خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامہوشیار بگلا
آپ کا سلاماردو تحاریربچوں کا ادببچوں کی کہانیاں

ہوشیار بگلا

از سائیٹ ایڈمن جنوری 17, 2026
از سائیٹ ایڈمن جنوری 17, 2026 0 تبصرے 64 مناظر
65

بگلا دن بھر کی دوڑ دھوپ کے بعد بڑی مشکل سے دو چار چھوٹی چھوٹی مچھلیوں کا شکار کر پاتا۔ آس پاس کے ندی، نالوی اور جھیلوں کی مچھلیاں بھی چالاک ہو چکی ہیں۔ وہ بگلا کی چونچ سے بچنے کے لیے پانی کے اندر تیرتی رہتیں۔ بگلا بھاگتے دوڑتے تھک جاتا۔ اوپر سے مچھلیاں بھی بہت کم شکار کر پاتا۔ اسے اکثر بھوکے رہنا پڑتا۔

بگلا محنت کرنے سے نہیں گھبراتا۔ وہ جانتا ہے کہ ندی میں پڑے پتھروں پر سے جاتے ہوئے پانی میں بھی مچھلیاں ہوتی ہیں۔ اسی لیے وہ پتھروں کے اوپر کھڑا ہو جاتا اور اس پر سے بہتے ہوئے پانی میںseagull مچھلیوں کا شکار کرنے کی کوشش کرتا۔ کبھی کبھی تو مچھلی بچ کر نکل جاتی لیکن بگلے کی چونچ پتھر سے ضرور ٹکراتی تو وہ درد کے مارے آنسو بہانے لگتا ایک بار پتھروں پر سے بہتے پانی میں مچھلی پڑ نے کے لیے اس نے تیزی سے چونچ ماری۔ مچھلی تو نکل گئی لیکن بگلے کی چونچ زور سے پتھر سے ٹکرائی۔ پگلے کی چونچ کافی زخمی ہو گئی اور وہ کئی دنوں تک شکار نہیں کر سکا۔
اس نے کئی چڑیوں کو اوپر ہوا میں تیرتے ہوئے اچانک پانی میں غوطہ لگا کر مچھلی پکڑتے دیکھا۔ بگلے نے سوچا ’’مجھے بھی اسی طرح شکار کرنا چاہئے۔‘‘ بھوک سے بچنے کے لیے اس نے یہ ترکیب بھی آزمائی۔ وہ پانی کے اوپر اڑتے ہوئے جیسے ہی کسی مچھلی کو پانی میں دیکھتا تو دھپ سے پانی پر گر کر شکار کرنے کی کوشش کرنے لگتا۔ لیکن چالاک مچھلیا ادھر ادھر ہوکر نکل جاتیں یا کبھی پانی کی گہرائی میں جاکر شکار ہونے سے بچ جاتیں۔ ادھر بگلا پانی میں غوطہ لگانے سے اتنا پانی پی جاتا کہ اس کا پیٹ غبارے کی طرح پھول جاتا۔ اس کے بعد بگلے کے لیے اڑنا مشکل ہوتا۔ ایک بار بگلے کے پیٹ میں اتنا پانی بھر گیا کہ وہ پانی میں پڑا رہ گیا۔ وہ تو اچھا ہوا کہ بگلا پانی پر پڑے پڑے تیرتا رہا ورنہ ڈوب کر مر جانے کی توبت آ جاتی۔ اس کے بعد بگلے نے اڑتے ہوئے پانی میں مچھلیوں کا شکار کرنے سے توبہ کر لی۔

’’میں مچھلیوں کو کھائے بغیرہ زندہ کیسے رہوں گا۔‘‘ بگلا سوچنے لگا۔ ادھر ادھر کیڑے مکوڑے کھا کر پیٹ نہیں بھرتا۔ اسے زندہ رہنے کے لیے مچھلیوں کا شکار کرنا ضروری ہے۔ پھر کیا کروں؟‘‘ لیکن بگلے کی سمجھ میں کوئی ترکیب نہیں آئی۔ وہ بہت پریشان رہنے لگا۔
ایک دن بگلا اڑتا ہوا سریو ندی کے پاس پہنچا۔ وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہاں کمر تک پانی میں ایک سادھو کھڑا ہے۔ سادھو اپنا ایک پیر اٹھا کر دوسرے گھٹنے پر ٹکاتے ہوئے صرف ایک پیر کے سہارے کھڑا ہے۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھ سر کے اوپر لے جاتے ہوئے جوڑ رکھے ہیں۔ سادھو پانی میں ہلے ڈلے بغیر چپ چاپ ایک پیر پر دھیان لگائے کھڑا ہوا ہے۔ پانی میں کوئی ہل چل نہیں ہونے کی وجہ سے کئی مچھلیاں سادھو کے پاس تیر رہی ہیں۔ کتنی ہی چھوٹی مچھلیاں سادھو کی اوپر اٹھی ہوئی ٹانگ کے نیچے تیرتے ہوئے جاتی دکھائی دے رہی ہیں۔ انہیں سادھو سے کوئی ڈر نہیں لگ رہا۔ دوسر، ان مچھلیوں کو پتا ہی نہیں لگ رہا کہ سادھو نے اپنا ایک پیر اٹھا رکھا ہے۔

’’کتنی حیرانی کی بات ہے!‘‘ بگلا سوچنے لگا۔ میں جب پانی میں پیر ڈالے کھڑا ہوتا ہوں تو مچھلیاں کترا کر نکل جاتی ہیں۔ ےا پھر گہرے پانی میں تیرنے لگتی ہیں جہاں میری چونچ نہیں پہنچ سکتی۔‘‘
پھر بھگلا کے دماغ میں یہ خیال آیا ’’کیوں نہ میں بھی پانی میں اپنا ایک پیر ڈالے اور دوسرے اٹھائے چپ چاپ کھڑا رہوں؟ پھر مچھلیاں اس سے کتراکر نہیں نکلیں گی اور انہیں مجھ سے ڈر بھی نہیں لگےگا۔‘‘

وہ پھر سے سادھو کو ایک پیر پر کھڑے دیکھتا رہا تاکہ کل وہ بھی اسی طرح پانی میں ایک پیر پر کھڑا ہو سکے۔ لیکن بگلا یہ دیکھ کر حیران رہ گیا ’’ارے، سادھو نے اپنی آنکھیں بھی موند رکھی ہیں۔‘‘ اس کے منہ سے نکلا۔ ’’اگر میں دونوں آنکھیں بند کرتے ہوئے کھڑا رہوں گا تو پانی میں مچھلیاں کیسے دیکھوں گا؟ اگر مچھلی دکھائی نہیں دےگی تو شکار کیسے کروں گا! بگلے نے دھیان دیا کہ اگر سادھو اپنی آنکھیں کھولے رکھتا تو کیا مچھلیاں وہاں سے بھاگ جائیں گی؟ بگلا بہت سمجھدار ہے اس نے دیکھا کہ سادھو کے چپ چاپ کھڑے رہنے سے پانی میں کوئی ہلچل نہیں ہوتی۔ اسی لیے مچھلیوں کو خطرہ محسوس نہیں ہوتا اور وہ مزے سے سادھو کے قریب تیرتی رہتی ہیں۔ کئی ایک تو سادھو کی اوپر اٹھی ہوئی ٹانگ کے نیچے تیر رہی ہیں! ’’اوہو! اصل بات یہ ہے کہ ایک پیر پر ہلے ڈلے بغیر چپ چاپ کھڑا ہونا۔ تب مچھلیاں نڈر ہوکر وہیں تیرتی رہتی ہیں۔‘‘ بگلا یہ راز سمجھ گیا۔
اگلے دن صبح ہوتے ہی بگلا سریو ندی کے دوسرے کنارے پہنچ گیا۔ وہ سادھو سے کافی دور پانی میں ایک جگہ ایک پیر پر کھڑا ہو گیا اور دوسرا پیر اٹھائے رکھا۔ بگلا کا اٹھا ہوا پیر تھوڑا امڑا ہوا ہوا میں لٹک رہا ہے۔ چونکہ بگلا کوئی حرکت نہیں کر رہا اس لیے پانی میں کوئی ہلچل بھی نہیں ہو رہی ہے۔ وہ باکل خاموش کھڑا ہے۔ بغیر ہلے ڈلے! پہلے بگلا نے سادھو کی طرح اپنی دونوں آنکھیں بند کر لیں۔ پھر یہ خیال آنے پر ایک آنکھ کھول دی کہ وہ مچھلیوں کو نہیں دیکھےگا تو شکار کیسے کرےگا؟ اب بگلا کی ایک آنکھ تھوڑی کھلی ہوئی اور دوسری بند ہے! بگلا نے اپنی لمبی سی گردن پانی کی طرف موڑ رکھی ہے۔ اس کی کوشش ہے کہ مچھلی کھلی ہوئی آنکھ نہ دیکھ پائیں۔ اب دور سے دیکھنے پر ایسا لگتا ہے بگلا آنکھیں مودے پانی میں ایک پیر پر چپ چاپ کھڑا دھیان میں ڈوبا ہوا ہے، سادھو کی طرح!

’’اب مچھلیوں کو پتا نہیں لگے کہ میں ان کا شکار کرنے کے لیے کھڑا ہوں۔‘‘ یہ سوچ کر بگلے کو بہت خوشی ہوئی۔ اس نے بڑی مشکل سے اپنی ہنسی روکی ورنہ مچھلیاں وہاں سے بھاگ جاتیں۔ بگلا نے اپنی ادھ کھلی آنکھ سے پانی میں دیکھا وہاں کئی مچھلیاں نڈر ہو کر تیرتی نظر آئیں۔ وہ سانس روکے کھڑا رہا۔ جیسے ہی ایک مچھلی اس کے اٹھے ہوئے پیر کے نیچے پہنچی بگلے نے بڑی تیزی سے اپنی چونچ پانی میں ڈالی۔ اس نے حرکت کیے بغیر مچھلی پکڑ لی اور اسے کھانے کے بعد پھر چپ چاپ کھڑا رہا۔ آج شام تک بگلے نے کافی مچھلیوں کا شکار کیا اور پیٹ بھرنے پر اڑتا ہوا ایک پیڑ پر پہنچ گیا۔ آج خوب پیٹ بھرنے پر وہ تان کر سویا۔
کچھ دنوں بعد سادھو اپنی تپسیا پوری کرنے کے بعد وہاں سے چلا گیا۔ لیکن سریوندی میں آج بھی تپسیا کے انداز میں بگلا ایک پیر پر کھڑا ملتا ہے۔ وہ بھی اپنی آنکھیں موندے ہوئے! وہ دیکھنے والوں کو دھیان میں ڈوبا ہوا لگتا ہے۔ وہاں مچھلیوں کا شکار کرنے آئی چڑیاں بھی یہی سمجھتی ہیں کہ بگلا پانی میں ایک پیر پر کھڑا تپسیا کر رہا ہے، سادھو کی طرح۔

اب وہاں آنے والی سبھی چڑیاں بگلا کو ادب سے بگلا بھگت کہہ کر پکارتی ہیں۔ اس لیے بگلا اپنے نام سے نہیں بلکہ بگلا بھگت کے نام سے جانا جاتا ہے۔

ادریس صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ایسی حالت جو ترے شہر نے کر دی میری
  • حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا
  • حسین چہروں سے غزلیں نکال لیتے ہیں
  • گندم
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
شبِ معراج
پچھلی پوسٹ
علمی احتیاط

متعلقہ پوسٹس

سونورل

مارچ 20, 2020

کوئلہ بھئی نہ راکھ

دسمبر 29, 2019

میں دیکھتا ہوں خواب کی تعبیر وغیرہ

جنوری 6, 2026

پانچ قبریں

دسمبر 23, 2021

کراچی کے بلدیاتی نہیں بد نیتی انتخابات!

جنوری 22, 2023

صدی سے ہم سرکتے آ رہے ہیں

دسمبر 10, 2025

ذہنی صحت کی بگڑتی ہوئی تصویر

فروری 18, 2026

ٹین کے آدمی

نومبر 28, 2020

نیا سال، نیا عزم – نئے ارادے!

جنوری 1, 2026

شاہ دولے کا چوہا

فروری 5, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسانیت

    جولائی 31, 2026
  • تھا میں کیا، اور کیا سے کیا ہو گیا

    جولائی 31, 2026
  • مری زندگی تو فراق ہے

    جولائی 30, 2026
  • مخلوق خدا سے محبت

    جولائی 29, 2026
  • متن کے تعاقب میں

    جولائی 28, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا

اسلامی گوشہ

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا مہینہ

جولائی 23, 2026

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

رزم۔ حق میں وہ اکیلا بھی ہے لشکر...

جولائی 1, 2026

اردو شاعری

انسانیت

جولائی 31, 2026

تھا میں کیا، اور کیا سے کیا ہو...

جولائی 31, 2026

مری زندگی تو فراق ہے

جولائی 30, 2026

اسی دھوکے میں رہتا آدمی ہے

جولائی 26, 2026

آئینے کی کرچیاں

جولائی 24, 2026

اردو افسانے

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

اردو کالمز

مخلوق خدا سے محبت

جولائی 29, 2026

سرقے کو جہاں رتبۂ الہام دیا جائے!

جولائی 25, 2026

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا مہینہ

جولائی 23, 2026

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسانیت

    جولائی 31, 2026
  • تھا میں کیا، اور کیا سے کیا ہو گیا

    جولائی 31, 2026
  • مری زندگی تو فراق ہے

    جولائی 30, 2026
  • مخلوق خدا سے محبت

    جولائی 29, 2026
  • متن کے تعاقب میں

    جولائی 28, 2026
  • اسی دھوکے میں رہتا آدمی ہے

    جولائی 26, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

شبِ معراج

جنوری 17, 2026

اُردو کی چند جدید طویل نظمیں

جنوری 15, 2021

قدیم ترین عشقیہ گیت

فروری 14, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں