خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباہم نا ماننے والے لوگ!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

ہم نا ماننے والے لوگ!

از سائیٹ ایڈمن اگست 5, 2021
از سائیٹ ایڈمن اگست 5, 2021 0 تبصرے 47 مناظر
48

ہم نا ماننے والے لوگ!

وقت اور حالات کی روش نے ہر فرد ِواحد کو عقل قل سمجھنے کی اجازت دے رکھی ہے ، یہ شرط بھی نہیں رکھی گئی کہ وہ کس رتبے ، کس منصب یا کن اسناد کا حامل یا کس قبیلے سے تعلق رکھتا ہے ۔ آپ کسی سے گفتگو کرنے کھڑے ہوجائیں وہ آپ کو دیکھی اندیکھی ساری حقیقتوں سے روشناس کروانے کی ہر ممکن نا صرف کوشش کرے گا بلکہ آپ اپنے ہاتھ پر بیعت کرانے تک کیلئے قائل کرتا محسوس ہوگا ۔ کیا یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ایسا کیوں ہورہا ہے ;238; ایک ایسا بھی وقت تھا جب یہ سنایا جاتا تھا کہ بے عمل عالم کی بات کو دل تک رسائی نہیں ملتی اور ایسے عالم بہت کم ملتے تھے بلکہ نا ہونے کے برابر ہوتے تھے ۔ سب سے بڑی دکھ کی بات یہ ہے کہ کوئی بھی ان باتوں پر ان نصیحتوں پر عمل کروانے پر تو کمر بستہ ہے لیکن عمل کرنے کیلئے کوئی تیار نہیں ہے ۔

یہ انسان کا فطری تقاضا ہے کہ وہ کچھ نیا کرنے کی چاہ اپنے دل میں رکھے اور یقینا ایسا ہر فرد کیساتھ ہوتا ہوگا لیکن چند مخصوص لوگ اس چاہ کو عملی جامہ پہنانے پر یقین رکھتے ہوئے زاد راہ کی فکر سے آزاد نکل پڑتے ہیں ۔ لوگوں کی اکثریت ایسا کرنے سے قاصر رہتی ہے اور یہ کثیر تعداد کسی بھی وجہ سے ایسا نا کرپاتے وہ اپنے طور سے اپنی چاہ کو عملی جامہ محدود وسائل میں ممکن کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ کسی کے بنائے ہوئے راستے پر چلنا وہ بھی کسی دل کو نا لبہانے والے کے بنائے ہوئے کے راستے پر چلنابھلا کیسے ممکن ہوسکتاہے ۔

اگر ہم مثبت سمت دیکھیں تو ہم نے نا مان کر بڑی ترقی کر لی ہے ، ہم نے دنیا سے کوئی سبق نہیں سیکھا بلکہ خود ہی سے نئے نئے اسباق تیار کرلئے ہیں اور انکی تصحیح کیلئے ہ میں کسی کی ماہرانہ رائے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، بس ہم صحیح ہیں ہاں اگر کسی کو ہم سے کسی قسم کی معاونت چاہئے تو وہ ہم دینے کیلئے سب سے آگے دیکھائی دیتے ہیں ۔ آج دنیا میں امن مشن پر تعینات اقوام متحدہ کی فوج میں پاکستانی فوج کا دستہ جو مرد و خواتین دونوں پر مشتمل ہے تقریباً ہر محاذ پر دیکھائی دیتا ہے، اسکی ایک وجہ تو خدمت کے جذبات سے سرشار ہونا بھی ہے اور اپنے پیشے سے والہانہ محبت بھی ہوسکتی ہے اور کچھ خاس کرنے کی چاہ سب سے مقدم ممکن ہوسکتی ہے ، تو دوسری طرف بین الاقوامی وسعطوں تک رسائی بھی ممکن ہے دوسری ثقافتوں ، تہذیبوں اور دوسری زبانوں کو دیکھنے اور سیکھنے کے واسیع مواقع بھی میسر آتے ہیں ۔ کبھی ہماری خود سری کوہ ہمالیہ کو بھی پار کرتی دیکھائی دیتی ہے اور جب ہم بے حسی پر اتر آتے ہیں تو انسانیت کو بھی شرمند ہ ہوکر منہ چھپانے کی ضرورت پڑ جاتی ہے ۔ ہم کسی کی جیت کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ اس پر الزام لگا کر ہارنے والے کی نا اہلی پر پردہ ڈال دیتے ہیں ۔

ہم مسلمان ہیں ، ہ میں محسوس یہ ہوتا ہے کہ ہم قبل از اسلام والے مکہ کے کفار ہونے کا عملی تجربہ کرنے کا فیصلہ کئے ہوئے ہیں ۔ کیا معصوم بچوں بچیوں کے ساتھ ہونے والے واقعات ، خواتین کیساتھ ہونے والی زیادتیاں ہمارے اذہان پر سے گرد نہیں جھاڑ رہے ۔ ہم بہت تیزی سے منزلیں طے کرتے ہوئے آگے کی طرف جارہے ہیں ، آسائشوں کے انبار لگائے جا رہے ہیں لیکن عملی طور پر محسوس یہ ہورہا ہے کہ ہم اتنا ہی ماضی کی طرف تیزی سے پہنچ رہے ہیں ، بھلا یہ کیسی ترقی کی گھنٹی ہم نے اپنے اپنے گلوں میں باندھ لی ہے جس کے بجنے سے یہ پتہ نہیں چل پا رہا ہے کہ سفر آگے کی جانب ہورہا ہے یا کہ واپسی کی طرف ۔ ان باتوں سے ہ میں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ ہم باحالت مجبوری کسی بھی عمل کیلئے تیار ہوجاتے ہیں ، تازہ ترین مثال کیلئے باہر نکل کر خود مشاہدہ کرلیجئے کورونا کی ویکسین لگوانے کیلئے شور مچا ہوا ہے ،حکومت وقت نے ہر ممکن ذراءع سے عوام تک یہ آگاہی پہنچائی کے ویکسین لگوالیں جس کی تاحال کوئی قیمت نہیں ہے لیکن عوام اپنی مفروضوں کی بنیاد پر اس سے اجتناب کرتی رہی جس کی وجہ سے ویکسین لگوانے کی مخصوص جگہ اکثر اوقات خالی دیکھائی دیں لیکن اب جب چوتھی لہر نے سر اٹھایا تو عوام اس طرح سے امڈ کر آگئی ہے کہ مخصوص جگہوں میں حکومت کو اضافہ کرنا پڑگیا ہے، حسب عادت عوامی ردعمل سامنے آنا شروع ہوگیا ہے کہ جی ہم تو ضعیف ہیں ہم تو بیمار ہیں اور لائنوں میں لگا کر رکھا ہوا ہے اتنا اتنا انتظار کروایا جارہا ہے ، ان کو یہ بتایا جائے کہ یہ ہی جگہیں چار دن پہلے تک سنسان پڑی ہوئی تھیں اب جب موبائل سم بند ہونے کی دھمکی دی گئی تنخواہیں بند کرنے کی دھمکیاں دی گئیں تو سب ایک ساتھ ہی نکل کر سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور املے کو زدوکوب کرنے پہنچ گئے ہیں ۔ وقت پر ناماننے کی کوئی نا کوئی قربانی تو دینی پڑے گی ۔

ناماننے کی ایک اعلی ترین مثال سیاسی میدانوں میں دیکھائی دیتی ہے جہاں آنکھوں والے اندھوں کی طرح اپنے اپنے قائدین کی حمایت میں نعرے پر نعرے لگائے سنائی دیتے ہیں وہ اس سمجھ سے بھی عاری ہوتے ہیں کہ بھلا وہ کیا نعرہ لگا رہے ہیں سونے پر سوہاگا یہ ہے کہ ساتھ کھڑے ہجوم میں سے بھی کوئی نہیں نکلتا کہ کم ازکم نعرے لگانے والے کو سمجھا دے ، نہیں جی بس نعرے لگانے ہیں ، کیونکہ وہ جس کیلئے نعرے لگا رہے ہیں زمین پر اس سے بہتر کوئی انسان ہی نہیں ہے ۔ ہم یہ جاننے کی کوشش بھی نہیں کرتے کہ اگر جان لیا جائے تو معاملات میں بہتری آنے کے قوی امکان پیدا ہوجاتے ہیں ۔

ہمارے نا ماننے کا سلسلہ بہت دراز ہے جس کے آغاز کا علم شائد ہے بھی اور نہیں بھی ۔ اللہ اور اسکے محبوب رسول مقبول ﷺ پر ایمان کیلئے لازم ہے انکے احکامات کو مانا جائے اوراپنی عملی زندگی کو ان کے مطابق گزارنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم ناماننے والے لوگ ہیں لیکن ہمارے لئے یہ بھی کسی بڑے سے بڑے اعزاز سے کم نہیں ہے کہ ہم اپنے اللہ اور رسول پاک ﷺ کو دل و جان سے مانتے ہیں ۔ بدقسمتی صرف اس بات کی ہے کہ ہم نا تو اللہ تعالی کی کتاب پر عمل کرتے ہیں اور نا ہی نبی پاک ﷺ کی سنتوں کو زندہ رکھنے کیلئے کوئی عملی مظاہرہ کرتے دیکھائی دے رہے ہیں ۔ بقول اشفاق احمد;231; کے باباجی مسلمان وہ ہے جو اللہ کو مانتا ہے جبکہ مومن وہ ہے اللہ کی مانتا ہے ۔

کوئی بھی اجتماعی صورتِ حال کسی کی انفرادی خواہش کا مظہر ہوتی ہے ۔ ہم بطور بڑے اپنے بچوں کو ماننے کی ترغیب ہی نہیں دیتے بلکہ منوانے کیلئے سختی بھی کرتے ہیں اس کے برعکس اپنے بڑوں کی مانتے نہیں ہیں تو پھر یہ رویہ تو گردش کرتا ہی رہے گا ۔ یہ سلسلہ اسوقت تک چلتا رہے گا جب تک ہم سچ بولنا نہیں شروع کردیتے ، جب تک ہم انسانیت کی خدمت کرنا نہیں شروع کردیتے اور ہم ان لوگوں سے جان نہیں چھڑا لیتے جو ہمارے لئے ، ہمارے آنے والے وقتوں کیلئے برائی کا سامان کرنے کے مرتکب ہوسکتے ہیں ۔ جب تک ہم ماننے کی صلاحیت سے محروم رہینگے ہم اسی طرح بھٹکتے رہینگے اور ظالم ہ میں تقسیم در تقسیم کرتا اور ہم پر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑتا رہیگا ۔ فیصلہ ہم نے کرنا ہے تو پھر مان جائیے اور آنکھوں پر سے پٹیاں اتار دیجئے ۔

 

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • انا کے پیڑ
  • جُستجُو کے کسی جہان میں ہے
  • جوازِ عیدِ میلاد النبیؐ
  • بس اسٹینڈ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
میری تصویر نامکمل ہے
پچھلی پوسٹ
ختم کرنے اگر ہیں غم دیوانی

متعلقہ پوسٹس

بسم اللہ

جنوری 12, 2020

خاموش انسان اور پہلی دعا

جنوری 3, 2026

دین کو ابنِ علی نے

ستمبر 8, 2023

شاہی محلہ کے سید

جون 28, 2020

اے دل تیرے فسانے

فروری 3, 2020

کسی چراغ کی لَو کی طرح بکھر گیا میں

اپریل 15, 2016

حدیث کی اقسام

جنوری 22, 2023

جسم تیرا لیکن ۔ مرضی پروردگار کی

فروری 28, 2020

گرد اپنی اتارتا ہوں ذرا

ستمبر 25, 2023

فطرت کے توازن میں ایک مکمل وجود

مئی 13, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کئی اسرار ہوتے ہیں

اکتوبر 12, 2025

ٹوٹتا خاندانی نظام اور ماں

اکتوبر 18, 2025

پربتوں کی چوٹی پر

مئی 28, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں