خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےزخم
اردو افسانےاردو تحاریرڈاکٹر نور ظہیر

زخم

ایک اردو افسانہ از ڈاکٹر نور ظہیر

از سائیٹ ایڈمن جنوری 24, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 24, 2020 0 تبصرے 263 مناظر
264

کہہ نہیں سکتی یہ گھاؤ کب سے میرے سینے میں ہے۔ تکلیف کے ساتھ شروع ہوا ہو ،یہ بھی یاد نہیں۔ نہ کوئی پھوڑا یا چھالا تھا جو پھوٹ کر ناسور بن گیا ہو، نہ ہی کوئی چوٹ تھی جو پوری طرح سے بھر نہیں رہی تھی۔ شاید جب میں اپنی ننھی سی لڑکی کو دودھ پلاتی تھی تب نہ رہا ہو۔ ہاں، نہیں رہا ہوگا کیونکہ جب وہ ایک چھاتی کو اپنے پوپلے منہ میں دبوچ کر دوسری کو اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے مسلتی تھی، تب ممتا کی کسک کے علاوہ، کسی اور درد کا احساس تو یاد نہیں آتا۔ لیکن یہ زخم ہے تو ضرور اور اب تو اتنا پرانا ہوچلا ہے کہ میرے جسم پر ہونے کے باوجود، اس کے باہر اپنی ایک الگ ہستی رکھنے کا احساس ہوتا ہے۔ ایک مکمل وجود، جس کی پانچوں حصے سمپورن نہیں، جو خود اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے، اپنی گرماہٹ سے لمس کرتا ہے، چاروں طرف کی آب و ہوا کو سونگھتا، چکھتا اور نگلتا ہے اور جس کے سینے میں ایک دل بھی ہے جو کبھی کبھی اس طرح سے دھڑکتا ہے کہ اس گھاؤ کے اپنے الگ وجود کا یقین ہوجاتا ہے۔ حالانکہ اس پر کئی بار ایک پپڑی سی آجاتی ہے جو اس کے بھر چلنے کا دلاسہ جگاتی ہے، لیکن پھر کچھ ہی سمے بعد اس میں سے دو چار قطرے خون کے رِستے ہیں اور اسے پھر ہرا کر جاتے ہیں۔ اکثر مواد کی ایک لکیر بہہ نکلتی ہے جو اپنی چپچپی بدبو سے، اندر چل رہی سڑن سے، تعارف کراتی ہے۔

ہاں، پہلی بار جب یہ پس بہہ چلا تھا، وہ دن مجھے ضرور یاد ہے۔ میں اور پورنیما لیڈی اِرون کالج کے باہر والے بس سٹاپ پر کھڑے تھے۔ آپ کہیں گے کہ اب یہ پورنیما کون ہے اور بھلا اس کا میرے چھاتی کے بھرتے رِستے زخم سے کیا واسطہ ہے؟ تو میرے عزیز پاٹھک کہانی شروع سے سنیے۔۔۔ پورنیما وہ دُبلی پتلی، لمبے قد کی، بے حد خوبصورت کشمیری لڑکی۔ سنہ 92-93، جب سارے کشمیری ہندوؤں کو جان کی دھمکی دی گئی اور وہ سبھی اپنے پشتینی مکان اور کامیاب کاروبار، کوڑیوں کے مول بیچ کر، بچا کھچا سامان سمیٹ کر جموں کی طرف بھاگنے کی تیاری کررہے تھے، تب پورنیما کے والد ڈاکٹر ہیمندر رینا نے اپنا وطن چھوڑنے کو کایرتا قرار دے کر بھاگ جانے سے صاف انکار کردیا۔ پہلگام شہر کے ایک سرے پر ان کا کلینک تھا۔ علاقے کے واحد ڈاکٹر تھے۔ ان کی ملکیت پر للچائی نظر رکھنے والوں کو یہ تو ماننا ہی پڑتا تھا کہ وہ ایک اچھے، ایماندار اور اپنے فرض کو نبھانے والے ڈاکٹر ہیں اور ہندوؤں سے کشمیر کو صاف کرنے والے کٹرپنتھی یہ بھی جانتے تھے کہ مسلمان ڈاکٹر آس پاس بیس کلومیٹر کے دائرے میں نہ تو تھا نہ جلد ہونے کی کوئی امید تھی۔

جب تک جسم ہے بیماری تو لگی ہی رہتی ہے۔ لہٰذا آس پڑوس کے ہندو گھر خالی ہوجانے اور ان میں مسلمان پریوار بس جانے کے باوجود ڈاکٹر رینا وہیں بڑی حفاظت سے رہتے رہے۔ دو بچے تھے، پورنیما اور چھوٹا بھائی شنکر نارائن۔ پورنیما پڑھنے میں تیز تھی۔ بارھویں کے بعد وہ بی ایس سی کررہی تھی۔ آگے چل کر باپ کی طرح ڈاکٹر بننا چاہتی تھی۔

دو سال کے اندر نفرتوں نے ایک کلاٹی اور ماری۔ کٹرپنتھ کے خیرخواہوں کو دھکیل کر ایک طرف کردیا گیا اور ان کی جگہ بندوق دھاری لونڈے لپاڑوں نے لے لی، جو ڈرا دھمکا کر کشمیری ہندوؤں کو بھگا نہیں رہے تھے بلکہ کھلم کھلاّ بڑی باقاعدگی سے ان کا خون کررہے تھے، بھیڑ میں بم پھینک دیتے تھے، اسٹین گن خالی کر ڈالتے تھے۔ یہ اسلام کے نام پر نہیں، دہشت کے نام پر لڑ رہے تھے۔ ان کا مقصد کشمیر کو کسی سے آزاد کرانا نہیں، خود کے لیے جنت طے کرنا تھا۔

اب ڈاکٹر رینا کو بھی ڈر محسوس ہونے لگا؛ اور وہ ڈر اپنی حد پر تب پہنچا جب دہشت گردوں نے پورنیما کو اٹھا لے جانے کی دھمکی سرِعام دے ڈالی۔
پیر غیاث الدین، ڈاکٹر رینا کے بچپن کے دوست تھے۔ جموں تک ان کی جیپ نے پہنچایا۔ وہاں سے ٹرین سے دلّی اور شاہ درا کا وہ کیمپ جو اب تک تقریباً خالی ہوچکا تھا۔ ڈاکٹر رینا نے آنے میں اتنی دیر کی تھی کہ انھیں سرکار کی طرف سے کوئی مدد ملنا بھی مشکل نظر آرہا تھا۔ پھر اپنی پریکٹس کرتے تھے، کوئی سرکاری ملازم تو تھے نہیں۔ دوڑ بھاگ کرکے نوئیڈا کی ایک چھوٹی دکان میں اپنا کلینک کھولا۔ اسی سب کے بیچ میری ان سے اور ان کے پریوار سے ملاقات ہوئی۔ پتنی سے، جو سدا کڑھتی اور باری باری کبھی پتی کو، کبھی مسلمانوں کو گالیاں دیتی، بیٹے شنکر سے جو بچپن کی بھول جانے کی طاقت کے سہارے آس پاس کے بچوں سے کریکٹ اور فٹ بال کھیلتا، پِتا سے جو ہر بات میں کشمیر کی ضرورت سے زیادہ بڑائی کرتے اور پورنیما سے جو ہر وقت یا تو روتی رہتی تھی یا روکر سوجی ہوئی آنکھیں لیے ماں کا ہاتھ بنٹاتی رہتی تھی۔

تین چار بار ان کے کیمپ جانے پر مسز رینا پر میری ڈھٹائی کا اتنا اثر ہوا کہ انھوں نے کم سے کم میرے سامنے مسلمانوں کی برائی بند کردی۔ جب میں نے ان کا راشن کارڈ بغیر گھوس دیے دلّی کا بنوا دیا اور اس پر گیس بُک کرادی تب پہلی بار انھوں نے مجھے پانی کے لیے پوچھا اور ذرا ہچکچاتے ہوئے بولیں، ”آپ مسلمان ہوتے ہوئے بھی اچھی ہیں۔“
میں نے موقع لپک لیا۔ پورنیما کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا، یہ ہر وقت اتنی چپ چاپ، ایسی اداس کیوں رہتی ہے؟“

”اجی کچھ نہیں۔ اس کی پڑھائی رُک گئی نا، اس لیے۔ جب دیکھو تب ایک ہی رٹ — میرا کالج میں ایڈمیشن کرواؤ۔ کیسے کروائیں؟ ویسے ہی اگست کا انت آگیا ہے، اب کہاں داخلہ ہوگا؟“
”نہیں – نہیں، زیادہ تر کالجوں نے تو کشمیریوں کے لیے داخلے کی تاریخ بڑھا دی ہے۔ پورنیما کا بارھویں کا سرٹیفکیٹ تو ہوگا نہ۔“
”سب ہے جی، پر وہ بڑھی ہوئی تاریخ بھی نکل چکی ہے۔ انھوں نے آنے میں اتنی دیر کردی، میں تو کب سے کہہ رہی تھی ……“ اور وہ اپنے پتی کی خامیاں گنوانے لگی۔
میں چلنے کے لیے اُٹھی اور پورنیما کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی — ”کوئی راستہ نکالتے ہیں، تم اس طرح نراش نہ ہو۔“ وہ نہ کچھ بولی، نہ مسکرائی، بس پل بھر کو آنکھوں میں ایک آس کی چمک جھلملائی جسے اس نے جلدی سے دور کردیا۔ شاید وہ کئی بار امید باندھ کر نراش ہوچکی تھی اور اب اسے آشا سے ہی بیر ہوگیا تھا۔

تین دن بعد میں تیز تیز چلتی اسی کیمپ میں پہنچی۔ ایک دوست کی پتنی کے بھائی کی بھابھی کی بہن کے ذریعہ لیڈی اِرون کالج کی پرنسپل سے ملنا طے ہوپایا تھا۔ جاکر دیکھا تو ان کا سارا سامان بندھا تیار رکھا تھا۔ پتہ چلا انھیں ایک چھوٹا سا گھر کرائے پر مل گیا ہے۔ بڑی مشکل سے مسز رینا کو راضی کیا کہ وہ مجھے پورنیما کو لے جانے دیں۔ میں جانتی تھی وہ مجھ میں عورت کے بھیس میں ایک خونخوار آتنکوادی کو دیکھ رہی تھیں۔ لیکن ڈاکٹر رینا نے میرا ساتھ دیا اور ان کے آگے وہ بے بس ہوگئیں۔

تیز بارش کا موسم بیت چلا تھا اور چلچلاتی تیز دھوپ جسے ہم لوگ ’مرگ ڈاہ‘ کہتے ہیں اپنی پوری تیزی سے دلّی پر برس رہی تھی۔ پورنیما کو ایڈمیشن کا وعدہ کیا مل گیا تھا اس کی پوری شخصیت ہی بدل گئی تھی۔ پرنسپل کے آفس سے بس اسٹاپ تک اس نے اتنی باتیں پوچھ ڈالی مانو راستے دو ڈھائی سو گز کا نہ ہوکر کئی میل لمبا ہو۔ زیادہ تر سوال وہ پوچھتی تو ضرور، مگر جواب کا انتظار کیے بغیر ہی دوسرا، پھر تیسرا پوچھ ڈالتی جیسے نہ جانے کب سے یہ پرشن اس کے اندر کی بھاؤناؤں کو گھیرے، دھیرے دھیرے اس کا گلا دبا رہے تھے اور بس پوچھ بھر لینے سے ہی اسے راحت محسوس ہورہی تھی۔ میں آٹو روکنے لگی تو اس نے ہی منع کردیا — ”نہیں آنٹی، کل سے بس سے ہی کالج آنا ہے۔ مجھے ذرا سکھا دیجیے، ہمارے کشمیر میں تو ایک شہر سے دوسرے میں جانے کے لیے ہی بس میں بیٹھتے ہیں۔“ پہلی بار جو اس کے منھ سے ہمارا کشمیر نکلا تو مانو دل پر لگا کوئی مضبوط تالا تھا جو اچانک کھل گیا۔ سوال بند ہوگئے اور ’ہمارے کشمیر‘ کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ کشمیر کے جھرنے، کشمیر کی ندیاں، چنار کے پیڑ، ہری وادیاں، جھیلیں، ٹھنڈ، قہوہ، وازوان، پھرن، کاشیدہ ……! وہ لگاتار بول رہی تھی، میں اور آس پاس کھڑے تین چار لوگ اس کے سندر چہرے پر دوڑتی شرارت، خوشی، چنچلتا اور الہڑپن سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کررہے تھے۔

اتنے میں نظر پڑی تو ایک 320 نمبر بس تقریباً ہمیں کچلتی ہوئی ذرا آگے جاکر رُکی۔ میں بس کی طرف لپکی ہی تھی کہ پیچھے سے اچانک شور اٹھا، جیسے دو تین لوگ ایک ساتھ گھبرا کر چیخیں ہوں۔ پلٹ کر دیکھا تو پورنیما زمین پر پڑی ہوئی تھی۔ میں بدحواس سی اسے جھنجھوڑنے لگی۔ ایک صاحب نے پانی کے چھینٹے اس کے منھ پر ڈالے، کالج کے پھاٹک سے چوکیدار بھی لپکا۔ اسے سہارا دے کر کالج میں واپس پہنچایا گیا۔ پرنسپل کے دفتر کے پاس ہی ’سِک روم‘ میں اسے لٹایا گیا۔ ڈاکٹر آگیا۔ آدھے گھنٹے کے اندر اس کی طبیعت سنبھل گئی۔ ڈاکٹر نے کہا کہ معمولی ڈی ہائڈریشن ہے، کوئی گھبرانے کی بات نہیں۔

گھٹناؤں کا ایسا سلسلہ تھا کہ میرے تو ہاتھ پاؤں پھول گئے تھے۔ ان چند منٹوں میں میں نے نہ جانے کیا کیا دل لرزانے والے خیالوں سے دماغی کشتی کی تھی۔ کن مشکلوں سے انھیں خود پر حاوی ہونے سے روکا تھا۔ ڈاکٹر کے جاتے ہی میں پورنیما پر برس پڑی — ”حد ہوگئی پورنیما۔ تم سے اتنا بھی نہیں ہوا کہ چلنے سے پہلے ایک گلاس پانی پی لو یا پھر ایک بوتل پانی ساتھ رکھ لو۔ تمہیں زیادہ کچھ ہوجاتا تو میں تو کہیں منھ دِکھانے کے قابل نہیں رہتی۔ ایک تو میں مسلمان، اوپر سے تم ……“ غصے اور دبی ہوئی چِنتا کے مارے میری زبان لڑکھڑانے لگی اور میں چپ ہوگئی۔ وہ ایک ٹک مجھے دیکھ رہی تھی۔ کئی پل میرے چہرے پر نہ جانے کیا ڈھونڈنے کے بعد دھیرے سے بولی — ”آنٹی، مجھے معلوم نہیں تھا کہ گرمیوں میں پانی پی کر نکلنا چاہیے۔ ہمارے کشمیر میں تو اتنی گرمی پڑتی ہی نہیں۔ اور پانی لے کر تو کبھی کوئی نہیں چلتا۔ اتنے چشمے اور جھرنے ہیں کہ جب جی چاہے رُک کر ہاتھ منھ دھو لو، پانی پی لو۔ ہمارے کشمیر میں تو لوگ آگ لے کر چلتے ہیں۔ پھرن میں کانگڑی رکھ کر۔ ممی تو ہمیشہ ہمیں یہی ڈانٹتی تھی — موزے پہنو، اسکارف باندھو، کوٹ پہنا کہ نہیں، گیلے کیوں ہوگئے، آگ کے پاس بیٹھو، کپڑے بدلو، گرم سوپ پیؤ، قہوہ پیؤ، بادام کھاؤ……“
نہ جانے کب اس کے الفاظ میرے کانوں کو چھوڑ کر میری آنکھوں کے سامنے نقش بنانے لگے — لکڑی کے گھر، آگ کے تندور، برفیلی چوٹیاں، گھنے درخت، گورے گلابی بچے، سفید بُرادے سی گرتی برف، نیلا شفاف آسمان اور اس سے بھی گہری نیلی جھیلیں۔

کون ہیں جو انسانوں سے ان کا وطن چھڑواکر انھیں در بہ در بھٹکنے کے لیے مجبور کرتے ہیں؟ کون سی دشمنیاں ہیں جو اپنوں کو پرایوں میں بدل دیتی ہیں؟ کیسی نیائے کی مانگ ہے جو انیائے میں ایسی اُتھل پتھل مچاکر، نئے سرے سے اسے جینے کے طریقے سیکھنے کے لیے مجبور کرتے ہیں؟
لیجیے، بات ہورہی تھی پورنیما کی، اور یہ زخم ہے کہ پھر رِسنے لگا۔ اس کا یہی ہے، بات بے بات دُکھتا ہے اور لہو رُلواتا ہے۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں — میری چھاتی کا یہ زخم کیوں بار بار ہرا ہوجاتا ہے؟

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • محبت کے بادل
  • ہم خوار ہوئے تارک قرآن ہو کر
  • سمرقند و بخارا اور آکسفورڈ
  • موچنا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کڑوی مسری
پچھلی پوسٹ
ڈھکا چہرہ

متعلقہ پوسٹس

پیر فتح شیر دیوان اور خدمتِ خلق

مارچ 10, 2026

در باب نظم اور کلام موزوں

جنوری 16, 2026

گمراہی کا راستہ

جنوری 4, 2022

اردو ادب پر سوشل میڈیا کے مثبت اثرات

جون 28, 2021

اور شیر آ گیا

جون 10, 2020

اخلاص کے ساتھ انفاق

جنوری 4, 2026

”جہیز“

اپریل 4, 2021

کرکٹ، سیاست اور فلسطین!

نومبر 7, 2023

 ماں

مئی 9, 2020

معاشرہ پھول بنائیں انگار نہیں !

جنوری 2, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

استخارہ

مارچ 15, 2026

مختصر سیرتِ رسولﷺ

مارچ 10, 2026

لیلۃ القدر – ایک رات اور پوری زندگی

مارچ 9, 2026

صدقۂ فطر کی حکمت و اہمیت

مارچ 9, 2026

اعتکاف احکام اور آداب

مارچ 9, 2026

اردو شاعری

بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

مارچ 17, 2026

ماورا ہے سوچوں سے

مارچ 17, 2026

گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد...

مارچ 17, 2026

نشے میں ہم ہیں مگر

مارچ 17, 2026

یہ مرے گھر کے تین چار درخت

مارچ 17, 2026

اردو افسانے

عید کا ادھورا وعدہ اور لفظوں کا مصور

مارچ 17, 2026

دہلیز کا آخری وعدہ

مارچ 9, 2026

آدھی عورت آدھا خواب

جنوری 14, 2026

طوائف کون؟

جنوری 14, 2026

لمس

جنوری 12, 2026

اردو کالمز

سوچتے رہو، جیتے رہو

مارچ 18, 2026

اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

مارچ 17, 2026

میڈیا کا اثر اور ہماری سوچ تحریر

مارچ 17, 2026

کردار، کردار نگاری اور تخلیقیت

مارچ 16, 2026

امن بورڈ یا امن سے اکتاہٹ؟

مارچ 16, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • نشے میں ہم ہیں مگر

    مارچ 17, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

مجھے میرے بزرگوں سے بچاؤ

دسمبر 15, 2019

قلندر

جنوری 7, 2020

اسلام میں خواتین کا مقام اور...

مئی 17, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں