خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلاممنٹو مغربی استعمار کے خلاف ایک توانا آواز
آپ کا سلاماردو تحاریرتحقیق و تنقیدمقالات و مضامین

منٹو مغربی استعمار کے خلاف ایک توانا آواز

از سائیٹ ایڈمن اپریل 7, 2026
از سائیٹ ایڈمن اپریل 7, 2026 0 تبصرے 48 مناظر
49

آج تک بیشتر نقادوں کی نظر میں سعادت حسن منٹو صحت مند جنسی اور نفسیاتی شعور رکھنے والا افسانہ نگار ہے۔ ۔ کبھی کبھار تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے نقادوں نے انھیں جنس اور نفسیات جیسے انفرادی اور داخلی رجحانات تک محدود کردیا ہے۔ حالانکہ انھوں نے خارجی اور اجتماعی موضوعات کو بھی اپنی تحریروں میں جگہ دی ہے۔ دوسرے ترقی پسند مصنفین کے مقابلے میں انہوں نے ہنگامی موضوعات کے بجائے آفاقی اور بین الاقوامی مسائل کو اپنی فکر کا حصہ بنایا۔ منٹو نے تیسرے دنیا کے فرد کی آواز بن کر مغربی استعمار کی اس سوچ کی نشاندہی کی جس نے نو آبادیاتی نظام کے ذریعے سے لاکھوں ذہنوں کی آزادی سلب کرکے انھیں جینے کے بنیادی حق سے محروم کر دیا تھا۔ ان کا ابتدائی افسانہ تماشہ اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ جس میں ان استعماری قوتوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو اپنے مفاد کی خاط تیسری دنیا کے اقوام کی آزادی کو سلب کرکے اپنے مزموم مقاصد حاصل کرنے کے لیے انھیں غلامی کی دلدل میں دھکیل رہے ہیں۔ اس افسانے میں موجود بادشاہ کا کردار اس مگربی استحصالی اور استعماری قوت کی علامت ہے جن نے انسانی سوچ پر پہرے لگا دئیے ہیںsaadat hassan manto اور اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو وہ بے دردی سے کچل دیتا ہے۔ حامد کے باپ کی صورت میں تیسری دنیا کے عوام کی اجتماعی بے حسی کا بھی ذکر ہے جو کہ ان تمام مظالم کے باجود حالات سے سمجھوتہ کیے بیٹھے ہیں۔
اس حوالے سے ان کا ایک اور نمائددہ افسانہ نیا قانون ہے۔ جس کو صرف ہندوستان کے حالات تک محدود کرنا بہت بڑی زیادتی ہوگی۔ منگو کوچوان دراصل غلامی میں پسنے والی ہر قوم کا ترجمان ہے۔ جو کہ آزادی کی آزاد فضاء میں سانس لینے کا خواہش مند ہے۔ جس کے اپنے کچھ خواب ہیں۔ انسانیت کے خواب ، آزادی کے خواب ، امن کے خواب ، محبت کے خواب لیکن انگریز کی صورت میں موجود مغربی استعمار اس کے ان خوابوں کو کچل کر جینے کے بنیادی حق سے بھی محروم کر رہا ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کا نقشہ تبدیل ہونے لگا۔ صدیوں سے محکوم قوموں نے آزادی کی طرف پیش قدمی شروع کر دی ۔ ایسے دور میں جب ان استحصالی قوتوں کو مشرقی اقوام پر براہ راست حکومت کرنا ناممکن نظر آنے لگا تو انہوں نے انہیں آزاد کرنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن صدیوں تک نوآبادیاتی نظام ک نتیجے میں پلنے والے زخم اب ناسور بن چکے تھے ۔ لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی نے بھائی کو بھائی کادشمن بنا دیا تھا ۔اس کےعلاوہ مغربی قوتوں نے اپنے مفادات کی خاطر غلام ملکوں کی نئی جغرافیائی حد بندیوں کی سازششیں شروع کردیں۔ یوں ان جغرافیائی حد بندیوں نے ایک نئے المیے کو جنم دیا جس میں صدیوں سے پھلنے پھولنے والی مشترکہ تہذیبیں جل کر راکھ ہو گئیں ۔ اور بھائی نے بھائی کا خون بہانا شروع کر دیا۔ منٹو کا افسانہ ٹوبہ ٹیک سنگھ بھی اسی تناظر میں لکھی گئی تحریر ہے۔ جس میں علامتی پیرائے میں ان تمام حقائق سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ کون سے ایسے عوامل تھے جس کی وجہ سے ہم ایک دوسرے کے دشمن ہوئے ہم نے ایک دوسرے کے گلے کاٹے اور ہجرت جیسے عظیم المیے نے جنم لیا۔ جس کے اثرات سالوں گزرنے کے باوجود ذہنوں پر نقش ہیں۔

اسی طرح دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد نہ صرف ان استعماری قوتوں کا قبلہ تبدیل ہوا بلکہ ان کے طریقہ کار میں بھی تبدیلی رونما ہوئی ۔ اب ان قوتوں نے امن ، جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر ایک نئے انداز میں اپنے مذموم مقاصد کو پورا کرنے کی کوشش شروع کر دی۔ اب تیسری دنیا کے غریب ممالک پر براہ راست حکومت کرنے کے بجائے انھیں آپس میں الجھا کر نہ صرف کمزور بنایا گیا بلکہ ان کی معیشتوں اور وسائل پر قبضہ جما کر ان کی نسلوں کو مقروض بنا دیا گیا۔ ان ممالک پر آمریتوں کو مسلط کرکے عام عوام کی آواز کو دبا دیا گیا ۔ اور ہر اس نظام کی بیخ کنی کی گئی جو کہ عوام میں ن استعماری قوتوں کے خلاف شعور پیدا کرکے انھیں نام نہاد آزادی سے اصل آزادی کی طرف لے جا سکے۔ کوریا کی جنگ اور ویت نام کی جنگیں اسی مقصد کے لیے لڑی گئیں تاکہ ان قوتوں کے خلاف اٹھائی جانے والی مزاحمتی آواز کو دبایا جا سکے۔ سعادت حسن منٹو اردو کا وہ پہلا ادیب ہے جس نے اپنی تحریروں کے ذریعے استعمار کی اس نئے روپ کی نشاندہی کی۔ ان کے انکل سام کے نام لکھے گئے خطوط میں دراصل ’’انکل سام‘‘ اسی نئی استحصالی قوت کی علامت ہے۔ جس کے بہروپ نے آج تک دنیا کو اپنے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے۔ انکل سام کے نام تیسرے خط میں امن کے ان نام نہاد شیدایوں کے بہروپ سے منٹو کچھ اس طرح پردہ اٹھاتے ہیں۔

آپ نے خیر کئی نیک کام کیے ہیں اور بدستور کیے جارہے ہیں آپ نے ہیروشیما کو صفحہ ہستی سے نابود کیا ناگاساکی کو دھوئیں اور گردوغبار میں تبدیل کر دیا اس کے ساتھ ساتھ آپ نے جاپان میں لاکھوں امریکی بچے پیدا کیے۔

چچا کے سام کے نام پانچویں خط میں لکھتے ہیں۔

اگر آپ نے دنیا میں امن قائم کردیا تو دنیا کتنی چھوٹی ہو جائے گی۔ میرا مطلب ہے کتنے ملک صفحہ ہستی سے نابود ہوں گے ۔۔۔۔۔ میری بھتیجی سکول میں پڑھتی ہے کل مجھ سے دنیا کا نقشہ بنانے کو کہہ رہی تھی میں نے اس سے کہا ۔ ابھی نہیں پہلے مجھے چچا جان سے بات کر لینے دو ۔ ان سے پوچھ لوں کون سا ملک رہے گا کون سا نہیں رہے گا۔ پھر بنا دوں گا۔

آج دنیا میں موجود تمام باہمی جھگڑوں اور جنگوں کے پس پردہ انہی قوتوں کا ہاتھ کارفرما نظر آتا ہے ۔ افریقہ اور ایشیاء کے کتنے ہی علاقائی مسائل کو ہوا دے کر انہوں نے اپنی اسلحے کی فروخت کو یقینی بنایا ۔ یعنی بنیادی انسانی حقوق کی علمبردار قوتوں نے خود انسانوں میں کس طرح سے موت تقسیم کی۔ اس کے بارے میں سعادت حسن منٹو انکل سام کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں۔

آپ پاکستان اور ہندوستان میں جنگ شروع کرا دیجیے ۔ کوریا کی جنگ کے فائدے اس جنگ کے فائدوں کے سامنے ماند پڑ گئے تو میں آپ کا بھتیجا نہیں ۔ قبلہ ذرا سوچیے ، یہ جنگ کتنی منفعت بخش ہوگی آپ کے تمام اسلحہ ساز کارخانے ڈبل شفت میں کام کرنے لگیں گے۔ بھارت بھی آپ سے ہتھیار خریدے گا اور پاکستان بھی۔ آپ کی پانچوں گھی میں ہوں گی اور سر کڑاہے میں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ منٹو ایک بہت بڑا فنکار تھا ۔ وہ نہ صرف انسانی نفسیات کا نباض تھا بلکہ اعلیٰ سیاسی شعور بھی رکھتا تھاجس کی نظر صرف اپنے دور پر محیط نہیں تھی بلکہ وہ مستقبل میں بھی جھانک سکتا تھا ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کے یہ الفاظ آج کے دور میں لکھے گئے کسی باشعور فرد کی تحریر ہیں۔

ہمارے ساتھ فوجی امداد کا معاہدہ بڑی معرکے کی چیز ہے اس پر قائم رہیے گا۔ ادھر ہندوستان کے ساتھ بھی ایسا ہی رشتہ استوار کر لیجیے دونوں کو پرانے ہتھیار پھیجیے کیونکہ اب تو آپ نے وہ تمام ہتھیار کنڈم کر دئیے ہوں گے جو آپ نے پچھلی جنگ میں استعمال کئے تھے۔ آپ کا فالتو اسلحہ ٹھکانے لگ جائے گا اور آپ کے کارخانے بیکار نہیں رہے گے۔

تحریر : وہاب اعجاز
ہفتہ, مارچ 21, 2009

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ٹانگوں میں سوجن،پٹھوں کی کمزوری سستی
  • پرسکون ترتیب
  • گرہن
  • شیخ رشیدسے گزارش ہے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے
پچھلی پوسٹ
ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا امتحان

متعلقہ پوسٹس

آصف نے کہا

نومبر 14, 2019

زخم

جنوری 24, 2020

ڈوبتا پاکستان 

اگست 31, 2025

جس نے مجھے بیکار میں

مئی 5, 2026

ڈھارس

جنوری 15, 2020

اے دشتِ بے اماں اب پیچھا نہ کر ہمارا

دسمبر 17, 2025

صحرا تھا ہم سے دور ، سمندر بھی دور تھا

دسمبر 17, 2025

مملکت پاکستان کے عظیم فلسفی شاعر!

جون 6, 2024

ممکن ہی نہیں میرا مسلماں ہونا!

نومبر 4, 2020

کانفیڈینس

مارچ 27, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

مایا تہذیب اور روحانی ورثہ

دسمبر 6, 2024

مسز ڈی سلوا

جنوری 17, 2015

عقل و عقیدہ کے ’’مابین‘‘

جولائی 5, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں