26
صرف انسان اور کچھ بھی نہیں
میری پہچان اور کچھ بھی نہیں
ایک امکان اور کچھ بھی نہیں
میرا سامان اور کچھ بھی نہیں
ہم ہیں وہم و گمان کی زد میں
علم نادان اور کچھ بھی نہیں
اک ترا غم مرا اثاثہ ہے
چند دیوان اور کچھ بھی نہیں
کھٹکھٹاتے کواڑ کھڑکی کے
میں پریشان اور کچھ بھی نہیں
جس کو دشوار کر لیا میں نے
اتنا آسان اور کچھ بھی نہیں
عشق ایثار مانگتا ہے کلیمؔ
اس میں نقصان اور کچھ بھی نہیں
کلیم احسان بٹ
