خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباپراپرٹی ڈیلنگ
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو مزاحیہ تحاریرواجد علی گوہر

پراپرٹی ڈیلنگ

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 12, 2025
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 12, 2025 0 تبصرے 58 مناظر
59

دنیا میں گھر بنانے سے کہیں مشکل کام اُس کیلئے اچھی زمین کاڈھونڈنا ہے جو اب پاکستان میں تقریبا خالص خوراک کی طرح نایاب ہوتی ہوتی معدومیت کے خطرے کا شکار ہے۔گھر بنانا اور اُس میں اطمینان سے رہنا تقریبا ہر عاقل بالغ بندے کا شادی کے بعد دوسرا سپنا ہوتا ہے جس کیلئے وہ تن من دھن کی بازی لگاتا ہے تاکہ آئے روز کی ہجرت اور سامان کی منتقلی سے نجات ملے۔میرے دوست آثار ِ گم گشتہ صاحب جو پکوڑے سموسے کے کاروبار سے گزشتہ بیس برس سے وابستہ ہیں اُن کا بھی یہی سپنا تھا جو اُنہیں اپنے والد مرحوم سے ورثے میں ملا تھا۔ اُن کے والد مرحوم ترکے میں دو ہی چیزیں چھوڑ کر گئے تھے جن میں ایک پکوڑوں کی ریڑھی اور دوسرا اپنا مکان بنانے کا سپنا تھا، جنہیں اُن کے ہونہار فرزند آثارِ گم گشتہ صاحب اپنی جان سے بھی عزیز سمجھتے تھے۔
مجھ سے جب بھی اُن کی اس بابت بحث ہوتی تو میں اُنہیں یہی کہتا کہ ” دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ”، کہاں پکوڑوں کی ریڑھی اور کہاں اپنا گھر، ایسے سپنے کو سینچنا چھوڑ دو اور اُن کی جگہ اصلی مکان یعنی قبر کی زمین کی فکر کرو کہ سنا ہے آج کل وہ بھی آسانی سے نہیں ملتی لیکن آگے سے ایک ہی جواب کہ غریب انسان کے پاس بھوک کے بعد دوسری چیز سپنے ہوتے ہیں تم وہ بھی مجھ سے چھین لینا چاہتے ہو۔ اب ظاہر ہے میں غربت کے بارے میں تو کچھ کہہ نہیں سکتا البتہ سپنے دیکھنے کے بارے میں تو اُسے "مت” دے سکتا ہوں کہ اپنی اوقات اور سہولت کے مطابق سپنے دیکھو ورنہ اپنا ہی نقصان کروگے سو اُس کیلئے میں بوقع بموقع اُس کے پاس حاضر ہوکر ایک پاؤ پکوڑے کھاتے ہوئے اُس کے سپنوں کی پٹاری کو خالی کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں۔مگر اس کی ضد کے آگے جب میری ایک نہ چلی تو میں نے اپنے جاننے والے سے جو ٹھیکیدار ہیں اُن سےمکان کیلئے درکار بنیادی اجزاء کی معلومات لینے کیلئے حاضر ہوا۔اُنہوں نے مجھے سیمنٹ ریت بجری اینٹ و دیگر اشیائے ضروریہ کے متعلق شرح و بسط کے ساتھ آگاہی فراہم کرنے کے بعد پوچھا کہ زمین کتنی اور کہاں ہے؟ اس موقع پر میں نے وہی جواب دیا جو ایک شریف انسان دیتا ہے کہ زمین ابھی لینی ہے مگر کتنے میں ملے گی اور کہاں ملے گی اس کے بارے میں ابھی حتمی فیصلہ ہونا باقی ہے۔ میری بات سُن کر اُنہوں نے پہلے تو اپنے غصے کو دانتوں تلے چبا یا اور پھر مجھے ” ارتھ شاستر” کا بتایا کہ اُن کے پاس جاؤ۔میں نے پوچھا یہ کوئی دماغ کے ڈاکٹر ہیں؟ تو جواب میں کہا کہ یہ رئیل اسٹیٹ ایجنسی کا نام ہے جو آپ کو پلاٹ خریدنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
ہم دونوں صاحبان ” ارتھ شاستر” کے دفتر میں پہنچے تو آگے ایک نوخیز دوشیزہ نے کورنش بجا کے ہمارا استقبال کیا اور ہم نے جب اُسے بتایا کہ فدویان ایک عدد مکان کے واسطے ایک عدد پلاٹ خریدنے کے سلسلے میں حاضر ہوئے ہیں تو بہت خوش ہوئیں کہ گویا مراد بر آئی ہو۔اُنہوں نے پہلے تو ہم دونوں کیلئے ایسا ٹھنڈا ٹھار مشروب منگوایا جس کو پینے کے بعد جگر اور معدے کی ساری گرمی دور ہوگئی اور پھر ہم سے تفصیل پوچھی جس کے جواب میں اُسے میں نے حدودِ اربعہ کچھ ایسے سمجھایا کہ پلاٹ اُس جگہ واقع ہو جہاں سورج کے طلوع ہوتے ہی روپہلی کرنیں چھن چھن کر اُس کے در وبام کو روشن کردیں۔ اُس نے مجھے وہیں روکا اور پھر ایک نوٹ بک نکال کر اُس پر یہ سب لکھ کر بولی کہ ” آگے چل”۔” دیکھیں جی پلاٹ ایسا ہو کہ جب میں گھر بناؤں تو شمال سے آنے والی بادِ نسیم کے جھونکے میرے آنگن سے یوں گزریں کہ مجھے میرا ماضی بھول جائے اور دل کے سارے زخم مندمل ہوجائیں”۔ اُس نے نہایت غور سے پہلے میرے دوست کی یہ آرزو نما تفصیل سنی اور پھر ” ویری رائیٹ” کہہ کر اُسے بھی لکھ لیا۔
اس سے قبل کہ سلسلہ جنبانی مزید آگے بڑھتا اور جنوب کی سمت کا احوال بیان کیا جاتا، ایک نہایت ہی خوبرو نوجوان جس کی عمر بائیس سے تئیس برس کے درمیان اور قد اعضاء کے متناسب تھا وہ ایک فائل لیکر اندر آیا اور ہمیں تھما دی۔ میں نے وہ فائل ” ابتدائی معائنے” کیلئے کھولی لیکن جیسے ہی زبانِ افرنگی پر نظر پڑی تو فورا ” نظر کا چشمہ گھر بھول آیا” کا بہانہ تراش کر اُسے اپنے دوست آثارِ گم گشتہ کے حوالے کردیا جو میری طرح جماعتِ ہشتم میں سکول سے بوجہ طویل غیر حاضری نکال دیے گئے تھے ۔ میرا مقصد یہی تھا وہ اس فائل کا تفصیلی معائنہ فرما کر تمام احکامات موقع پر ہی صادر فرما دیں۔ انہوں نے بھی اک نگاہِ بے التفات اُس حقیر فائل پر ڈالی اور پھر مجھے آنکھ مار تے ہوئے اُس چنچل حسینہ سے پوچھا کہ اگر فائل کی تحریر کا لب ِ لباب بزبانِ اردو بیان کردیا جائے تو بہت مناسب رہے گا۔ اُس حسینہ دلربا نے بھی اس دلیل پر صاد فرمایا اور پھر ایک ہوش ربا تبسم کے ساتھ ہمیں مبلغ ” پچاس ہزار روپے” باہر کاؤنٹر پر جمع کروانے کو کہا جو میرے دوست نے فورا موقع پر ادا کرکے اُس کی پکی رسید اپنے بٹوے کی اُس جیب میں یوں سنبھال کے ڈال لی جیسے عاشق اپنے محبوبہ کی تصویر کو بٹوے کے اُس خانے میں رکھتا ہے جو عام لوگوں کی نگاہ سے زیادہ تر اوجھل ہوتا ہے۔
یہ ضروری اور اہم قانونی کاروائی پوری ہونے کے بعد اُس دل آراء نے اپنی مژگاں کے ناوک سے ہمیں مرغِ نیم بسمل کرتے ہوئے اُس پلاٹ کے جنوب اور مغرب کی سمتوں کے متعلق کچھ بتانے کی کوشش کی جو ہم مقدور بھر کوشش کے باوجود بھی نہ سُن پائے کہ اُس پری وش کے حسن نے تمام ہوش رخصت کردیا تھا۔ اس سے پہلے کہ ہم تصورِ ماہتاب میں کھو کر کہیں کے کہیں نکل جاتے اُس نے ہمارے ہوش یہ کہہ کر ٹھکانے لگا دیے کہ ” آپ کا پسند شدہ پلاٹ پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پر آپ کو مبلغ دو کروڑ پچاس لاکھ میں دیا جائے گا جس میں سے پچاس ہزار روپے آپ نے بیعانہ کی مد میں ادا کردیے ہیں اور جیسے ہی آپ بقیہ دو کروڑ چالیس لاکھ پچاس ہزار روپے ادا کریں گے ، پلاٹ کا قبضہ آپ کو دے دیا جائے گا”۔ یہ خبرِ جانکاہ سُن کر میرے تو چودہ طبق وہیں روشن ہوگئے جبکہ آثارِ گم گشتہ صاحب کے منہ کو ایک ایسی چپ لگی جیسے بچپن سے گونگے ہوں۔ ” کیا ہمیں ہمارے پچاس ہزار روپے واپس مل سکتے ہیں؟” میں نے اُس حسینہ سے پوچھا تو اُس نے مسکرا کر بس اتنا کہا ” جی نہیں۔ ہمارے ہاں جو مشین ہے اُس میں صرف پیسہ ڈالنے کی سہولت ہے نکالنے کی نہیں۔ آپ کے قیمتی وقت کا بہت شکریہ۔ اپنا ، اپنے گھر والوں اور دوستوں کا بہت خیال رکھیے گا۔ اللہ حافظ”۔ ” مگر ہمارے پاس تو جانے کا کرایہ بھی نہیں ہے”۔ میں نے اُس بے وفا کو بتانے کی کوشش کی،” کوئی بات نہیں۔ واک کرکے چلے جائیے گا۔ واک کرنے سے ٹینشن ، بلڈ پریشر اور شوگر تینوں کنٹرول میں رہتے ہیں”۔اُس کی بات کیونکہ طبی نکتہ نظر سے بالکل ٹھیک تھی اس لئے میں نے مکمل اتفاق کیا اور آثارِ گم گشتہ کو اپنے کندھوں پر اٹھا کرحزبِ اختلاف کی طرح ” تیری دنیا سے دور ہوکے چلے مجبور ہمیں یاد رکھنا” گاتے ہوئے واک کرتے وہاں سے نکل گیا۔

واجد علی گوہر

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • تیرے ہونے کی قسم تیرا گزر۔ جانا۔ بھی کیا
  • گُلوں کی چھاٶں جیسا هے
  • تجھے حلال ہے مجھ پر
  • قہقہوں کے سائے میں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
خَلق کی ابتدا محمدؐﷺ ہیں
پچھلی پوسٹ
جنموں کی داستاں ہے

متعلقہ پوسٹس

باہر کا دروازہ بھی ہم درد نہیں

مارچ 11, 2022

نصاب دل کا حسن کی کتاب سے نکل گیا

نومبر 19, 2019

برمی لڑکی

اپریل 21, 2019

خواب زدہ ویرانوں تک

مئی 9, 2020

شعوری جنسیت

جولائی 8, 2020

مداوائے آلام ہو جائے گا

جون 12, 2020

بے چہرگی سے چہرہ چھپا کر کھڑا رہا

مارچ 11, 2022

جوترے هجرکے غم هوتے هیں

جون 27, 2020

اے ساعتِ وصال ، مرے دن گزر گئے

مئی 4, 2020

خواب تھا خواب کی پرچھائی مرے ساتھ رہی

نومبر 9, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

رزم۔ حق میں وہ اکیلا بھی ہے لشکر...

جولائی 1, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اردو شاعری

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ...

جولائی 16, 2026

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا...

جولائی 15, 2026

کلام خاص نوجوانوں کے لیے

جولائی 12, 2026

وہ بچپن کا دور جب ہم کھیلا کرتے...

جولائی 9, 2026

تجھے مجھ سے جدائی کی اجازت ہے

جولائی 9, 2026

اردو افسانے

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

اردو کالمز

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

قلم کا سفر

جولائی 14, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

عورت

جولائی 7, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • قلم کا سفر

    جولائی 14, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کثیف روحیں

جنوری 30, 2021

مہا لکشمی کا پل

جنوری 15, 2020

مجھ کو عادت ہے زخم کھانے...

اکتوبر 15, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں