خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباجوازِ عیدِ میلاد النبیؐ
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزاسلامی گوشہاویس خالد

جوازِ عیدِ میلاد النبیؐ

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 19, 2021
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 19, 2021 0 تبصرے 78 مناظر
79

 

جوازِ عیدِ میلاد النبیؐ

کامیابی اور خوشی کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے۔ہر انسان اپنی ہر قسم کی کامیابی پرکھُل کر خوشی منانے کا فطری مزاج رکھتا ہے۔یوں کہہ لیجیے کہ خوشی منانے کے لیے کسی دلیل کی نہیں بلکہ اپنی خوشی کی ضرورت ہوتی ہے۔بس کامیابی ملی اورانسان کی طبیعت شاد ہو گئی۔خوشی مناتا بھی وہی ہے جو کامیاب ہوتا ہے۔مثال کے طور پر ایک میچ میں نتیجے کے بعد ایک ٹیم جیت جاتی ہے،وہ خوشیاں مناتی ہے اور دوسری ٹیم ہار کر افسردہ ہو جاتی ہے۔میچ کا نتیجہ ایک ہی ہوتا ہے لیکن دونوں ٹیموں کے لیے اثرات مختلف ہوتے ہیں۔ایک کے لیے خوشی کا باعث اور دوسرے کے لیے افسردگی کا سبب بنتا ہے۔جس نے سمجھا کہ اس کو فتح ملی وہ خوش جس نے سمجھا کہ وہ شکست کھا گیا تو وہ غمگین ہو جاتا ہے۔گویا خوشی کا تعلق جیت سے ہے، کامیابی سے ہے۔ہم سب ڈھیروں مقامات پر جہاں ہم سمجھتے ہیں کہ ہم کامیاب ہوئے ہیں اپنے اپنے انداز سے خوشیاں مناتے ہیں۔

ایک طالب علم اچھے نتیجے پر خوشیاں مناتا ہے۔ایک تاجر اچھی خرید و فروخت پر شاد ہوتا ہے۔ہر فرد ترقی پا کر پھولے نہیں سماتا۔اولاد ملتی ہے تو مٹھایاں تقسیم کرتا ہے۔سالگرہ کے نام پربچے کی پیدایش کی خوشیاں منانے کے لیے تقریبات کرتا ہے۔بس بات یہ سمجھنے کی ہے کہ مجھ پر کرم ہو گیا ہےMasjid Nabvi،فضل ہو گیا ہے،رحمت ہو گئی ہے۔ہم سب ہر نعمت پر پروردگار کاشکر ادا کرتے ہیں اور کرنا بھی چاہیے۔نہ کریں تو کفرانِ نعمت ہو گا۔شکر ادا نہ کرنے والا نا شکرا کہلائے گا۔اب دیکھتے ہیں کہ اس بارے میں پروردگار نے قرآن میں کیا کہا ہے۔سورۃ یونس:58 میں مفہوم ہے کہ فرما دیجیے کہ جب اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہو تو تم سب خوشیاں مناؤ اور یہ اس سے بہتر ہے جو تم جمع کرتے ہو۔سورۃ آل عمران:171 میں ہے جس کا مفہوم ہے۔وہ پروردگار کی طرف سے نعمت اور فضل پر خوشیاں منا رہے ہیں۔سورۃ النساء:37 کا مفہوم ہے کہ جو لوگ بخل کرتے ہیں اور بخل کرنے کا حکم دیتے ہیں اور پروردگار نے ان کو جو کچھ اپنے فضل سے دیا ہے وہ اس کو چھپاتے ہیں۔پھر سورۃ النمل:73 میں ارشاد فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ بے شک آپ کا رب لوگوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔

اب سنیے اگر یہ فضل و رحمت نہ ہوتی تو کیا ہوتا۔سورۃ النور:10 کا مفہوم ہے کہ اگر تم پر یہ فضل ورحمت نہ ہوتی(تو بہت جلد میرا عذاب نازل ہو جاتا)،بے شک وہ توبہ قبول کرنے والا بڑا رحیم ہے۔آگے چل کر سورۃ النور:21 میں آیا کہ جس کا مفہوم ہے کہ اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کسی کا بھی باطن پاک نہ ہوتا۔اب ذرا باطن کی پاکیزگی کا بھی سن لیتے ہیں کہ پروردگار یہ ہمیں کس کے زریعے سے عطا کرتا ہے۔سورۃ الجمعہ:02 کا مفہوم ہے کہ وہی رب ہے جس نے تم میں سے ہی رسول بھیجے کہ وہ میری آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں تمہیں پاک کرتے ہیں اورتمہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں اور اس سے قبل تم کھلی گمراہی میں تھے۔یعنی نبیؐ ہی خالق کے حکم سے مخلوق کا تذکیہ کرتے ہیں۔یعنی وہی تو ہم سب کے لیے رحمت ہیں۔جیسا کہ سورۃ الانبیاء؛107 میں ہے جس کا مفہوم ہے کہ اور ہم نے آپؐ کو نہیں بھیجا مگر سب جہانوں کے لیے رحمت بنا کر۔بلاشبہ نبیؐ ہی توہیں جو وجہ تخلیق کائنات ہیں۔آپؐ ہی تو وجہ قیام کائنات ہیں اور آپؐ ہی وجہ نجات کائنات ہوں گے۔ایک آدمی اپنی ذات کے لیے باعث رحمت نہیں ہو سکتا اور آپؐ تو ان جہانوں کے لیے بھی رحمت بن کر آئے جن کا ہمیں علم بھی نہیں ہے۔تمام گفتگو کا ماحصل یہ ہوا کہ کائنات کی سب سے بڑی نعمت،رحمت اور پروردگار کا فضل تو آپؐ کی ہستی مبارک ہے۔تو پھر کون ہو گا جو اتنی بڑی نعمت کے ملنے پر خوش نہیں ہو گا اور خوشیاں نہیں منائے گا۔اس کے فضل پرخوشی منانے کا حکم اسی کا ہی تو ہے بلکہ شکر ادا نہ کرنے والوں سے تو پروردگار کا شکوہ بھی ہے۔جیسے مندرجہ بالا سطور میں سورۃ النساء:37 اور سورۃ النمل:73 کا ذکر گذرا ہے۔اسی طرح سورۃ یوسف:38 اورسورۃ المومن:61 میں بھی کہا گیا کہ ان پر فضل ہے مگر یہ شکر ادا نہیں کرتے۔اب مقدمہ آپ کی عقل کی عدالت میں پیش کرتے ہیں کہ فضل و رحمت پر خوشیاں منانا حکم الہی ہے یا اس خوشی پر منہ بسور کر رہنا،خوشی چھپانااور خوشیاں منانے والوں پر فتوے لگانا؟؟اب تھوڑی بات کرتے ہیں لفظ عید پر۔یہ تیسری عید کہاں سے آئی اسلام میں تو دو عیدیں ہیں۔عید کا معنی ہے خوشیاں منانا۔بالکل وہ دو ہی عیدیں ہیں جن کا احباب ذکر کرتے ہیں لیکن اور بھی تو سنیے۔ترمذی میں ہے کہ جمعہ کا دن مسلمانوں کے لیے عید کا دن ہے۔ترمذی:3044 میں ہے کہ الیوم اکملت۔۔۔۔آیت نازل ہوئی تو ایک یہودی کہنے لگا اگر ہماری کتاب میں یہ آیت نازل ہوتی تو ہم اس دن عید مناتے۔عمر فاروقؓ نے فرمایاکہ مجھے یاد ہے کہ وہ عید کا دن ہی تھا۔یعنی جمعہ بھی تھا اور عرفہ بھی۔پھر المائدہ:114 میں آسمان سے دسترخوان نازل ہونے والی دعائیہ آیت پڑھیں کہ وہ دن عید کا دن قرار پائے تو پروردگار نے اس لفظ سے منع نہیں فرمایا۔ پھر کہا جاتا ہے صحابہؓ نے نہیں منائی۔تو کہنے والوں سے سوال ہے کہ آپ شان صحابہؓ کانفرنس،دورہ شرح بخاری،ختم القرآن وغیرہ یا دیگر تقاریب کرتے ہیں، کیا صحابہؓ نے کی؟؟آپ اپنے نام کے ساتھ مفتی،حافظ اور حاجی لگاتے ہیں کیا صحابہؓ نے یہ تکلف فرمایا؟؟ہم ایسے کئی کاموں کی فہرست بتا سکتے ہیں جو صحابہؓ نے نہیں کیے مگر آپ شوق سے کرتے ہیں۔اور شریعت سے نہیں ٹکراتے لہذا کرنے میں حرج نہیں۔اب سنیے کہ صحابہؓ نے تو بڑی عقیدت سے نبی پاکؐ کی ولادت کا تذکرہ کیا بھی اور سنا بھی۔اس سال سب کو بیٹے عطا ہوئے۔حلیمہ سعدیہؓ نے جو واقعات سنائے ان سے کتب بھری پڑی ہیں۔بس مقدمہ واضح ہے کہ اپنے اوپر ذرا احسانات دیکھیے،فضل اور رحمت دیکھیے کہ لا تعداد گناہوں کے باوجود شکلیں نہیں بدلتیں،گناہ ماتھے پر یا گھر کے باہر نہیں لکھے جاتے، نیکی کے صرف ارادے سے ہی نیکی لکھ دی جاتی ہے۔کیا کیا نوازشیں ہیں جو سرکارؐ کے صدقے ہم پر ہیں۔جس کام سے پروردگار نہ روکے سرکار ؐنہ روکیں تو کوئی کیسے روک سکتا ہے۔یعنی جس کام سے نہیں روکا اس کا کرنا بدعت نہیں بلکہ اس کو روکنا(دین میں نئی چیز) بدعت ہو گا۔ ہاں یہ ہے کہ اس کو منانے کے طریقہ کار پر اختلاف ہے اس میں اصلاح کی اشد ضرورت ہے۔بینڈ باجوں سے،ہر طرح کی موسیقی سے،گانوں کی طرز پر نعتیں پڑھنے سے،مقدس مقامات کے ماڈل بنانے اور پھر ان کو توڑنے سے،جھنڈیوں کی بعد میں بے حرمتی کرنے سے،کیک پر آپؐکا نام لکھ کر کاٹنے سے اور راستوں کو ایسے روکنے سے کہ آمد و رفت معطل ہو،ہر ممکن احتراز کرنا چاہیے۔انتہائی ادب سے درود و سلام پڑھتے ہوئے جلوس میں شرکت کرنی چاہیے۔پروردگار عمل کی توفیق دے،آمین

اویس خالد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • گرے مکاں میں دبی کہکشاں
  • پرندے کچھ تو کہتے ہیں
  • خنک شہرِ ایران
  • آپ کے دَر کی عجب توقیر ہے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
اخروٹ قوتوں کا خزانہ
پچھلی پوسٹ
شیطان

متعلقہ پوسٹس

دُعا عَرِیضۂ خوشبُو ہوئی چراغ بَکَف

نومبر 19, 2021

بین الاقوامی سطح پر انسانی تہذیب کی تعمیر نو!

دسمبر 7, 2020

دوسری شادی، معاشرہ اور منافقت

مئی 7, 2025

ایک نظرِ محبت

نومبر 27, 2024

چشمِ دل چاہے جو اَنوار سے ربط

اکتوبر 28, 2020

اے امتِ مسلم کے جواں

اکتوبر 27, 2025

میری روداد ہے کہ آئینہ

نومبر 18, 2020

خدا کے ساتھ تعلق بگاڑنے لگا تھا

مئی 13, 2020

دنیا اور آخرت کی زندگی میں توازن

ستمبر 6, 2020

وہ آ کے لوٹ گیا ، کائنات ختم ہوئی

مئی 28, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

بخش دینا سزا سے مشکل ہے

نومبر 30, 2020

پردے جس وقت اُٹھیں جلوۂ زیبائی...

اکتوبر 29, 2020

منافقت سے بھری محبت

اکتوبر 12, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں