خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباڈارون کا نظریہء ارتقاء اورجدید سائنس
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمز

ڈارون کا نظریہء ارتقاء اورجدید سائنس

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 20, 2022
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 20, 2022 0 تبصرے 110 مناظر
111

ڈارون کا یہ نظریہ”دنیا کی تخلیق حادثاتی ہے،اور انسان کا ارتقاء بندر سے ہے“گذشتہ 150 سال تک اس دنیا میں قائم رہا، ڈارون نے 1859 ء میں یہ نظریہ پیش کیا تھا، جسے غیر معمولی شہرت اور پذیرائی حاصل ہوئی تھی، اس نظریہ کو شہرت اس کے مرکزی مفہوم کے تئیں ملی، سائنسی طور پر اس نظریہ کی کوئی بنیا د نہ تھی، مادیاتی لحا ظ سے یہ نظریہ مقبول عام ہوا، مادہ پرست نظریہ کے خالق کارل مارکس نے چالس ڈارون کے اس نظریہ کو خراج تحسین پیش کیا، موجودہ سائنس ڈارون کے وقت ابتدا ئی مراحل میں تھی، سائنس نے اپنی تحقیق جاری رکھی، تاکہ انسانی ارتقاء کا بخوبی پتہ چل سکے، جدید سائنس نے زمین سے برآمد مختلف فوسل (Fossil) قدیم انسانی ہڈیوں، پتھروں اور دیگر معدنیات کے تجزیہ کے بعد 2007 ء میں ڈارون کے مذکورہ نظریہ کو مسترد کردیا،
ڈارون کا نظریہ ء ارتقاء سے خواہ کلیسائی دنیا کو ضرب کاری لگی ہو اور اس کی طرف سے اس نظریہ کی شدید مخالفت کی گئی ہو، تاہم عمومی طور پر یوروپی عوام میں اس نظریہ سے غیر معمو لی خوشی پیدا ہوئی، اس وقت یورپ کا سائنسی سفر علاقہ اور وقت کے حصار تک محدود تھا، مادی فلسفہ یورپ کا جادو بن گیا تھا، ساری دنیا پر یورپ کا سحر طاری تھا، ایشیاء اور آفریقہ میں اس کی کالونیاں قائم ہوچکی تھیں، اسٹیم پاور (Power Steam)کی ایجاد سے صنعتی انقلاب اور آمد ورفت کے تیز ترین وسائلdarwin سے یورپ کا نسلی غرور بام عروج پر پہنچ گیا تھا،ایسے ترقیا تی ماحول میں ڈارون کا نظریہء ارتقاء ان کے نسلی غرور کے لئے فالِ نیک ثابت ہوا، اور نظریاتی کشمکش میں فطری نظریہ کو یورپی محققین نے خوش دلی سے قبول کیا، ایک طرف ہر برٹ اسپنسر اورٹی ایچ ہکسلے جیسے نسل پرست دانشوروں نے اس نظریہ کو حیوانی دنیاسے آگے منتقل کرکے سماجی علوم کے حلقے میں انسانی تہذیب کے روپ میں متعارف کیا، کارل مارکس اور اینجلس نے اسے جسمانی محنت ومشقت، مادہ پرستی اور طبقاتی کشمکش کے فروع کیلئے استعمال کیا۔
جس سال ڈارون (Charles Darwin) کی اور جن آف اسپیسز (The Origin of Species) نامی کتاب شائع ہوئی، اسی سال کارل مارکس (Karl Marx) کی کریٹک آف پا لٹیکل اکانو می (The Critique of political Economy) نامی کتاب بھی منظرِ عام پر آئی، ڈارون کی مذکورہ کتاب کے بالاستیعاب مطالعہ کے بعد مارکس نے 19 دسمبر 1860ء کو اینجلس (Engels – 1820- 1895) کو خط لکھا کہ یہ کتاب میرے ذاتی نظریات کے لئے فطری تاریخ کی نشاندہی کرتی اور مستقبل کیلئے اہم پیش گوئی کا درجہ رکھتی ہے،
کارل مارکس نے 16 جنوری 1861ء کو اپنے ایک دوست ایف لاس سیل کو لکھا کہ ڈارون کی کتاب اہم ترین کتاب ہے جوکہ قدرتی اور تاریخی لحاظ سے سائنسی بنیاد پر طبقاتی کشمکش کے نظریہ کی تفہیم کے لئے مجھے ایک کار آمدکتاب محسوس ہوئی، 1871ء میں جب دی ڈی سینٹ آف مین (Descent of man) نامی کتاب شائع ہوئی تو اس کی بنیاد پر اینجلس نے ایک مضمون لکھا، جس کا

2
عنوان تھا، بندر کے انسان بننے میں محنت کا نتیجہ۔
مارکس پر ڈارون کے نظریہء ارتقاء کا اتنا زیادہ اثر ہوا کہ اس نے اپنی بیحد مشہور کتاب داس کیپٹل (Das kapital) کے ایک باب کو ڈارون کے نام انتساب کرنا چاہا، تاہم ڈارون نے 13اکتوبر1880ء کو اپنے ایک خط کے ذریعے اس انتساب کو نامنظور کردیا، کیونکہ اسے مارکس کی مذکورہ کتاب کے موضوع کا کوئی علم نہ تھا، ایسا قطعاً نہیں کہ مارکس کو ڈارون کے عزائم پر مبنی سیاسی سر زمین کی واقفیت نہ تھی، مارکس نے 15 فروری 1869 ء میں اپنی ایک لڑکی لارا اور اس کے شوہر”لاکا نے“کے نام لکھے خطوط میں اظہار کیا تھا کہ واقعی اس وقت انگریز معاشرہ پر اشتراکیت کی سنگین دیوانگی طاری ہے، اور اسی نے ڈارون کو حیوانات ونباتات کے قدرتی تنوع پر تجربات کا موقع فراہم کیا ہے، مارکس نے مزید لکھا تھا کہ اس عظیم سائنٹفک نظریہ کا ڈارون ازم سے منسلک لوگوں نے بیجا استعمال کیا، ایک امریکی نژاد سائنس داں لیوس ہیزی مارگن نے 1877ء میں نظریہء ارتقاء پر اپنا مشہور انشائیہ انشینٹ سوسائٹی (معاشرہئ قدیم) شائع کیا، جس میں اس نے انسان کے ارتقائی سفر کو سفاک دور سے عدل پسند دور کی طرف منتقلی قرار دیا، اور اس کے چار مراحل ذکر کئے، مارکس اینجلس نے اس کتاب کی بیحد تعریف کی، اور اسی کو بنیاد بنا کر اس نے 1884ء میں اپنی مشہور کتاب,, خاندان، دولت اور ریاست کا وجودلکھ کر شائع کی،تا ہم ایک نا تمام اور غیر سائنسی نظریہ پر قائم محل کا نتیجہ کیا ہو سکتا ہے ؟ اس کا مشاہدہ سوویت یونین اور ماؤ کے چین میں مارکسزم کے صدیوں تک جاری نظریہ کی صورت میں ہوچکا ہے، مغرب کا سائنسی سفر بھی 19 ویں صدی کے مادی حدود کو عبور کرتا ہوا بہت آگے جا چکا ہے، شروڈینگر، ردرفورڈ، جیمس جنس، فریڈ ہویل، ڈیوڈبوم ،فٹجونف کا پرا وغیرہ متعدد سائنسدان ملک اور زمانہ سے بے نیاز ہوکر عالمی حاکمیت کی بات کرتے رہے، ہندوستان کے مشہور سائنسدان جگدیش چندر بسونے سائنس آف دی اسٹر کچر آف پلانٹس اور معدنی اشیاء میں حِسّ (Sense) کے وجود کو نسلی بنیاد پر اپنے تجربات کے ذریعے عملی طور پر دکھایا تھا،
عہد قدیم میں ایک ہندوستانی خاتون منیشانے ذی روح دنیا کی مختلف چیزوں کی نشاندہی کے لئے 33 اقسام کے نر اور مادہ کی بات پیش کی تھی،پیدائشی بنیاد پر اس نے ذی روح کو چار حصوں میں تقسیم کیا تھا، اول: انڈے سے پیدا ہونے والے ۲ : بچہ دانی سے پیدا ہونے والے ۳: زیر زمین پیدا ہونے والے ۴: اور زمین پر پیدا ہونے والے(پودے)
ذی روح کی یہ چاروں نسلیں اہم اور قوی ہیں جوکہ ہمیشہ اپنے حال پر بر قرار رہیں گی (یعنی ہمیشہ اپنے ابتدائی مادے کے عین مطابق رہیں گی) ان میں کبھی تبدیلی نہیں آئے گی، اس سے ڈارون کے اس نظریہ کا قلع قمع ہوجاتاہے کہ تمام ذی روح حتٰی کہ نباتات کا وجود کسی ایک ذی روح سے ہوا ہے، اور ایک ہی ماں باپ سے پیدا شدہ اولاد میں اوصاف، صلاحیت اور فہم و فراست کے غیر معمولی فرق
کا کوئی حل ڈارون کے نظریہ ء ارتقاء میں موجود نہیں ہے،
مختصر طور پر یوں کہا جاسکتا ہے کہ ڈارون کے نظریہء ارتقاء کا وجود انیسویں صدی کے یوروپی کبر وغرور اور ان ڈیڑھ سوسالوں میں سائنسی ترقی اور انسانی نسل پر تجربات کی روشنی میں انسان اور اسکی پیدائش کا نظریہ ناقص معلومات پر مبنی ہے،اور حیرت ہے کہ مارکس اور
3
اینجلس جیسے سماجی ماہرین ایک غیر سائنسی نظریہ کے فریب میں آگئے، مادہ پرستی کے نظریہ کے خالق کارل مارکس نے ڈارون کے نظریہء ارتقاء کو خراج تحسین پیش کیاتھا، حالانکہ چا رلس ڈارون کے پاس نظریہء ارتقاء کے لئے کوئی سائنسی ثبوت موجود نہ تھا، جس کی بنیاد پر وہ اپنے نظریہء ارتقاء کو تقویت فراہم کرتے،ارتقائے حیات انسانی کے طبیعی اور کیمیائی تجزیاتی مراحل کے بعد % 86 فیصد رائے عامہ نے ڈارون کے نظریہ کو ناقابل قبول قرار دیا، اور 150 سال تک اس دنیا میں قائم یہ نظریہ جدید سائنسی تحقیقات کی روشنی میں کالعدم ہوگیا، سائنس نے گذشتہ ڈیڑھ سوسال میں کچھ اس طرح ترقی کی ہے کہ ماضی کے سائنسدانوں کی غلطیاں آشکار ہوگئی ہیں، اور نظریہء ارتقاء کے بالمقابل یہ نظریہ سچ ثابت ہوا کہ انسان بہترین ساخت میں پیدا کیا گیا ہے، یعنی انسان تمام حیوانات سے بالکل منفرد پیدا ہوا ہے،
سائنس کے پاس ابھی تک کوئی ایسا طریقہ نہیں ہے جو یہ طے کرسکے کہ انسان بندر کی بدلی ہوئی ارتقائی شکل ہے، بیسویں صدی کے ساتویں عشرے میں ڈارون نے ایک نظریہ پیش کیا تھا کہ انسان کا ارتقائی سفر کس طرح ہوا، اس نے انسان کو بندر کی بدلی ہوئی ارتقاء پذیر شکل قرار دیاتھا، حالانکہ زمانہ قبل از تاریخ سے متعلق مقامات پر کی جانے والی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ اس زمانے میں بھی اسی طرح کے انسان تھے، جس طرح آج ہیں، پوری انسانی تاریخ میں انسان کے بندر سے ارتقاء پذیر ہونے کا کوئی ثبوت فراہم نہیں ہوا،سائنسدانوں کو ابھی تک نہیں معلوم ہوا کہ شعور کیا ہے؟ اور کس طرح کام کرتاہے، شعور ایک ایسی خصوصیت ہے جوکہ جنیز کے ذریعے نسل در نسل انسانوں میں منتقل ہوتا ہے، سب سے حیران کن عضو انسانی دماغ ہے، یہ سب سے اہم عضو ہے، سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ عضو ہی وہ خصوصیت ہے جو انسان کو حیوان سے ممتاز کرتی ہے، تقریبا دو لاکھ سا ل اس کرہء ارض پر گذارنے کے بعد انسان نے کافی کچھ جان لیا ہے، سائنس کی اس قدر غیر معمولی ترقی کے باوجود ہنوز انسان کے جسم کے بارے میں تمام حقائق کا علم نہیں ہوسکا ہے، بعض ایسے سادہ سے سوالات ہیں جن کے ٹھوس جوابات ابھی تک معلوم نہیں ہوئے، ان سوالوں کے بارے میں صرف اندازے، قیاسات،اور مفروضے ہیں، سوالات کے جوابات آج بھی تشنہ ہیں،
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ1859 ء میں جب ڈارون نے نظریہء ارتقاء (The ory of evol ition) پیش کیا تھا، اس وقت برطانیہ میں ہندوستان کی عظیم تحریک انقلاب (عذر 1857ء) کو بربریت پر شرافت کی فتح قرار دیا جارہا تھا، اور مقبوضہ ہندوستان انتقام کی آگ میں جل رہا تھا، جس طرح ڈارون کے نظریہء ارتقاء کا احتساب کیا گیا، آج ضرورت ہے کہ اس بربریت کا بھی احتساب کیا جائے،

ظفر سعیدی ؔ حیدرآباد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • توکل کیا ھے؟
  • ترقی کی دوڑ میں بکھرتے رشتے
  • سہنے کو ہجر جب بھی تمنا مزید کی
  • کربل کے میداں میں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
اقبال یا انشا، غلط نسبت
پچھلی پوسٹ
رات کا پچھلا پہر

متعلقہ پوسٹس

بستی مِری اُجڑ گئی ہے قافلوں کے بعد

مئی 20, 2020

گرمٹیہ

جنوری 31, 2021

غموں کی دھوپ میں اِک سائبان ہے میرا

اپریل 26, 2020

علامہ اقبال اور ملت اسلامیہ کی فلاح

اگست 9, 2022

کوئی کہتا تھا کہ طاری خود پہ سوچیں مت کیا...

جون 16, 2020

دریا بپھر گئے ہیں

اگست 29, 2025

تاریخ کے وارث – دوسری قسط

جنوری 17, 2025

عید قربان معارف و اسباق

جولائی 31, 2020

ڈھارس

جنوری 15, 2020

عشق کیا ہے، ہوس ہے کیا، اے دوست!

مارچ 8, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

خشک صحرا ، تیرے غم کا...

دسمبر 16, 2021

پہلی ملاقات

مئی 2, 2020

تصور کی روشنی

دسمبر 25, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں