیس اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ کوئی بھی اس حقیقت کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہ ہوتا کہ مریض کا آخری وقت آن پہنچا ہے اور اب ڈاکٹر رمن سے رجوع کیا جائے۔
آخری دم اور ڈاکٹر رمن ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہو گئے تھے۔ نتیجتاً جب بھی کوئی مریض ان کے پاس آتا تو فوری طور پر آر یا پار کا فیصلہ کرنا ہوتا تھا۔ تب لگی لپٹی اور حیلے بہانے کی کوئی گنجائش نہ نکلتی تھی۔ طویل مدت کے اس وسیع تجربے نے ڈاکٹر کے رویے میں ایک قسم کی سچائی اور دیانتداری بھر دی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی رائے کو قدر و اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ ان کی حیثیت محض رائے دینے والےایک ڈاکٹر کی نہیں رہی تھی بلکہ وہ ایک جج بن گئے تھے جو فیصلہ سناتا ہے۔ مریض کی زندگی ان کے لفظوں میں معلق ہوتی تھی۔ اس بات سے ڈاکٹر رمن بلا ضرورت فکر مند نہیں ہوتے تھے۔ ان کا اس بات پر قطعی یقین نہیں تھا کہ خوشنماالفاظ زندگی بچا سکتے ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ یہ ان کا منصب نہیں کہ اُس حقیقت کے متعلق خوامخواہ کی تسلیاں دلاسے دے جسے قدرت خود چند گھنٹوں میں آشکارا کرنے والی ہے۔ تاہم جب انھیں امید کی ہلکی سی کرن بھی نظر آتی تو وہ کمر کس کے تیار ہو جاتے، آستینیں اوپر چڑھاتے اور میدان میں کود پڑتے، پھر چاہے اس کوشش میں گھنٹے لگتے یا دن بیت جاتے وہ اس وقت تک ہار نہ مانتے جب تک مریض کو موت کے منہ سے نکال نہ لیتے۔
آج ایک مریض کے سرہانے کھڑے ڈاکٹر کو شدت سے اس ضرورت کا احساس ہوا کہ کوئی ہو جو جھوٹے لفظوں سے ہی سہی ان کی ڈھارس بندھائے۔ انہوں نے رومال سے ماتھے پر آیا پسینہ پونچھا اور بستر کے پاس رکھی کرسی پر بیٹھ گئے۔ بستر پر اس کا جگری یار گوپال لیٹا ہوا تھا۔ ان کی جان پہچان جو کہ کنڈر گارٹن کے ایام سے شروع ہوئی تھی کو اب چالیس برس کا عرصہ بیت گیا تھا۔ اب جی بھر کر ان کی ملاقات نہیں ہوتی تھی۔ ہر کوئی اپنی خانگی اور پیشہ وارانہ زندگی میں الجھا ہوا تھا۔ عموماً اتوار کو گوپال انتظار گاہ میں داخل ہوتا اور ایک کونے میں لگ کر خاموشی سے ڈاکٹر کی فراغت کا انتظار کرتا۔ اور پھر وہ دونوں مل کر کھانا کھاتے، پکچر دیکھتے اور ایکدوسرے کی زندگی اور سرگرمیوں کے متعلق گپ شپ کرتے رہتے۔ زمان و مکان کی وسعتوں اور تبدیلیوں سے مبرا یہ ایک مثالی دوستی تھی۔
اپنی زندگی کے مصروف دائرۂ کار میں ڈاکٹر رمن نے دھیان ہی نہ دیا کہ پچھلے تین مہینوں سے گوپال نے چکر نہیں لگایا۔ انھیں یہ تب یاد آیا جب انھوں نے انتظار گاہ میں گوپال کے بڑے بیٹے کو ایک بینچ پر بیٹھے دیکھا۔ ڈاکٹر رمن کی ایک گھنٹے تک اس سے بات نہ ہو سکی۔ جب وہ آپریشن تھئیٹر میں جانے کے لئے اٹھے تو ننھے لڑکے کو مخاطب کیا ” ہاں بھئ جوان تم یہاں کس لئے آئے ہو؟” لڑکا خاصا مضطرب اور شرمیلا تھا اس نے جھینپ کر جواب دیا ” ماں نے مجھے یہاں بھیجا ہے۔”
” میں تمہارے لئے کیا کر سکتا ہوں؟”
”ابّا بیمار ہیں۔۔۔”
یہ آپریشن کا دن تھا اور وہ سہ پہر تین بجے تک فارغ نہ تھے۔
کلینک سے وہ سیدھے لالی ایکسٹینشن اپنے دوست کے گھر لپکے۔
گوپال غنودگی کے عالم میں بستر پر پڑا تھا۔ ڈاکٹر اس کے سرہانے جا کھڑے ہوئے اور اس کی بیوی سے دریافت کیا
” اسے صاحبِ فراش ہوئے کتنا عرصہ ہو گیا؟”
” ڈیڑھ مہینہ ہو گیا ڈاکٹر صاحب!”
” اس کا علاج کون کر رہا ہے؟”
” اگلی گلی میں ایک ڈاکٹر رہتا ہے وہ ہر تیسرے دن آتا ہے اور دوا دے جاتا ہے۔”
” اس کا نام کیا ہے؟”
وہ نام اس نے کبھی نہیں سنا تھا۔ ” میں اسے نہیں جانتا مگر میری خواہش ہے کہ مجھے دینے کے لئے اس کے پاس کوئی اچھی خبر ہو۔ آپ نے پہلے ہی مجھے پیغام کیوں نہ بھیجا؟”
” ہم نے سوچا آپ بہت مصروف ہوں گے اس لئے غیر ضروری طور پر آپ کو زحمت دینا مناسب نہ سمجھا۔” اس نے معذرت خواہانہ اور دکھی لہجے میں کہا
کھونے کے لئے اب کوئی وقت نہیں بچا تھا۔ انھوں نے اپنا کوٹ اتارا، بیگ کھولا ،ایک سرنج نکالی اور چولھے پر سوئی کی جراثیم کُشی کی۔ مریض کی بیوی ایک کونے میں متذبذب کھڑی تھی اور کچھ پوچھنے کی سعی میں ہچکچا رہی تھی۔
” براہِ مہربانی کوئی سوال مت پوچھو” ڈاکٹر نے کرختگی سے کہا۔ اس نے بچوں پر نظر ڈالی جو جراثیم کُشی کے عمل کو دیکھنے میں محو تھے۔ وہ بولے
” بڑے لڑکے کے سوا ان سب کو یہاں سے کہیں اور بھیج دو”
انھوں نے ٹیکہ لگایا اور دوبارہ اپنی نشست پر یٹھ گئے اور ایک گھنٹے تک مریض کے چہرے کا جائزہ لیتے رہے۔ مریض تاحال بے سُدھ لیٹا ہوا تھا۔ ڈاکٹر کے چہرے پر پسینہ چمک رہا تھا اور آنکھیں نیند سے مندنے لگی تھیں۔ مریض کی بیوی کونے میں کھڑی خاموشی سے تک رہی تھی۔ اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا ” آپ کے لئے کافی بناؤں؟”
” نہیں”
حالانکہ دن کا کھانا چھوٹ جانے سے وہ بھوک سے بے حال تھے۔ وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور کہا ” میں کچھ ہی دیر میں لوٹ آؤں گا۔ اسے کسی بھی قیمت پر بے آرام نہ کرنا۔” انھوں نے اپنا بیگ اٹھایا اور گاڑی میں چلے آئے۔ پندرہ منٹ کے بعد وہ ایک معاون اور نرس کے ساتھ پلٹ آئے۔ ڈاکٹر نے گھر کی مالکن کو بتایا ” مجھے ایک آپریشن کرنا پڑے گا”
” کیوں، کیوں؟ کیوں؟” اس نے حواس باختہ ہو کر پوچھا ۔
” جلد ہی میں آپ کو سب کچھ بتا دوں گا۔ کیا آپ بڑے لڑکے کو ہماری مدد کے لئے یہاں چھوڑ کر کسی پڑوسی کے گھر چلی جائیں گی جب تک کہ میں نہ آپ کو بلاؤں؟”
خاتون کو چکر آگیا۔ وہ بے ہوش ہو کر زمین پر گرنے لگی۔ نرس نے اسے سنبھالا اور باہر لے جانے میں مدد کی۔
شام کے آٹھ بجے کے قریب مریض نے آنکھیں کھولیں اور بستر پر ہلکی سی کروٹ لی۔ معاون خوش ہو گیا۔ اس نے پر جوش انداز میں کہا ” سر! وہ اب ٹھیک ہو جائیں گے۔” ڈاکٹر نے اسے سرد مہری سے دیکھا اور سرگوشی کی ” میں اسے خطرے سے باہر لانے کی ہر ممکن کوشش کروں گا مگر یہ دل کا معاملہ۔۔۔۔”
” سر نبض میں بھی بہتری آئی ہے”
”ہاں ہاں” ڈاکٹر بولا ” اس پر اعتبار مت کرو۔ یہ صرف ایک دھوکہ ہے اور ایسے معاملات میں یہ معمول کی بات ہے۔ انھوں نے چند ثانیے غور و فکر کیا اور پھر بات جاری رکھی ” اگر تو نبض صبح آٹھ بجے تک چلتی رہتی ہے تو یہ آئندہ چالیس سال تک بھی چلتی رہے گی۔ لیکن مجھے اندیشہ ہے کہ یہ آج رات دو بجے کے بعد بھی چلتی رہے گی۔”
انھوں نے معاون کو رخصت کر دیا اور خود مریض کے پاس بیٹھ گئے۔ گیارہ بجے کے قریب مریض نے آنکھیں کھولیں اور اپنے دوست کو دیکھ کر مسکرایا۔ اس کی حالت میں معمولی بہتری آئی تھی۔ اس نے کھانے کو بھی کچھ مانگا۔ اہلِ خانہ میں خوشی اور اطمینان کی لہر دوڑ گئی۔ اظہارِ تشکر کے لئے ڈاکٹر کے گرد ان کی بِھیڑ جمع ہو گئی۔ مریض کے چہرے کو مسلسل تکتے ہوئے وہ بستر کے پاس اپنی نشست پر بیٹھ گئے۔ ان کے چہرے پر ایسے آثار تھے جیسے وہ اپنے ارد گرد کی آوازوں کو بالکل نہ سن رہے ہوں۔
دوست کی بیوی نے استفسار کیا
” کیا اب وہ خطرے سے باہر ہیں؟”
اپنے سر کو جنبش دئیے بنا ڈاکٹر بولے” ہر چالیس منٹ کے بعد اسے گلو کوز اور برانڈی کے دو دو چمچ پلاؤ۔”
خاتون باورچی خانے کی جانب بڑھ گئی۔ وہ بے چین تھی۔ جو بھی سچ تھا وہ جاننا چاہتی تھی۔ ” یہ ڈاکٹر صاحب اس قدر ٹال مٹول سے کام کیوں لے رہے ہیں۔ ” تجسس ناقابلِ برداشت ہو گیا تھا۔ ” شاید وہ مریض کے پاس بات نہ کر سکتے ہوں۔”
اس نے اشارے سے ڈاکٹر کو باورچی خانے کے دروازے پر بلایا۔ ڈاکٹر اٹھ کر وہاں چلے آئے۔
اس نے پوچھا ” اب ان کی حالت کیسی ہے؟” ڈاکٹر نے زمین پر نظریں گاڑتے ہوئے اپنے ہونٹ چبائے اور جواب دیا ” زیادہ جذباتی مت ہوں جب ضرورت ہوئی آپ کو اس کے متعلق آگاہ کر دیا جائے گا۔ اب زیادہ سوال نہ کریں۔ اس کی آنکھیں دہشت سے پھیل گئیں۔ دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کرتے ہوئے اس نے پوچھا ” مجھے سچ بتائیے” ڈاکٹر نے جواب دیا ” میں آپ سے مزید کوئی بات نہیی کرنا چاہتا” وہ رخ پھیر کر چل دئیے اور دوبارہ مریض کے سرہانے آ کر بیٹھ گئے۔ گھر کے سنّاٹے میں سسکیاں گونجنے لگیں۔ مریض نے کروٹ بدلی اور اس وحشت زدہ ماحول کو دیکھا۔ڈاکٹر پھر سے اٹھے ، باورچی خانے کے دروازے پر گئے اور احتیاط سے دروازہ بند کر دیا۔ اور یوں واویلے کا شور تھم گیا۔
جب ڈاکٹر اپنی نشست پر پلٹے تو مریض نے نحیف آواز میں پوچھا ” کیا کوئی رو رہا ہے؟”
ڈاکٹر نے اسے ہدایت کی ” اپنے ذہن پر زیادہ زور مت ڈالو۔ تمھیں زیادہ بات نہیں کرنی چاہئے۔” انہوں نے نبض دیکھی۔ دباؤ سے پہلے ہی فشار بلند ہو گیا تھا۔ مریض نے پوچھا ” کیا میں جا رہا ہوں؟ مجھ سے کچھ مت چھپاؤ” اس بات پر ڈاکٹر نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور دوبارہ کرسی پر بیٹھ گئے۔ انھیں کبھی بھی ایسی صورت حال کا سامنا نہیں رہا تھا۔ سر نگوں ہونا ان کی فطرت میں نہیں تھا۔ اسی وجہ سے لوگ ان کے الفاظ کی قدر کرتے تھے ۔
انھوں نے مریض پر اک نگاہ ڈالی۔ مریض نے انگلی کے اشارے سے انھیں قریب بلایا اور سر گوشی میں کہا ” میں جاننا چاہتا ہوں کہ میں کب تک جی پاؤں گا۔ مجھے وصیت پر دستخط کر دینے چاہئیں یہ بالکل تیار رکھی ہے۔ میری بیوی سے کہئے کہ اسے اٹھا لائے۔ آپ کو بطورِ گواہ دستخط کرنا ہوں گے۔
” اوہو! ڈاکٹر نے کہا ” تم اپنے آپ پر بہت زور ڈال رہے ہو۔ تمھیں پر سکون رہنا چاہئیے۔ یہ بات دہراتے ہوئے انھوں نے خود کو احمق تصور کیا۔ ” کتنا اچھا ہوتا میں اس سارے قضئیے سے بچ کر ایسی جگہ چلا جاؤں جہاں مجھ سے کوئی سوال و جواب نہ ہو۔” اپنی کمزور انگلیوں سے مریض نے ڈاکٹر کی کلائی تھام لی اور بولا ” رامو! میری خوش نصیبی ہے کہ اس سمے تم میرے پاس ہو۔ مجھے تمہاری بات کا یقین ہے۔ میں اپنی جائیداد کو بلا انتظام و انصرام نہیں چھوڑ سکتا۔ ایسا کرنے کا مطلب میرے اہل و عیال کے لئے لا متناہی مشکلات کا سامنا ہو گا۔ تم سبھیا اور اس کے غنڈوں کے متعلق تو جانتے ہی ہو۔ مجھے دستخط کرنے دو اس سے قبل کہ بہت دیر ہو جائے۔
” ہاں مجھے بہت اچھی طرح معلوم ہے” ڈاکٹر نے جواباً کہا۔ وہ اپنی گاڑی کی طرف چلے آئے اور عقبی نشست سے ٹیک لگا لی۔ انھوں نے اپنی گھڑی پر نگاہ دوڑائی۔ آدھی رات کا وقت تھا۔ اگر وصیت پر دستخط کرنا تھے تو آئندہ دو گھنٹوں میں یہ کام ہو جانا چاہئیے تھا ورنہ پھر کبھی نہ ہو پاتا۔ وہ کسی قسم کی بد نظمی نہیں چاہتے تھے۔ وہ خاندانی معاملات اور ان بھیڑیوں سبھیا اور اس کے گروہ کے متعلق اچھی طرح جانتے تھے۔ لیکن وہ کیا کریں۔ اگر وہ دستخط کے لئے کہتے ہیں تو اس کا مطلب موت کا پروانہ جاری کرنا ہو گا۔ لمحے کے ہزارویں حصے میں مریض کی بقاء کے امکانات معدوم ہو جائیں گے۔ وہ گاڑی سے اتر آئے اور گھر کے اندر داخل ہو گئے۔ انھوں نے کرسی پر اپنی نشست سنبھال لی۔ مریض ملتجی نظروں سے انھیں دیکھنے لگا۔ انھوں نے خود کلامی کی ” اگر میرے بول اس کی جان بچا سکتے ہیں تو وہ زندہ رہے گا۔ وصیت گئی بھاڑ میں۔ ”وہ مخاطب ہوئے
”سنو گوپال!
یہ پہلی دفعہ تھا کہ وہ کسی مریض سے ناٹک کر رہے تھے اور جھوٹ بول کر اپنی رائے چھپا رہے تھے۔ وہ مریض کے اوپر جھک گئے اور بھر پور تاکیدی انداز سے کہا” اب وصیت کی فکر چھوڑ دو۔ تم جیو گے۔ تمہارا دل بالکل ٹھیک ٹھاک ہے۔” جونہی مریض نے یہ سنا اس کے چہرے پر طمانیت کی لہر دوڑ گئ۔ اس نے مطمئین لہجے میں پوچھا ” تم نے یہ کیا کہا ہے؟” اگر یہ بات تمہارے منہ سے نکلی ہے تو یہ سچ کے سوا کچھ نہیں۔”
ڈاکٹر نے کہا ” بالکل سچ۔ تم لمحہ بہ لمحہ بہتری کی جانب گامزن ہو۔ پر سکون ہو کر سو جاؤ۔ تمھیں بھر پور نیند لینی چاہئیے۔ میں تمھیں صبح ملوں گا۔” مریض نے ایک ثانیے کو اسے متشکر نظروں سے دیکھا اور آنکھیں موند لیں۔ ڈاکٹر نے اپنے بیگ کو اٹھایا اور احتیاط سے دروازے کو بند کرتے ہوئے وہاں سے چلے آئے۔
گھر جاتے ہوئے راستے میں وہ کچھ دیر ہسپتال میں رکے۔ اپنے معاون کو بلایا اور کچھ ہدایات دیں۔ ”وہ جو لالی ایکسٹینشن والا معاملہ ہے کسی بھی لمحے اسکے جانے کی خبر متوقع ہے۔ تم آکسیجن کی نالی لے کر وہاں چلے جاؤ۔ جانکنی کی مشکل زیادہ ہو جائے تو یہ نالی لگا دینا۔”
اگلی صبح دس بجے وہ لالی ایکسٹنشن موجود تھا۔ وہ لمبے ڈگ بھرتے کمرے کی جانب بڑھے۔ مریض بیدار تھا۔ ڈاکٹر نے سٹیتھو سکوپ دل پر رکھا ، دھڑکن سنی اور مریض کی بیوی سے مخاطب ہوئے ” خاتون یوں ناامیدی سے مت دیکھیں۔ آپ کا شوہر نوے سال تک جئے گا۔ ”
جب وہ واپس ہسپتال جارہے تھے تو گاڑی میں اس کے ہمراہ بیٹھے معاون نے پوچھا ” سر کیا وہ واقعی زندہ رہے گا؟”
ڈاکٹر نے جواب دیا
”اب تو میں شرط لگا کر کہہ سکتا ہوں کہ وہ نوے سال تک جئے گا۔ اس نے حالات کا رخ موڑ دیا ہے۔ وہ اس جان لیوا دورے کو کیسے سہہ گیا یہ زندگی بھرمیرےلئے ایک معمہ ہی ہو گا۔”

 

Original Title: THE DOCTOR’S WORD
Written by:
R. K. Narayan (10 October 1906 – 13 May 2001),was an Indian writer known for his work set in the fictional South Indian town of Malgudi. He was a leading author of early Indian literature in English along with Mulk Raj Anand and Raja Rao

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کلمہ مہمل
  • سنو! اَب بھی یہاں مَیں ہوں
  • داستانِ عشق میری کچھ نہیں ہے دوستو
  • درندے (ایک سچا واقعہ)
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
انجلاء ہمیش

اگلی پوسٹ
پریشانی کا سبب
پچھلی پوسٹ
پھاہا

متعلقہ پوسٹس

کتنے پل صراط

جون 2, 2023

کوکھ جلی

مارچ 29, 2020

عورت اور ماں

مئی 21, 2020

آبِ حیات (محمد حسین آزاد)

مارچ 23, 2026

سر محمد اقبال

جنوری 25, 2020

مرتبان

دسمبر 23, 2021

موجِ ادراک میں ڈھلتا ہوا

اکتوبر 7, 2025

محبت سے محبت ہے

جولائی 31, 2022

سر پٹکنے کو کوئ در نہ دریچہ پایا

مارچ 5, 2023

سمرقند و بخارا اور آکسفورڈ

نومبر 22, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

بابرکت مہینہ رمضان المبارک

مارچ 29, 2024

نیند جب خواب کی زنبیل میں...

مارچ 19, 2022

ہم تُند خو ہوئے کہ

فروری 25, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں