خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابااے ایس آئی (ASI) محمد بخش بڑور!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

اے ایس آئی (ASI) محمد بخش بڑور!

از سائیٹ ایڈمن نومبر 25, 2020
از سائیٹ ایڈمن نومبر 25, 2020 0 تبصرے 78 مناظر
79

اے ایس آئی (ASI) محمد بخش بڑور!

ملک میں گزشتہ کچھ ماہ سے جنسی زیادتی کے واقعات میں بتدریج اضافہ دیکھا جا رہاہے،جس پرحکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے انتہائی سنجیدگی دیکھانے سے تاحال قاصر رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے عادی مجرمان اور انکی پشت پناہی کرنے والوں کی کاروائیوں میں کمی نہیں آرہی ہے۔جیسا کہ ڈاکٹر شاہد مسعود صاحب اس درندگی کے کاروبار کی تہہ تک آگاہی فراہم کر چکے ہیں اور اسکے نتیجے میں انہیں ہتھکڑیاں لگا کر عدالتوں میں پیش کیا جاتا رہا اور انہیں یہ کہہ کر سزا وار ٹہرایا گیا کہ انہوں نے عدالت کا وقت ضائع کیا ہے۔اب زیادہ وقت بھی نہیں گزرا تو ڈارک ویب کا پاکستان میں روح رواں کی گرفتاری کی خبر اخبار میں دیکھی، ڈارک ویب کی حقیت سے نظریں چرانے والے یا نظریں ہٹانے والے کیا ڈاکٹر شاہد مسعود سے اعلانیہ معافی مانگنے کی جسارت کرسکتے ہیں اور ان کی تحقیق کو خراجِ تحسین پیش کرسکتے ہیں، یقین ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوسکتا کیونکہ ہم جس نظام یا نظرئیے کے ماتحت ہیں وہاں اپنی غلطی ماننے سے زیادہ خودکشی کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔جدت نے وقت اور حالات کی چکی میں ایسا پیسا ہے کہ ہم روحانیت پر یقین رکھنے والوں نے طبعی صورت پر یقین کرنا شروع کردیا ہے، ہم شائد یہ بھی بھولے بیٹھے ہیں کہ ہم نے اپنے خالق کو دیکھا نہیں ہے لیکن ہر شے میں اسکے ہونے کا یقین ہے۔بات شروع ہوئی تھی ملک میں بڑھتی ہوئی جنسی زیادتیوں کی صورت حال پر۔ قوم کی اکثریت بشمول حکومتی اراکین جن میں وزیر اعظم صاحب بذات خود شامل ہیں اس بات پر متفق ہیں کہ مجرم کو سر عام پھانسی دی جائے اور نشان عبرت بنایا جائے، لیکن حالات کی نزاکت ایک بار پھر مصلحت کی چادر اوڑھ کر کسی سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ جس دن کوئی جنسی درندہ عوام کے ہاتھ آگیا تو وہ تمام خدشات کو بالائے طاق رکھ کر اپنے علاقے کے چوک پر اسے پھانسی پر لٹکاہی دینگے اور یہ بھی یقین ہے کہ اس دن بھی پولیس (جان بوجھ کر) کاروائی مکمل ہونے کیبعد جائے وقوع پر پہنچے گی۔

معاملہ قومی سالمیت کا ہو تو پاکستانی قوم ایسے جنون میں آجاتی ہے کہ مضبوط سے مضبوط پہاڑ سے ٹکرا جاتی ہے اور اسے پاش پاش کر کے ذرہ ذرہ میں تبدیل کردیتی ہے، بدقسمتی سے پاکستان کو کوئی ایسا سیاست دان ملا ہی نہیں جو اس جوش اور ولولے کو صحیح سمت میں لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ آج تک اس پر عزم قوم کو اپنے ذاتی نجی بلکہ انا کی تسکین کے مقاصد کے حصول کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ قدرت ہمیشہ بہادروں کا ساتھ دیتی ہے چاہے وہ کرکٹ کے میدان میں کھڑا ہوابلے باز ہو جسے ایک گیند پر ۴ دوڑیں کرنی ہوں تو وہ ۶ کیلئے جاتا ہے اور کرکٹ کی تاریخ میں جاوید میانداد ایک تابناک سورج کی طرح طلوع ہوتا ہے، جنگ کے میدان میں ہو، سائنس کے میدان میں ہو غرض یہ کہ بہادر انسان جہاں کہیں بھی ہوگا قدرت اسکا ساتھ دینے پہنچ ہی جاتی ہے۔ اور جب بہادر نیک کام کیلئے نکلا ہو تو یہ ساتھ دوسوفیصد یقینی ہوجاتا ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہی دیتی چلی آرہی ہے، حال اس بات سے آراستہ ہے اور مستقبل میں بھی ایسا ہی ہوتا رہے گا، کیونکہ قدرت تھی، ہے اور رہیگی۔ قدرت نے انسان کو عقل دے رکھی ہے یعنی اپنی خواہشات کی تکمیل کیلئے اختیارات سے نوازا ہے کوئی اچھا کرے یا برا یہ اسکا فعل ہے۔

قربانیاں دینا پاکستانی عوام کا قومی فریضہ بن چکا ہے قربانیوں کی دستانوں پر دستانیں رقم ہورہی ہیں لیکن وہ تابناک دور ابھی تک دیکھائی نہیں دے رہا کہ جو ان قربانیوں کے نتیجے میں ابتک آجانا چاہئے تھا۔ سرحدوں کی حفاظت پر معمور جہاں رات دن ایک کر کے سرزمین کی حفاظت کیلئے تاحال سب کچھ قربان کر رہے ہیں وہیں ملک کے اندر قانون نافذ کرنے والے ادارے قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں۔ گوکہ پولیس کا ادارہ اپنی کارگردگی کے حوالے سے اتنی اچھی شہرت نہیں رکھتا لیکن کسی ایک اہلکار کی ایمان اور فرض شناسی ادارے کا سر فخر سے بلند کرنے کیلئے اور باقی اہلکاروں کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہوتا ہے۔ ایسا ہی ایک کارنامہ سندھ پولیس کے اے ایس آئی محمد بخش نے دیا ہے۔ جیسا کہ سطور بالا میں جنسی زیادتی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کا تذکرہ کیا ہے یہ بھی ایک ایسے ہی واقع کی مرہون منت وجود میں آیا ہے جہاں محمد بخش نے کسی کی اغواء شدہ بیٹی یا بہن کو بچانے کیلئے اپنی سگی بیٹی کو بطور دانا استعمال کیا اور اپنی بیٹی کی عزت اور جان کو یقنی خطرے میں ڈال دیا۔ جیساکہ ہم جانتے ہیں کے قدرت بہادروں کا ساتھ دیتی ہے قدرت نے ناصرف محمد بخش کا ساتھ دیا اور اسکے اس اقدام پر اسے سرکاری سطح پر انعام و اکرام سے نوازا گیا۔ محمد بخش کی جہاں حکومت سندھ نے بھر پور پذیرائی کی وہیں وزیر اعظم صاحب نے بھی فون پر شاباشی دی۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا محمد بخش نے دیگر تمام اہلکاروں میں یہ تحریک پیدا کی کہ گیدڑ کی سوسالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے۔ ہمارے لوگ بہت پرخلوص اور نیک نیت ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارا نظام ایسے لوگوں کو بھی اپنے جیسا بنا لیتا ہے اور ضمیر نامی معصوم شے کو تھپک تھپک کر سلا دیتا ہے۔ محمد بخش جیسے سپاہی جب تک حدوں کو پار کرنے والوں کے سامنے کھڑے ہیں فتح حق کی ہوتی رہیگی اس یقین کیستاھ کہ آنے والے وقتوں میں سندھ پولیس نہیں بلکہ پاکستان کے تمام قانون نافذ کرنیوالے ادارے محمد بخش کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ہماری ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کی عزتوں پر اپنی جانیں بھی قربان کرنے سے دریغ نہیں کرینگے۔ تاریخ ہمیشہ بہادروں کو یاد رکھتی ہے ورنہ انگنت آئے اور چلے گئے۔ یہ بھی طے ہے کہ بہادری کسی کی قبیلے یا علاقے کی مراث نہیں ہوتی یہ بہادروں کیساتھ ہی رہتی ہےاور وہ کسی بھی قبلیے یا علاقے سے ہوسکتا ہے ۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • رب تعالی کو راضی کیسے کریں ؟
  • سیلن کی بددعاؤں سے دیوار بچ گئی
  • محبت اگر ان پہ مائل نہ ہوتی
  • یہ شاعری ہے تو کافی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
حقیقی ہیرو
پچھلی پوسٹ
طلاق کے اہم شرعی مسائل

متعلقہ پوسٹس

اب عشق میں ہوں جان بَلَب

نومبر 4, 2025

گاؤں سے لایا تھا شناختی کارڈ

فروری 23, 2022

مجھے نہ چھوڑنا سے مجھے نہ چھونا تک

فروری 1, 2020

میں خطاکار ہونے والا تھا

مئی 14, 2020

سعادت حسن منٹو

مئی 11, 2020

مکتوب چترالی بنام اقبال

نومبر 9, 2025

اردسا

مئی 13, 2020

ایک دن

نومبر 4, 2025

رقصِ طلب

نومبر 27, 2024

امّاں

مئی 20, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

حافظ حسین دین

جنوری 24, 2020

ایک یہ دل جو تجھے دے...

اکتوبر 17, 2023

جب سہولت نہیں ہے جینے کی

جنوری 2, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں